Rumana Roomi | Short Story | برموداٹرائی اینگل

رومانہ رومی کراچی۔ پاکستان ای میل: rumana_roomi@hotmail.com برموداٹرائی اینگل وہ ایک درمیانے سائز کا بے رنگ سا کمرہ تھا چھت کے نام پر چند لکڑ ی کے بانس لگے تھے […]

رومانہ رومی
کراچی۔ پاکستان
ای میل: rumana_roomi@hotmail.com


برموداٹرائی اینگل

وہ ایک درمیانے سائز کا بے رنگ سا کمرہ تھا چھت کے نام پر چند لکڑ ی کے بانس لگے تھے جن پر باہر سے چٹائی ڈالی گئی تھی جو اب کافی خستہ اور بے رنگ ہو گئی تھی لکڑی کے بانس میں بھی دیمک لگی صاف نظر آرہی تھی کمر ے میں بس ایک دروازہ اور دو کھڑ کیاں تھیں مگر وہ بند تھیں جس سے کمر ے کے باہر کا منظر نظروں سے اوجھل تھا۔کمرے میں سوا ئے تین کر سیوں اور ایک میز کے کو ئی اور سامان نہ تھاجو کمر ے کے بیچ وبیچ بڑی تر تیب سے رکھے ہوئے تھے ۔ رات کا وقت تھا لیکن کمر ے میں روشنی کا کوئی انتظا م نہ تھا۔ اچانک بادلوں کی اوٹ سے چاندباہرنکلاتو چھت کے سوراخوں سے کمر ے میں روشنی سی پھیل گئی اور ٹھیک کمر ے میں رکھی کر سیوں سے جا ٹکرائی ۔تینوں کر سیاں الگ الگ سائز اور معیار کی تھیں۔ پہلی کرسی سب سے زیادہ شاندار اور قیمتی تھی اور اُس کی چمک دمک آنکھوں کو خیر ہ کر رہی تھی وہ کسی بادشاہ کے تخت کی طرح بنائی گئی تھی جس پر خالص سونے کا قیمتی اور نفیس فریم تھا اور گدی بھی خوبصورت مخمل کے کپڑے سے بنائی گئی تھی ۔دوسری کر سی بھی کچھ کم خوبصو رت نہ تھی مگر پہلی والی سے ذرا کم قیمتی اُس کا فریم چاندی سے بنا ہوا تھا اور چاند کی روشنی میں خوب چمک رہا تھا جب کے تیسری کر سی اگرچہ اُن دونوں سے کم قیمتی تھی مگر اُس کا فریم ایک قیمتی لکڑی سے بنا ہو اتھا ۔درمیان میں رکھی میز لوہے کی تھی جس پر جگہ جگہ سے زنگ لگ چکا تھا۔
وہ تینوں خاموشی سے ایک ایک کرسی پر جا بیٹھے جیسے اُن کی کر سیاں پہلے سے طے کی ہو ئی ہوں۔پہلی کرسی پر بیٹھنے والے کا حلےۂ دیکھنے میں نہایت سادہ اور نفیس تھا اُس نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی جس پر ایک واسکٹ بھی تھی اس کے چہر ے پر ہلکی سی مو نچھیں تھی ۔دوسری کرسی پر بیٹھنے والے کا چہرہ بڑا رعب دار سا تھا اُس نے ایک قیمتی سوٹ پہن رکھا تھا اُس کے جوتے اندھیرے کے باوجود چمک رہے تھے اس شخص کا چہرہ بالکل صاف تھا جب کے تیسر ی کرسی پربیٹھنے والے کے چہرے پر گھنی ڈاڑھی تھی جب کہ مونچھیں صاف تھیں اُس کے ہاتھ میں ایک تسبیح تھی جو وہ
زورزورسے گھما رہا تھا ۔ابھی تک کسی نے گفتگو کا آغا ز نہیں کیا تھا ۔
کچھ لمحوں بعد پہلی کرسی والے نے اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہو ئے کہا ’’ آج ہم تینوں جس مقصدکے لیے جمع ہوئے ہیں ،مجھے اُمید
ہے کہ آج کی یہ بات چیت کسی حتمی نتیجہ پر پہنچ کر ہی رہے گی کیوں کہ اب ہمارے پاس یہی آخری موقعہ ہے اگر ہم اب بھی آپس میں ایک
نا ہوئے اور فائدہ نا اُٹھا پائے تو سوائے پچھتاوے کے ہمارے پاس کچھ نہیں ہو گا لہذا بہتری اسی میں ہے کہ پچھلی تمام باتوں کو بھول جائیں اور آپس میں اتحاد سے مل جل کر اس موقعے کا بھر پور فائدہ اُٹھائیں ۔کیا آپ دونوں میر ی باتوں سے متفق ہیں ؟‘‘ اُس نے بات ختم کر کے دونوں
کی جانب دیکھا ۔
’’ جی ہاں ہمیں آپ کی یہ بات منظور ہے‘‘ دونوں نے بیک وقت مل کر جواب دیا۔
’’گڈ! اب ہم تمام معاملا ت طے کر یں گے اور کسی کو کسی سے کوئی شکایت بھی نہیں ہو گی‘‘ پہلی کرسی والے نے اطمینان سے کہا ۔
’’بالکل ٹھیک ! ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ تمام معاملا ت صاف ہو جائیں اور کوئی بھی ایک دوسرے کے کاموں میں مداخلت نہ کرے‘ ‘
(۲)
تیسر ی کر سی پر بیٹھے ہو ئے شخص نے تسبیح کے دانوں کو گھماتے ہوئے کہا ۔
’’تو ٹھیک ہے ! سب سے پہلے میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ تم اپنے اختیار ات کے بارے میں کیا کہنا چاہتے ہو اور تمہاری کیا خواہش ہے ‘‘ پہلی کرسی والے نے دوسر ی کرسی والے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں ایسے نہیں ! سب سے پہلے آپ ہی کی طرف سے شروع کر تے ہیں ‘‘ دوسری کر سی والے نے پہلی کرسی والے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ ٹھیک ہے ! اگر آپ لوگوں کی یہی مرضی ہے تو سب سے پہلے میں ہی شروع کرتا ہوں‘‘اب وہ اطمینا ن سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور بولنے لگا۔
’’ دراصل میں اور میری پارٹی کے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ جب تک ہم برسر اقتدار ہوں اُس وقت ہم سے اور ہماری پارٹی کے تمام عہدے داروں سے کوئی باز پرس نہ ہو،تمام وزرات،تمام ٹھیکے ہم صرف اور صرف اپنے ہی پسندیدہ لوگوں کو د یں گے۔ ملکی صنعتوں کو پرائیوٹ کمپنیوں کے ہاتھوں فروخت کرنے کی مخالفت نہیں کی جائے گی تاکہ ان کی فروخت سے حاصل ہونے والی کمیشن کی موٹی رقموں سے ہم الیکشن میں ہونے والے نقصا نات کو پورا کرسکیں ۔بڑی بڑی زرعی اور صنعتی زمینیں ہمارے لوگوں کو نہایت معمولی قیمتوں میں دینے پر ہمارے خلاف کو ئی آواز کوئی کاروائی او ر کوئی شور نہ کیا جائے۔ بیرون ملک ہمارے وزیروں اور مشیروں کے دوروں پر ہونے والے اخراجات پر واویلا نہ مچایا جائے۔ ہمیں اور ہماری پارٹی کے تمام چھوٹے بڑے لیڈروں کو ہر جگہ اور ہر وقت V.V.I.P سروس دی جائے اور ہمیں کسی احتساب بیورو یا عدلیہ کو کوئی حساب کتاب یا جواب نہ دینا پڑے وغیرہ وغیرہ ‘‘ اُس نے ایک ہی سانس میں سب کچھ کہ دینے کی بھر پور کوشش کی تھی مگر اُس کا سانس پھولنے
لگا تھا شاید فہر ست لمبی تھی اس لیے اُس نے وغیرہ وغیرہ کا استعمال کر کے بات کو مختصر کر نے کی کوشش کی تھی ۔
دوسری اور تیسری کرسی پر بیٹھے ہوئے دونوں اشخاص نے اُس کی بات سن کر ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں مطالبات کی منظوری دیتے ہوئے پہلی کرسی والے کی طرف دیکھا وہ بھی اُنہی دونوں کی طرف متوجہ تھا جیسے ہی اُن کی نظریں ملیں دونوں نے یک
زبان ہوکر کہا ’’ ہمیں تما م شرائط منظور ہیں ‘‘
اب دوسری کرسی والے کی باری تھی لہذا دونوں حضرات اب اُس کی طرف متوجہ ہو گئے ۔دوسری کرسی والے نے گلا صاف کر نے کے لیے
کھنکارااور بولنا شروع کیا۔
’’ جس طرح آپ نے اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے بالکل ویسی ہی باتیں ہمارے طرف سے بھی ہیں میں اور میرے ساتھی بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہمیں بھی ہمارے دفتری معاملا ت میں فری ہینڈ دیا جائے یعنی ہمارے لوگوں پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہ ہو، نا دفتر آنے کی ناجانے کی ،
(۳)
نارشوت لینے کی یا کوئی صحیح کام کرنے کی ،ہم سے بھی کوئی ادارہ کوئی افسر سوال نہ کرے ۔ہماری بدعنوانیوں اور کرپشن پر ہم بھی کہیں جواب دے نہ ہوں ۔ہمیں سکون کے ساتھ رہنے دیا جائے کوئی باز پرس کوئی ڈر کوئی خوف ہمیں ہمارے کام میں آڑے نا آئے و غیرہ وغیرہ‘‘
جیسے ہی اُس نے اپنی بات ختم کی باقی دونوں نے یک زبان کہا ’’ ہمیں منظور ہے‘‘
اب آخر ی شخص کی باری تھی اُس نے حق اﷲ کا نعرہ لگاتے ہوئے کہنا شروع کیا’’ آپ لوگوں نے جو کچھ کہا وہ درست ہے دراصل ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ آپس میں نفاق نہ ہو اور ہم ہمیشہ متحدہ ہو کر رہیں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ جس طرح ہم آپ کو فری ہینڈ دینے پر تیار ہیں بالکل اُسی طرح آپ لوگ بھی ہمیں فری ہینڈ دیجئے۔ ہمارے مدرسوں کی طرف سے آنکھیں بند کر لیجئے ،بنکوں میں ہمارے اساسوں کو ہمیشہ بحال رکھیں ۔زکواۃ ،خیرات،امداد کے نام پر ملنے والے چیکوں پر کوئی اعتراض نہ ہو ۔ہمیں جن ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں سے جو امداد ملتی ہے اُس کا ریکارڈ حاصل کر نے کی کوئی کوشش نہ کی جائے ۔ہمیں اقتدار کی کوئی خواہش نہیں ہم تو صرف اپنا اور دنیا کا بھلا چاہتے ہیں آخر ہمارے بھی تو کوئی
حق ہے نا زندگی پر حق اﷲ‘‘ تیسر ی کرسی والے نے بات ختم کر تے ہوئے اپنی گھنی داڑھی پر ہاتھ پھیرا۔
پہلی اور دوسری کر سی والے نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر تیسر ی کرسی والے سے کہا’’ ہمیں منظور ہے‘‘
اس کے ساتھ ہی وہ تینوں کرسیوں سے کھڑ ے ہو گئے اور آپس میں ایک دوسرے کے ہاتھوں کو مضبوطی سے تھام لیا اب وہ ایک TRI ANGEL بن گئے اُنھوں نے زور زورسے ہنسنا شروع کر دیا اور دائر ے میں گھومنے لگے ان کی طاقت بڑ ھنے لگی اور آس پاس کی تمام چیزیں اُن کی جانب کھنچنے لگیں اور اُس میں غائب ہونا شروع ہو گئیں، اُس ٹوٹے پھوٹے گھر کے درو دیوار، کھڑ کیاں، دروازہ اور ارد گرد کی تما م
چیزیں سیاسی، مذہبی اور بیورو کریٹک بر مودا ٹرا ئی اینگل میں غرق ہو نے لگیں۔

Viewers: 21877
Share