Rashid Asar | Ghazal | جب تلک فکر کو احساس نے وسعت نہیں دی

رشید اثر کراچی۔ پاکستان Tel# 0321-2300661 rasheedasar@yahoo.co.uk غزل جب تلک فکر کو احساس نے وسعت نہیں دی میرے الفاظ نے مفہوم کو صورت نہیں دی کارِ ہستی نے ذرا سی […]

رشید اثر
کراچی۔ پاکستان

Tel# 0321-2300661
rasheedasar@yahoo.co.uk


غزل

جب تلک فکر کو احساس نے وسعت نہیں دی
میرے الفاظ نے مفہوم کو صورت نہیں دی
کارِ ہستی نے ذرا سی مجھے فرصت نہیں دی
خواب تعبیر کروں اَتنی بھی مہلت نہیں دی
دل نے خود اپنی تباہی کا بہانہ کر کے
مجھ سے جو کام لیا اُسکی بھی اُجرت نہیں دی
میرے حالات ہی ایسے تھے کہ میں نے اسکو
عمر بھر پر سش احوال کی زحمت نہیں دی
وہ بھی ہیں میرے گناہوں میں برابر کے شریک
جن فرشتوں نے مجھے توبہ کی مہلت نہیں دی
کس عدالت کے حضور اپنی شکایت لے جاؤں
زندگی نے مجھے برتا‘ مری قیمت نہیں دی
میری آنکھوں نے ا’سے پاس سے چھو کر دیکھا
اُس نے جب ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں دی
تجھ کو دیکھوں ‘ تجھے چاہوں ‘ترے نزدیک آؤں
میرے حالات نے اتنی مجھے فُر صت نہیں دی
موت اب دیکھئے کس طرح کا برتاؤ کرے
زندگی نے تو مجھے جینے کی مہلت نہیں دی
میرے لفظوں کا سرِ عام تماشا کر کے
اُسنے بدنام کیا ہے مجھے شہرت نہیں دی
کچھ تو میں نا أہ اعمال سے خائف تھا اثر
اور کچھ میرے فرشتوں نے شہادت نہیں دی

Viewers: 3968
Share