Samina Gul | The Poetess | دھنک رنگ جذبوں کی شاعرہ و دانشورثمینہ گل کے ساتھ ایک نشست

تحریر و ملاقات: علی شاہ
منکیرہ ضلع بھکر
فون: 0333-8903177


دھنک رنگ جذبوں کی شاعرہ و دانشور
ثمینہ گل کے ساتھ ایک نشست

شاہینوں کے شہر سرگودھا میں مقیم خوش خیال شاعرہ ودانشور محترمہ ثمینہ گل شاعری ہی نہیں اپنی شخصیت کے دیگر پہلوؤں میں بھی انفرادیت کی حامل ہے۔ وہ بیک وقت شاعرہ، نثر نگار اور محقق بھی ہے تاہم اس کا اولین تعارف ان کی شاعری ہے۔ ثمینہ گل کی شاعری دراصل اس کے کربِ ذات کا بر ملا اظہار ہے۔ وہ جو کچھ سوچتی ہے۔ جو کچھ محسوس کرتی ہے اسے اپنے شعروں کے قالب میں ڈال دیتی ہے۔ اور احساس و خیال کے اس سفر مسلسل نے اسے ایک پختہ کار اور دھنک رنگ جذبوں کی شاعرہ کے روپ میں متعارف کرایا ہے ۔ نوجوان نسل کے نمائندہ شاعر حسن عباسی کا کہنا ہے کہ “ثمینہ گل کی شاعری آرزوؤں ،سپنوں اور امیدوں کی شاعری ہے۔ وہ زندگی کے کاغذ کو حیرت سے دیکھتی ہے اور خالی جگہوں میں رنگ بھرتی ہے۔ اس کے دل میں سچائی اور آنکھوں میں خوبصورتی ہے اور اس کی شاعری پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ منفی رویوں میں سے مثبت پہلو تلاش کر کے اپنے لئے آسانیاں بُن لیتی ہے۔ یہ خالصتاً ایک نسوانی رویہ ہے۔ وہ اپنی ذات کی تکمیل چاہتی ہے۔ جس کا عکس اس کی شاعری سے صاف جھلکتا ہے “۔ ممتاز شاعرہ ،ادیبہ اور صحافی محترمہ شاہدہ لطیف نے کہا ہے کہ “گوئٹے نے شاعری کی چار خصوصیات کا ذکر کیا ہے ، اول اشعار کی شیرینی، دوئم ایسے مضمون کی طرف رجحان جو زندگی سے الگ ہو، سوئم جوش و جذبات سے بھر پورتخیلات، چہارم خیالات کی گہرائی اور زور، اور ثمینہ گل کی شاعری ان چاروں خصوصیات سے مزین ہے”۔ثمینہ گل مشاعرہ کو ادب کے فروغ میں نمایاں عنصر قرار دیتی ہے اس لئے مشاعروں اور ادبی سیمیناروں میں بھر پور طریقے سے شرکت کی ہے اور معاشرے کی فلاح و بہبود اور توانا تعمیر کے حوالے سے ادب کو اہم جزو قرار دیتی ہے۔ ثمینہ گل کے نزدیک حالیہ معاشرتی مسائل اور سماجی اقدار سے دوری کی بڑی وجہ اربابِ اختیار کی طرف سے ادب کی عدم سر پرستی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر ہر سطح پر ادب کو فروغ دیا جائے تو ملک سے دہشت گردی سمیت دیگر بہت سے سنگین مسائل کا خاتمہ ہوجائے گا۔ خوش گفتار ،خوش خیال اور خوش مزاج خوبصورت شاعرہ، ادیبہ اور محقق محترمہ ثمینہ گل سے گزشتہ دنوں ایک تفصیلی نشست ہوئی جس کا احوال قارئین “اردوسخن ڈاٹ کام” کی خدمت میں پیش ہے۔


س۔ ثمینہ گل صاحبہ! آپ نے تعلیم کہاں کہاں اور کہاں تک حاصل کی؟
ج۔ میں نے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بھکر سے میٹرک پاس کی۔ میٹرک کرتے ہی شادی کے بندھن سے جڑ گئی اور بیاہ کر سرگودھا کے علاقہ بھیرہ چلی گئی ۔ پھر پرائیویٹ حیثیت سے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے گریجویشن اور سرگودھا یونیورسٹی سے ایم اے اردو کا امتحان پاس کیا۔ اسی دوران پنجاب کالج سرگودھا سے کمپیوٹر سائنس میں ڈپلومہ کیا اور فوجی فاؤنڈیشن سے ووکیشنل ٹریننگ کا ڈپلومہ کیا۔ مزید اردو ادب میں ایم فل اور ڈاکٹریٹ کرنے کا ارادہ ہے۔
س۔ دوران تعلیم آپ کس قسم کی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی ہیں؟
ج۔ سٹوڈنٹ لائف کے دوران میں سپورٹس سرگرمیوں کی لیڈرتھی۔ ہائی سکول لیول تک والی بال ،لانگ جمپ،ہائی جمپ،دوڑ، بیڈ منٹن اور جیولن تھرو میں کئی انعام جیت چکی ہوں ،ادبی سرگرمیوں میں بھی نمایاں رہی ہوں اور اردو انگریزی تقاریر اور مباحثوں میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کرتی رہی ہوں۔
س۔ آپ کو کب ادراک ہوا کہ آپ کے اندر ایک خوبصورت شاعرہ پوشیدہ ہے۔ نیز پہلا شعر کون سا کہا؟
ج۔ میری والدہ بچپن میں ہی فوت ہو گئی تھیں اور والد ملازمت کرتے تھے ایک دفعہ ان کا تبادلہ میانوالی ہو گیا۔ میں نہم جماعت کی طالبہ تھی باقی بہنیں مجھ سے چھوٹی تھیں ایک رات طوفانی آندھی آئی اور میں اکیلی تھی تب آندھی کی وجہ سے بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا۔ مکمل اندھیرا چھا چکا تھا۔ ایک طرف تو آندھی کا خوف دوسری طرف ابو کی پریشانی ۔میں دروازے پر جاتی اور واپس آجاتی ۔ پہلے میں نے ایک موم بتی جلا کر دروازے کے کونے میں رکھنے کی کوشش کی جو ناکام ہو گئی پھر لالٹین جلائی اور باہر دروازے کے سامنے رکھد ی تاکہ ابو کسی چیز سے ٹکرا نہ جائیں مگر آندھی کے تیز جھونکے سے لالٹین بھی الٹ گئی اور سارا تیل زمین پر گر گیا۔ پھر میں نے روئی کی بتی بنا کر سرسوں کے تیل کا دیہ بنایا لیکن یہ ترکیب بھی آندھی کی نذر ہو گئی۔ آخر اس طوفانی رات میں ابو کے انتظار میں خود دروازے میں بیٹھ گئی تب میری نظر سامنے والی عمارت پر پڑی جہاں بڑے بڑے فانوس جل رہے تھے۔جو صرف عمارت کے اندر ہی روشنی کر رہے تھے جنہیں دیکھ کر بیٹھے بیٹھے ایک شعر ذہن میں آگیا جو کچھ یوں تھا۔
اُجالے گھر کے اندر ہیں تو دیکھو گھر کے باہر بھی
دِیہ کوئی جلا رکھنا ذرہ سی اک گزارش ہے
اس پہلے شعر کے بعد آنے والے دنوں میں مصرعے ذہن کے کینوس پر اترتے چلے گئے او یہ مصرعے بعد ازاں غزلوں اور نظموں کے پیرہن میں ڈھلتے گئے۔ بعد ازاں کلاسیکی ادب کے مطالعہ نے کچی عمر کی شاعری کو پختگی کا روپ دینا شروع کر دیا وار یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔


س۔ ادبی حوالے سے گھر کا ماحول کیسا تھا؟
ج۔ شکیب جلالی اور نصرت چوہدری میرے والد کے بہت اچھے دوست تھے جو اکثرہمارے گھر آیا کرتے تھے تاہم نصرت چوہدری سے ابو جی کے مراسم زیادہ گہرے تھے۔ ان سے ہمارے فیملی ٹرمز تھے۔ والد صاحب گہرا ادبی ذوق رکھتے تھے سو گھر اکثر ادبی محفلیں جمتی تھیں تب میں چپکے سے ایک کونے میں بیٹھ کر محضوظ ہوتی تھی۔ میں نے جب ٹوٹے پھوٹے شعر کہنا شروع کئے تو ابومیری حوصلہ شکنی کرتے لیکن جب اچانک ایک دن میں نے موقع غنیمت جانتے ہوئے اپنا سارا کلام انہیں سنایا تو بہت خوش ہوئے ۔ پھر میری شادی ہو گئی اور ابو نے بھی دوسری شادی کرلی تو ابو جی سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی کم ہو گیا لیکن میں نے شادی کے بعد بھی شاعری کا سلسلہ جاری رکھا۔
س۔ آپ سے پہلے بھی آپ کے خاندان میں کوئی شاعر تھا یا آپ اپنے قبیلے کی پہلی شاعرہ ہیں؟
ج۔ میرے والد صاحب ادب کا گہرا شغف رکھتے تھے ۔وہ شاعری کی گرائمر سے بھی آشنا تھے بلکہ انہوں نے اپنے دوستوں کے کہنے پہ شعر کہے بھی تھے لیکن باقاعدہ شاعری نہ کر سکے لہذا اب تک میں اپنے قبیلے کی پہلی اور واحدشاعرہ ہوں۔ میری خوش قسمتی یہ بھی ہے کہ اس سلسلے میں مجھے اپنے شوہر شمشاد خان کا مکمل اور بھر پور تعاون حاصل ہے اور میں اپنی ادبی کامیابیوں کا کریڈٹ بھی اپنے شوہر کو دیتی ہوں۔
س۔ آپ نے شاعری کے علاوہ کس کس صنف ادب میں طبع آزمائی کی ہے؟
ج۔ شاعری کے علاوہ افسانے لکھے، ادبی کلام لکھے اور ان گنت تحقیقی مضامین لکھے ہیں۔
س۔ کیا آپ کسی ادبی تنظیم سے بھی وابستہ ہیں؟
ج۔ میں نے”بزم گل “کے نام سے خود ایک ادبی تنظیم بنائی ہو ئی ہے۔ جبکہ”شریف انٹرنیشنل”علمی و ادبی اکیڈمی کے لئے ضلع سرگودھا کی ڈائریکٹر ہوں ۔علاوہ ازیں”سرگودھا رائٹر کلب”اور “بزم فکر و خیال”سرگودھا کی باقاعدہ رکن ہوں۔ ان کے اجلاسوں میں بھی شریک ہوتی ہوں۔
س۔ آپ کی تصانیف ،طبع شدہ۔۔۔۔ زیر طبع؟
ج۔ میرا شعری مجموعہ “آنچل کی اوٹ سے” 2010ء میں منظر عام پر آیا جسے بے حد پذیرائی مِلی جبکہ ” مضامین قدسی اور گلہائے قدسی”پر کتاب آنے والی ہے علاوہ ازیں “گل قدس کی پتیاں “۔”وادی وادی گھوموں”۔”جانوروں کا انسائیکلو پیڈیا”۔”فطرت کے شاہکار “اور ایک شعری مجموعہ زیر طبع ہیں۔ ان سب تخلیقات کو انشاء اللہ بہت جلد منظر عام پر لاؤں گی۔
س۔ مشاعروںیا دیگر ادبی تقاریب میں کس حد تک حصہ لیتی رہیں؟
ج۔ علمی و ادبی تقریبات میں شو ق سے جاتی ہوں بالخصوص شہر کی جن تقریبات میں قد آور علمی و ادبی شخصیات کی آمد ہو ان میں ضرور جاتی ہوں کیونکہ بڑی شخصیات سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ لیکن گھریلو مصروفیات بعض اوقات آڑے آجاتی ہیں۔
س۔ ادبی سرگرمیاں آپ کی نجی زندگی پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہیں؟
ج۔ ویسے تویہ دونوں باتیں متضاد ہیں اور دونوں کے ساتھ انصاف کرنا خاصہ مشکل ہے مگر خدا کا شکر ہے کہ شوہر اور بچوں کے تعاون سے یہ دونوں کام خوش اسلوبی سے جاری ہیں تاہم میں گھریلو ذمہ داریوں میں کبھی غفلت نہیں کرتی اور بعض اوقات اپنے شوق کو نجی زندگی پر قربان کر دیتی ہوں کیونکہ فرائض کی کوتاہی کو نہ وقت معاف کرتا ہے نہ خدا۔
س۔ آپ اپنی شاعری کے لئے موضوعات کہاں سے لیتی ہیں؟
ج۔ ہمارے ارد گرد ان گنت موضوعات بکھرے پڑے ہیں تو علی شاہ میں بھی دیگر حساس تخلیق کاروں کی طرح ماحول کا اثر لیتی ہوں اور موضوعات خودبخود آجاتے ہیں۔
س۔ آپ کو سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر ملنے والے ایوارڈز کی تفصیل؟
ج۔ نسیم لیہ ایوارڈ(بزم علم و فن پاکستان انٹر نیشنل)،محسن سرگودھا ایوارڈ(روزنامہ نوائے جمہور)،خواتین کا عالمی ایوارڈ(انٹر نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس)،اعترافِ خدمت شیلڈ(ماہنامہ تحریم2007تا2009)،مادر ملت گولڈ میڈل۔اس کے علاوہ متعددشیلڈز اور میڈل وغیرہ مختلف ادبی تقاریب میں مل چکے ہیں تاہم میرا سب سے بڑا ایوارڈ قارئین ادب کی طرف سے ملنے والی محبت اور پذیرائی ہے۔
س۔ آپ کے شہر سرگودھا کا ادبی ماحول کیسا ہے؟
ج۔ سرگودھا ایک ادبی دبستان ہے جہاں بہت اچھا اور توانا ادب تخلیق ہورہا ہے۔ لیکن یہاں ادبی سرگرمیاں بہت کم ہیں۔ مشاعرے اور ادبی سیمیناربہت کم ہوتے ہیں جس سے نوجوان نسل ادب کی طرف متوجہ نہیں ہو رہی۔
س۔ آپ اپنا ادبی استاد کسے مانتی ہیں؟
ج۔ وقت اور مطالعہ سب سے بڑا استاد ہے تاہم کئی دانشوروں سے استفادہ کرنے کا موقع ملا ہے جن میں نمایاں نام ڈاکٹرہارون الرشید تبسم،شاکر نظامی،پروفیسر غفار بابر اور پروفیسر مقبول نثار ملک ہیں۔
س۔ آپ کے پسندیدہ شعراء؟
ج۔ مرزا غالب، ڈاکٹر اقبال، فیض احمد فیض اور ناصر کاظمی کی شاعری آج بھی سب کے لئے مشعل راہ ہے۔
س۔ آپ کی فارغ وقت کی مصروفیات؟
ج۔ فارغ وقت۔۔۔۔۔۔۔ آہ
دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کئے ہوئے
فارغ وقت کم کم ہی ملتا ہے۔ کبھی کچھ لمحات میسر ہوں تو موسیقی سُن لیتی ہوں ۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کو وقت دیتی ہوں، کتابیں تو مصروفیات کے دوران پڑھتی ہوں۔
س۔ سُنا ہے بعض شاعرات مرد شعراء سے لکھواتی ہیں ،آپ کیا کہتی ہیں؟
ج۔ کسی سے لکھوانے سے کوئی تخلیق کار نہیں بن سکتا یہ تو قدرت کی عطا ہے لیکن یہ الزام محض عورتوں پرہی کیوں کئی مرد بھی دوسروں سے لکھوا کر صاحب دیوان بنے بیٹھے ہیں یہ سب غلط ہے اور ایسے لوگ ادب کے میدان میں زیادہ عرصہ ٹھہر نہیں سکتے بلکہ جلد ہی اپنی موت مر جاتے ہیں۔
س۔ ادب کے فروغ میں میڈیا کے کردار کے حوالے سے آپ کس حد تک مطمئن ہیں؟
ج۔ پرنٹ میڈیاتوکسی نہ کسی طور اس حوالے سے اپنا کردارنبھا رہا ہے لیکن پرنٹ میڈیاکے پاس ادب کیلئے وقت بالکل نہیں ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کے حکام کو چاہئیے کہ وہ ادب کے لیے ضرور وقت مقررکریں تاکہ ادیبوں کی حوصلہ افزائی ہو سکے اور ادب کو مزید فروغ ملے۔ الیکٹرانک میڈیا تو بس افراتفری اور خوف وہراس پھیلانے تک محدود ہو گیا ہے رہی سہی کسراایک کمپنی سے ریلیز ہونے والی ان سی ڈیز نے پوری کر دی ہے جس میں آئمہ خان نامی آوارہ لڑکی ایک اور آوارہ گرد اور سٹیج کا بھنڈافتخار ٹھاکر بیٹھ کر مشاعرہ پڑھتے ہیں اور شاعری کے نام پر حیار سوز اور گندی زبان استعمال کرتے ہیں۔ اس سے زیادہ ادب کی توہین نہیں ہو سکتی۔ تمام ادیبوں اور صحافیوں کو چاہئے کہ ایسی غلیظ سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھائیں اور حکومت ان کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لائے۔
س۔ نئی شاعرات کے نام آپ کا پیغام؟
ج۔ نئی شاعرات کو چاہئے کہ وہ اچھی کتابوں کا مطالعہ کریں۔ اساتذہ سے استفادہ کریں اور شہرت کی خاطر شارٹ کٹ کے بجائے محنت اور صلاحیت کے بل بوتے پر اپنا مقام بنائیں ۔ کسی بھی کام کے لئے پہلے اپنی عزت اور وقار کو ہر گز مجروح نہ ہونے دیں۔
س۔ ثمینہ گل صاحبہ !ٓپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے نہ صرف اپنا قیمتی وقت دیا بلکہ اپنے خوبصورت خیالات سے بھی نوازا۔
ج۔ میں”اردو سخن ڈاٹ کام” کی شکر گذار ہو ں کہ جس کی ٹیم نے اپنی بین الاقوامی ویب سائٹ کے لئے میرے انٹرویوکا اہتمام کیا۔

Viewers: 6907
Share