Hafiz Muzafar Mohsin | Column | اِن سب شہیدوں کے لیے نشان حیدر

حافظ مظفر محسن 101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور 0300-9449527 اِن سب شہیدوں کے لیے نشان حیدر کچھ دنوں سے ہماری قوم سمیت ہمارے صدر مملکت مخمصے کا شکار تھی جب […]

حافظ مظفر محسن
101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور
0300-9449527

اِن سب شہیدوں کے لیے نشان حیدر

کچھ دنوں سے ہماری قوم سمیت ہمارے صدر مملکت مخمصے کا شکار تھی جب ہمارے فوجی جوانوں/افسروں کو نہتے اچانک حملہ کر کے شہید کر دیا گیا۔
جب کوئی بھی فوجی اپنے جسم پر اپنی رضا سے وردی سجاتا ہے اور ایک حلف اٹھاتا ہے کہ اپنی دھرتی کی خاطر جب بھی ضرورت پڑی جان دے دوں گا۔ تو اُن کی اِس ادا پر یقیناًدنیا بھر کے بہادر انسانوں کی روحیں خوشی سے جھُوم اٹھتی ہوں گی۔ کہ دنیا کی سب سے بڑی سچائی یہ ہے کہ ’’ ہر شخص زندہ رہنا چاہتا ہے‘‘۔ اور ہر شخص کی خواہش ہے کہ موت اُس سے دور رہے وہ طویل ترین عرصہ تک زندہ رہے۔ کسی کو اُس کی موت کی اطلاع دے دی جائے تو وہ موت سے پہلے ہی مر جاتا ہے ۔ اُس کی ہمت جواب دے جاتی ہے اور ارادے ختم ہو جاتے ہیں۔
جو بہار آتی ہے تو پابند خزاں ہوتی ہے
زندگی موت کے سائے میں جواں ہوتی ہے
پاکستان کی مسلح افواج سے وابستہ ہر شخص کے دل میں شہادت کا جذبہ دنیا بھر میں اس لیے مثالی سمجھا جاتا ہے۔ کہ وہ اپنے وطن اور مذہب دونوں کے لیے شہید ہونے کو تیار رہنے کا عہد کرتا ہے۔ جو معمولی بات نہیں ۔ ایسے غیور جوان کہیں اور دنیا بھر میں موجود نہیں۔
پاکستان کی مسلح افواج سے وابستہ جوان اِس لیے بھی خوش قسمت ہیں کہ ’’ ماں ‘‘ ۔ جِسے ہر حال میں اپنے بچے کی زندگی عزیز ہوتی ہے۔ اور وہ چاہتی ہے کہ میری جان لے لی جائے میرے بچے کی جان کے عوض۔ لیکن ہمارے ہاں۔ ’’ ماں‘‘ بیٹے کی شہید ہونے پر آنسو نہیں بہاتی ۔ ’’ رب پاک کا شکر ادا کرتی ہے کہ اُس نے بیٹے کو شہادت کے درجے سے سرفراز فرمایا۔ یہ دراصل اسلامی تعلیمات کی روشنی ہے۔ جس سے ہمارے دل منور ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زندگی کا عکس اور نمونہ۔
ہم نے ٹیلی ویژن پروگراموں میں دیکھا ہے کہ جہاں شہیدوں کی مائیں بیٹھی ہیں۔ ایک تو اُن کے چہروں پر بلا کا اطمینان ہوتا ہے دوسرا وہ بالکل بھی بیٹے کے ذکر پر آنسو نہیں بہاتیں۔ ہاں باپ اکثر رو دیتے ہیں۔ آنسوؤں پر کنٹرول نہیں کر پاتے۔
دنیا کاسب سے مضبوط اور بے لوث رشتہ ’’ ماں اور بچے ‘‘ کا ہے۔ میرا اور پوری پاکستانی قوم کا ہمارے پیارے شہیدوں کی ماؤں کو سلام پہنچے۔
جوان کی جرات اور عظمت کا امتحان اُس وقت ہوتا ہے جب وہ میدانِ جنگ میں اترتا ہے۔ اُس وقت جب میدان جنگ میں دُو بدو لڑائی ہو رہی ہوتی ہے۔ اور مقابلہ زندگی موت کی پرواہ کئے بغیر جاری رہتا ہے۔ شہید ہونے والا فخر سے سر کٹواتا ہے۔ جھکانا کبھی بھی پسند نہیں کرتا۔ یہ مردانہ وار شہادت اپنی مثال آپ ہوتی ہے۔ کئی بار میدان جنگ میں وہ وقت بھی آتا ہے۔ جب تھوڑی سی ہوشیاری اور چالاکی سے انسان اپنی جان بچا بھی سکتا ہے۔ لیکن تاریخ پاکستان میں میجر راجہ عزیز بھٹی سے لے کر لالک جان شہید تک سب نے سینے پر گولی کھائی اور مسکراتے ہوئے شہادت کو گلے لگا لیا۔ سوار محمد حسین شہید نشانِ حیدر کی لاش جس طرح جنگ روک کر سفید ملبوس میں احترام کے ساتھ پیش کی گئی۔ اُس پر میں کئی بار ۔ بلکہ ہر بار جب بھی ذکر آتا ہے۔ آنسو بہاتا ہوں کہ یہ میرا اپنا طریقہ ہے۔ شہید کو خراج عقیدت پیش کرنے کا۔
آج پاکستان آرمی کے چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کاآرڈر پڑھا۔ تو سر فخر سے بلند ہو گیا۔ جنرل نے فرمایا۔ کہ ’’ میرا یہ آرڈر ہر یونٹ کے نوٹس بورڈ پر آویزاں کر دو۔ ’’ میں یہ حکم پڑھ پڑھ کر محسوس کر رہا ہوں کہ شہادت حسین نے ہمیں جو سبق دیا۔ شکر الحمداللہ ہمارے جنرل نے وہ سبق نہ صرف پڑھا بلکہ خود کو اُس کے مطابق ڈھال بھی لیا ہے۔
حکم ہے کہ ’’ اگر بیرونی جارحیت ہو تو مقامی قیادت خود ہی کارروائی کا حکم جاری کرے‘‘۔
پاکستان کی مسلح افواج کی تاریخ میں ایسے آرڈر کی پہلے کہیں مثال موجود نہیں۔ شاید ہماری پچھلی قیادت امریکہ یا کسی اور سپر پاور سے خوفزدہ تھی۔ ایسا حکم صرف اور صرف ایک جرات مند ’’ سپاہی‘‘ ہی جاری کر سکتا ہے۔
عوامی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ رہی ہے۔ آج میں آج ہر پاکستانی کو مسرور دیکھ رہا ہوں۔ دراصل یہ پوری دنیا کے لیے ہمارے ’’ جنرل ‘‘ کا ایک پیغام ہے اور اس پیغام میں ’’ جنرل‘‘ نے کیا سمجھایا ہے۔ یہ ہر ذی عقل جانتا ہے۔ سمیت اوباما کے۔
میری صدر پاکستان اور جنرل اشفاق پرویز کیانی سے دل کی اتھا ہ گہرائیوں سے گزارش ہے کہ اُس کارروائی میں جس کی بنیاد پر ہمارے فوجی سربراہ کو یہ قدم اٹھانا پڑا اور ہمارے چوبیس جوان نہتے۔ شہید کر دیئے گئے۔ اُن تمام کے تمام چوبیس پاک فوج کے شہیدوں کو نشانِ حیدر ( جو کہ اعلیٰ ترین فوجی اعزاز ہے ۔ وہ صرف اور صرف شہادت کا رتبہ پانے والے جوان کو دیا جاتا ہے۔) سے نوازا جائے ۔ کہ دنیا والوں کی آنکھیں کھل جائیں کہ پاکستان کے عوام اپنی مسلح افواج سے کس قدر محبت کرتے ہیں اور ہماری قیادت بھی کس قدر حوصلہ مند ہے۔ اور اُس کو بھی نیٹو حملے میں شہید ہونے والے اِن نہتے شہیدوں کی شہادت پر کس قدر افسوس ہے۔
شہادت امام حسین پر میرے تازہ اشعار پیش خدمت ہیں۔
شامِ الم ہے۔ روح پہ پہرہ۔ زخم بھی گہرا
موت یہ قادر۔ تپتا سورج ۔ بے بس صحرا
بے سُدھ سوئی زخمی روحیں۔ تڑپتے لاشے
انسانوں کا ایک سمندر ۔ گونگا بہرہ
حسین کے قاتل کالے چہروں والے وحشی
چہرہ اے شبیری جیسے پھُول سنہرا

Viewers: 9037
Share