Hafiz Muzafar Mohsin | Article | جان ۔ نہیں پیسے عزیز ہیں؟!‘‘

حافظ مظفر محسن 101 چراغ پارک شاد باغ لاہور فون: 0300-9449527 ’’ جان ۔ نہیں پیسے عزیز ہیں؟!‘‘ ’’ میری سانس پُھولی ہوئی تھی۔ ہونٹ ایسے جیسے مردے کو مر […]

حافظ مظفر محسن
101 چراغ پارک شاد باغ لاہور
فون: 0300-9449527

’’ جان ۔ نہیں پیسے عزیز ہیں؟!‘‘


’’ میری سانس پُھولی ہوئی تھی۔ ہونٹ ایسے جیسے مردے کو مر جانے کے بعد خدا کی طرف سے حکم ملا ہو۔ کہ۔ اُٹھ جا۔ ابھی تمہیں کچھ عرصہ اور زندہ رہنا ہے‘‘۔
میں نے محسوس کیا۔ جیسے دل ابھی تک ابھی اصلی جگہ سے پانچ چھ انچ اوپر یعنی حلق میں اٹکا ہوا ہے اور سانس بند ہونے کو ہے!۔
ہم چاروں دوست اپنی اپنی جگہ پریشان کھڑے تھے اور شرمندہ بھی۔ کچھ غلطیاں سرزد ہو جانے پر انسان کو سمجھ نہیں آتی کہ اب وہ ’’ معافی‘‘ جیسا نہایت چھوٹا لفظ استعمال کرے یا چپ اور شرمندگی دکھانے پر ہی اکتفاء کرلے۔
مجھے اِس وقت اپنی ماں کی یاد آرہی تھی۔ اُس کی دی ہوئی دعائیں ہر لمحہ میرا پیچھا کر تی ہیں۔ یہ دعاؤں کا ایسا منبع ہے جس سے ہر وقت ہر لمحہ دعائیں پھوٹتی رہتی ہیں۔ یقینی موت سے بچ جانا۔ انسان کو حیرت زدہ ہی نہیں کرتا ۔ انسان سوچ سوچ کر خوفزدہ بھی ہو جاتا ہے۔ اور چاہتا ہے کہ وہ خوفناک لمحات کسی طرح سے بھیانک خواب کی طرح ۔ ذہن کے تختے سے مِٹ جائیں ہمیشہ ہمیشہ کیلیے۔
کئی بار ۔ زندگی میں بڑے بڑے حادثات ہوئے۔ موت کو ہر بار قریب سے دیکھا اور اللہ کا شکر ادا کیاکہ اُس نے زندگی دوبارہ عطاء فرمائی۔ مگر آج کی غلطی اور اُس کے خوفناک نتائج نے ہلا کر رکھ دیا۔ دل دھڑک رہا تھا یا پھیپھڑے دل کی طرح آوازیں پیدا کر رہے تھے۔ اگر وہ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے ہم چاروں دوستوں کو گاڑی سے نکال کر برف کی اِس تہہ پر نہ لٹاتے ،ہمارے سینوں کو نہ ملتے اور ہمیں جذباتی ہو کر گاڑی کو خواہ مخواہ دھکا لگانے سے نہ روکتے تو شاید ہماری سانسیں بند ہو چکی ہوتیں۔ اور ہم اپنی انا پرستی کی بینٹ چڑھ کر موت کو گلے لگا لیتے اور ریت اور مٹی کی قبر کی جگہ۔ ہمیں برف کی قبروں میں اِک ساتھ دفن ہوجانا پڑتا۔
پاکستان کی تاریخ میں پنڈی سے گلگت جانے والا پی۔آئی ۔ اے کا ایک طیارہ برف کے تھپیڑوں سے ٹکراتا برفانی طوفان میں پھنس کر اپنی منزل سے ٹھیک گیا اور آج تک اُس کا پتہ نہیں چلا۔ کہ وہ طیارہ مسافروں سمیت کہاں دفن ہے۔
کئی ٹیمیں روانہ کی گئیں مگر آج تک اُس گُم ہوجانے والے طیارے کا سراغ نہیں مِل سکا ایسے ہی گرمیوں کے موسم میں دنیا بھر سے ہزاروں کوہ پیما پاکستان کے شمالی علاقہ جات کا رُخ کرتے ہیں۔ وہ کے۔ ٹُو۔ نانگا پربت اور ایسی ہی دیوقامت برفانی چوٹیوں کے سر کرنے کا منصوبہ بنا کر پاکستان آتے ہیں۔ ہزاروں میں سے آدھے سے زیادہ راستے میں ہی اُن دیو جیسی چوٹیوں کو دیکھ کر اُن کی ہیبت سے گھبرا کر دل ہار دیتے ہیں۔ اُن کی ہمت جواب دے دیتی ہے اور وہ ’’ حسرت ‘‘ کہ اُن چوٹیوں کو سر کر لیں گے۔ دل میں ہی لیے واپس چلے جاتے ہیں۔ پلٹ جاتے ہیں اُن راستوں پر۔ جہاں سے وہ آئے تھے۔ کچھ ہمت والے اپنی عزت کی خاطر اپنی قوم اپنے ملک کا نام بلند کرنے کے لیے میدان میں کود پڑتے ہیں۔ بہت سے زخمی ہو کر مدد کو پکارتے ہیں اور ہیلی کاپٹر اُنہیں اٹھا کر ہسپتالوں میں پہنچا دیتے ہیں۔ اور وہ موت کے مُنہ میں جانے سے بچ جاتے ہیں۔پاکستان کے نامور کوہ پیما نذیر صابر یہ چوٹیاں سر کرکے پاکستان کانام سر بلند کر چکے ہیں۔
کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو موت کو گلے لگانے کا عہد کر کے نکلے ہوتے ہیں۔ موسم سازگار ہوتا ہے دھوپ چمک رہی ہوتی ہے۔ مگر سینکڑوں میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والے طوفان اچانک نمودار ہوتے ہیں۔ اور پھر کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ نہ چیخ گونجتی ہے۔ نہ مدد کے لیے دیئے گئے سگنل کام کرتے ہیں۔ نہ اپنے نہ پرائے مدد کو پہنچتے ہیں۔ ایسے خوفناک طوفان اِن سر د ترین پہاڑی چوٹیوں کے گرد اکثر منڈلاتے رہتے ہیں۔ اور جب زیادہ غصے میں ہوں گھیرا ڈال لیتے ہیں اور پھر سب کچھ تہس نہس کر ڈالتے ہیں۔
بے بس انسان فضا میں معلق ہو جاتا ہے۔ یا گہری کھائیوں میں جا گرتا ہے۔ جہاں برف ۔ جو ہوا جیسی پھول جیسی لگتی ہے۔ اُس کو گھیر لیتی ہے۔ چھا جاتی ہے اُس پانچ چھ فُٹ کے انسان پر۔ اور تیز ہوائیں آکسیجن کی کمی۔ سانس بند کر دیتی ہے۔ کوئی لاکھ مدد کرنا چاہے۔ مگر یہ سوچنے والا بھی بے بسی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور موت یقینی ہوتی ہے۔ ایسے موقع پر!۔ اِن علاقوں میں صدیوں سے یہ سلسلے چلتے رہتے ہیں۔ سردیوں میں یہ برف کے سمندر گرمیوں میں پھولوں کے سمند ر بن جاتے ہیں۔
ہم ایبٹ آباد سے نکلے تو ڈاکٹر گلزار کو اپنا فیض باغ یاد آنے لگا۔ مگر شیخ اصغر نے اٹل فیصلہ صادر کر دیا کہ میں نے تو فیصل آباد سے نکلتے ہی عہد کیا تھا کہ واپسی ایبٹ آباد سے براستہ نتھیا گلی ۔ مری وغیرہ والے راستے سے ہوگی۔ کہ نومبر کے مہینے میں چانس ہوتا ہے۔ برف باری کا۔
ہم نے شیخ اصغر کا خوب مذاق اڑایا۔ کہ نومبر کے مہینے میں برف باری کا خواب۔ نہ بھئی ناں ہمارے دوست بھُٹہ صاحب ایسے موقع پر حتمی فیصلہ کرتے ہیں۔ اور ہم سب نے اُن کی بات مان لینی ہوتی ہے۔ کہ وہ ہر بات دلیل سے کرتے ہیں۔ اور اُس میں تھوڑا بہت عقل کا استعمال بھی ہوتا ہے۔ ویسے اُن کے سامنے ہم اپنی عقل کم ہی استعمال کرتے ہیں۔
لیں جناب۔ سفر طے شدہ پروگرام کے مطابق شروع ہو گیا۔ کمال خوبصورت راستہ ہے۔ ایبٹ آباد سے نتھیا گلی والا۔ پہاڑوں کی بلندی ۔گہری کھائیاں اور پھر وہ بڑے بڑے پہاڑی شیڈ۔ کہ جن پر جب برف باری ہوتی ہے۔ تو خود بخود ایسی ڈھلوانیں بن جاتی ہیں کہ جن پر سکیٹنگ ہو سکتی ہے۔ کھیل تو یہ بھی بہادر لوگوں کا ہے۔ ( دنیا میں ایسی ڈھلوانیں اِس گیم کے لیے بنائی جاتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں یہ قدرتی طور پر موجود ہیں)۔
مگر دنیا ابھی تک بہادروں سے بھری پڑی ہے۔ ہم مزے سے جھومتے جھامتے ۔ اِس خوبصورت سفر سے لطف اندوز ہو رہے تھے کہ۔ خالد بھُٹہ صاحب بول اُٹھے۔ ’’ شیخ ۔ تاریخ میں پہلی بار تمھاری دلی مراد پوری ہونے کا وقت آگیا ہے۔ اللہ پاک نے تمھاری سُن لی۔ اب لو مزے۔ برف باری کے تیاری نہیں ہے۔ لیکن بہر حال اب ہمیں کودنا تو ہے اِس میدان میں۔
میں نے گاڑی چلاتے ہوئے دیکھا کہ روئی کے گال جیسے نہایت باریک ریشے شیشے پر پڑ رہے ہیں۔ کبھی کبھی ۔ پھر لگا جیسے ہمارا وہم تھا۔ شیخ اصغر مایوس ہوگیا۔ اور ڈاکٹر گلزار خوش ۔ کیونکہ ڈاکٹر گلزار کو خوف محسوس ہوتا ہے۔ ایسے سفر کے دوران۔یہ پہلا ڈاکٹر ہم نے دیکھا ہے جو مریض کو زیادہ بیما ر دیکھ کر خود گھبراجاتا ہے۔
پھر سے۔ روئی کے ریشے محسوس ہونے لگے۔ میں نے گاڑی کی رفتار تیز کر دی۔ کیونکہ جوں جوں ہم ایبٹ آباد سے دور ہوں گے۔ تھوڑی بہت برف باری بھی ہوئی تو ہم انجوائے کر لیں گے۔ میدانی علاقوں سے آئے لوگوں کے لیے برف باری ’’ عید‘‘ کا سا سما ں پیدا کر دیتی ہے۔
روئی جیسی برف گرنے لگی اور ہم چُپ کر گئے۔ جیسے سب گُم ہوگئے ہوں اِس خوبصورت منظر کی دلکشی میں۔ ڈاکٹر نے شیشہ اوپر کیا اور تھر تھرکانپنے لگا۔ ہم نے ہمت کی۔ مگر دس سے پندرہ منٹ کے دوران ہماری ہمت بھی جواب دے گئی۔ ہم نہتے اور سرد ہواؤں کے تھپیڑے۔
ہم نے بھی شیشے اوپر کر لیے۔ بھُٹہ صاحب نے عقل مندی والی بات کرتے ہوئے آڈر جاری کیا۔ ’’ جاہل لوگو شیشے نیچے کر لو کیونکہ ایسے ’’ فوگ‘‘ (دُھند) ہو جائے گی اور کچھ دکھائی نہ دے گا۔
ہم نے پھر سے شیشے نیچے کر لئے۔ مگر ڈاکٹر گلزار بدتمیزی پر اتر آیا۔ کمینے لوگو۔ میں پہلے ہی سانس کے مرض میں مبتلا ہوں۔ مجھے یہ برفیلی سردی مارڈالے گی۔ اوپر کرو سب گاڑی کے شیشے!‘‘۔ عجیب مشکل وقت تھا۔ کبھی شیشے اوپر ۔ کبھی شیشے نیچے گاڑی کا بونٹ برف سے بھر گیا اور ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ کہ کیا ہوگا۔ اور کیا کریں۔ دائیں طرف بلند و بالا پہاڑ اور بائیں طرف گہری کھائی۔ گویا اگر گر گئے تو بڑی تباہی۔
ایسے میں چار پانچ کم عمر بچے ہماری گاڑی کے ساتھ ساتھ بھاگنے لگے۔ میں نے اُن کو ڈانٹ دیا۔ ’’ یہ فقیر لوگ کہیں بھی پیچھا نہیں چھوڑتے شیخ اصغر گرجا۔ گاڑی کی لائٹیں جل رہی تھیں۔ یوں لگ رہا تھا جیسے برف کے سمندر میں اتر آئی ہے ہماری گاڑی۔ ایسے میں گاڑی کا ہارن بجنے لگا‘‘۔ ’’مظفر بند کرو۔ ہارن کو۔ کیوں بجا رہے ہو‘‘ ۔ بھائی میں نے تو ہارن نہیں دبایا۔ میں نے ڈاکٹر گلزار کے غصے بھرے سوال کا جواب دیا۔ ’’اب اِس گاڑی کی نئی بیٹری جواب دے دے گی۔ بند کروہارن‘‘۔ شیخ اصغر کو اپنی گاڑی کی فکر شروع ہو گئی۔ اور ڈاکٹر گلزار کو اپنی جان کی۔ اور ہم …… ’’ ہم سب اللہ کے حوالے‘‘!۔
وہ چار پانچ بچے پھر سے چمٹ گئے گاڑی کو۔ میں نے بریک دبائی گاڑی سلپ ہونے لگی۔کنٹرول ختم میرا دل حلق میں آگیا۔ ’’ یا اللہ خیر۔ یہ کیسا سفر ہے۔ شاید موت کا سفر۔ خالد بُھٹہ کی آواز آئی۔ وہ بچے ہاتھ جوڑ کر کچھ کہہ رہے تھے۔ میں نے پوچھا کیا ہے۔ بولو ۔ خیرات نہیں ہے اِس وقت موت کا ڈر ہے۔ تمھیں اپنی پڑی ہے اور ہمیں اپنی۔
’’ بابوجی۔ یہ لوہے کے سنگل ہیں ہمارے پاس یہ صرف بیس بیس روپے میں گاڑی کے ٹائروں پر چڑھا لو۔ گاڑی چلتی رہے گی۔ پھسلے گی نہیں ۔ شیخ اصغر نے اُن کو ڈانٹ دیا اور سینہ تان کے بولا۔ بالکل نئی ہے میری گاڑی۔ اِس کے ٹائروں کی بڑی گرپ ہے۔یہ ہماری اناڑی ڈرائیونگ کی وجہ سے سلپ ہو رہی ہے۔
بچے مایوس ہو کر ہٹ گئے۔ گاڑی دائیں طرف گھوم گئی۔ ارے روکو کھائی میں جا رہی ہے گاڑی۔ شیخ چیخا۔ پیچھے سے گاڑیوں کے ڈرائیور ہارن پہ ہارن بجانے لگے۔ ہمیں یہ غیر انسانی رویے ۔ ہر جگہ محسوس ہوتے ہیں۔
برف باری اِس قدر تیز تھی کہ کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ ارے یہ تو پھنس گئی۔ گاڑی نہ آگے جائے نہ پیچھے۔ میں نے گاڑی بند کردی۔ کیونکہ میری تھوڑی سی غلطی ہمیں گاڑی سمیت کسی سینکڑوں گز گہری کھائی میں گرا سکتی تھی۔ میں نے ہمت ہار دی۔ میں نے ہاتھ کھڑے کر دیئے۔
میں نے پھر سٹارٹ کی تو ہارن شکر ہے بند ہو چکا تھا۔ اب گاڑی نہ آگے جائے نہ پیچھے ۔ خالد بھُٹہ نے مجھے اتارا اور خود اسٹیرنگ پر بیٹھ گئے۔ تینوں مل کے دھکا لگاؤ۔ ہم نے غصے میں جو دھکا لگایا تو گاڑی تو تھوڑا آگے بڑھی لیکن ہم تینوں کی سانس پُھول گئی۔کئی بار مُنہ کے بل گرتے گرتے بچے۔ ہمت کر کے مزید دھکا لگایا۔ لیکن میں اب کے گر پڑا۔ میرے دائیں طرف شیخ اصغر اور ڈاکٹر گلزار بھی برف پر گرے پڑے تھے۔ بے سُدھ۔
میری آنکھیں پانی سے بھر چکی تھیں اور مجھے کچھ دکھائی نہ دے رہا تھا۔ میری سانس بند ہور ہی تھی۔ میں نے یقین کر لیا کہ دو تین لمحے میں موت کے سفر پر روانہ ہو جاؤنگا۔ آخری منظر دونوں دوستوں کو برف پر بے سُدلیٹے دیکھنے کا تھا۔شیخ اصغر پہ اب مجھے بھی غصہ آ رہا تھا۔ لے لو مزے برف باری کے۔
وہ چھوٹے چھوٹے نو عمر لڑکے۔ ہمارے سینوں پر اپنے ہاتھوں سے مالش کر رہے تھے۔ ’’ بابو بہت سے لوگ ایسے سانس بند ہو جانے سے مر جاتے ہیں کیونکہ یہاں آکسیجن نہیں ہے۔ برف بھاری اور طوفان کے باعث ، جب مجھے ہوش آیا تو ہم چاروں دوست برف سے ڈھکے ۔ اُس علاقے کی اِک دکان کے فرش پر لیٹے تھے اور وہ بچے ہمیں دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ طوفان کی خوفناک گونج اب سنائی نہیں دے رہی تھی۔
’’ بابو جی۔ اللہ تعالیٰ نے تم چاروں کو بچا لیا ہے۔ وہ دیکھو ۔ ہم نے تمھاری گاڑی کے چاروں پہیوں پر لوہے کی زنجیریں پرو دی ہیں جن سے گاڑی پھسلے گی نہیں۔ ویسے بھی طوفان تھم چکا ہے۔ اور برف نہیں ہے۔ تم آدھ گھنٹہ میں بھور بن پہنچ جاؤ گے۔ ہمت کرو۔ اُٹھو۔ اور اپنے اپنے گھروں کو پہنچ کر دیگ پکا کر چاول وغیرہ غریبوں کو کھلانا ۔ موت سے بچ جانے کی خوشی میں‘‘۔
میں نے پانچ سو کا نوٹ نکال کر بچوں کو دینا چاہا۔ مگر اُنہوں نے صاف انکار کر دیا۔ وہ ہمارے ساتھ ساتھ پھر دوڑ رہے تھے۔ جہاں برف ختم ہوئی صاف سڑک آگئی۔ میں نے بڑا زور لگایا کہ وہ بچے پانچ سو کا نوٹ لیں مگر اُنہوں نے اپنی زنجیریں گاڑی کے ٹائروں سے اتاریں اور واپس چل پڑے۔
البتہ ۔ اِک بچے کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی اور میں شرمندہ ہو گیا۔ ’’ پانچ سو کیا ہم تو پانچ روپے بھی تم جیسوں سے نہیں لیں گے جنہیں جان نہیں پیسے عزیز ہیں‘‘۔

Viewers: 5089
Share