Nisar Ahmed Siddiquee | Interview | ڈاکٹر سید احمد قادری سے ایک انٹرویو

نثار احمد سدیقی
جنتا میڈیکل اسٹور ، کریم گنج، گیا ۔ ۸۳۲۰۰۱
بہار۔ بھارت

ڈاکٹر سید احمد قادری سے ایک انٹرویو

نام :سید احمد قادری
نام والد :بدر اورنگ آبادی
تاریخ و مقام پیدائش :۱۱؍ستمبر ۱۹۵۴ء ؁ اورنگ آباد (بہار)
تعلیم :ایم.ایس.سی.(بوٹنی) ، پی.ایچ.ڈی
ادبی تصانیف
ریزہ ریزہ خواب :(افسانوی مجموعہ) ۱۹۸۵ء
فن اور فنکار :(تنقیدی مضامین ) ۱۹۸۶ء۔ بہار اردو اکاڈمی سے انعام یافتہ َ ْ ْدھوپ کی چادر :
دھوپ کی چادر : (افسانوی مجموعہ ) ۱۹۹۵ء۔ ِ ِ
افکار نو :(تنقیدی مضامین) ۱۹۹۶ء۔
پانی پر نشان :(افسانوی مجموعہ) ۲۰۰۵ء۔
اردو صحافت بہار میں : (تحقیق ) ۲۰۰۳ء۔
شاعر اور شاعری : ( تنقید ) ۲۰۰۷ء۔
افسانہ نگار اور افسانے : ( تنقید ) ۲۰۰۸ء۔
جائزے : (تبصرے ) ۲۰۰۹ء۔
صحافتی خدمات
۱) مورچہ، آہنگ ، سہیل ، عظیم آباد اکسپریس ،بلٹز، جن ستا، دینک جاگرن وغیرہ میں بحیثیت نمائندہ اور مدیر معاون وابستہ رہے۔
۲) اگست ۱۹۸۴ء سے ۱۹۹۲ء تک اردو ہفتہ وار ’’بودھ دھرتی‘‘ کے مدیررہے۔
۳) جنوری ۱۹۹۱ء سے اردو سہ ماہی ’’ادبی نقوش‘‘ کے مدیر ہیں، جس کے کئی خاص نمبر مثلاََ غیاث احمد گدّی نمبر، انجم مانپوری نمبر ، پروفیسر عبد ا لمغنی نمبر ، معمار بہار نمبر اور شین مظفر پوری نمبر وغیرہ کو مرتب کیا ہے۔
اعزازات و انعامات
۱) ۱۹۹۲ء میں حکومت ہند کے محکمۂ تعلیم و ثقافت کی طرف سے فیلو شپ ایوارڈ ملا۔
۲) ۱۹۹۵ء میں کے.کے. برلا فاؤنڈیشن، نئی دہلی نے فیلوشپ ایوارڈ دیا۔
۳) ۱۹۹۶ء میں انگریزی روزنامہ’’ٹائمس آف انڈیا‘‘ نے بہاری آف دی ایئر کا اعزاز بخشا۔
۴) ۱۹۹۸ء میں فخر الدین علی احمد میموریل کمیٹی لکھنؤ کے مالی تعاون سے شیریں اختر کی کتاب ’’سید احمد قادری :شخصیت اور فن‘‘ شائع ہوئی۔
۵) بہار ،اترپردیش اور مغربی بنگال اردو اکادمی نے قومی سطح پر دئے گئے انعامات میں کئی تصانیف پر اوّل انعام دیا۔ ان کے علاوہ دیگر کئی اداروں نے بھی کتابوں پر انعامات دیئے۔
۶) کئی قومی اور بین الاقوامی سمیناروں میں شرکت کی۔
۷) بہار کی تمام یونیورسیٹیوں کے ایم اے ( اردو ) کے نصاب میں آپ کی کتاب ’’ اردو صحافت بہار میں ‘‘ شامل ہے۔
۸) آل انڈیا ریڈیو کے پٹنہ، گورکھ پور ، جئے پور ، نئی دہلی، لکھنؤ وغیرہ اسٹیشنوں سے کہانیاں ، مقالے نشر ہوئے، اور کئی ٹیلی ویژن چینلوں پر ڈسکشن میں حصّہ لیا۔
۹) مگدھ یونیورسیٹی ، سینیٹ کے ممبر ہوئے۔
۱۰ ) کئی ٹیلی ویژن چینلوں کے بحث و مباحثہ میں حصّہ لیا۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
س۔ سید احمد قادری صاحب! آپ کی پہچان ایک اہم افسانہ نگار اور صحافی کی حیثیت سے بے حد نمایاں ہے، آپ ان دونوں کے درمیان کس طرح فرق برقرار رکھتے ہیں؟
ج۔ افسانہ نگاری اور صحافت ، دونوں میں گہرے مشاہدے کی ضرورت ہے۔ فن الگ الگ ہے۔ اب اگر میرے مشاہدہ میں کسی ماں کا دو
بچوں کے ساتھ کنویں میں ڈوب جانے، یا بھارت ٹاکیز(گیا )کے قریب واقع مٹھائی کی دوکان کے پاس مٹھائی یا کھانے کا پتہ پھینکنے پر ایک ساتھ ایک غریب ، چتھڑے میں لپٹا ہوا بچہ اور ایک خارش زدہ کتّا، اس پتہ میں سے کچھ حاصل کرنے کے لئے دوڑتا ہے اور کتّا، بچہ سے بازی مارلے جاتا ہے تو میرے لیے یہ دونوں واقعہ افسانہ کا بھی موضوع بن سکتا ہے، ساتھ ہی ساتھ کسی اداریہ کا بھی۔ اسی طرح عالمی پیمانہ پر چند بڑے اور ترقی یافتہ ممالک، چھوٹے غیر ترقی یافتہ اور کمزور ممالک پر دھونس جماتے ہیں اور اپنی ہر بات منوانے کی کوشش کرتے ہیں، یہاں تک کہ ان کے یہاں کے تیار شدہ اسلحہ کی کھپت نہیں ہو رہی ہے تو وہ کمزور ممالک پر زور دے کر اسلحہ خریدنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ان اسلحات کی اس ملک کو ضرورت ہے بھی یا نہیں،اس سے ان ممالک کو کوئی مطلب نہیں۔ تو ایسے عالمی غنڈہ گردی کے واقعات بھی صحافت اور افسانہ نگاری کے موضوع بن سکتے ہیں اور میں بناتا ہوں۔ ہاں، فنی اور تکنیکی طور پر ان میں فرق ضرور ہوتا ہے۔
س۔ ایسی کوئی بڑی اور ہم شخصیت، جس نے بیک وقت افسانہ نگاری اور صحافت کے میدان میں شہرت اور مقبولیت حاصل کی ہو؟
ج۔ ایسی کئی شخصیتیں ہیں ، مثلاََ سہیل عظیم آبادی، کلام حیدری ، انور عظیم، معین شاہد، رضوان احمد ، حیات اللہ انصاری، خواجہ احمد عباس، ہندی میں کملیشور، راجندر یادو وغیرہ۔
س۔ صحافت اور افسانہ نگاری کے میدان میں آپ کولانے کا سہرا کس کے سر جاتا ہے؟
ج۔ افسانہ نگاری اور صحافت نگاری دونوں ہی مجھے اپنے والد جناب بدر ؔ اورنگ آبادی سے ورثہ میں ملی ہیں۔ میرے والد اپنے ابتدائی ادبی
اور صحافتی زمانے میں کلکتہ کے کئی اخباروں سے منسلک رہے اور پھر مرکزی حکومت کی ملازمت میں آنے کے بعد ان کی صحافت نگاری تو ختم ہوگئی، لیکن افسانہ نگاری کا سلسلہ چلتا رہا۔ مجھے ان سے ہی ترغیب ملی اور میں نے بی.ایس. سی (B.Sc.)کرنے سے قبل بچوں کے لئے کئی چھوٹی بڑی کہانیاں لکھیں، گریجویشن ، اور نگ آباد کے سنہا کالج سے کرنے کے بعد میں باضابطہ افسانہ نگاری کے میدان میں آیا اور میرے اس ابتدائی دور میں، جویقینی طور پر بہت خطرناک ہوتا ہے، خطرنا ک ا ن معنوں میں کہ اگر اس زمانے میں فنکار کی حوصلہ افزائی نہ ہو تو ہمت ٹوٹ جاتی ہے اور فنکار کے اندر کا فن مر جاتا ہے۔ اس دو ر میں رضوان احمد اور مناظر عاشق ہرگانوی نے میری بڑی ہمت افزائی کی۔ رضوان احمد کی افسانہ نگاری اور صحافت دونوں سے میں متاثر رہا اور انہوں نے ان دونوں میدان میں اترنے کے لئینہ صرف میرا حوصلہ بڑھایا، بلکہ صحافت کے خاردار راستوں پر چلتے چلتے جب کبھی میرے قدم لڑکھڑا ئے تو رضوان احمد نے مجھے سہارا دیا اور پوری ہمت اور جرأت کے ساتھ آگے بڑھتے جانے کی طاقت دی اور جب میرے قدم آہستہ آہستہ صحافت کی سنگلاخ اور خاردار زمین پر جمنے لگے تو مجھے آگے اور آگے جانے کے لیے کلام حیدری اپنی بے باکی، انا خودداری اور بے خوفی کی روشنی لے کر میرے سامنے آئے اور اس روشنی میں، میں آگے بڑھتا چلا گیا۔ عظیم آباد اکسپریس، (پٹنہ ) مورچہ(گیا)، بلٹز(اردو)، جن ستا(ہند ی روزنامہ)، دینک جاگرن (ہندی روزنامہ) او ر میری اپنی ادارت میں شائع ہونے والا اردوہفتہ وار اخبار ’’ بودھ دھرتی‘‘ تک کا سفر۔ کتنا کٹھن اور دشوار گزار رہا، یہ میرا ہی دل جانتا ہے، لیکن جب میری صحافتی خدمات کے اعتراف میں مجھے کے.کے.برلا فاؤنڈیشن ، نئی دہلی نے فیلوشپ ایوارڈ سے نوازا، تو میرے پاؤں کے چھالے یکسرنرم اور ملائم ہوگئے، اور ایسا لگا کہ ابھی بھی ایمانداری ، صداقت، ہمت ، جرأت اور بے باکی کے قدر داں موجود ہیں ورنہ اس دور میں ہر چیز بکاؤ ہے۔
س۔ آپ کی اس بات پر ایک سوال ذہن میں ابھر رہا ہے کہ ادب اورسیاست کا کیا رشتہ ہے؟
ج۔ ادب اور سیاست کا رشتہ؟ بھائی موجودہ دور میں، جیسا کہ میں نے ابھی ابھی عرض کیا کہ اس دور میں ہر چیز بکاؤ ہے، اس لیے آج لوگ
ادب کا بھی سودا کر رہے ہیں اور ایسے لوگ کتنے نفع میں ہیں، یہ بتانے کی ضرورت نہیں ۔ آپ نظر اُٹھاکر دیکھئے، آ پ کو ایسے ایسے لوگ سیاست کی تنگ وتاریک اور گندی گلیوں کا طواف کرتے ملیں گے، جن کے بارے میں آپ تصور بھی نہیں کر سکتے اور جب طواف کرنے والے ایسے لوگ، آپ کو کسی بڑی اور اونچی کرسی پر آکر بیٹھے ملتے ہیں ، تب یہ عقدہ کھلتا ہے کہ ارے یہ تو ۔۔۔صرف کرسی ہی نہیں، انعام و اکرام تک پر ان دنوں ایسے ہی لوگوں کا قبضہ ہے، بلکہ حد تو یہ ہے کہ سنجیدہ موضوع کے سیمیناروں اور کانفرنسوں میں بھی ایسے ہی لوگ اپنی پرانی اور گھسی پٹی باتوں کو لے کر موجودنظر آتے ہیں۔ اور جناب ، جن لوگوں نے اپنے فن اور ادب کو سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھایا، ان کا سودا نہیں کیا، بلکہ اپنے قلم کی عظمت اور حرمت کی پاسداری کی، ایسے لوگوں کو کبھی بھی قا بل اعتناء نہیں سمجھا گیا ۔ ا یسے معتبر لوگوں میں کون سی کمی تھی یا ہے؟کمی تھی؟ یا ہے تو صرف یہ کہ ان لوگوں نے سیاستدانوں کے جوتے سیدھے نہیں کیے، اُن کی ہاں میں ہاں نہیں ملائی، غلیظ اور کریہہ سیاستدانوں کو مہاتما اور بھگوان نہیں کہا۔ لیکن ایسے تمام لوگ ہمیشہ ہمیشہ اپنے فکر و فن سے ادب پاروں میں زندہ رہیں گے۔
س۔ یہ تو ادب اور سیاست کی بات ہوئی، صحافت اور سیاست کے تعلق پر آپ کا کیا خیال ہے؟
ج۔ صحافت اور سیاست کا رشتہ لازم و ملزوم کا ہے۔ خاص طور پر جمہوری نظام حکومت میں تو اسے چوتھا ستون کہا گیا ہے۔ لیکن مجھے یہ کہنے
میں قطعی عارنہیں کہ آج کی صحافت بھی سیاست کی نذر ہوگئی ہے اور چند لوگوں کو چھوڑ کر بیشتر صحافی ایسے ہیں، جو صحافتی ذمہ داریوں اور فرائض کو فراموش کرکے سیاستدانوں کی جی حضوری اور خوشامد میں لگے رہتے ہیں اور ان کی چھینک کو بھی خبر بناکر پیش کرکے ان کی خوشنودی حاصل کرنے میں مصروف رہتے ہیں تاکہ ان کا ذاتی مفاد پورا ہو۔
آزادی سے قبل تک صحافت کو جو اعتبار اور وقار حاصل تھا، وہ اب ختم ہو چکا ہے۔ اس لئے کہ اس وقت ان کے سامنے غلامی سے نجات حاصل کرنا ایک نصب العین تھا۔ لیکن آزادی کے بعد، ایسا کوئی نصب العین نہیں رہا۔ حالانکہ آزادی کے بعد ہمارے ملک وقوم کو طرح طرح کے مسائل درپیش رہے ، لیکن افسوس کہ ان تمام مسائل پر ہمارے اخبارات نے مفاد کی عینک لگا کر نظر ڈالی۔ ممکن ہے آپ سوال کریں کہ کیسا مفاد؟ تو بھائی’’مفاد‘‘ کو وسیع تناظر میں دیکھئے، آپ کو جواب خود بخود مل جائے گا۔
س۔ انگریزی روزنامہ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ پٹنہ، نے آپ کو ۱۹۹۵ء ؁ کے لئے ’’بہاری آف دی ایئر‘‘ کے اعزاز سے نوازا ، آپ کو کیسا لگا؟
ج۔ ظاہر ہے ،اچھا لگا اور یہ دیکھ کر زیادہ اچھا لگا کہ ’’بہاری آف دی ایئر‘‘ کی بے حد مختصر سی فہرست میں ایک اردو کے ادیب اور صحافی کو بھی
جگہ ملی، اس کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا۔ ایک بات کہوں، ہمارے بیشتر ادیب و صحافی اپنے خول میں نہ جانے کیوں سمٹے سمٹائے رہنا پسند کرتے ہیں، حالانکہ ہمارے بہت سارے ایسے ادیب و صحافی ہیں، جو دوسری کئی اہم زبانوں کے ادیبوں اور صحافیوں کے مقابلے زیادہ باصلاحیت اور زیادہ باوقار ہیں۔
س۔ ملکی اور بہار کی صوبائی سطح پر اردو زبان کی اہمیت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
ج۔ ابھی ابھی دہلی میں، ایک ہندی روزنامہ کے لئے انٹرویو کے دوران یہی سوال کیا گیا تھا جس کے جواب میں ، میں نے کہا تھا کہ جس
اردو زبان کو بال ٹھاکرے جیسے لوگ خوب بولتے اور سمجھتے ہیں ، اس زبان کا مستقبل، یقیناًشاندار ہے۔ قصور وار تو ہم اردو والے ہیں، جو اس زبان کی اہمیت اور افادیت کو نہیں سمجھ رہے ہیں اور اپنے بچوں کو اردو کی تعلیم دینا کسرِشان سمجھ رہے ہیں۔ اردو کے اخبارات و رسائل خریدنا، اور ٹرینوں ، بسوں اور ہوائی جہاز میں اس کا مطالعہ کرنے میں سبکی محسوس کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں اردو کا مستقبل کیا ہوگا، اس کا بخوبی اندازہ آ پ لگا سکتے ہیں۔ ویسے بھی جس زبان کی بدولت چکبستؔ ، فراقؔ ، بیدیؔ ، کرشن ؔ چندر، آنند نرائنؔ ملا، مالک رام، گوپی چندر نارنگ، گیان چند، اوپندر ناتھ اشکؔ ، رام لعل اور جوگندر پال وغیرہ جیسے لوگ شہرت و مقبولیت کی بلندیوں پر نظر آرہے ہیں، اس زبان کو بعض ناعاقبت اندیشوں اور فرقہ پرستوں نے صرف مسلمانوں کی زبان قرار دے کر، اسے ہر سطح پر نقصان پہونچانے کی سازش کررہے ہیں۔ ایسے میں، مسلمانوں کا بھی یہ لسانی، تہذیبی اور تاریخی فرض ہوجاتا ہے کہ وہ اس زبان کے فروغ میں، اس کی ترویج و اشاعت میں آگے آئیں اور اس کے مستقبل کو تابناک بنانے کے لئے ہر سطح پر کوشش کریں۔
اب جہاں تک بہار میں اردو کا سوال ہے، تو میں کہوں گا بلکہ دعاء کروں گا کہ خدا بھارت کے ہر صوبہ میں ڈاکٹر عبد المغنی جیسا شخص پیدا کردے، جو اونچی سے اونچی اور بڑی سے بڑی کرسیوں کو لات مار کر صرف اردو کے حقوق کی باتیں کرے، دوسرے صوبوں کی طرح ، بہار میں بھی اردو کے بدلے کرسی اور کرنسی سے سودا کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ لیکن ڈاکٹر عبدالمغنی صدر انجمن ترقی اردوبہار نے اردو کے نام پر کوئی سودا نہیں کیا۔ جس کا یہ نتیجہ ہے کہ آج صوبہ بہار میں اردو نہ صرف دوسری سرکاری زبان ہے بلکہ ہزاروں نوجوانوں کی روزی روٹی سے جڑی ہوئی ہے اور دن بدن اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں کہ بہار کے مقابلے، دوسری ریاستوں میں حکومت سے اردو کے حقوق کے لیے لڑنے والا ، اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کرنے والا کوئی پیدا ہی نہیں ہوا۔ اور جس دن جس ریاست میں ڈاکٹر عبد المغنی جیسا تنظیمی صلاحتیوں والا خود دار انسان پیدا ہو جائے گا، اس صوبہ میں اردو کو اس کا حق مل جائے گا۔ اور جب تک ایسا نہیں ہوتا ہے تب تک اردو کا سودا ہمارے سیاستداں کرتے رہیں گے اور اردو کے نام پر چند افراد اپنی جھولی بھرتے رہیں گے۔ ایسے لوگوں کی نشاندہی مشکل نہیں۔نظر اُٹھاکر دیکھئے، صاف نظر آجائیں گے، ایسے کر یہہ لوگ۔
س۔ آڈن نے ایک جگہ تحریر کیا ہے، نئی پیڑھی بھی اس وقت تک اپنی منفرد شناخت قائم نہیں کر سکتی، جب تک وہ اپنے پیش رو سے منکرنہ
ہو۔‘‘ آپ کا کیا خیال ہے؟
ج۔ میں آڈنؔ کے اس خیال سے قطعی اتفاق نہیں کرتا۔ حالانکہ ہمارے اردو ادب میں ایسی مثالیں ہیں کہ اپنے پیش رو سے منکر ہی نہیں بلکہ
نفرت کا اظہار کیا گیا۔ مثلاً دہلی کے ایک کافی ہاؤس میں بیٹھ کر بلراج مینرانے’’سویرا‘‘ میں کرشن چندر کے مطبوعہ افسانہ کو پھاڑ کر پھینک دیا اور کہا کہ میرے سامنے کرشن چند ر کے افسانے کی یہی اہمیت ہے، یا پھر اسی کافی ہاؤس میں راجندر سنگھ بیدی کو ذلیل کرنا، کیا آڈن کے خیال کی تائید کرتا نظر نہیں آتا؟ لیکن جن لوگوں نے تائید کی، آج دیکھیے وہ ادب میں کہاں پر ہیں؟ جناب عالی! جب تک ہم اپنے پیش روؤں کی عزت و احترام نہیں کریں گے، ان کے فکر و فن کو نہیں سمجھیں گے، آنے والے’’ کل‘‘ کو ہمارا کون احترام کرے گا، کون عزت دے گا، کون ہمیں منہ لگائے گا۔
س۔ کیا آپ بھی ایسا سمجھتے ہیں کہ بلراج میزا ، سریرند ر پرکاش اور قمر احسن کے افسانے بے جان اور مجہو ل خیالی ہیولیٰ کے علاوہ کچھ بھی نہیں؟
ج۔ بالکل، صدفی صد، جس نے بھی یہ بات کہی ہے، میں اس سے پوری طرح اتفاق کرتا ہوں ۔ ان ہی لوگوں نے تجربہ کے نام پر اردو
افسانے کو مُعمہ بنا کر رکھ دیا تھا اور سنجیدہ اور عام قاری سے افسانے کو دور کر دیا تھا۔ یہ تو ہم لوگوں کی نسل ہے، جس نے اردو افسانے کے اعتبار اور وقار کو بحال کیا اور قاری سے ایک بار پھر رشتہ جوڑنے میں کامیاب رہا ورنہ ان لوگوں نے تو اردو افسانہ کو ختم ہی کر دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے کچھ نا عاقبت اندیش ناقدوں نے اردو افسانہ کی موت کا اعلان بھی کر دیا تھا۔
س۔ آج کے شعراء و ادباء کسی نہ کسی گروپ سے منسلک ہیں، کیا آپ بھی کسی گروپ سے منسلک ہیں؟
ج۔ ایسا سنا ہے کہ لوگ اپنا ایک گروپ بناتے ہیں اور اس گروپ کی ہر اچھی بری تخلیقات کی تعریف کے پل باندھتے ہیں، اور دوسرے
گروپ کی اچھی تخلیقات کی دھجیاں بکھیرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں کیا ادب کو فائدہ ہوگا؟ یہ تو سراسر ادب کی بے ادبی ہے، جسے میں کسی قیمت پر برداشت نہیں کر سکتا ۔ پھر ایسی صورت میں میرا کسی گروپ سے وابستہ ہونا، کیسے ممکن ہے؟ اب تو ادب میں ذات پات کی بھی وؤا آ گئی ہے اور یہ گروپ بندی سے بھی زیادہ ادب کے لئے خطرناک ہے۔
س۔ اپنے ادبی اور صحافتی تجربات کی روشنی میں نئے ادیبوں کو کچھ مفید و مناسب مشور ہ دیں۔
ج۔ آپ دیکھیں گے کہ نئے لوگوں میں شارٹ کٹ کا رجحان بڑی تیزی سے پنپ رہا ہے۔ وہ راتوں را ت کرشن چندر ، بیدی اور فراق بن جانا چاہتے ہیں ، اس حقیقت کو جانے بغیر کہ ان لوگوں نے کتنی تپسیا کی ہے ، کتنی ہزار راتوں کی نیندیں حرام کی ہیں ، اپنا سکھ چین تج دیا ، تب کہیں جاکر کرشن چندر ، کرشن چندر بنے ، بیدی ، بیدی بنے ۔ اس لئے میرا مشورہ یہی ہوگا کہ نئے لوگ اپنے مطالعہ و مشاہدہ میں وسعت پیدا کریں ، کلاسک کو خوب پڑھیں ، پھر لکھنے کی طرف رجوع کریں ۔ شہرت اور نام و نمود کی ہوس سے ابتدائی دنوں میں دور رہیں ، اپنے اسلاف کی قدر کریں ، اپنے بزرگوں کی عزّت کریں ۔ اگر ایسا وہ کرتے ہیں تو اس میں ان کی کامیابی کا راز پنہاں ہوگا۔
( غیر مطبوعہ )

Viewers: 2113
Share