Muhammad Azam Khan | Urdu Afsana | ضروری اعلان

محمد اعظم خاں جوہر ٹاؤن۔لاہور۔ پاکستان فون نمبر: +92 300 4107328 azamkhan273@gmail.com ضروری اعلان پچھلے کچھ دنوں سے میرے شب و روز اس قدر مصروف گزر رہے تھے کہ میں […]

محمد اعظم خاں
جوہر ٹاؤن۔لاہور۔ پاکستان
فون نمبر: +92 300 4107328
azamkhan273@gmail.com

ضروری اعلان

پچھلے کچھ دنوں سے میرے شب و روز اس قدر مصروف گزر رہے تھے کہ میں اس ہنگامہ خیز زندگی سے چند دن کے لیے کہیں دور بھاگ جانا چاہتا تھا اور خواہش تھی کہ کہیں ایسی جگہ چلا جاؤں جو پر سکون ہو۔ میں نے اس سلسلے میں بھائی جی سے مشورہ کیا تو کہنے لگے کہ اس مقصد کے لیے گاؤں سے بہتر کوئی جگہ نہیں۔بھائی جی کی بات میرے د ل کو لگی، میں نے اپنی خالہ کے ہاں جانے کا پروگرام بنا لیا اور اپنے کپڑوں کے چند جوڑے بیگ میں رکھ کر سفر پر روانہ ہو گیا۔
گاؤں پہنچا تو خالہ، خالو اور میرے تمام کزن مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ میں پہلی بار خالہ کے ہاں گاؤں آیا تھا، خوشی سے ان کے پاؤں زمین پر ہی نہیں لگ رہے تھے اور وہ میرے صدقے واری جا رہی تھیں۔ گرمیوں کا موسم تھا اس لیے کھانا کھانے کے بعد صحن میں ہی چارپائیاں بچھا دی گئیں، تمام گھر والے ارد گرد جمع ہو گئے اور دیر تک میرے پاس بیٹھے ادھراُدھر کی باتیں کرتے رہے۔
میں دیر تک سونا چاہتا تھامگر ایک عجیب سی تیز آواز نے مجھے صبح جلدی جگا دیا۔ میں نے آنکھیں کھولیں تو ہر طرف دن کی روشنی پھیل چکی تھی، میرے خالو اور تمام کزن کھیتوں میں جا چکے تھے اور خالہ اپنے کاموں میں لگی ہوئی تھیں، پھر وہی تیز آواز میرے کانوں میں پڑی اور ساتھ ہی مسجد سے مولوی صاحب کی آواز گونجی ’’ حضرات ایک ضروری اعلان سنیں ،جو بچے مسجد میں قرآن پاک پڑھنے آتے ہیں اور ابھی تک مسجد میں نہیں پہنچے ان کے والدین سے گزرارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کو جلداز جلد مسجد میں بھیج دیں۔۔۔شکریہ۔ اعلان پھر سنیں ۔۔۔۔۔جن والدین کے بچے مسجد میں قران پاک پڑھنے آتے ہیں ان سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو مسجد میں جلدی بھیج دیا کریں۔۔۔اب دیکھیں ناں دھوپ چڑھ آئی ہے اور ابھی تک بہت سے بچے مسجد میں نہیں آئے۔۔۔امام مسجد کو قرآن پاک پڑھانے کے علاوہ بھی بہت سے دوسرے کام ہوتے ہیں، اس لیے جو بچے ابھی تک مسجد میں نہیں آئے وہ فوراً سے پہلے پہنچ جائیں ورنہ دیر سے آنے پر انہیں قرآن پاک کا سبق نہیں دیا جائے گا۔۔۔۔شکریہ‘‘
میں کچھ دیر اور سونا چاہتا تھا مگر مولوی صاحب کے لمبے چوڑے اعلان اور اعلان سے پہلے سپیکر میں ماری جانے والی زوردار پھونکوں نے میری نیند خراب کر کے رکھ دی تھی ،
اس لیے مجبوراً چارپائی چھوڈنا پڑی۔
ابھی ناشتے وغیرہ سے فارغ ہوا تھا کہ ایک بارپھر مولوی صاحب کی پھونک نے کانوں کے پردے پھاڑ کر رکھ دیے۔ مولوی صاحب نے پھونک مار کر تسلی کی کہ واقعی سپیکر میں ان کی آواز جا رہی ہے اور بولے ’’ حضرات ایک ضروری اعلان سنیں ۔۔۔فیقے سبزی والے کی دکان پر تازہ سبزی آگئی ہے جس کسی نے لینی ہو دکان پر آکر لے لیں، آج ٹینڈے آٹھ روپے کلو، گھیا آٹھ روپے کلو، پالک چار روپے کلو، آلو پانچ روپے کلو، کریلے دس روپے کلو اور بینگن چار روپے کلو ہیں، ساتھ ہی فیقے سبزی والے کا اعلان ہے کہ سبزی کے ساتھ دھنیا اور ہری مرچیں مفت دی جائیں گی۔۔۔۔شکریہ‘‘
کچھ دیر بعد زوردار پھونک کے ساتھ مولوی صاحب کی آواز پھر گونجی ’’ حضرات ایک ضروری اعلان سنیں۔۔۔۔شیدے قصائی نے ابھی ابھی ‘‘کٹے ‘‘ کا گوشت کیا ہے جو لوگ کٹے کا گوشت کھانے کا شوق رکھتے ہوں شیدے قصائی کے پاس آ کر لے لیں، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی، اگر کسی نے’’ کٹے‘‘ کے سری پائے ، اوجڑی یا کلیجی لینی ہو تو وہ بھی آ کر لے سکتا ہے۔۔۔۔شکریہ‘‘
ابھی پچھلے اعلان کی گونج کانوں میں ختم نہیں ہوئی تھی کہ مولوی صاحب کی آواز پھر کانوں میں پڑی ’’ حضرات ایک ضروری اعلان سنیں۔۔۔۔ملک نصیب کی دکان پر برف پہنچ گئی ہے جس کسی نے لینی ہوآکر لے سکتا ہے، آج برف کا بھاؤ دو روپے کلو ہے اگر کوئی گندم، مکئی یا کپاس کے بدلے میں برف لینا چاہے اسے بھی مل سکتی ہے۔۔۔۔شکریہ‘‘
جیسے ہی مولوی صاحب کا اعلان ختم ہوتا، خالہ فوراً حرکت میں آ جاتیں، ایسا محسوس ہوتا تھاجیسے ہر اعلان خاص طور پر انہیں کے لئے کیا جا رہا تھا، سبزی کا اعلان سنتے ہی انہوں نے بچے کو سبزی لینے بھیج دیا تھا، گوشت کا اعلان ہوا تو انہوں نے اعلان سنتے ہی بچے کو گوشت لینے بھیج دیا اور اب برف کا اعلان ہوا تو انہوں نے فوراً برف منگوانے کے لئے بچے کو بھیج دیا۔
دوپہر کے کھانے میں خالہ نے کافی تکلف کیا تھا۔ کھانا چونکہ بہت مزیدار تھااس لیے میں نے خوب پیٹ پھر کر کھایا، کھانا کھاتے ہی میری آنکھ لگ گئی مگر ابھی مجھے سوئے ہوئے چند منٹ بھی نہ گزرے تھے کہ مولوی صاحب کے ایک اور اعلان نے مجھے جگا دیا ’’ حضرات ایک ضروری اعلان سنیں ، کالو تیلی کی بکری رسی کھلوا کرکہیں بھاگ گئی ہے، اگر کسی نے دیکھی ہوتو کالو تیلی کو اطلاع دے کر شکریے کا موقع دیں، مہربانی ہوگی۔۔۔۔۔شکریہ‘‘ حضرات ایک ضروری اعلان اور سن لیں، رانا مہربان کے گھر روٹی باالکل تیار ہے جن لوگوں کو اس کے بیٹے کی شادی پر دعوت دی گئی ہے وہ رانا مہربان کے گھر آکر کھانا کھا لیں۔۔۔۔شکریہ‘‘
تھوڑے سے وقفے کے بعد مولوی صاحب نے پھر اعلان کیا ’’حضرات ایک ضروری اعلان سنیں، مائی جنتے کی ‘‘ککڑی‘‘ گم ہو گئی ہے اور ابھی تک واپس نہیں آئی، اگر غلطی سے وہ ’’ککڑی‘‘ دوسری ’’ککڑیوں‘‘ کے ساتھ کسی کے گھر چلی گئی ہو تو مائی جنتے کے گھر واپس دے جائیں اور مائی جنتے کی دعائیں لیں۔۔۔۔شکریہ‘‘
مولوی صاحب کا ہر اعلان ضروری اعلان تھا اور ہر اعلان سے پہلے یہ جاننے کے لیے کہ آیاسپیکر میں ان کی آوازٹھیک سے آ بھی رہی ہے یا نہیں، ان کا سپیکر میں زوردار پھونک مارنا بھی انتہائی ضروری تھا۔ خالہ کا گھر چونکہ مسجد کے باالکل قریب تھا اور شائد مسجد کے سپیکروں کا رخ بھی اسی طرف تھا اس لیے میں ان کی ہر پھونک پرکانپ کر رہ جاتا۔ میں سمجھ رہا تھا کہ شائد اس طرح کے اعلانات آج ہی ہو رہے تھے مگر خالہ نے بتایا کہ ایسے اعلانات روز کا معمول ہیں۔
صبح سے اب تک میں اس قدر دلچسپ و عجیب اعلانات سن چکا تھاکہ جیسے ہی مسجد کا سپیکرآن ہوتااور مولوی صاحب کی پھونک کانوں میں پڑتی تو میرے کان فورأ کھڑے ہو جاتے اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی پوری توجہ سے اعلان سننے لگتا۔ ایک بار پھر اعلان ہونے لگا تومیں نے کان اْدھرلگا دیے ’’حضرات ایک ضروری اعلان سنیں، چوہدری برکت علی صاحب اگر میری آواز سن رہے ہوں تو اْن سے گزارش ہے کہ مسجد میں تشریف لے آئیں تاکہ جماعت کھڑی کی جا سکے، نماز کا وقت ہو چکا ہے اور تمام نمازی اْن کے آنے کا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔۔شکریہ‘‘
مولوی صاحب کا یہ اعلان میرے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا، مجھے بہت حیرانگی ہو رہی تھی ۔ آخر کار مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے خالہ سے پوچھ ہی لیا کہ یہ سب کیا ہے۔ نماز تو اپنے وقت پر کھڑی ہو جانی چاہئے اس کے لیے کسی چوہدری یا وڈیرے کے انتظار میں بیٹھے رہنا درست نہیں۔
’’یہاں ایسا ہی ہوتا ہے، جب تک چوہدری مسجد میں نہ پہنچے جماعت کھڑی نہیں ہوتی، امام مسجد اور نمازی چوہدری کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ جو امام مسجد ایسا نہیں کرتا اسے یہ چوہدری جوتے مار مار کر بھگا دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔‘‘
میری بات سن کر خالہ نے جو جواب دیا تھا وہ میرے لیے مزید حیران کر دینے والا تھا۔ اعلان ختم ہونے کے بعد میں آنکھیں بند کیے لیٹا رہا کہ شائد آنکھ لگ جائے لیکن نیند نہیں آ رہی تھی مگر کچھ دیر تک ادھر اْدھر کی باتیں سوچتے ہوئے آنکھ لگ گئی۔ کچھ ہی دیر بعد مولوی صاحب نے اپنی عادت کے مطابق سپیکر میں زوردار پھونکیں ماریں تو میں ڈر کر اٹھ بیٹھا، میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا اور مولوی صاحب کی آواز کانوں میں پڑ رہی تھی ’’ حضرات ایک ضروری اعلان سنیں، جیرے حلوائی نے گرما گرم جلیبیاں اور تازہ پکوڑے بنائے ہیں، جو لوگ لینا چاہتے ہوں فورأ جیرے حلوائی کے پاس پہنچ جائیں، گرما گرم جلیبیاں ساٹھ روپے کلو اور تازہ پکوڑے ستّر روپے کلو ملیں گے۔۔۔۔شکریہ‘‘
مولوی صاحب کا ضروری اعلان ختم ہو چکا تھا مگر میرے دل کی رفتار ابھی تک نارمل نہیں ہوئی تھی۔ مولوی صاحب کی سپیکر میں ماری جانے والی زور دار پھونکوں نے ایک ہی دن میں مجھے اس قدر ہلا کر رکھ دیا تھا کہ میں نے فوری طور پر واپسی کا اعلان کر دیا۔ خالہ میرے اچانک واپس جانے کا سن کر بہت حیران ہوئیں اور مجھے ایک دو دن اور رکنے پر زور دینے لگیں مگر جب میں نے چند ضروری کاموں کا بہانہ بنایا تو مان گئیں اور بولیں ’’ ٹھیک ہے اگر تم جانا ہی چاہتے ہو تو شام ہو رہی ہے اور آخری بس نکلنے ہی والی ہو گی۔۔۔۔۔جلدی کرو ، ورنہ آخری بس نکل گئی تو پھر تم نہیں جا سکو گے۔۔۔۔۔‘‘
خالہ کی بات سنتے ہی میں نے جلدی سے اپنا بیگ اٹھایا اور گھر سے نکل پڑا۔ میں تیز تیز قدم اْٹھاتا ہوا بس سٹاب پر پہنچا تو بس چل پڑی تھی مگر اس نے ابھی سپیڈ نہیں پکڑی تھی، میں نے پوری قوت سے دوڑ لگا دی کیونکہ میرا اس بس میں سوار ہونا بہت ضروری تھا۔

Viewers: 6017
Share