Qindeel | Interview | معروف ٹی وی کمپیئر و آرٹسٹ قندیل

علی شاہ
منکیرہ ضلع بھکر
فون: 0333-8903177

معروف ٹی وی کمپیئر و آرٹسٹ قندیل

ٹی وی نیوز کاسٹر کی حیثیت سے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کرنے والی آرٹسٹ قندیل نے اپنے سفر کی ابتداء تو ٹی وی پر خبریں پڑھنے سے کی لیکن بعدمیں ٹی وی ،ڈرامہ اور فلم نگری سے ہوتی ہوئی خود کو کمپیئر کی حیثیت سے دریافت کیا۔ قندیل کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں بلکہ ہشت پہلو شخصیت کا قول اس پر سو فیصد صادق آتا ہے۔ اس نے پی ٹی وی سمیت کئی چینلز پر ڈراموں میں کام کیا، سلور سکرین پر جلوہ گر ہوئی تو مختصر وقت میں فلم آرٹسٹ کی حیثیت سے اپنی شناخت بنا لی۔ ادب کے گہرے شغف اور بین الاقوامی ادب کے گہرے مطالعے کی بدولت اس نے اپنے اندر کی شاعرہ کو دریافت کیا۔ پی ٹی وی کے ایک پروگرام سے کمپیئرنگ کا آغاز تو سٹیج اور ٹی وی کی منفرد کمپیئر کے طور پر پہچانی جانے لگی۔ صرف یہی نہیں بلکہ ریڈیو پر بھی ڈرامہ آرٹسٹ اور کمپیئر کے طور پر بھرپور پر فارم کیا۔سرسنگیت سے ناطہ جوڑا تو خوش گلو گلوکارہ کے طور پر پہچان بنائی لیکن اس کی حقیقی صلاحیتیں کمپےئر کے طور پر ظاہر ہوئیں اور اس نے بطور کمپیئر دنیا بھر میں اپنی بھرپور شناخت قائم کی بعد ازاں کمپےئرنگ نہ صرف اس کی اولین ترجیح بن گئی بلکہ کمپیئرنگ کی خاطر اس نے فن کی دیگر جہتوں کو بھی پسِ پشت ڈال دیا اور کمپےئرنگ ہی اس کی تمام تر توجہات کا مرکز بن گئی۔کچھ عرصہ قبل لاہور جانے کا اتفاق ہوا تو ریڈیو پاکستان کی بلڈنگ میں قندیل کے ساتھ ایک تفصیلی نشست ہوئی اتفاق سے اس دن موسم بھی بے حد سہانا تھا۔ باہر بادلوں کی گھن گرج اور رم جھم برستی بارش اور ریڈیو کی عمارت کے ایک اےئر کنڈیشنڈ کمرے میں قندیل کی سریلی گفتگو ۔دوران انٹرویو کسی تلخ سوال پر اس کے لہجے میں شدید تلخی اور اگلے ہی لمحے کسی دلچسپ سوال کے جواب میں اس کے جلترنگ قہقہے۔ اس آنکھ مچولی میں قندیل کے ساتھ اس کا بچپن، پسند و نا پسند اور اس کے
فنی سفر کے حوالے سے ہونے والی مفصل گفتگو کا احوال ماہنامہ”اُردو سُخن ڈاٹ کام”کے قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔

س۔ شوبز میں آنا کیسے ہوا؟ شوق ،مجبوری یا اتفاق؟
ج۔ ان میں سے کچھ بھی نہیں تھا۔ میں یہ سمجھتی ہوں کہ مجھے قدرت نے بنایا ہی اس مقصد کے لیے تھا۔ جب میں نے بولنا سیکھا تو مجھے علم ہو چکا تھا کہ میری منزل کیا ہے اور میں نے آگے چل کر کیا کرنا ہے۔اس وقت یہ واضع نہیں تھا کہ جب میں بڑی ہوں گی تو میں ٹی وی میں ہی جاؤں گی۔ اس وقت مجھے بولنا،تقریریں کرنا اور ڈراموں میں کام کرنا اچھا لگتا تھا سو میں نے سکول و کالج میں جس حد تک ممکن ہوسکا کام کیا۔ تب مجھے یہ بتایا گیا کہ مجھے ڈاکٹر بننا ہے لیکن جب میں F.Scکر رہی تھی تب مجھے شدت سے احساس ہوا کہ سائنس میرا شعبہ نہیں ہے ۔ مجھے کچھ اور کرنا ہے سو میں نے F.Scکرنے کے بعد سائنس چھوڑی دی اور پھر اردو اور انگلش لٹریچر کے ساتھ گریجو یشن کی۔ اسی دوران مجھے ٹی وی پر کام کرنے کی آفر ہوئی۔جب میں پہلی دفعہ ٹی وی پر گئی تو پہلے دن ہی میری بھرپور حوصلہ افزائی ہوئی۔ چونکہ یہ سب پہلے سے میرے اندر موجود تھا اس لئے نہ مجھے کیمروں سے اجنبیت ہوئی نہ بولنے سے ہچکچاہٹ ہوئی نہ میں نروس ہوئی۔ میرا پہلا پروگرام ہی کامیاب تھا سو مجھے اگلے دن ٹی وی پر اے پلس مل گیا تھا۔
س۔ کوئی ایسا پروگرام جو ٹی وی پر آپ کی شناخت بنا ہو؟
ج۔ جو کچھ میں کرنا چاہ رہی ہوں تاحال وہ میں نہیں کر پائی تاہم پی ٹی وی پر پروگرام “سُر تصویر”سے مجھے اصل شناخت ملی۔ یہ پروگرام لوگوں میں بے حد پسند کیا گیا۔ یہ پی ٹی وی سمیت کسی بھی ٹی وی چینل کا طویل ترین پروگرام تھا جس میں پاکستان فلم انڈسٹری کا پورا سفر بیان کیا گیا۔
س۔ آپ بیک وقت اداکارہ ،گلوکارہ اور کمپیئر ہیں،ان میں سے آپ کوکونسا شعبہ زیادہ پسند ہے؟
ج۔ میرا بنیادی شعبہ کمپیئرنگ ہے۔ جہاں تک اداکاری کا تعلق ہے تو میں نے بے شمارپلے بھی کئے۔ چند ایک فلمیں بھی کیں۔ابھی میری ایک ٹیلی فلم “فلم فیسٹول”کے لئے منتخب ہو رہی ہے جس کے ڈائریکٹر پرویز کلیم صاحب ہیں لیکن میں نے خود ہی اس طرف توجہ نہیں کی۔اداکاری کی طرف توجہ نہ دینے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ڈرامہ پر زیادہ کام کراچی میں ہو رہا ہے سو میں نے سوچا کہ ثانوی کردار کرنے سے بہتر ہے کہ کام نہ ہی کیا جائے۔اگر کوئی مرکزی کردار ہے جس میں آپ کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بھرپور موقع مل رہا ہے تو کرنا چاہیئے ورنہ نہیں کرنا چاہیئے ۔کمپیئرنگ کے حوالے سے میں نے بہت زیادہ کام کیا ہے۔ پوری دنیا میں کیا ہے۔ سٹیج ،ریڈیو،ٹی وی پر کیا سو میرا اولین شوق اور شناخت کا ذریعہ بھی کمپےئرنگ ہی ہے۔
س۔ آپ نے اداکاری ،گلوکاری اور کمپےئرنگ کی ہے۔ یہ سب کرنے کے لئے انسان میں کن خوبیوں کا ہونا ضروری ہے؟
ج۔ سب سے پہلے تو انسان میں خداداد صلاحیت کا ہونا ضروری ہے۔پھر آپ اپنی محنت سے اپنی صلاحیت کو بہتر کر سکتے ہیں۔ کوئی اداکار ہو ،سنگر ہو یا کمپےئر ہو اس کی آواز اچھی ہونی چاہےئے۔ شخصیت میں ،خود اعتمادی ہونی چاہےئے اور وسیع تر مطالعہ ہونا چاہےئے۔یہ سب چیزیں مل کر ہی آپ کو ایک اچھا فنکار بناتی ہیں۔
س۔ آپ نے اداکاری ،گلوکاری یا کمپےئرنگ وغیرہ کسی استاد سے سیکھی یا خود بخود یہ سب ہوتا گیا؟
ج۔ میں سمجھتی ہوں کہ انسان خود اپنا سب سے بڑا ستاد ہے تو وہ اپنی خامیاں نوٹ کرتا ہے۔علاوہ ازیں ہمارے سامنے سینئر لوگ بھی ہوتے ہیں جن سے ہم تھوڑابہت تاثر لیتے ہیں لیکن موسیقی میں تو ایک استاد کا ہونا کسی حد تک ضروری ہے۔ تاہم کمپےئرنگ میں نہیں ہے۔
س۔ تو پھر موسیقی کسی سے سیکھی؟
ج۔ نہیں! موسیقی تو میں نے اس طرح سے سیکھی ہی نہیں۔ نہ میرے پاس وقت تھا۔اور نہ ہی میں نے اس کو پروفیشن بنایا ہے۔ یہ تو میرا ذاتی شوق تھا جس کے لئے میں نے تھوڑا بہت کام چلایا ورنہ موسیقی کے لئے کافی وقت تھا اس لئے اس کو ادھورا چھوڑ دیا اور کمپےئرنگ پر پوری توجہ مرکوز رکھی۔
س۔ اچھا آپ گاتی پھر بھی بہت اچھا ہیں ۔اتنا اچھا گانے کے باوجود آپ کا کوئی البم نہیں آیا؟
ج۔ دیکھیں! یہ آپ کی ذاتی تعریف ہے اس پر میں کوئی رائے نہیں دے سکتی میری آواز اچھی ہے لیکن میں نے چونکہ سیکھا نہیں ہے۔ جب تک آپ کوسروں پر عبور حاصل نہ ہو،آپ کی ریاضت نہ ہو میرا خیال ہے آپ کو پروفیشنل گانا نہیں چاہیئے۔ ویسے گانے کو کیا ہمارے بہت سے ایسے گلوکار ہیں جن کو گانا نہیں آتا وہ گا رہے ہیں لیکن میں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتی جس پر مجھے عبور حاصل نہ ہو۔
س۔ چلو آپ نے جو تھوڑا بہت گا یا وہ کیا تھا؟
ج۔ مجھے اپنی ذات کے لئے تو غزل پسند ہے۔ میں چتراسنگھ اور جگجیت سنگھ کو سنتی ہوں اور ان کی ہی میں غزلیں گاتی ہوں لیکن میں نے سٹیج پر جو تھوڑا بہت گایا ہے وہ کمپےئرنگ کے دوران گایا ہے اور وہ بھی اس لئے کہ کمپےئر کو تھوڑا بہت گانا آنا چاہیئے۔لیکن میں نے جو گانے گائے وہ سٹیج کی ضرورت کے مطابق تھے۔ سلو نہیں تھے۔ ان میں فاسٹ بیٹ تھی۔ جو لوگ سٹیج دیکھنے آتے ہیں وہ سلو نہیں سننا چاہتے۔
س۔ اچھایہ بتائیے کہ شو بز کے متعدد لوگ پروڈکشن کی طرف آئے۔ آپ کو یہ خیال کیوں نہیں آیا؟
ج۔ بالکل! مجھے یہ خیال آیا بھی اور میں نے اس مقصد کے لئے ایک دو لوگوں کے ساتھ مل کر پروڈکشن ہاؤس بنایا بھی اور ہم نے کافی سارا پیپر ورک مکمل بھی کر لیا لیکن وہ میرے ساتھ جو لوگ شامل تھے نہ وہ مارکیٹنگ کے لوگ تھے نہ مجھے مارکیٹنگ کا کام آتا ہے تو ہم جو کام کریں گے اسے بیچیں گے کیسے اور یہ ہمارے لئے ممکن نہیں تھا کہ ہم اپنی پروڈکشنز لوگوں کے پاس لے کر جائیں اور چینلز پر پھریں کہ آپ لیں گے یا نہیں۔ یہ مجھے اچھا نہیں لگا اس لئے میں نے یہ ارادہ ترک کر دیا۔
س۔ بطور کمپےئر اداکارہ یا گلوکارہ آپ نے کس کس ملک میں پاکستان کی نمائندگی کی؟
ج۔ میں دنیا کے تمام بڑے بڑے ملکوں میں گئی۔ میں نے سیمینار بھی کئے۔ شوز بھی کئے اور مجھے بہت اچھا لگا کیونکہ جب آپ ملک سے باہر جاتے ہو تو وہاں سے بہت کچھ سیکھتے بھی ہو۔ اوور سیز پاکستانیوں کے بارے میں جاننے کا موقع ملتا ہے۔ وہاں کے ملکوں کی تہذیب کے بارے میں علم ہوتا ہے ۔وہاں کی تاریخ دیکھ سکتے ہیں۔ انگلینڈ کے بہت سے شہروں میں شو کئے۔ امریکہ کی بہت سی ریاستوں میں شو کئے۔کینیڈا کی بہت سی ریاستوں میں شو کئے۔ مسقط ،کویت اور یو اے ای وغیر ہ کے علاوہ دیگر کئی ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے۔
س۔ آپ نے فلموں میں بھی کام کیا تو یہ سلور سکرین کا تجربہ کیسا رہا؟
ج۔ جہاں تک فلم کی بات تو میں پاکستانی فلموں میں کام کرنا اپنے لئے قابل عزت بات نہیں سمجھتی ۔جس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری فلم انڈسٹری بہت سال پہلے ہی زوال پذیر ہو چکی ہے اور حکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے مسائل سے دوچار تھی۔فلم کی طر ف جو لوگ آئے وہ پڑھے لکھے نہیں تھے۔ جو ڈائریکٹر اس طرف آئے انہوں نے فلم میکنگ کے کورسز وغیرہ نہیں کئے تھے۔سوائے بلیک اینڈ وائیٹ دور کے کوئی اچھی فلم نہیں بنی اور اب تو فلم انڈسٹری تقریبا ختم ہو چکی ہے لیکن میں نے چند دوستوں کے کہنے پر چند ایک فلموں میں کام کیا۔ وہ بڑے کریکٹررول تھے جیسے کہ وکیل کا رول ہو گیا،ڈاکٹر کا رول ہو گیا، لیکچرر کا رول ہو گیا۔
س۔ اچھا آپ ایک عرصہ تک سکرین سے غائب رہیں حالانکہ ایک وقت تھا جب آپ مسلسل کسی نہ کسی ٹی وی پروگرام میں جلوہ گر ہوتیں؟
ج۔ ویسے تو میں نے ٹی وی پر بہت کام کیا۔ بہت پلیز(Plays)کئے۔ بہت شوز کئے کمپےئرنگ کی لیکن پرائیویٹ چینلز پر میں نے چند ایک پر کام کیا۔زیادہ نہیں کیا تاہم میں نے لائیو کام بہت کیا ہے۔ایک تو سکرین سے دوری کی وجہ یہ تھی کہ میں مختلف ممالک میں سٹیج پروگرامز کر رہی تھی۔ پھر جب یہاں کے حالات بہت خراب ہو گئے تو میں امریکہ سیٹل ہو گئی۔ یہاں ثقافت بہت زوال پذیر تھی۔آرٹ اینڈ کلچر کی پروموشن رک گئی تھی لیکن ایک عرصہ تک وہاں رہنے اور بہت کو شش کے باوجود میں وہاں سیٹل نہیں ہو پائی کیونکہ میں پاکستانی تھی، ذہنی طور پر پاکستان کے قریب تھی اور پاکستان میں ہی رہنا چاہتی تھی سو میں واپس وطن آ گئی اور اب پھر سے یہاں اپنے کام کی پلاننگ کر رہی ہوں۔ مختلف چینلز پہ کام کروں گی اس عرصۃ میں میں نے ایک چینل پہ “نو پالیٹکس”کے نام سے ایک پروگرام کیا جو بہت پا پولر ہوا اور اس آئیڈیا کو دیگر چینلز نے کاپی بھی کیا اب وہ پروگرام بھی دوبارہ شروع کر دیا ہے۔
س۔ آج کل کس چینل پر کام کر رہی ہیں؟
ج۔ جی بالکل! بڑے بھرپور طریقے سے واپس آئی ہوں ۔پی ٹی وی کے لئے میرا ایک Conseptاپرو وہوا تھا۔ اس کا پائلٹ ریکارڈ ہو چکا ہے۔یہ ایک منفرد ٹاک شو ہے جس کے باقی پروگرامزکی ریکارڈنگ بھی چلتی رہے گی۔ دیگر کچھ چینل پر بھی پروگرامز ہو رہے ہیں۔
س۔ ادب ثقافت کے فروغ کے حوالے سے میڈیا جو کردار ادا کر رہا ہے آپ اس سے کس حد تک مطمئن ہیں؟
ج۔ فی الحال تو میڈیا کوئی کردار ادا نہیں کر رہا اور یہ بڑے افسوس کی بات ہے۔ ہمارے ہاں موجودہ دور ادب و ثقافت کے حوالے سے بہت بُرا ہے۔ یہ دور کمرشل ہے۔ لوگ مالی طور پر اُس طرح سے خوشحال نہیں رہے اس لئے لوگوں کی اولین ترجیح یہ ہے کہ پیسہ کمایا جائے تو جب آپ کی پہلی ترجیح پیسہ ہوتی ہے تو پھر آرٹ، ادب اور ایسی دیگر چیزیں پیچھے چلی جاتی ہیں سو ہمارے جتنے بھی چینلز ہیں ان کی پہلی ترجیح یہ ہے کہ ہم کس پروگرام سے کتنے اشتہارات لے سکتے ہیں سو ہمیں ادب ،آرٹ اور تعلیمی پروگرام بہت کم نظر آرہے ہیں میڈیا پر۔ تبھی گلیمر اور فیشن زیادہ نظر آرہا ہے۔
س۔ اداکاری، گلوکاری یا کمپےئرنگ میں کون سا کام مشکل لگا؟
ج۔ ہر وہ کام مشکل ہے جو آپ کو نہیں آتا اور ہر وہ کام آسان ہو تا ہے جو آپ کو آتا ہے سو کمپےئرنگ مجھے آتی وہ مجھے کبھی مشکل نہیں لگی۔ آپ مجھے بغیر کسی نوٹس کے سٹیج پر بلا سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ یہ پروگرام کریں لیکن گلوکاری چونکہ میں نے سیکھی نہیں ہے سو مجھے مشکل لگتی ہے اس لئے مجھے یہی ڈر رہتا ہے کہ میرا کوئی سُر غلط نہ لگ جائے۔
س۔ کوئی ایسا لمحہ جب آپ کسی پروگرام کے دوران نروس ہو ئی ہوں؟
ج۔ میں آج تک کبھی نروس نہیں ہوئی ۔ ایک واقعہ سناتی ہوں کہ مجھے ایک دفعہ نیشنل فلم ایوارڈکی کمپےئرنگ کرنا تھی، وہ چونکہ ایک بڑی تقریب ہوتی ہے اس لئے اس کی کئی دن سے تیاریاں ہو رہی تھیں اور سٹیج بھی کئی دن سے تیار ہو رہا تھا ۔ ہو نا تو یہ تھا کہ ایک دن قبل اس سٹیج پر ہمیں رہرسل کرانا تھی لیکن سٹیج بوجہ لیٹ تیار ہوا تو ہمیں سٹیج دیکھنے کا موقع نہ مل سکا۔تو اگلے دن جب پروگرام سٹارٹ ہوا ہے تو پروگرام کے شروع میں بالکل اندھیرا ہوتا ہے۔ کمپےئر نیم اندھیرے میں سٹیج پر آتا ہے۔ اب سٹیج دو حصوں میں تھا۔ پہلا آدھا اونچا اور اگلا حصہ نیچا۔میں نے ساڑھی اور ہائی ہیل شوز پہنے ہوئے تھے۔میں سٹیج پر حاضرین کی طرف دیکھتے ہوئے بولتی ہوئی چلتی آرہی ہوں۔ میں نیچے نہیں دیکھ رہی تھی۔ اب مجھے اندازہ نہیں تھا کہ سٹیج کا کچھ حصہ ایک قدم نیچے چلا گیا ۔پھر اچانک میرا پاؤں ایک قدم نیچے چلا جا تا ہے۔ میں گری تو نہیں لیکن گرتے گرتے بمشکل سنبھل پائی۔ حاضرین کو بھی سمجھ آگئی۔ سو وہ ہنسے لیکن میں ذرہ بھی نروس نہ ہوئی بلکہ فوراً کہا کہ مجھے اس بات کی خوشی ہوئی کہ ہمارے حاضرین کسی بات پر ہنسنابھی جانتے ہیں۔
س۔ آپ میوزک کونسا سنتی ہیں؟
ج۔ مجھے زیادہ تر لائٹ غزل پسند ہے۔ میلوڈی والے گانے سنتی ہوں اور جگجیت اور چترا کے علاوہ میرے فیورٹ میں لتا اور کشور ہیں ۔ انہیں بہت سنا ہے۔
س۔ اگر آپ شو بز میں نہ آتیں تو آپ کے خیال میں آپ کیا ہوتیں؟
ج۔ اگر میں میڈیا میں نہ آتی تو کامیاب بزنس ویمن ہوتی اور سوشل ورکر ہوتی ۔
س۔ اچھا آپ کی زندگی کا ایک پہلو ادبی بھی ہے یعنی آپ کے اندر ایک خوبصورت شاعرہ بھی موجود ہے تو اس صلاحیت کا کب ادراک ہوا؟
ج۔ یہ بھی قدرت کی عطا ہے۔ میں نے شاعری کو کسی سے سیکھا نہیں ہے نہ ہی مجھے شاعری کی گرائمر آتی ہے لیکن جب میں کوئی شعر پڑھتی تو مجھے اس کے وزن کا خود بخود اندازہ ہو جا تا۔ پھر شعر کہنا شروع کیا تو بھی وزن کا خود اندازہ ہو جا تا ۔ مجھے بچپن سے ہی احساس ہو گیا تھا کہ میرے اندر شاعرہ موجود ہے ۔جب میں پرائمری میں پڑھتی تھی تو میں نے پہلا باقاعدہ شعر کہا تھا جو کچھ یوں تھا۔
اندھیرے جہاں سے مٹاتی رہوں گی
میں قندیل ہوں جگمگاتی رہوں گی
میں نے ادب اور بالخصوص شاعری پڑھی بہت ہے ایک لحاظ سے مطالعہ بھی استاد کا درجہ رکھتا ہے۔
س۔ آپ کی تخلیقات۔۔۔۔۔؟
ج۔ میرے ادبی کام میں”میرے درد کو جو زبان ملے”(شعروں کا انتخاب) ،زمانے کو فسانہ چاہےئے تھا(مجموعہ غزل) اور اب افسانوں کا مجموعہ بھی لانا چاہ رہی ہوں۔ علاوہ ازیں آزاد نظموں کا مجموعہ بھی مکمل ہے جو شائع کرنے کا ارادہ ہے۔
س۔ مطالعے کا شوق کس حد تک ہے اور کس کو پڑھتی ہیں؟
ج۔ مطالعے کا مجھے بچپن سے شوق ہے۔ میں سمجھتی ہوں کتاب سے اچھا کوئی دوست نہیں ہوتا اور مجھے اس بات کا دکھ ہے کہ آجکل نوجوان نسل میں کتاب پڑھنے کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے۔ میں مختلف رائیٹرزکوپڑھتی ہوں۔ میں شاعری اور فکشن پڑھتی ہوں۔ تاریخ نہیں پڑھتی کہ جو وقت گزر گیا اس کے بارے میں کیا سوچنا ۔آنے والے وقت کے بارے میں سوچتی ہوں۔ میرے پسندیدہ شاعروں میں غالب ،فیض اور پروین شاکر ہیں جنہیں میں باربار پڑھتی ہوں علاوہ ازیں بہت سے رائٹرز کو پڑھا ہے ۔افسانے بہت پڑھتی ہوں اور کرشن چندر، خالد ہ حسین اور ممتاز مفتی وغیرہ پسند ہیں۔ سعادت منٹو کو پڑھا تو بہت ہے پر وہ پسند نہیں ہے۔ ان کی محض چند ایک تخلیقات نے متاثر کیا۔
س۔ اچھا مشاعروں میں کس حد تک شریک ہوتی ہیں؟
ج۔ مشاعروں میں بہت کم جاتی ہوں کیونکہ میں نے خو دکو شاعرہ کے طور پر منوانے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی اس کی وجہ یہ تھی کہ میری شناخت کے لئے کمپےئر اوراداکارہ کے حوالے موجود تھے۔ ویسے میرے پاس مشاعروں میں جانے کا وقت ہی نہیں ہوتا۔ اگر آپ ایک مشاعرے میں جائیں اوردوسرے میں نہ جائیں تو دوسروں کی طرف سے شکوے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم کبھی کبھار کسی اہم مشاعرے میں جاتی ہوں اور وہ بھی کمپےئرنگ کرنے کیونکہ یہ تو میرا پروفیشن ہے۔
س۔ ادبی گروہ بندیوں نے ادب کو کس حد تک متاثر کیا ہے؟
ج۔ گروہ بندیوں نے ادب ہی نہیں ہر شعبہ میں ہوتی ہیں اور ہر شعبہ کو متاثر کرتی ہیں۔ ایک ادیب کو صلح جو ہونا چاہیئے ۔صحت مند تنقید میں کوئی مضائقہ نہیں۔
س۔ آپ ادب برائے ادب یا ادب برائے زندگی میں کس کی قائل ہیں؟
ج۔ میں ادب برائے زندگی کی قائل ہوں۔
س۔ کیا یہ سچ ہے کہ مشاعرہ ختم ہو رہا ہے اور قاری کتاب سے دور ہو رہا ہے۔؟
ج۔ ختم تو نہیں ہو رہا۔ ا دبی روائتیں کم ہو گئی ہیں ۔کتاب کا رجحان بھی کم ہوا ہے۔
س۔ کیا یہ سچ ہے کہ کچھ نامور شاعرات کے لیے بڑے شاعر لکھتے ہیں؟
ج۔ مزے کی بات یہ ہے کہ بہت سے مرد بھی لکھواتے ہیں۔میں بہت سے لکھنے اور لکھوانے والے مردوں کو جانتی ہوں۔ سو کچھ شاعرات بھی لکھواتی ہوں گی لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ سب شاعرات لکھواتی ہوں۔
س۔ آپ اپنی شاعری کے لئے موضوعات کہاں سے لیتی ہیں؟
ج۔ ہر حساس تخلیق کار اپنے موضوعات اپنے ارد گرد کے ماحول سے لیتا ہے میں بھی معاشرے میں جو دیکھتی اور محسوس کرتی ہوں خود بخود شعروں میں ڈھل جاتا ہے۔
س۔ کیا ہمارے ہاں عالمی معیار کا ادب تخلیق ہو رہا ہے؟
ج۔ ہر گز نہیں۔
س۔ آپ اپنی کا میابیوں کا کریڈٹ کس کو دیتی ہیں؟
ج۔ ابھی تو جو کچھ میں کرنا چاہتی ہوں وہ کرنہیں پائی کہ اس بارے کچھ بتاؤں۔ بس اس کا کریڈٹ ذات الہی کو جاتا ہے جس نے پیدا کیا اور صلاحیتیں عطا کیں۔
س۔ کوئی ایسی خواہش جو ابھی تک پوری نہ ہوئی ہو؟
ج۔ بے سہارا بچوں کے لئے ایسا ادارہ بنانے کی خواہش جس میں ان کے لئے بہترین تعلیم اور ہر آسائش ہو۔ اس پہ کام کرنے کا مصمم ارادہ ہے۔
س۔ کیسے لوگوں سے ملنا پسند ہے؟۔۔۔۔اور کیسے لوگ نا پسند ہیں؟
ج۔ ایسے سچے اور مخلص لوگوں کو پسند کرتی ہوں جن کی سوچ میری سوچ کے قریب ہو۔
س۔ تقریبات مین جانا کس حد تک پسند ہے؟
ج۔ بہت کم پارٹیز میں جاتی ہوں۔
س۔ غصہ کب آتا ہے؟
ج۔ ناانصافی اور جہالت پر غصہ آتا ہے۔
س۔ آپ خوشی کا اظہار کیسے کرتی ہیں؟
ج۔ (ہنستے ہوئے) سب سے پہلے تو میری بھوک ختم ہو جاتی ہے۔ پھر میں بہت دیر تک میوزک سنتی ہوں۔
س۔ شاپنگ کس حد تک پسند ہے؟
ج۔ بہت پسند ہے پر دوسروں کے لئے (بھرپور قہقہہ)
س۔ سیاست سے کس حد تک دلچسپی ہے؟
ج۔ اپنے ملک کی سیاست پہ نظر تو ہونی چاہیئے پر میں نے سیاست میں خود آنے کا کبھی نہیں سوچا۔کبھی یہاں حقیقی سیاست کے بجائے کاروباری سیاست ہو رہی ہے۔
س۔ اپنی شخصیت میں کیا پسند ہے؟ اور کیا نا پسند کیا ہے؟
ج۔ میں دنیاوی آسائشوں سے کبھی متاثر نہیں ہوئی۔ مجھے اپنے مزاج کے خلاف ہونے والے ہر کام اور ہر بات پر بہت جلد غصہ آجاتا ہے۔ یہ عادت اچھی نہیں کیونکہ ہر ماحول میں گزارہ کرنا چاہیئے۔ بنیادی طور پر تنہائی پسند ہوں۔
س۔ آپ کی زندگی کا کوئی اصول؟
ج۔ میں پیسے کے بجائے عزت کو ترجیح دیتی ہوں۔ محنت کی عظمت پر یقین رکھتی ہوں۔
س۔ آپ کا پسندیدہ رشتہ؟
ج۔ دوستی کا رشتہ کیونکہ یہ رشتہ بے غرض ہو تا ہے۔
س۔ اپنے لئے تعریف پسند ہے تنقید؟
ج۔ تعریف اور تنقید دونوں پسند ہیں لیکن بے مقصد تعریف اور تنقید دونوں نا پسند ہیں۔
س۔ موجودہ مقام تک پہنچنے کے لئے کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
ج۔ مشکلات کو تو ابھی تک Faceکر رہی ہوں۔میں سمجھتی ہوں کہ کسی بھی اونچے مقام تک پہنچنے کے لئے ہر انسان کو مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے۔ راستے میں بہت سی رکاوٹیں آتی ہیں۔ راستے میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔ سو یہ سب میرے ساتھ بھی ہے اور میں مقابلہ کر رہی ہوں ان سب مسائل کا۔
س۔ کیا سالگرہ مناتی ہیں؟
ج۔ نہیں۔عمر کا ایک سال کم ہونے کا دکھ ضرور مناتی ہوں۔
س۔ سٹارز وغیرہ پر کس حد تک یقین ہے؟
ج۔ جی بہت زیادہ۔
س۔ موسم کیسا پسند ہے؟
ج۔ سردیوں کا موسم۔
س۔ لباس کیسا پسند ہے؟
ج۔ ہر وہ لباس جو شخصیت کو گریس فل بنائے ۔ویسے ساڑھی بہت پسند ہے۔
س۔ کھانے میں کیا پسند ہے؟
ج۔ کھانا میں صرف زندہ رہنے کے لئے کھاتی ہوں۔ ویسے جو مل جائے شکر کر کے کھا لیتی ہوں
س۔ کوکنگ وغیرہ کا شوق کس حد تک ہے؟
ج۔ زیادہ شوق نہیں ہے پر قدرتی طور پر میرے ہاتھ میں ذائقہ ہے۔ اچھا کھانا بنا لیتی ہوں ۔لیکن میں سمجھتی ہوں کہ قدرت نے مجھے کچن کے کاموں کے لیے پیدا نہیں کیا۔
س۔ تنہائی کے لمحات کیسے گزارتی ہیں؟
ج۔ میں تنہائی پسند ہوں ۔ تنہائی کا شکار نہیں ہوں۔ تنہائی میسر ہو تو اچھا میوزک،اچھی کتاب،اچھی مووی یاکچھ لکھنا پسند کرتی ہوں یا آنکھیں بند کر کے سوچنا پسند کرتی ہوں۔
س۔ فیورٹ کلر؟
ج۔ سفیدیا کالا رنگ کے علاوہ دیگر کئی اچھے شیڈز پسند ہیں۔
س۔ خوشبو کونسی پسند ہے؟
ج۔ وقت کے ساتھ ساتھ پسند بدلتی چلی جاتی ہے۔ آج کل Guessاستعمال کر رہی ہوں۔
س۔ پسندیدہ پھول؟
ج۔ پھول سارے پسند ہیں لیکن پھول توڑنا ہر گز پسند نہیں۔
س۔ ملک کونسا پسند ہے؟(آپ ساری دنیا گھومی ہیں)
ج۔ محبت کے تناظر میں دیکھا جائے تو اپنا وطن بہت پیارا لگتا ہے۔علاوہ ازیں مختلف ممالک کے خوبصورت شہر اچھے لگے۔
س۔ جیولری میں کیا پسند ہے؟
ج۔ ڈائمنڈ اور گولڈ بالکل پسند نہیں۔ضرورتاً آرٹیفیشل جیولری پہن لیتی ہوں لیکن گھر میں کبھی جیولری نہیں پہنی۔
س۔ کبھی جیلسی محسوس کی؟
ج۔ جیلسی تونہیں لیکن اچھے کام کرنے والوں پر رشک آتا ہے۔ جیسے عبدالستار ایدھی اور انصار برنی وغیرہ۔
س۔ تعلیم کہاں تک اور کہاں سے حاصل کی؟سٹوڈنٹ لائف میں کن سر گرمیوں میں حصہ لیا؟
ج۔ آبائی شہر بھکر سے میٹرک کیا اور باقی ایم اے اردو تک لاہور کے مختلف اداروں سے تعلیم حاصل کی دوران تعلیم تقریری مقابلوں میں اور ڈراموں میں حصہ لیتی رہی ہوں اور پڑھائی میں بھی بہت اچھی تھی اس لئے ہمیشہ ٹاپ کیا۔
س۔ شو بز میں نئی آنے والی لڑکیوں کے نام آپکا پیغام؟
ج۔ اگر ان میں صلاحیت ہے تو ضرور آئیں ۔ پھر سخت محنت کریں تو ضرور منزل کو پا لیں گی۔
س۔ قندیل صاحبہ! آپکا بیحد شکریہ کہ آپ نے اتنا وقت دیااور خوبصورت خیالات سے نوازا۔
ج۔ میں”اردو سخن ڈاٹ کام”کی شکرگزار ہوں کہ اس کی ٹیم نے اپنی بین الاقوامی ویب سائیٹ کے لئے میرا انٹرویو کیا میں”اردو سخن ڈاٹ کام”کی مزید ترقی کے لیے دعا گو ہوں

Viewers: 4257
Share