Deepak Badki | Urdu Afsana | زندگی سوچ کر اداس ہوگیا میں

<font size=”2″> Deepak Budki, Associate, Insurance Institute of india, Sri Nagar. Tel;(M)9868271199(LL)0120-4131558 E-mail: deepak.budki@gmail.com  دیپک بدکی بھارت زندگی سوچ کر اداس ہوگیا میں اس روز میں اور میری بیوی شکنتلاکرنل […]

<font size=”2″> Deepak Budki, Associate, Insurance Institute of india, Sri Nagar. Tel;(M)9868271199(LL)0120-4131558 E-mail: deepak.budki@gmail.com

 دیپک بدکی
بھارت

زندگی سوچ کر اداس ہوگیا میں

اس روز میں اور میری بیوی شکنتلاکرنل چودھری کے یہاں کال آن کرنے پہنچے تو اس کے بیٹ مین نے دروازہ کھولا اور ہمیں ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا۔اس کے پیچھے پیچھے ایک ننھا منا لڑکا کمرے میں آکر ہمیں ٹکر ٹکر دیکھنے لگا۔
سہما سہما،ڈرا ڈرا،الجھے ہوئے بال ،ناک سے رینٹ بہتی ہوئی۔لگتا تھا اس نے اپنی آنکھوں میں سارے جہاں کا غم سمیٹ لیا ہو۔
شکنتلا پہلی نظر ہی میں اس بچے پر فریفتہ ہوگئی۔ہوتی کیسے نہیں جس کی اپنی گود سونی ہووہ بچے کی قدر کیوں نہ کرے۔اس نے بچے کو اپنے پاس بلایا،ہینڈبیگ سے اپنی رومال نکالی ، بچے کی ناک صاف کرلی،اورانگلیوں سے اس کے بال سنوارے ۔وہ کچھ بھی نہ بولا ۔ چپ چاپ اس کی گود میں بیٹھ گیا۔مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کچھ بولنا چاہتا ہے مگر بول نہیں پایا۔
اتنی دیر میں کرنل صاحب اور اس کی شریمتی جی کمرے میں داخل ہو گئی۔بچے کو شکنتلا کی گود میں دیکھ کر رنجناغرائی۔’’رِنکو، پھر وہی بات ۔ تمہیں کتنی بار سمجھایا ہے کہ جب گھر میں مہمان آئیں تو ڈرائینگ روم میں نہیں آنا چاہیے۔ گو اینڈ ڈو یوؤر ہوم ورک۔‘‘پھر وہ بلرام سے مخاطب ہوئی ۔’’ اسے اپنے کمرے میں لے جاؤ‘‘
رِنکو گڑبڑا کر اُٹھ کھڑا ہوا اور چہرے پر مایوسی اوڑھے ہوئے اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اس نے بچپن ہی میں تنہائی سے سمجھوتا کرنا سیکھ لیا تھا۔
بلرام ٹرے میں وہسکی بھرے گلاس، آئس بکٹ ،سوڑا اور پانی لے کر ایک ایک کرکے مہمانوں کے سامنے کھڑا ہو گیا۔سبھی نے اپنا اپنا جام اُٹھا کر چئرس کا بلند نعرہ لگایا اور پھر وہسکی پینے میں محو ہوگئے۔ شراب گھونٹ گھونٹ میرے حلق سے نیچے اترتی گئی اور اس کے ساتھ ہی بچے کی شبیہہ بھی دھندلی پڑتی گئی۔کچھ وقفے کے بعد ایک اور بچہ، جو پہلے بچے سے عمر میں قدرے چھوٹا تھا،ٹرائیسکل پر سوار کمرے میں داخل ہوا اور میز پر رکھے ہوئے کاجوؤں پر پِل پڑا۔رنجنا کے چہرے پر عجیب سی مسرت پھیل گئی۔ اس نے دو تین کاجو ہاتھ میں اٹھا لیے اور ننھے ہاتھوں پر رکھ دیے۔پھر بیٹ مین کو پکارا۔’’ بلرام، دیکھو بابا کو گارڈن میں تھوڑی دیر گھما لاؤ۔‘‘
بلرام نے جھٹ پٹ حکم کی تعمیل کی اور ٹرائیسکل پر سواربچے کی انگلی پکڑ کر ا س کو اپنے ساتھ با غ میں لے گیا۔
میں اور شکنتلا ایک دوسرے کو تعجب سے تکتے رہے۔ اس کے ذہن میں بھی وہی سوال اٹھا تھا جس نے میرے ذہن کو کلبلایا تھا۔ایک ماں دو بچوں کے بیچ اتنا فرق کیسے کرسکتی ہے؟ پہلے والے کو اس نے دھتکار دیا تھا اور دوسرے کو کلیجے سے لگا لیا ۔
انسان اپنی جبلت کا قیدی ہوتاہے۔مامتا اور خون کی سرحدیں اس کو شیطان بنا دیتی ہیں۔ اس بات کا انکشاف تب ہوا جب ہماری ملاقات اتفاقاً کرنل چودھری کے رفیقِ کار کرنل شیام سندر ،جو گائنیکالجسٹ ہیں،سے ٹرانزٹ کمپ کے ڈائیننگ ٹیبل پرہوئی۔اس نے ہمیں بتایا کہ رِنکو چودھری کی پہلی بیوی کا بیٹا ہے جودس سال پہلے کچن میں گیس کے رِساؤ کے باعث جل کر مر گئی۔
’’ مر گئی یا مار دی گئی۔‘‘ مجھ سے رہا نہ گیا،جھٹ پوچھ بیٹھا۔
’’ کون جانے سچ کیا ہے ۔پولیس نے تو ایکسیڈنٹ بتا کر کیس بند کر دیا۔
’’پھر دوسرے سال ہی چودھری نے ایک ملٹری نرسنگ افسرکیپٹن رنجنا سے شادی کرلی جو عمر میں اس سے بہت چھوٹی تھی۔اس نے بَیس ہسپتال میں ایک بچے کو جنم دیا ۔ سننے میں آیا ہے کہ ان دونوں میں کافی ان بن رہتی ہے اور رنجنا اس کا غصہ پہلے بچے پربیدردی سے اتارتی ہے۔‘‘
’’ ظاہر ہے رنجنا کو پہلی بیوی اور بچے کا علم تھا۔ پھر وہ کس بات پر خفا رہتی ہے؟‘‘
’’سوتیلا بچہ ہر عورت کی آنکھ میں کھٹکتا ہے۔وہ اسے استعمال شدہ مرد کی یاد ہمیشہ دلاتا رہتا ہے ۔ ‘ ‘
’’مگر انسانیت بھی تو کوئی چیزہے۔ مامتا بھی تو کوئی معنی رکھتی ہے۔ ‘‘
’’ یگوں سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔رام چندر جی کو سوتیلی ماں کی وجہ سے بن باس جانا پڑا تھا۔ پھرہماری کیا اوقات۔‘‘
بات آئی گئی ہو گئی۔ میں نے اور شکنتلا نے بارہا سوچ لیا کہ کرنل چودھری کے گھر جائیں اور اسے اس کا بیٹا رنکو مانگ لیں۔بے چارے کو مصیبت سے چھٹکارا تو ملے گا۔لیکن ہر بار یہ سوچ کر قدم رک جاتے کہ کہیں وہ برا نہ مان لے اور دھکے مار کر گھر سے نکال دے۔
وقت کی دھارایوں ہی بہتی گئی اور ہم شہر شہر بستی بستی گھومتے رہے۔ کبھی ایک جگہ ٹرانسفر ہو جا تا اور کبھی دوسری جگہ۔ گزشتہ برس میری پوسٹنگ بریلی ہوئی۔ مجھے میڈیکل چیک اپ کرانے ہسپتال جانا پڑا۔ وہاں برگیڈیر شیام سندر مل گئے۔
’’ ہیلو برگیڈیر شیام، ہَو آر یُو۔آپ کو ترقی ملی ہے ۔مبارک ہو۔‘‘
’’ تھینک یُو۔آپ نے بھی تو رینک پِک اپ کی ہے،برگیڈیر آشوتوش۔کانگریٹس‘‘
’’ شکریہ۔پچھلے سال ہی ترقی پائی۔وہاٹ اباؤٹ کرنل چودھری ۔ ان کی کچھ خبر؟‘‘
’’ اوہ ، آپ کو معلوم نہیں ۔ ہی میٹ اینَدر ٹریجڈی لاسٹ ائیر۔اس کی دوسری بیوی بھی گیس سے جل کر مر گئی۔‘‘
’’ ایکسیڈینٹ یا خود کشی ؟‘‘
’’ بھگوان جانے! ایکسیڈنٹ ڈز ناٹ رپیٹ اٹ سیلف۔میں بھوت پریت پر یقین نہیں کرتا ورنہ سوچتا اس کے گھر پر کسی بھوت کا سایہ ہے ۔دئیر ازسم تھنگ انٹریگنگ‘‘ اس نے بڑی متانت سے جواب دیا۔
’’ اس کا وہ دوسرا بچہ؟ وہ تو ابھی چھوٹا ہی ہوگا؟‘‘
’’ ہاں ،بے چارا…..! تیسری ماں کا انتظار کر رہا ہے! ‘‘
گھر جاتے ہی میں نے یہ خبر شکنتلا کو سنائی۔’’ معلوم ہے ۔ وہ ہے نا وہ ….کرنل، سوری برگیڈیر شیام سندر۔‘‘
’’ ہاں اسے کیا ہوا؟‘‘وہ اچھل پڑی۔
’’ اری ، اسے کچھ نہیں ہوا۔اس نے بتایا کہ کرنل چودھری کی دوسری بیوی بھی گیس سے جل کر مر گئی اور اب دونوں بچے بِنا ماں کے رہ گئے۔اسی کو کہتے ہیں فطری انصاف۔اب دوسرا بچہ بھی ماں کے پیار کے لیے ترسے گا۔‘‘
’’ چھی ایسی باتیں نہیں کرتے‘‘۔شکنتلا کی مامتا ابل پڑی۔’’اس میں اس بے چارے معصوم بچے کا کیا قصور ؟ اس کی ماں کی غلطیوں کا خمیازہ وہ کیوں بھگتے؟بھگوان بھی کتنا نردئی ہو گیا ہے آج کل ۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو بے سہارا چھوڑجاتا ہے۔ یہاں میں ہوں کہ بچے کی کلکاری کے لیے کب سے ترس رہی ہوں۔خیر جو اس کی اِچّھا ۔ اس کی مرضی کو کون ٹال سکتا ہے۔‘‘
شکنتلا کی باتیں سن کر میں فکر و تردد کے اتھاہ سمندر میں ڈوب گیا۔مجھے اپنے آپ پر گھِن سی آنے لگی۔ندامت کے باعث مجھے اپنی بیوی کی نظروں سے نظریں ملانے میں جھجھک سی محسوس ہو رہی تھی۔

Viewers: 3366
Share