Hafiz Muzafar Mohsin | Urdu Article | ’’باتیں کرنے والی مشین‘‘

حافظ مظفرمحسن 101چراغ پارک شاد باغ لاہور ’’باتیں کرنے والی مشین‘‘  ’’ باتیں کرنے والی مشین‘‘ ایجاد ہونی چاہیےے۔ یہ میرا خواب ہے ۔ آپ حیران نہ ہُوں۔ فی الحال […]

حافظ مظفرمحسن

101چراغ پارک شاد باغ لاہور

’’باتیں کرنے والی مشین‘‘

 ’’ باتیں کرنے والی مشین‘‘ ایجاد ہونی چاہیےے۔ یہ میرا خواب ہے ۔ آپ حیران نہ ہُوں۔ فی الحال ایسی کوئی مشین ایجاد نہیں ہوئی۔ جو خود سے باتیں کرے۔ لیکن یہ میری خواہش ہے کہ بجائے اِس کے کسی نئی طرز کے ایٹم بم کی ایجاد کی جائے۔ کیوں نہ ایک ایسی مشین ایجاد ہو۔ جو انسانوں سے اُن کی مرضی کے مطابق باتیں کرے لطیفے سنائے قصیدے پڑھے۔اپنے حکمرانوں کی دیکھا دیکھی اکثر میرا بھی دل چاہتا ہے سارا دن قصیدے سنوں۔ کیونکہ کبھی کبھی میرا دل یہ بھی چاہتا ہے میں کسی بکرے سے میٹھی میٹھی باتیں کروں۔ بکروں کے مسائل پرسیر حاصل گفتگو ہوہم سر جوڑ کر بیٹھیں۔میں پوچھوں بکری بکرے کے ناک میں دم کیسے کرتی ہے۔ بکری جب بار بار ’’میں‘‘۔ ’’ میں‘‘ کرے تو اِس کا کیا مطلب لیا جائے۔ بکرے انسانوں سے نفرت کرتے ہیںیا محبت۔ کیا سردیوں میں بکرے کا ’’ مونگ پھلی‘‘ ،چلغوزے کھانے کو دل چاہتا ہے؟! ۔ اور بکرا عید کے ایام میں بکرے کیا سوچتے ہیں۔ اُنہیں قصاب بُرا لگتا ہے یا اچھا..وغیرہ وغیرہ۔ اکبر آلہ آبادی زندہ ہوتے تو میری فرمائش پر ’’ بکری نامہ‘‘ لکھتے جس پر کوئی چینل ضرور تیرا قسطوں کی ڈرامہ سیریل بناتا اور خوب نام کماتا۔
پھر میرا دل چاہتا ہے۔ میں شیر سے باتیں کروں۔ اُس سے پوچھوں ۔ جو سیاسی ورکرز ۔ سیاستدانوں کے آنے پر زور لگاتے ہیں شور مچاتے ہیں ’’ شیر آیا، شیر آیا‘‘ ۔ تمہیں حسد تو محسوس نہیں ہوتا۔ یا جب لوگ سینہ تان کر کہتے ہیں ۔ ’’ میں شیر ہوں‘‘ تو تمھیں ایسے شیر زہر لگتے ہیں یا نہیں۔ پھر میں پوچھنا چاہتا ہوں۔ شیر سے کہ اگر جنگل میں الیکشن ہوں اور تم صدارت کے لیے الیکشن لڑو۔ تو تمہارے سیاسی ورکرز تمھیں ’’ انسان‘‘ کہہ کر پکاریں یا جب تم اسٹیج پر آؤ تو نعرے لگائیں۔ ’’ انسان آیا۔ انسان آیا‘‘۔ تو تمھیں یہ سب کیسا لگے گا۔ یہ تو بس اِک خواہش ہے ویسے عقل مند آدمی خود ہی اِن سوالوں کا جواب بھی دے سکتا ہے۔ مگر کہاں عقل ۔ کہاں ہم؟!۔ اور کہاں بے چارہ جدید دور کا شیریا ایسے ہی دل چاہتا ہے اُلو سے پوچھوں کہ جب لوگ اپنے بچوں کو ’’ اُلو کا پٹھا‘‘ کہہ کر غصے سے پکارتے ہیں تو تمھیں کیسا لگتا ہے؟!۔ کیا جناب اُلو صاحب تم بھی اپنے بچوں کو ’’اُلو کا پٹھا‘‘ کہہ کر پکارتے ہو یا نہیں؟!۔ اگر نہیں تو پکارا کرو۔ امریکہ میں لوگ اُلوکو عقل مندی کی علامت سمجھتے ہیں کیا تم فارغ وقت میں اِس کھلے تضاد پر غور کرتے ہو یا نہیں؟!۔ ویسے اُلو چونکہ بہت کم ہیں اور مجھے لگتا ہے عنقریب اُلوؤں کی کمی پر عالمی ادارے حرکت میں آجائیں گے۔ الوؤں کی افزائش نسل کے لیے ورنہ صرف دنیا میں ہر طرف الو کے پٹھے ہی دکھائی دیں گے۔
ایسے ہی میرا دل چاہتا ہے کہ ایک ایسی مشین ایجاد ہو جو ریٹائر سرکاری ملازموں کے ساتھ باتیں کرے ۔ اُن کے بڑے بڑے (طویل ) قصے سُنے۔ وہ بہکی بہکی باتیں کریں، گزرے دنوں کو یاد کر کے جب وہ اختیار والے ہوتے تھے۔ من مرضی کے قابل تھے وہ غصے میں گالیاں دیں تو آگے سے مشین۔ جی سر ۔ جی سر کرتی رہے۔ یا آہستہ سے آواز آئے’’ آپ نے بجا فرمایاسر‘‘۔ ’’ آپ ہمیشہ بجا فرماتے ہیں سر‘‘!۔ ریٹائر ڈ فوجیوں کے بھی یہ مشین خوب کام آئے گی جب وہ اپنی بہادریوں کے قصے مزے لے لے کر سینہ تان کر سنانا چاہیں تو مشین آگے سے اُن کی مرضی کا جواب دے گی اور وہ مزید خوش ہونے لگیں گے۔ اور یوں چٹ پٹی قصہ کہانیوں کا سلسلہ چلتا رہے گا وسیع ترعوامی مفاد کے لیے۔
مشین اگر ایجاد ہوگئی تو ساس بُہو کی لڑائی میں جو شدت ہے وہ شاید کچھ کم ہو جائے ۔ بیٹا ماں کے لیے بازار سے زیادہ سیل ڈلوا کے مشین لائے اور صبح سویرے بوڑھی والدہ کے سرہانے رکھ کے دفتر چلا جائے کہ ماں کا دن اچھا گزر سکے اور جو غصہ وہ بہو پر نکالنا چاہتی ہے وہ مشین پر نکال لے۔ گویا گرتوں کو مشین سنبھال لے۔ اور ساس اپنا غصہ نکال لے گی۔
والدہ ۔ غصے میں بہو کو پکارے تو مشین آگے سے بول پڑے۔ ساس بُڑ بُڑ شروع کرے تو مشین فرمانبردار بُہو کی طرح۔ کھی کھی کرئے یا۔ ’’جی‘‘۔ ’’جی‘‘۔ ’’جی جی‘‘۔ کرتی چلے جائے۔ ساس غصے میں آئے تو مشین ہنس پڑے۔ نرم رویہ اپناتے ہوئے۔ بھولی بھالی معصوم (پچھلی صدیوں کی) سی بہو کی طرح جو اب ناپید ہے ۔ ایسے ہی بہُو کے لیے علیحدہ مشین بنائی جائے ذرا شوخ وشنگ۔ قسم کی ۔کہ جیسا کلاینٹ ویسی مشین۔
میں نے ’’ بولنے والی مشین ‘‘ کے حوالے سے اپنے ستر سالہ بزرگ استاد کمر کمانی سے بات کی تو۔ استاد نے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے چپ رہنے کا اشارہ دیا۔ ذرا توقف کے بعد بولے۔ میاں صاحبزادے۔ یاد رکھو یہ مشین بھی تو انسان نے ہی بنائی ہوگی۔ اِن مشینوں سے انسان تھوڑا عرصہ تو شاید مثبت کام لے۔ جب انسان کا دماغ گھومے گا تو ممکن ہے وہ اِس سے الٹ رزلٹ مانگے اور یہ مشین انسانوں کو مزید الجھاکے رکھ دیں ۔ صلح جو لوگوں کو لڑانے لگ پڑے اور دوستوں کی بجائے دشمن پیدا کرنے لگے اور دنیا دشمنوں سے بھر جائے۔ اور دوستوں کا دنیا میں فقدان ہو جائے۔ اور مشین گھر گھر دشمنیاں بانٹتی پھرے۔ اور جب عوام مشین کے خلاف تھانے میں رِٹ کٹوانے جائیں تو مشین بنانے والی کمپنی کا نمائندہ معافی مانگ لے کہ مشین میں (Error)آگیا تھا یا مشین بھی کرپٹ ہو گئی تھی۔
پھر پتہ چلے دونمبر مشین بھی مارکیٹ میں آگئی ہے اور معاشرے میں خوب دو نمبریاں ہونے لگی ہیں۔ اور جو منفی کام انسان نہیں کر سکے وہ اِس مشین نے کر ڈالے ہیں۔ میرا تازہ کلام ملاحظہ کریں۔ دنیا میں نت نئی تیزی سی ہوتی تبدیلیوں کے حوالے سے ۔ انسانوں کی نرالی سوچوں اور الٹی سیدھی حرکتوں کے حوالے سے چند اشعار۔
تہاڈے کم نرالے
تہاڈے کم نرالے پا جی
رُس گئے نے کل دے شاہ جی
راوی سُک گیا اے جد دا
بُھکے مر گئے ملاح جی
موت دے نال نہ دنگل کرنا
موت توں ڈردی ہر دوا جی
مچھر پہلے سی اِک کیٹرا
بن بیٹھا اے اِک وبا جی
پُلس دے نال میں آڈا لایا
مینوں کوئی دیؤ سزا جی
عمران دے آن دا فیدا ہویا
سب نوں دتا آن جگا جی
محسنؔ ضدی سچ کہے گا
اینوں پھانسی دیو چڑھاجی

Viewers: 4029
Share