Hafiz Muzafar Mohsin | Column | تبدیلی ۔۔۔ مگر لالچ کے بغیر

حافظ مظفر محسن 101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور 0300-9449527 تبدیلی ۔۔۔ مگر لالچ کے بغیر مجھے اختلاف ہے الطاف حسین کی پالیسوں سے۔ مگر میں الطاف حسین کو اِک مختلف […]

حافظ مظفر محسن
101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور
0300-9449527

تبدیلی ۔۔۔ مگر لالچ کے بغیر

مجھے اختلاف ہے الطاف حسین کی پالیسوں سے۔ مگر میں الطاف حسین کو اِک مختلف طرز کا مدبر بھی تو سمجھتا ہُوں۔ الطاف حسین کا فلسفہ سیاست سمجھنے کے لیے اگر ہم صرف اور صرف اُن پر لگائے گئے الزامات کو سامنے رکھ کر اپنا بلڈ پریشر ہائی کر کے سوچنے بیٹھیں گے تو سوائے نفرت کے کچھ نہیں ابھرے گا۔ جو پوائنٹس ہم باقیوں کے معاف کر دیتے ہیں۔ وہاں ہمیں الطاف حسین کو بھی چھُوٹ دینا ہوگی۔ الطاف حسین اگر اپنی تقریر میں نظم یا گیت سُنا کر ماحول کو گرماتے ہیں تو شہباز شریف اور دوسرے راہنماء یہاں تک کہ آصف علی زرداری بھی تو برمحل اچھے اشعار کا سہارا لیتے ہیں۔ ہر چینل سب سے اہم مزاحیہ (طنزیہ) پروگرام ’’ پرائم ٹائم‘‘ میں لگانے کو ترجیح دیتا ہے۔ عوام کا مزاج دیکھتے ہوئے۔ ایسے ہی ہر اخبار دیگر سنجیدہ کالموں کے ساتھ ساتھ ہلکے پھلکے کالم بھی شائع کر تا ہے۔ عوام کے طفنن طبع کے لیے۔ لیکن کبھی نہیں ہوتا کہ’’ مزاح ‘‘ بے مقصد ہو بے وُقعت ہو۔ یہ تحریریں۔ یہ مزاحیہ پروگرام بہت سبق آموز ہوتے ہیں۔ اور ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ ایسی باتیں متعلقہ لوگوں (محکموں۔سیاستدانوں) تک پہنچ جاتی ہیں جو وہ سنجیدہ پیرائے میں۔ سننا کبھی بھی پسند نہ کرتے۔ ہر سینے میں دھڑکتا دل ہوتا ہے۔ اور کبھی کبھی سوئے انسان کا ضمیر بھی جاگ جاتا ہے۔ اِسی آس پر ہم اِن سیاستدانوں کو کہہ رہے ہیں۔
الطاف حسین کا فلسفہ سیاست ہمیشہ اِک نکتے کے گرد گھومتا ہے۔ وہ ہے ’’ عام آدمی‘‘ یہ ’’ کامن مین‘‘ ۔ جب سے پاکستان وجود میں آیا۔ اس کا پالا پڑگیا۔ ایسے راہنماؤں سے جو اُس سے ہاتھ ملا کر (اگر غلطی سے کبھی ایسا نا پسندیدہ عمل اُن سے سر زد ہو جائے تو) فوراً واش روم یا واش بیسن تلاش کرتے صابن سے ہاتھ دھوتے اور ٹشو سے صاف کر ڈالتے ۔ مبادا ہاتھ صاف کرنے میں دیری ہوجانے سے ’’ جراثیم ‘‘ ادھر سے اُدھر منتقل نہ ہوجائیں۔ کہ یہ انسانوں کے اندر کے خوف ہے یا دولت کا نشہ یا پھر موت کا ڈر کہ پھر دولت مند شخص اپنی دولت کو دیکھتا ہے تو خوش ہوتا ہے جب اُس کا دھیان تھوڑی سی بقیہ عمر کی طرف جاتا ہے تو گھبرا جاتا ہے۔
اب ہمارا سیاستدان ۔ بھی اس ’’ کامن مین‘‘ سے دراصل خوف زدہ ہو چکا ہے۔ آپ حیران نہ ہوں کہ ’’ کامن مین‘‘ کیونکہ ’’ ہیوی مین‘‘ کو خوف زدہ کر سکتا ہے۔ حُسنی مبارک کوگرنگل سکتا ہے قذافی جیسے ’’ہیوی مین‘‘ کو ’’ کامن مین‘‘ نے ادھ مُوا کر دیا۔ لاکھوں ’’کامن مین‘‘ جب مل گئے۔ کندھے سے کندھا ملا کر ۔ سرکل ہو کر جس کے گرد جمع ہو گئے۔ تو پھر’’ کوبرا‘‘ سانپ جب پانچ فٹ آٹھ انچ کے طاقت ور ترین شخص کے گرد گھیرا تنگ کر لے تو۔ سانس بند ہو جاتی ہے۔ خون کی گردش رُک جاتی ہے۔ اور انسان نہیں رہتا ۔ لاش بن جاتا ہے۔ تاریخ انسانی میں کئی بار ایسا ہوا۔ چاؤ شیسکو آف رومانیہ کی مثال سامنے ہے۔ جیسے عوامی عدالت نے چوک میں سزا سنائی اور اُسی چوک میں دیوار کے ساتھ لگا کر فائرنگ کر کے ڈھیر کر دیا۔ یہ پرانا نہیں اسی صدی کا واقع ہے۔پہلے یہ ’’ کامن مین‘‘ لاش کی صورت معاشرے میں منڈلاتا پھرتا تھا۔ اور سیاسی لیڈر ایسی لاشوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ، چہرے پر سنجیدگی طاری کرتے۔ ساتھ چلنے والے ہجوم کے ساتھ بے تُکی گفتگو میں مگن آگے نکل جاتے۔ کہ یہ تو معمول کی باتیں ہیں اور ایسی لاشوں کے لیے لیڈر حضرات کے پاس وقت کبھی بھی نہیں ہوتا۔
اب حالات بتا رہے ہیں۔ آثار ایسے ہیں کہ جیسے یہ ’’ کامن مین‘‘ گہری نیند بلکہ بے ہوشی سے بیدار ہو چکا ہے۔ اُس نے اٹھ کر اِک لمبی انگڑائی لی ہے۔ اپنے اوپر پڑی گرد اڑا دی ہے۔ کپڑے جھاڑ کر یہ ’’ کامن مین‘‘ اپنے کروڑوں ساتھیوں کے ساتھ میدان میں آنے کو ہے۔
لاکھ فردوس عاشق اعوان دلاسہ دیں کہ عمران خان کی آمد سے ن لیگ کو خوف محسوس ہو رہا ہے۔ یا جماعت اسلامی کا ووٹ بنک خراب ہو گا۔ لیکن اندر کی بات تو یہ ہے کہ ’’ کامن مین‘‘ میں گھل مِل جانا۔ عمران خان کو پیپلز پارٹی سے وابستہ ورکرز سے بھی تو ملائے گا۔ یہ بن کسی لالچ کے یہ کامن مین چار دہائیوں سے پیپلز پارٹی کے ہر آنے والے راہنما ء کے پیچھے چل پڑتا ہے۔ گاڑی تیز ہوتی ہے۔ کامن مین پر مٹی پڑنے لگتی ہے مگر وہ جیالا ہے۔ مٹی دھول سے نہیں ڈرتا ۔ یہاں تک کہ کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ اور لیڈر کی پراڈو اُن مٹی سے لت پت آنکھوں سے دُور ہو جاتی ہے۔ اور وہ بھٹو کی شان میں قصیدے پڑھتا واپس گھر کو لوٹ جاتا ہے۔
اب جب کہ پیپلز پارٹی نومبر کے آخری ہفتے میں جس طرح درخت خشک مٹی کا شکار ہوتے ہیں۔ اور دسمبر پت جڑھ کا موسم درختوں کو گنجا کر ڈالتا ہے۔ اپنے لیڈر ان کی عوام سے بے تکلفی دیکھ کر پیپلز پارٹی سے وابستہ ’’ کامن مین‘‘بھی لگتا ہے بکھر جائے گا۔ کہاں تک رحمٰن ملک کے دلاسے بابر اعوان کی بھڑکیں اور فردوس اعوان کی مزاحیہ (طنزیہ) گفتگو اِس ’’ کامن مین‘‘ کو یکجا کر پائے گی۔
عمران خان نئی مشنیر ی کے ساتھ ۔ پرزے جوڑ کر لگتا ہے۔ کوئی خوبصورت سا جہاز تیار کر ڈالے گا کہ جِسے رَن وے پر بہت زیادہ نہیں دوڑنا پڑے گا۔ تھوڑا سا ’’ کامن مین‘‘ کا لگایا دھکا اُسے طاقت فراہم کرے گا۔ اور یہ عوامی جہاز فضاؤں میں ہوگا۔ جس میں بہت سے نامور چہرے ہوں گے۔ جو اپنے اپنے چہروں سے اُس وقت پر دہ اُٹھائیں گے جب اُنہیں اپنے تحفظ کا یقین ہو جائے گا۔ اور وزاتوں سفارتوں کی اُمید بھی۔
سُنا ہے دسمبر میں عمران خان کراچی میں مزار قائد پر لاہور سے بڑا جلسہ کرنے والے ہیں۔ جہاں کراچی اور گردونواح کا کامن مین بھی پہنچ جائے گا۔ وہ کامن مین ایم کیو ایم سے بھی ہو سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ سے بھی۔ ہاں اِک خوف ضرور عمران خان کے لیے شاید دردِ سر بن جائے کہ لاہور کے جلسہ میں جہاں بیس تیس ہزار لوگ اُن کے اپنے آبائی حلقے یعنی میانوالی سے آئے تھے۔ وہ کراچی کیسے پہنچیں گے؟!۔ اُمید ہے یہ کمی عمران خان کے ’’ ہمدرد ‘‘ کسی اور طریقے سے پوری کر دیں گے؟!۔ بقول باقی احمدؔ پوری…..
اِس بھیڑ میں ہر وقت ہے کھو جانے کا خدشہ
میلہ ہے یہاں ہاتھ میرے ہاتھ میں رکھیئے
مجرم کو مناست نہیں مسند پہ بٹھانا
مجرم ہے تو مجرم کو حوالات میں رکھیئے

Viewers: 3361
Share