Hafiz Muzafar Mohsin | Urdu Column | ’’نیا سیاسی اسٹیج اور نئے ڈگری ہولڈر فنکار‘‘

حافظ مظفر محسن 101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور 0300-9449527 ’’نیا سیاسی اسٹیج اور نئے ڈگری ہولڈر فنکار‘‘ ’’ پاکستان کے سیا سی اسٹیج پر حیرت انگیز تبدیلیاں اور نئے فنکاروں […]

حافظ مظفر محسن
101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور
0300-9449527

’’نیا سیاسی اسٹیج اور نئے ڈگری ہولڈر فنکار‘‘

’’ پاکستان کے سیا سی اسٹیج پر حیرت انگیز تبدیلیاں اور نئے فنکاروں کی آمد‘‘۔ عثمان فاروق کو میں نے یہ موضوع دیا تو اُس کی ہنسی چھوٹ گئی۔ میں جان بوجھ کر سنجیدہ رہا۔ جب وہ دل کھول کے ہنس چکا اس کے قہقہے تھم گئے تو میں نے اِ س بے اختیار ہنسی کی وجہ پوچھی تووہ پھر ہنسنے لگا۔
بھائی ۔ آپ کا یہ موضوع سنتے ہی پاکستان کا نیا سیاسی اسٹیج میری آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔ جس پر منجھے ہوئے فنکار کے طور پر مجھے ذولفقار مرزا نظر آئے۔ کیا اداکار ملا ہے قوم کو۔ ’’ پُونا اسکول آف اداکاری‘‘ بھی اُسے دیکھ کر حیران ہے کہ اِس ’’ فنکار ‘‘ نے ڈگری کس یونیورسٹی سے حاصل کی۔ حالانکہ وہ غور کریں تو اُنہیں فوراً پتہ چل جائے کہ انسان استادوں سے تو سیکھتا ہی ہے۔ دوستوں کی محبت بھی انسان کو بہت کچھ سکھاتی ہے۔ اور یہاں اب میں کیا بتاؤں کہ مرزا کس کی صحبت میں رہے ہیں؟۔
پھر اِک اور فنکار نمودار ہوا۔ ’’ہز ماسٹرز وائس‘‘۔ پہلے زمانے میں جو بہت بڑے سائز کی سی ۔ ڈی بنتی تھی۔ جس پر تیس گانے ریکارڈ ہوتے تھے۔ اُس سی۔ ڈی پر ایک ڈاگ کی بڑے لاؤڈ اسپیکر کے ساتھ تصویر بطور مونو گرام ہوتی تھی۔ یعنی یہ ڈاگ آپ کہہ لیں ’’ عبرت کا نشان ‘‘ تھا ۔ (اُمید ہے آپ سمجھ گئے ہوں گے؟)۔
وہ ’’ ہز ماسٹر ز وائس‘‘ کہلاتا تھا۔ یہ نشانی تھی ایک نامور ریکارڈ نگ کمپنی کی۔ لوگ آنکھیں بند کر کے اِس کمپنی کی مصنوعات خرید لیتے تھے۔
’’ہز ماسٹرز وائس‘‘ کے طور پر اِک عجب نام سامنے آیا۔ کیا فنکار تھا۔ یہ شخص وہ ابھی تک اپنے کئے پر پچھتانہیں رہا۔ نہ ہی اُس کا ارادہ ہے ایسا کرنے کا۔ بلکہ وہ بولنے والوں کو ڈانٹ رہا ہے۔ چُپ رہنے کی تلقین کر رہا ہے۔ اور وہی جو ہماری تاریخ میں ہوتا رہا ہے۔ ’’ پردہ ‘‘ اٹھانے کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے ۔ یعنی اپنے کئے پر شرمندہ نہیں ’’ اداس ‘‘ نہیں تازہ دم ہے اور اِس گیم میں ’’ اِن‘‘ رہنا چاہتا ہے۔
یہ شخص حسین حقانیؔ ہے۔ پچھلے دو مہینے سے یہ شخص پاکستان کے سیاسی اسٹیج پر چھایا ہوا ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے ’’ماہرین‘‘ مُنہ میں انگوٹھا دبائے اِس فنکار اور اِس کی فنکاریوں کو حیرت و مایوسی سے دیکھ رہے ہیں۔اُن نے رکھ دیا ناں اُلجھا کے ساری مشینری کو سارے سیاستدانوں کو۔ یہاں تک کہ ’’ اُن ‘‘ کو بھی۔ یہ ہوتی ہے۔ فنکاری؟!۔ میں نے کہا ناں میں…. ہم
’’ دیکھ رہے ہیں ‘‘ ۔ حیرت سے اِس لیے کہ یہ’’ فنکار ‘‘کچھ سمجھ نہیں آنے دیتا۔ مایوسی سے اِس لیے کہ فنکار پھر کام دکھا گئے اور ہم سوتے رہے۔ ہمیشہ کی طرح ۔ ہاں دیکھنے والے اب کے خوفزدہ بھی ہیں۔ کہ پاکستان کے ساتھ یہ ’’ فنکار ‘‘ جن کو بظاہر تنخواہ یا مراعات پاکستان کے سرکاری خزانے سے ملتی ہیں۔ ( کیا سے کیا کر ڈالیں گے۔ ماضی کے فنکاروں نے کیا کیا کچھ نہیں کیا اس ہمارے پاکستان کے ساتھ اور بریف کیس اٹھائے چپکے سے فنکاری دکھاکے جہاں سے آئے تھے وہیں چلے گئے)۔
کِس کے اشارے یا حکم پر یہ ساری فنکاریاں کرتے ہیں۔ اِن کا ’’ باس ‘‘ کون ہے۔ ’’ ذولفقار مرزا‘‘ ۔ جب اُنہوں نے قرآن پاک ‘‘ اٹھا کر پہلی پریس کانفرس کی تو لوگوں کو محسوس ہوا جیسے جناب آصف علی زرداری در پردہ اِس فنکار کی پُشت پناہی کر رہے ہیں۔ لیکن جب بات کھلتی چلی گئی۔ کام میں تیزی آتی چلی گئی ۔ چھوٹی چیخیں’’ بڑی بڑی بڑھکیں‘‘ بن گئیں ۔ ’’ میں ناں مانوں‘‘ ۔ کی رٹ لگانے لگے مرزا صاحب اور ہر آن ملک کے سیاسی اسٹیج کا۔
ماحول رنگ بدلتا گیا تو لوگ مخمصے کا شکار ہوگئے۔ جب ڈرامے کی دوسری قسط چلی تو اِک بار لوگوں کو پھر سے وہم سا ہوا کہ واقعی صدر پاکستان تو اِس ساری کہانی کے پیچھے تو نہیں۔ کہ ہمارے سادہ دل عوام تو سامنے کی بات دیکھتے ہیں مان لیتے ہیں یقین کی حد تک ۔ ( فنکار عوام کی اِس معصومیت سے خوب ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں)۔
پھر جب باقاعدہ پیپلز پارٹی سے منظور وسان گروپ سامنے آیا تو لوگوں نے زرداری صاحب کا کردار بالکل الگ کر دیا اور اِسے مختلف زاویوں سے دیکھنے لگے۔ اور جب میمن بھی لندن چلے گئے اور مستعفی بھی ہوگئے تو معاملہ گھمبیر ہو گیا اب جب بر منگھم میں مسلم لیگ (ن) کے راہنما راجہ شکیل حیدر ، ذوالفقار مرزا کو پگڑی پہنا رہے ہیں۔ لوگ مرزا سے گلے مل رہے ہیں۔ بچے ان سے آٹو گراف لے رہے ہیں( ہم سوچ رہے ہیں کہ ہم کیا کریں یہاں میری مراد عوام ہیں۔
اسلامک مشین کمیونٹی سنٹر برمنگھم میں ذوالفقار مرزا ،ڈاکٹر لیاقت علی۔ راجہ محمد ریاض، راجہ کامران رشید آف مسلم لیگ (ن) اکٹھے خطاب کر رہے ہیں تو لوگوں نے ذوالفقار مرزا کو عوامی فنکار سمجھ لیا اور اب ذوالفقار مرزا پورے پاکستان میں جہاں چاہیں ’’ پرفارم ‘‘ کر سکتے ہیں۔ پوری دنیا میں بھی جہاں جہاں وہ چاہیں’’ جوہر ‘‘ دکھا سکتے ہیں۔ اپنی فنکاری کے۔ ہماری فلمی تاریخ میں عنایت حسین بھٹی بطور عوامی فنکار گزرے ہیں یا پھر ہمارے محبوب سلطان راہی مرحوم ۔
سابقہ دور میں بھی ایسے انجان فنکار اچانک نمودار ہوئے۔ بہت بڑی بڑی خدمات سر انجام دیں اور چُپکے سے غائب۔ یا روپوش ہوگئے۔
میں اِن دو فنکاروں کے بارے میں سنجیدگی سے غور کر رہا تھا۔ کہ رانا شاہد اقبال آگیا۔ ’’ لوجی ….. نیا فنکار بھی چھا تا چلا جا رہا ہے‘‘۔
اُس کے اِس فقرے کا مطلب میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ کیونکہ ایک عوامی ۔ سیاسی کارکن کے طور پر وہ آجکل عمران خان کے ساتھ ساتھ ہیں۔ ( سوری غلطی ہو گئی ۔ میں نے ساتھ ساتھ لکھ دیا۔ حالانکہ خان کسی کو ’’ ساتھ ساتھ ‘‘ ہونے نہیں دیتا ۔ سب پیچھے بس میں آگے!)۔
خان جہاں جاتا ہے۔ نیا انداز اپناتا ہے۔ لوگ اس فنکار کو سیدھا سادھا فنکار سمجھتے تھے۔ لیکن جب لاہور کے جلسے میں عمران خان نے طنزیہ انداز میں ہنستے ہوئے کہا۔ ’’ میاں صاحب جان دیو۔ ساڈی واری آن دیو‘‘۔
تو میں سمجھ گیا کہ یہ فنکار بھی ’’ اپنی باری‘‘ پر اسٹیج پر نمودار ہو کر رہے گا۔ اور ’’ باس‘‘ نے اسے بھی اُمید دلادی ہے۔ شکر ہے ہمارا اسٹیج نئے فنکاروں سے سج گیا ہے۔ اور یہ سب فنکار منجھے ہوئے بھی ہیں۔ اور تجربہ کار بھی۔ ایسے میں جہاں نو آموز بلاول بھٹو کی بھی سیاسی میدان میں جلد آمد متوقع ہے تو دوسری طرف محترمہ مریم نواز شریف بھی جلد ہمارے درمیان ہو ں گی۔
جو کہ ہمارے لیے خوش آئند ہے جتنا خوف منجھے ہوئے فنکاروں سے محسوس ہور ہا ہے۔ اُس سے کہیں زیادہ نئے معصوم چہروں کی آمد نے قوم کو ہلکا پھلکا کر دیا ہے۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی طرح۔
پتھر تھا مگر برف کے گالوں کی طرح تھا
اِک شخص اندھیروں میں اجالوں کی طرح تھا

Viewers: 4165
Share