Hafiz Muzafar Mohsin | Column | بوتی جاتی ہے ثمر دار شجر رستے میں

حافظ مظفر محسن 101چراغ پارک شاد باغ لاہور فون: 0300-9449527 ’’ بوتی جاتی ہے۔ ثمر دار شجر رستے میں‘‘ ’’شہباز انور خان اندر سے سو فٹ آدمی ہے۔ اِس شخص […]

حافظ مظفر محسن
101چراغ پارک شاد باغ لاہور
فون: 0300-9449527

’’ بوتی جاتی ہے۔ ثمر دار شجر رستے میں‘‘

’’شہباز انور خان اندر سے سو فٹ آدمی ہے۔ اِس شخص کا دنیا میں کوئی بھی دشمن نہیں ہوگا‘‘۔یہ میری رائے ہے ۔ آپ اِس شخص سے ملیں گے تو آپ میری اِس رائے سے سو فیصد اتفاق کریں گے۔ہاں میری رائے سے اتفاق کرتے ہوئے آپ یہ بھی اضافہ کر لیں کہ یہ شخص اِک بار جس سے ملے گا اگلی ملاقات میں اُس شخص کو محسوس ہو گا کہ شہباز انور خان تو صدیوں پہلے سے اُس کا دوست ہے!۔
میں نے ایس ۔ ایم ۔ ایس پڑہنے چھوڑ دئیے ہیں۔ زیادہ ایس۔ ایم ۔ ایس۔ آجکل پچاس سے اوپر کی عمر والے دوست بھیجتے ہیں۔ جن میں شوگر اور بلڈ پریشر سے بچنے کے طریقے بتائے گئے ہوتے ہیں یا پھر اِن بیماریوں کے علاج۔ البتہ افتخارمجاز ، ہارون میر ، شہباز انور خان اور ’’ وہ ‘‘جو بھی ایس ۔ ایم ۔ایس کریں گے۔ وہ انوکھا ہوگا۔ اور میرے لیے ہوگا۔ اور جو چیز میر ے لئے ہوگی۔ میں اُس پر قبضہ کرنے کا ماہر سمجھا جاتا ہوں۔ یقین نہ آئے تو……….!۔
آج شہباز انور خان کا ایس ۔ایم ۔ایس آیا۔
’’ ایک آرٹسٹ سے دل کے دروازے کی تصویر بنانے کو کہا گیا۔ اُس نے بہت خوبصورت گھر بنایا اور اُس میں چھوٹا سا خوبصورت سا دروازہ لگایا۔ لیکن اُس کا ہینڈل نہیں تھا۔ کسی نے پوچھا۔
’’ ہینڈل کیوں نہیں لگایا!‘‘
تو اُس آرٹسٹ نے بڑی خوبصورت بات کی۔
’’ کہ دل کے دروازے اندر سے کھلتے ہیں باہر سے نہیں‘‘۔
میں نے نامور افسانہ نگار سے پوچھا کہ آپ سب سے محبت عقیدت اور دوستی کا تعلق رکھتی ہیں اور نبھاتی بھی ہیں۔ ’’ اُس ‘‘ سے نفرت کیوں؟!۔ ( ’’ اُس‘‘ سے میری مراد شہر لاہور کا اِک نامور لکھاری ہے۔ نام مت پوچھیئے)۔
میں تو اُس سے صرف ’’ نفرت ‘‘ کرتی ہوں میری جگہ کوئی اور ہوتی تو اُسے شاید گولی ماردیتی۔ یہ جواب سُن کے۔ میں ڈر گیا۔ اور میں نے ماحول کو شگفتہ بنانے کے لیے ۔ اُن کی پسند کا سوال کر ڈالا۔ (اِک چالاک صحافی بنتے ہوئے)۔
آپ کو اپنا سب سے اچھا افسانہ کون سا لگتا ہے۔؟۔
’’ ابھی نہیں لکھا‘‘۔ یہ متاثرکن جواب تھا۔ چا لاکی دھری کی دھری رہ گئی۔ اور پھر یوں گویا ہوئیں۔
بوتی جاؤں گی ثمردار شجر رستے میں
چاہے اس راہ سے پھر میرا گزر ہوکے نہ ہو
یہ شعر کس کا ہے ۔ اچھائی کا درس دیتا ہے یہ شعر۔ وہ خوب ہنس دیں۔ ’’ یہ میری ہی غزل کا شعر ہے‘‘۔ ’’واہ‘‘۔ بے ساختہ میرے مُنہ سے نکلا۔ تو اُنہیں اطمینان سا محسوس ہوا۔
اتنے خوبصورت افسانے لکھنا اور پھر شاعری بھی۔ اُنہوں نے میری داد پر غور ہی نہیں کیا۔ (شاید جان بوجھ کر)
’’ لگتا ہے۔ آپ رو رہی تھیں۔ مانوبلی کی طرح‘‘؟!۔ میں نے غور کیا ۔ میں نے زیادہ ہی ’’ لبرٹی‘‘ لے کر یہ سوال کیا ہے۔ مجھے کچھ ڈر سا لگا۔ لیکن وہ ہنس دیں۔
’’ مظفر ۔ یہ بتاؤ تم نے مانو بلی والی بات کیوں پوچھی۔ تمھیں یہ واقعہ کس نے بتایا۔ کہ میں اُس مانو بلی کی یاد میں آنسو بہاتی ہوں‘‘؟!۔
میں علم نجوم کا طالب علم بھی ہوں اور بچپن سے دست شناسی کے فن سے بھی وابستہ ہوں ۔ لیکن خدا جانتا ہے۔ یہ میں نے جان بوجھ کر سوال نہیں کیا۔
اصل میں میرے گھر کے مین دروازے پر اِک ’’ بلی‘‘ روز بیٹھا کر تی تھی۔ جب میں اچانک ذور سے دروازہ کھولتی ۔ تو اُس کو دروازہ ہٹ کرتا اور وہ ’’ چاؤں۔ میاؤں‘‘۔ کرتی اور مجھے احساس ہوتا کہ شاید بے چاری کو چوٹ لگی ہے۔ شاید ظلم سر زد ہو رہا ہے مجھ سے۔ انجانے میں۔ میں نے ملازم سے کہا ۔ ’’ اِسے پیار سے پکڑو۔ اور کہیں چھوڑ آؤ‘‘۔ بُرا لگتا ہے مجھے روز انجانے میں۔ یہ سرزد ہونے والا عمل
اگلے دن پھر میں نے دروازہ کھولا۔ ’’ چاؤں ۔ میاؤں‘‘۔ میں نے ملازم سے پوچھا۔ میاں اِسے بھگانے کو کہا تھا۔ وہ آہستہ سے بولا۔ ’’ میڈم ۔ یہ بلی ہے۔ انسان نہیں۔ میں ریلوے اسٹیشن پر چھوڑ آیا تھا( شاید کراچی روانہ ہوجائے۔ بغیر ٹکٹ کے) مگر جب میں گھر واپس آیا تو یہ مجھ سے پہلے گھر پہنچ چکی تھی۔ میں نے پہلی بار اِس سفید بلی اور اُس کی ’’ ملٹی کلر ‘‘ آنکھوں پر غور کیا۔ محبت جاگ اٹھی۔
میں نے سوچا اِس کو اپنے ساتھ ہی رکھوں گی۔بلی ایسا محبت کرنے والا جانور ہے جو شاید سب سے زیادہ گھروں میں پالتو جانور کے طور پر رکھی جاتی ہے۔
دو تین دن گزر گئے ۔ میں نے محسوس کیا کہ دروازے کے پیچھے سے ’’ میاؤں‘‘ ۔ ’’ میاؤں‘‘ کی آواز نہیں آئی۔ میں نے ملازم سے پوچھا۔ کدھر ہے وہ گداز ’’ ملٹی کلر ‘‘ آنکھوں والی سفید بلی؟!۔
بیگم صاحبہ وہ اب کبھی نہیں آئے گی۔ میں نے اُس کو وہیں پہنچا دیا جہاں سے وہ آئی تھی۔
اور پھر وہ سفید بلی مجھے ہر دن یاد آئی۔ اور آنکھیں بھیگ جاتی ہیں اُسے جب بھی یاد کرتی ہوں۔
مجھے حسن عباسی کاطوطا یاد آ گیا۔ جس دن وہ فوت ہوا۔ حسن عباسیؔ نے شیو نہیں کی۔ ناشتہ نہیں کیا اور دفتر بند رکھا کہ مٹھو کی یاد میں سب دنیاوی کام معطل۔ اور ہم نے باقاعدہ حسن عباسی کے ساتتھ تعزیت کی اور دوستوں نے درد بھرے اشعار بذریعہ ایس ۔ایم ۔ایس بھیجے۔ آج بھی مٹھو کی باتیں شروع کریں تو حسن اداس ہو جاتا ہے۔
سُنا ہے۔ افسانہ نگار عام طور پر خود سے بنائی ہوئی تصوراتی باتوں کو طول دے کر تحریر کو افسانے کا نام دے دیتے ہیں؟۔
نہیں نہیں ۔ میرے افسانے پڑھ کے دیکھیں آپ کو معاملہ الٹ دکھائی دے گا۔ بھکر میں پیدا ہوئی جو اُس وقت پسماندہ علاقہ تھا اور دل چاہتا تھا۔ کہ میں بہت زیادہ پڑھ لکھ لُوں۔ مگر ’’ ماں‘‘ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا سو کالج جانے کی عمر میں شادی ہوگئی۔ اگرچہ بعد میں ایم۔ اے تک تعلیم حاصل کی مگر اُس عمر میں کالج یونیورسٹی ناجانے کا افسوس ہے۔ اِک خلش سی ہے دل میں۔ ویسے تو آج بھی لاکھوں لڑکیاں بڑے شہروں میں رہتے ہوئے بھی زیور تعلیم سے آراستہ نہیں ہو پاتیں محض بڑوں کی جھوٹی انا کے چکر میں۔
اِک زمانے میں نئی شاعرہ ’’ نوشی گیلانی‘‘ جب میدان میں اتریں تو ملتان میں اِک شام اُس کے ساتھ منائی گئی۔ جہاں تقریب کو گرم رکھنے اور رونق بخشنے کے لیے سات سے زیادہ وزیر پہنچ گئے۔ محفل تو گرم ہو گئی۔ رونق میلہ لگ گیا۔ مگر شاعرہ ’’ مُنہ چھپاتی‘‘ پھر تی تھی۔ اب تو خیر سے نوشی گیلانی ایک معتبر شاعرہ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔
میں نے محترمہ۔ فرحت پروین کی کتابوں پر فلیپ دیکھے تو گھبرا سا گیا۔ احمد ندیم قاسمی، نجیب احمد، بانو قدسیہ، امجد اسلام امجد، احمد عقیل روبی نے طویل تحریریں لکھیں۔ اور محترمہ فرحت پروین کی افسانہ نگاری کے حوالے سے تجزیاتی، تنقیدی اور توصیفی مضامین لکھے گئے۔ اور خوب لکھے۔
میں نے ’’ منجمد ‘‘ میں موجود افسانے تو پڑھ رکھے تھے لیکن جب ’’ ریستوران کی کھڑکی سے ‘‘ ’’ صندل کا جنگل‘‘ اور ’’ کانچ کی چٹان‘‘ کے افسانے پڑھے تو محترمہ فرحت پروین کی بات واضح ہوگئی کہ یہ افسانے اُن کی آپ بیتیاں ہیں یا اِن افسانوں میں موجود کردار۔ وہ ہیں جن سے فرحت خود مل چکی ہیں یا اُنہیں قریب سے دیکھ چکی ہیں جانتی ہیں۔
میری بیس سال پہلے بھی یہی رائے تھی جب میں نے میرزا ادیب کی کتاب ’’ مٹی کا دیا‘‘ پڑھی۔ اُن کے ناول ’’ صحرانور د کے خطوط‘‘ بار بار پڑھے تو محسوس ہوا کہ یہ لوگ نہایت نازک ، نہایت باریک بین اور بے حد جذباتی ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ روس کا لیوٹالسٹائی ہی کیوں نہ ہو۔ یا مشہور انگریز شاعروڑزورتھ۔
محلات میں رہنے والے لیوٹالسٹائی ۔ نے ’’ جنگ اور امن ‘‘ جیسے ناول لکھے۔ وہ ایک امیر ترین شخص تھا اور بہت خوش مزاج بھی لیکن۔ اپنی بیوی کے سخت گیر لہجے سے وہ بے حد تنگ تھا۔ اور خود کو ہر لمحہ اذیت کا شکار سمجھتا تھا۔ اُس کی تحریروں سے یہ ’’ اذیت‘‘ جھلکتی ہے اور وہ اِ س TENSION کا ذکر نہ بھی کرئے پتہ چلتا ہے کہ وہ انڈر پریشر رھ کر زندگی گزارتا رہا۔
میں نے محترمہ فرحت پروین سے جب زندگی کے کسی مختلف پہلو پر بات کی تو وہ چُپ ہو گئیں۔ یہ خاموشی ۔ طویل ہوئی تو میرے فون کی گھنٹی بج اُٹھی۔ ریاض ہانس کا فون تھا۔ جی ہاں۔ وہی ’’ ادب عالیہ ‘‘ کے چیف ایڈیٹر ۔ محترمہ بول اُٹھیں۔ ’’ میرا سلام بھی کہئے گا‘‘ ۔ میں نے فون بند کر دیا!۔
پہلے وہ بات بتائیں۔ جس نے آپ کو خاموش کر دیا۔ چُپ سی لگ گئی۔ وہ مسکرائیں۔ ’’ اِس مسکراہٹ ‘‘ سے کام ہر گز نہیں چلے گا۔ وہ بات بتائیں۔
میری ضد کے آگے اُنہوں نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ وہ خاتون فسانہ نگار ’’ ہار ‘‘ کب مانتی ہے جس نے ’’ ٹونیوکروگر‘‘ کا ترجمہ کیا ہو۔
جو لکھاری ۔ اچھی تحریر کے چکر میں دوستوں کے فون نہ سُنے۔ گھر والوں سے عارضی قطع تعلق کر لے۔ وہ ’’ ہار‘‘ نہیں مان سکتا۔
اِک کیفیت سی طاری دیکھی میں نے۔ محترمہ کے آنکھوں میں آنسو جھلک رہے تھے۔ آہستہ سے بولیں۔
’’ زندگی کا مقصد کیا ہے۔ انسانیت سے پیار؟۔ مجبور کی مدد۔ ’’ وہ انسان ہو یا کوئی اور ذی روح‘‘ محض اپنے جذبات کی تسکین یا اپنی ہستی کی تکمیل ؟!۔ زندگی کے کچھ دن میں نے اکیلے گزارے اور پھر مجھے وہ گزرے لمحے یاد آگئے۔ پرانی باتیں کیا پیچھا چھوڑتی ہیں انسان کا؟۔
جب میں نے کچھ دن اپنی چھوٹی بیٹی کو اُس وقت اکیلے چھوڑ دیا جب اُسے میری سخت ضرورت تھی۔ میرے آنسو تھم نہ پائے۔ سب سے پہلے میں نے بیٹی کو پاس بلایا۔ اُسے گلے سے لگایا اور اُس سے ’’ معافی‘‘ مانگی۔ گاڑی پکڑی اور اِک انجان سڑک پر چل نکلی۔
شاید ہر انسان پر اِک بار ضرور ایسی کیفیت طاری ہوتی ہو۔ گاڑی کی رفتار غیر ارادی طور پر بڑھ گئی۔ سامنے سے اِک تیز رفتار ٹرک آتا دکھائی دیا۔
میں نے گاڑی سیدھی ٹرک کی طرف مو ڑ دی اور آنکھیں بند کر لیں۔ جب چند لمحے وہ ’’ واقعہ‘‘ وقوع پذیر نہ ہوا جس کی خواہش میں میں نے گاڑی ٹرک سے ٹکراڈالنے کی سعی کر ڈالی۔
تو میں نے ڈرتے ڈرتے اِک دم خود پر کنٹرول کرتے ہوئے آنکھیں کھولیں تو گاڑی اِک سیدھی سٹرک پر جا رہی تھی۔ نہایت خوبصورت مناظر دونوں طرف دکھائی دے رہے تھے۔ اور ٹرک کسی دائیں بائیں مُڑتی سڑک پر جا چکا تھا۔ نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا؟!۔
محترمہ کی زندگی کے حوالے سے ابھی بہت کچھ جاننا چاہتا تھا۔ اُن کے فن کے حوالے سے بہت سی باتیں ابھی باقی تھیں۔ مگر اِس واقعہ نے ماحول کو نہایت سنجیدہ کر دیا۔ اور میں سنجیدگی کے ساتھ انٹرویوکرنے کا عادی نہیں۔ کہ سنجیدگی طاری ہو جائے تو میری تحریر۔ ’’ مُردہ‘‘ ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اور میں یہ ’’ خطرہ‘‘ ہر گز مول نہیں لے سکتا۔
بقول حسن عباسی۔
میں نے یہ جنگ نہیں چھیڑی یہاں اپنے لئے
تخت پہ تم کو بٹھاؤں گا چلا جاؤں گا

Viewers: 2873
Share