Ali Shah | Interview | گلاب موسموں کا شاعر، ادیب اور صحافی علی شاہ

شاہد ہ لطیف ایڈیٹر: ماہنامہ اوورسیز انٹرنیشنل اسلام آباد پاکستان گلاب موسموں کا شاعر، ادیب اور صحافی علی شاہ علی شاہ ایک ایسا خوش نصیب شاعر وادیب ہے جس پر […]

شاہد ہ لطیف
ایڈیٹر: ماہنامہ اوورسیز انٹرنیشنل اسلام آباد
پاکستان

گلاب موسموں کا شاعر، ادیب اور صحافی علی شاہ

علی شاہ ایک ایسا خوش نصیب شاعر وادیب ہے جس پر محض چند سالوں میں شہرت کی بارش برسنے لگی۔ وہ تقدیر کے لکھے کے بجائے سخت محنت سے تقدیر بدلنے کا قائل ہے۔ شکیب جلالی نے کہا تھا کہ”بھکر تھل کا لکھنوء ہے”اور علی شاہ نے تھل کے لکھنو بھکر کے مضافاتی شہر منکیرہ میںآنکھ کھولی، وہیں پلا بڑھا۔وہیں تعلیم حاصل کی اور اپنے علاقہ صحرائے تھل کے ریگزاروں میں ادب کے دیپ روشن کئے۔ وہ اپنی کامیابیوں کو ماں کی دعاؤں اور شبانہ روز محنت کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ اس نے اپنے تخلیقی سفر کا آغاز تو بچوں کی کہانیوں سے کیا لیکن بعد ازاں اس نے ادب کی تقریباً تمام جہتوں پہ بھرپور اور کامیاب طبع آزمائی کی۔ اس کی تخلیقی پختگی اس کے گہرے مطالعے کا پتا دیتی ہے۔ وہ خدا داد تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ جذبہ جنوں جیسی منفرد کیفیات سے بھی مالا مال ہے۔ اس کی شاعری اور نثر پارے تخلیقی حسن سے مزین ہوتے ہیں ۔اس نے شاعری بہت بعد میں شروع کی لیکن اپنے شعروں میں گہری معنویت اور مقصدیت کی بدولت وہ پاکستان کے ادبی افق پر اپنے منفرد اور گلرنگ لہجے کے ساتھ بھر پور طریقے سے ابھرا اور ملک بھر کے ادبی حلقوں میں انتہائی سلیقے سے اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوا ۔علی شاہ نے اپنے شعری سفر کا آغاز تو دیگر نوجوانوں کی طرح رومانوی جذبوں کے اظہار سے کیا لیکن بعد میں اس کی شاعری میں مزاحمتی رنگ شامل ہوتے گئے۔ تاہم محبت کی خوشبوؤں میں بسی اس کی رومانوی نظمیں نوجوان نسل میں اس کی مقبولیت کا باعث ہیں ۔ اس نے سرائیکی ادب کی مقبول ترین صنف گیت اور دوہڑے پر بھی طبع آزمائی کی اور اس کے گیت اور دوہڑوں پر کئی سرائیکی فوک سنگرز نے اپنی سی ڈیز ،کیسٹ ،ریڈیو،ٹی وی اور سٹیج پروگراموں میں آواز کا جادو جگایا۔صحافت کے پلیٹ فارم سے بھی اس نے قومی و علاقائی اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ذریعے اپنے علاقہ کے مسائل اُجاگر کئے اور اپنے علاقہ کی کہنہ مشق شخصیات کو متعارف کرایا۔ بطور محقق اس نے اپنے علاقہ کے ادب پر تحقیق کی اور اس تحقیق پر اسے ایوارڈز بھی دیے گئے۔گزشتہ دنوں علی شاہ اسلام آباد آیا تو “اوورسیز انٹرنیشنل “کے دفتر میں اس کے ساتھ ایک بھر پور تفصیلی نشست ہوئی جو نذر قارئین ہے۔
س علی شاہ! اپنے بارے میں کچھ بتائیں؟ تعلیم کہاں تک حاصل کی؟زندگی کہاں کہاں اور کس طرح بسر کی؟سٹوڈنٹ لائف میں کیا سرگرمیاں رہیں؟

ج (مسکراتے ہوئے)جی یہ تو بیک وقت کئی سوال ہیں۔ چلو جو بھی ہیں بتاتا ہوں ۔جہاں تک کوالیفیکیشن کا تعلق ہے تو میں اردو،تاریخ اور ایجوکیشن میں ایم اے کیا ہے ۔سٹوڈنٹ لائف میں سپورٹس سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔بچپن سے عہد شباب تک کرکٹ بہت زیادہ کھیلی۔ ادبی مقابلوں میں بھی کسی حد تک حصہ لیا۔ خانیوالکے قصبہ کچہ کھوہ کے نواحی گاؤں چک نمبر38/10Rمیں خمار آلودبچپن گزرا۔ بے حد سر سبز علاقہ تھا لہلہاتے کھیت ،جامن، شہتوت، مالٹے اور آموں کے باغات، گاؤں کے اطراف دھان، سورج مکھی اورسفید اور گلابی پھولوں سے لدے کپاس کے کھیت ،گاؤں سے ایک فرلانگ کے فاصلے پر نیلی بار کی ایک ٹھنڈے اور مٹیالے پانی کی نہر جس میں گرمیوں کی دوپہروں کو رنگ برنگے نیکروں میں بچوں کے جھرمٹ یا پھر گاؤں کے وسط میں موجود کنویں پر پیپل کے بڑے درختوں کے سائے میں لڈو، قطار گوٹی اور اسی طرح کے کھیل ۔بچپن میں گاؤں کا ماحول بہت خوبصورت اور رومانوی تھا۔ پھر کچھ عرصہ دریا خان(بھکر) کے قصبہ کہاوڑ کلاں کے علاقہ چک نمبر23/TDAمیں گزرا۔یہاں بھی کچھ ملتا جلتا ماحول تھا۔ 1985ء سے صحرائے تھل کے عین وسط میں ضلع بھکر کے شہر منکیرہ میں آباد ہیں۔ شہر کے ارد گرد تاحد نظر ریت کے بھورے ٹیلے پھیلے ہیں جو بارانی چنے کے موسم میں مارگلہ کے پہاڑوں کا منظر پیش کرتے ہیں۔ آبائی تعلق ایک زمیندار گھرانے سے ہے اور میانوالی کے قصبہ ڈھیر امید علی شاہ آبائی وطن ہے۔ وراثت میں زرعی زمینوں کے علاوہ کلاشنکوف کلچر ملا۔ قبیلے کی اکثریت لوگ قبائلی طرز زندگی گزارتے ہیں ۔ سخت روایت پسند، کلاشنکوف کلچر اور نسل در نسل خاندانی دشمنوں کی خونی روایت پر چلنا جہاں مردانگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ میں نے ان روایات سے یکسر بغاوت کرتے ہوئے علم کی روشنی میں کلاشنکوف کی جگہ قلم کو اپنا ہتھیار بنایا۔
س ادبی حوالے سے گھر کا ماحول کیسا ہے؟ اور آپ کے شہر میں ادب کی کیا صورتحال ہے؟
ج گھر تو کجا میرے کثیر الآبادی قبیلے میں دور دور تک کوئی ادیب نہیں ہے۔میں اپنے قبیلے کا تاحال واحد ادیب ہوں جہاں تک میرے شہر کا تعلق ہے تو ادب کے حوالے سے میرے شہر کی فضا بھی حوصلہ افزا نہیں ہے ۔ نوجوانوں میں ادبی تحریک نہیں ہے۔ تاحال کوئی ایسا ادیب سامنے نہیں آیا جو شہر کا تعارف بن سکے۔ مقامی شاعروں کی شاعری محض قافیہ، ردیف تک محدود ہے۔ کوئی توانا آواز ادبی منظرنامے پہ نہیں ابھر سکی اور یہ گھمبیر صورتحال کتاب سے دوری کی وجہ سے ہے۔
س کہا جا رہا ہے کہ مشاعرے کی روایت دم توڑ رہی ہے نیز قاری کا کتاب سے رشتہ ٹوٹ چکا ہے؟
ج میں ان دونوں باتوں سے اتفاق نہیں کرتا ۔اگر قاری کا کتاب سے رشتہ ٹوٹ چکا ہے تو ہر شہر سے اتنی تعداد میں کتابیں کیوں شائع ہو رہی ہیں اور مشاعرے کی روایت بھی بر قرار ہے بالخصوص سرائیکی وسیب میں مشاعرے کی انتہائی توانا اور شاندار روایت چل رہی ہے۔ میرا علاقہ منکیرہ پنجاب کی سب سے پسماندہ تحصیل ہے لیکن یہاں کے ایک گاؤں گوہر والامیں گزشتہ تےئس سال سے پاکستان کا سب سے بڑا سرائیکی مشاعرہ منعقد ہورہا ہے جس کے سامعین کی تعداد پچیس ہزار سے زائدہوتی ہے اور یہ روایت مزید توانا ہوتی جا رہی ہیں۔ دراصل ایسی مایوس کن باتیں وہ نام نہاد دانشور پھیلا تے ہیں جن کی کتابیں نہیں بکتی ہیں اور نہ ہی انہیں کوئی مشاعرے میں بلاتا ہے۔
س کیاموجودہ ادب قاری کی ضرورت پوری کر رہا ہے؟
ج دانشور طبقہ ہمیشہ فکشن کو اہمیت دیتا رہا ہے۔ دنیا کی ہر زبان میں فکشن نگاری بہت ہوتی ہے۔ جب ہمارے ادب میں جدیدیت کی تحریک چلی تو فکشن کے ساتھ آزاد نظم کو پذیرائی ملی پھر اچانک ہر طر ف دھڑہ دھڑ شاعری کی کتابیں نظر آنے لگی۔ لوگ پیسے دے کر مجموعے لکھوانے اور چھپوانے لگے۔ شعری ادب منڈیوں تک پہنچ گیا لیکن یہ آلودگی زیادہ دیر اثر قائم نہ رکھ سکی اور اب ایک دفعہ پھر قاری فکشن کی طرف متوجہ ہو رہا ہے۔ تاہم کلاسیکی اور جدید غزل ہر دور میں اپنی جگہ پر قائم رہی ہے لیکن اقبال ،فیض ،ن م راشد،مجید امجد بعد میں پروین شاکر ،منیر نیازی، فرازاور دیگر کچھ لوگوں نے نظم کو دوام بخشا ہے۔عام نوجوان قارئین میں ایڈونچر کو ہمیشہ خاصی اہمیت رہی ہے اور اردو ادب میں اس تحریک کے بانی ابنِ صفی مرحوم تھے ۔ بعد میں ابن صفی کو کاپی تو بہت کیا گیا لیکن ان جیسا معیار کوئی نہ دے سکا۔ اب قارئین وہ ضرورت ڈائجسٹ کے ادب سے پوری کر رہے ہیں۔
س کچھ خواتین پر الزام ہے کہ ان کے پیچھے مرد ہوتے ہیں؟
ج یہ الزام تو درست ہے لیکن صرف خواتین پر ہی کیوں ؟ میں ایسے بہت سے مردوں کو جانتا ہوں جو نہ صرف لکھواتے ہیں بلکہ کئی کئی کتابیں ان کے کریڈٹ پہ ہیں۔ اس گورکھ دھندے میں سب سے بڑا مجرم وہ دانشور طبقہ ہے جو لکھ کر دیتا ہے۔ یہ طبقہ ظاہری طور پر تو جاگیرداروں، بیورو کریٹوں اور جبر و ظلم کے خلاف نظمیں کہتے ہیں لیکن دوسری طرف محض چند ہزار روپوں کے بدلے اپنا ضمیر بیچتے ہیں ۔ اپنی تخلیقات بیچتے ہیں، تخلیق تو اولاد کی طرح ہوتی ہے اور اولاد میں بیٹی بھی شامل ہوتی ہے ۔ دوسرا طبقہ پبلشرز پر مشتمل ہے جو پیسے کے لیے معیار ارو تخلیق کار دیکھے بغیر ادب کا بانو بازار سجائے بیٹھے ہیں۔ ادب کے ان غداروں میں سب سے ظالم وہ دانشور طبقہ ہے جو چمک پر ست ہے۔ ملک سے باہر مقیم نام نہاد دانشوروں کو کتابیں لکھ کر دیتے ہیں ۔پھر پاکستان میں انہی کے خرچے پر پذیرائی کی تقریبات کراتے ہیں۔ انہی کے پیسوں سے ان کے ساتھ شامیں منعقد کراتے ہیں اور بدلے میں ان چمک پرست میزبانوں کو غیر ملکی دورے ملتے ہیں۔اور بھی بہت کچھ ملتا ہے۔پاکستان میں اوربالخصوص مضافات میں کتنے ہی سینئر اور حقیقی ادیب ہیں جن کی خبر تک کوئی نہیں لیتا ۔ وہ زندگی بھر توانا ادب تخلیق کرتے ہیں۔ نو جوانوں کی ا دبی تربیت کرتے ہیں ار ان میں سے اکثر وسائل نہ ہونے کی وجہ سے بغیر اپنی کوئی کتاب شائع کئے گمنامی کی زندگی گزار کر مر جاتے ہیں ۔ ایسے کہنہ مشق حقیقی تخلیق کار کسی کو نظر نہیں آتے۔ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ادب کو سب سے زیادہ نقصان ادیبوں نے پہنچایا ہے۔
س اس سلسلہ مین ادبی ادارے کیا کردار ادا کررہے ہیں؟
ج سرکاری ادبی اداروں کے سر براہان ادب کی نہیں بلکہ اپنے اپنے گروپوں اور اپنے اپنے درباریوں کی ترقی و خوشحالی میں سرکاری فنڈز بے دردی سے خرچ کر رہے ہیں۔ایک سرکاری ادبی ادارے کا جو بھی سربراہ آتا ہے مذکورہ ادارے کے زیر اہتمام سب سے پہلے اسی کی شان میں سرکاری فنڈ سے کتاب لکھی جاتی ہے۔ پھر وہ اپنے درباری ادیبوں سے کتابیں لکھواتا رہتا ہے اور سرکاری فنڈز ان پر نچھاور کرتا رہتا ہے۔ ایک اور دوسرے ادارے کا سربراہ اپنے پیاروں کی کتابوں کی رونمائیاں اور پسندیدہ لوگوں کے اعزاز میں شامیں منعقد کر کے اپنے حصے کی کرپشن کر رہا ہے۔یہ تو اسلام آباد کی کہانی ہے لاہور میں اس سے بھی بڑھ کر ہو رہا ہے۔ پیپلز پارٹٰ کی حکومت نے اسلام آباد میں ادبی ادارے جن لوگوں کے حوالے کئے وہ یہ کچھ کر رہیں جبکہ مسلم لیگی قیادت نے صوبائی ادبی و ثقافتی اداروں پر ویسے ہی ادیبوں کے بجائے درباری کالم نگار بٹھا دیے ہیں انہوں نے بھی ادب و ثقافت کو پامال کرنے کے حوالے سے اپنے حصے کاکام خوب کیا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو سرکاری سطح پر ماضی میں سب سے زیادہ پرموشن و حوصلہ افزائی ادب کو بھٹو دور میں ملی لیکن ضیاء دور سے شروع ہونے والا کرپشن کا سلسلہ اب تک جاری ہے ۔
س اب کچھ عرصہ سے ادب میں بھی پنجابی ،سرائیکی کی تفریق کا سلسلہ چل پڑا ہے ۔آپ نے سرائیکی ادب پر بھی کام کیا ہے۔ اس تعصب کے پیچھے کیا عوامل کار فرما ہیں؟
ج (تلخ لہجے میں) دیکھیں جی! پورے صوبہ کے فنڈز اور دیگر مراعات محض اپر پنجاب کے چند اضلاع کے لیے مختص کر دیے جاتے ہیں۔ سات کروڑ سرائیکیوں کو ہر شعبہ ہائے زندگی میں مکمل طور پر نظر انداز کیا جا تا ہے اور یہ تعصب شعبہ ادب میں بھی ہے۔ پنجاب کے ادبی اداروں پہ صرف اپر پنجاب کے لوگوں کو تعینات کیا جاتا ہے ۔ پی ٹی وی لاہور کی نشریات میں بھی سرائیکی کا حصہ دیکھ لیں اگر سرائیکی ادیبوں کو نظر انداز نہیں کیا جاتا تو ادیبوں کے جو وفد سرکاری سطح پر غیرملکی دوروں پر جاتے ہیں تو ان میں کتنے سرائیکی ہوتے ہیں؟ سارے کے سارے اپر پنجاب کے لوگ ہوتے ہیں لیکن سرائیکیوں نے اپر پنجاب کو کبھی تعصب کا نشانہ نہیں بنایا جس کا ثبوت یہ ہے کہ یہاں شہباز شریف کو وزارت اعلیٰ کی مسند تک پہنچانے کے لیے سرائیکیوں نے بھکر سے بلا مقابلہ ایم پی اے بنایا۔ لیکن اب کثیر الآبادی سرائیکی مزید محرومیوں اور زیادتیاں برداشت کرنے سے قاصر ہیں اور مزید تخت لاہور کے قیدی نہیں رہ سکتے ۔ یہ بے اعتدالیاں دراصل سرائیکی صوبے کی تحریک کا باعث بنیں۔ الگ سرائیکی صوبے کی تحریک چلانے اور اسے کامیاب بنانے میں سرائیکی دانشوروں کا کلیدی کردار ہے۔
س آپ نے شاعری بہت دیر سے شروع کی ،شاعر بننے کا خیال کیسے آیا؟
ج دیکھیں جی! شاعر تو یا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ کسی کو شاعر یا دانشور بنا یا نہیں جاسکتا۔ ایک خاص وقت ہوتا ہے جب احساس ہوتا ہے کہ کچھ ہے جو نہ ہونے سے ہونے کی طرف مائل ہے سو میرے ساتھ بھی یہی ہوا ۔ادب کا مطالعہ کرتے کرتے لفظ مصروعوں کی بنت میں جڑنے لگے۔ ردھم بنتا گیا۔ رومانوی جذبوں کو زبان ملنے لگی۔ جب رومانوی شاعری کتابوں اور ادبی پرچوں کے ذریعے منظر عام پر آئی تو بے حد پذیرائی ملنے لگی بعد ازاں جب اپنی پسماندہ دھرتی کے مسائل اجا گر کئے تو مزاحمتی شاعری کا سلسلہ شروع ہو گیا اور مشاعروں میں جب مزاحمتی اشعار پڑھے تو پسند کئے گئے۔
س آپ اپنی تخلیقات کے لیے موضوعات کہاں سے لیتے ہیں؟
ج میں اپنی شاعری اور نثر پاروں کے لیے موضوعات اپنے ارد گرد کے ماحول سے کشیدکرتا ہوں۔ ہر تخلیق کار پر اس کا ماحول خاصہ اثر انداز ہو تا ہے۔ سو یہ سب کچھ میرے ساتھ بھی ہے۔
س ادب کے حوالے سے میڈیا کیا کردار نبھا رہا ہے؟
ج الیکٹرانک میڈیا تو آزادی کے نام پر کسی حد تک بے راہ روی کا شکار ہے ما سوائے ایک آدھ چینل کے۔ سو ان کے پاس سنسنی پھیلانے ،افراتفری پھیلانے کے علاوہ کام بھی کیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک پرنٹ میڈیا کے ذریعے ادب پرموٹ ہوتا رہا ہے لیکن اب وہ بھی نہ ہونے کے باربر ہے اس ناگفتہ بہ صورتحال میں مجھ سمیت کوئی بھی دانشور کیسے مطمئن ہو سکتا ہے۔
س آپ کی تصانیف؟
ج اردو، سرائیکی شاعری،نثر اور تحقیق پر اب تک میری دس تصانیف منصۂ شہود پر آچکی ہیں اور چند ایک زیر طبع ہیں جبکہ میری شاعری، تنقیدی مضامین، اور دیگر تخلیقات پاکستان اور پاکستان کے باہر کے ادبی جریدوں اور اخبارات میں شائع ہو تی رہتی ہیں علاوہ ازیں انٹرنیٹ پر بھی میر ی تخلیقات موجود ہیں۔
س اتناکام کرنے پر کوئی ایوارڈوغیرہ ملا ہو تو۔۔۔؟
ج دیکھیں جی! میرا کام تو ابھی اس قابل کہاں کہ کسی بڑے ایوارڈ کا مستحق ٹھہرایا جاؤں لیکن سرکاری ایوارڈز تو عام طور پر ریوڑیوں کی بندد بانٹ ہوتی ہے جو بند ر آپس میں بانٹ لیتے ہیں۔ سرکاری ایوارڈز ان لوگوں کو بھی دیے جاتے رہے ہیں جو خود جیولری میں شامل ہوتے تھے۔تاہم مختلف ادبی تنظیموں کی جانب سے ایوارڈز، شیلڈز اور اسناد ملی ہیں مگر ان سے بڑا ایوارڈ قارئین ادب کی طرف سے ملنے والی محبت اور پذیرائی ہے۔
س آپ ادبی گروہ بندیوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
ج اگر یہ گروہ بندیاں مثبت ہوں تو فائدہ ہے۔ مسابقت کی فضا رہتی ہے۔ ادبی تحریک رہتی ہے لیکن عام طور پر قومی سطح پر اس کا ادب کونقصان ہی ہوا ہے۔ ان گروہ بندیوں کی بدولت دو نمبر لوگ چھائے ہوئے ہیں اور کئی حقیقی ادیب پسِ منظر چلے گئے ہیں؟
س آپ واقعاتی ادب اور موضوعاتی ادب میں کس کو ترجیح دیتے ہیں؟
ج جی! واقعاتی اور موضوعاتی ادب کو علیحدہ خانوں میں نہیں رکھاجا سکتا۔ واقعات سے موضوعات جنم لیتے ہیں اور بعض دفعہ موضوعات واقعات بن جاتے ہیں۔ تاہم واقعاتی ادب زیادہ تر زندہ رہنے والا نہیں ہوتا جیسے مسئلہ کشمیر پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے اور جب مسئلہ کشمیر کل کلاں کو حل ہو گیا تو یہ ادب پسِ منظر چلا جائے گا ۔لیکن بعض واقعات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں جیسے واقعہ کربلا۔ اس لئے واقعاتی شاعری کی بھی اپنی اہمیت ہے۔
س آپ ادبی روایات میں تجربے کو کس حد تک اہمیت دیتے ہیں؟
ج تجربات ضرور ہونے چاہئیں۔ تجربات سے نئی نئی جہتیں سامنے آتی ہیں لیکن آزاد غزل یا نثری نظم جیسے بھونڈے تجربات کو میں ادب کی توہین سمجھتا ہوں۔
س آپ کے نزدیک عصرِ حاضر کا بڑا شاعر کون ہے؟
ج میرو غالب اور اقبال کے بعد فیض کو بڑا شاعر مانتا ہوں اور فیض کے بعد دور دور تک اس پائے کا شاعرنظر نہیں آتا۔
س آپ صحافی بھی ہیں۔ کہاں لکھتے ہیں اور کن موضوعات پر قلم اُٹھاتے ہیں؟
ج سالہا سال سے صحافت سے منسلک ہوں ۔ اپنے علاقائی اخبارات کے علاوہ قومی اخبارات کے لیے بھی کالم لکھتا ہوں۔ دھرتی کی پسماندگی کے علاوہ جو کچھ میں نے انٹرویو میں کہا ہے کہ کرپشن اور ان دھونس دھاندلیوں سے کالموں کے ذریعے پر دہ اٹھا تا رہتا ہوں۔ علاوہ ازیں انٹرویورائٹر کے طور پر ملک کے ان گنت سینئر و جونےئر ادیبوں، سماجی و سیاسی شخصیات کے انٹرویوز قومی و بین الاقوامی رسائل و جرائد اور اخبارات میں تحریر کر چکا ہوں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔
س نو آموز لکھاریوں کے نام آپ کا پیغام؟
ج اہل علم لوگوں کی مجالس میں بیٹھیں ،کتاب سے دوستی کرلیں اور شہرت و پذیرائی کی خاطر شارٹ کٹ کے بجائے محنت کی عظمت کو شعار بنائیں۔
س علی شاہ ! آپ کا بے حد شکریہ کہ آپ نے اپنے قیمتی خیالات سے نوازہ ۔

Viewers: 5363
Share