M. Mubin | Urdu Afsana | شہر بدر

ایم مبین ۳۰۳ ،کلاسک پلازہ،تین بتی بھیونڈی 421302۔ ضلع تھانہ ( مہاراشٹر) موبائل:۔9322338918 Email:- mmubin123@gmail.com شہر بدر ساری کوششیں بیکار گئیں ۔ساری امید یں خاک میں مل گئیں ۔ساری تر […]

ایم مبین
۳۰۳ ،کلاسک پلازہ،تین بتی
بھیونڈی 421302۔ ضلع تھانہ ( مہاراشٹر)
موبائل:۔9322338918 Email:- mmubin123@gmail.com

شہر بدر

ساری کوششیں بیکار گئیں ۔ساری امید یں خاک میں مل گئیں ۔ساری تر کیبیں غلط ثابت ہو ئیں ۔ آس کی آخری ڈور بھی ٹوٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی ۔
آخر وہ گھڑی آپہونچی جس کا سب کو خدشہ تھا ۔
خوفزدہ سے لوگ اپنے اندر اپنے گھروں سے نکلنے کی ہمت بھی نہیں جٹاسکے۔
جو ہمت کرکے گھروں سے نکلے سلیم بھائی کے مکان کے قریب جانے کی ہمت نہیں کر سکے دور کھڑے ہوکر تماشائیوں میں شامل ہو گئے۔
سلیم بھائی کے حق میں احتجاج کرنے والا اس کی بیوی اور تین چھوٹے چھوٹے بچوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔
ایک گھنٹہ سے سلیم بھائی شہر کے لیڈران سے مسلسل رابطہ قائم کئے ہوئے تھے اور ان کو صورت حال سے مطلع کر تے ہوئے انھیں جلد از جلد ان کے مکان پر پہونچنے کی درخواست کر رہا تھا۔
ہر کسی کا ایک سا جواب تھا۔
’بہت ضروری کام میں ہے میٹنگ میں ہیں ۔کام میٹنگ ختم ہو تے ہی ان کے گھر پہونچنے کی کوشش کریں گے۔وہ گھبرائیں نہیں ہمت سے کام لیں ۔سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ۔ اس سلسلے میں ہائی کمان کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے امید ہے اب تک وزیر داخلہ کو ہائی کمان کا فون پہونچ گیا ہوگا اور انھوں نے کمشنر کو حکم دے دیا ہو گا کہ وہ سلیم کی شہر بدری کا حکم نامہ فوراََ منسوخ کر دے یا واپس لے لیں۔
لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہواتھا۔
دئے گئے وقت کے گذر جانے کے بعد فوراََ ہی تین چار گاڑیاں محلے میں داخل ہوئیں ان میں ہتھیا روں سے لیس پولس کے سپاہی تھے جو گاڑی سے اتر کر چاروں طرف پھیل گئے ۔
انھوں نے پوزیشن لیکر اپنے ہتھیارتیار کر لیے ۔بس انھیں حکم ملنے کی دیر تھی ان کے ہتھیا ر آگ کا دریا بہا کر کشت وخون بہانے کے لیے تیارتھے۔
پورا محلہ کسی چھاؤنی میں تبدیل ہو گیاتھا۔
ہتھیا روں سے لیس پولس کے ارادوں کا محلے والوں نے اندازہ لگا لیا تھا اس لیے ان کے دل دہل گئے تھے۔ اگر انکے دلوں میں سلیم بھائی کی شہر بدری کے خلاف احتجاج کر نے کا کوئی ارادہ ہوگا بھی تو ہتھیار بند پولس کے چہروں سے ٹپکتے ان کے ارادوں کو دیکھ کر انھوں نے اپنا ارادہ بدل دیا تھا۔
ایسی صورت حال میں کون احتجاج کرنے کی ہمت کر سکتا تھا؟
ہرکسی کو پولس کی وحشیانہ گولیوں کا شکار ہونے کا خوف تھا۔
سلیم خود اپنے آپ کو بے بس محسوس کر رہا تھا۔
جن شہر والوں کے لیے ، محلے والوں کے لیے اس نے وہ اقدامات اٹھائے تھے جن کی بدولت اسے شہر بدری کا حکم سنایا گیا ان میں سے آج کوئی بھی اس کے ساتھ نہیں تھا۔
کل تک اس کے گھر میں محلے والوں اور شہر والوں کی ایک بھیڑ لگی ہوئی تھی۔
ہر کوئی اسے دلاسہ دے رہا تھا۔
’سلیم بھائی! آپ دل چھوٹا نہ کیجئے ہمت نہ ہارئے، ہم عدالت میں تو اس معاملے کے خلا ف گئے ہیں ہو سکتا ہے ہمیں اسٹے مل جائے ۔ اور ہمیں اسٹے یقیناََ مل جا تا لیکن بدقسمتی سے دو دن کورٹ بند ہے۔ لیکن کل جیسے ہی کورٹ کھلے گا ہمیں امید ہے ،ہمیں اسٹے مل جائے گا۔
’سلیم بھائی !سارے شہر کے لوگ ان راستوں پر جاکر پولس کو للکاریں گے کہ اگر تم کو سلیم بھائی کو گرفتا ر کر نے جانا ہے تو تم پہلے ہماری لاشوں پر سے جانا ہو گا۔
‘اگر پولس نے کل تمھیں دھکا بھی لگا یا تو احتجاج میں پورے شہر میں ہڑتال ہو جائے گی۔ ساری دوکانیں کاروبار بند کر دیا جائے گا ۔ہماری پارٹی آپ کے ساتھ ہے ۔اور آپ کو انصا ف دلانے کے لیے ، آپ پر ہونے والے مظالم ،ناانصافی کے خلاف ہماری پارٹی کے سارے ورکر سڑکوں پر اتر آئیں گے۔
ایک سیاسی لیڈر نے کہا تھا۔
اس طرح کی سینکڑوں باتیں ہو ئی تھیں ۔
جس سے اس کی ایک ڈور بندھی تھی۔امید کی ٹمٹماتی لو میں ایک نئی قوت سرایت کر گئی تھی اور وہ مکمل طور پر روشن ہو گئی تھی۔
سلیم کو لگا اسکے سارے خدشات بے بنیاد ثابت ہو ں گے۔
وہ اپنے شہر میں اپنے گھر میں اپنے با ل بچوں کے ساتھ رہے گا ۔
جب سارا شہر ، شہر کے اتنے بڑے بڑے لوگ احتجاج کریں گے تو پولس کو جھکنا پڑے گا ۔اور امن وامان قائم رکھنے کے لیے اپنا حکم نامہ واپس لینا پڑے گا۔
لیکن سورج کے نکلتے ہی مایوسی اورنامرادی کے گھنے بادلوں نے ان کے وجود کو دھکنا شروع کر دیا تھا۔
سورج اوپر چڑھ رہا تھا اس کی روشنی اور تمازت بڑھتی جا رہی تھی اور سلیم کے گرد مایوسی کے گہرے اندھیرے پھیلتے جا رہے تھے ۔
سویرے سے بلند دعوی کر نے والوں میں سے کوئی بھی نہیں آیا تھا۔
شہر کے لیڈر ، لوگ تودور محلے کے کسی فرد نے بھی اس کے گھر پر قدم نہیں رکھا تھا۔
اس کا دل ڈوبتا جا رہا تھا۔
تو اس کا مطلب دو سالوں کے لیے اسے اپنا شہر ، محلہ ،بیوی بچوں کو چھوڑ کر ایک انجان شہر جانا ہو گا؟
کہاں جاؤں گا میں کس شہر میں اکیلا رہوں گا؟ میری بیوی چار بچے کیا اکیلے اس شہر میں رہ پائیں گے؟ان کا گذر بسر کس طرح ہوگا؟ یہاں اس شہر میں میرا چھوٹا سا کاروبار تھا جس میں میرا اور میرے خاندان کے افراد کا گذربسر ہو جاتا تھا۔لیکن میں اکیلا کیا ایک نئے شہر میں پھر سے نیا کاروبار شروع کر پاؤں گا ؟
ابھی تک تو اس بات کا بھی اسے خود علم نہیں تھا کہ وہ شہر کے بعد کس شہر میں جائے گا۔ یا پولس اسے کس شہر میں لیجاکر چھوڑے گی۔
آس پاس کے شہروں میں کوئی بھی ایسا شہر نہیں تھا جہاں اسے سر چھپانے کا کوئی ٹھکا نہ تھا۔
دور درازکے شہر جانے کا تو وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا بیوی بچوں کا مسئلہ تھا۔
شہر بدر ہونے کے بعد بیوی بچوں سے رابطہ کسی قریبی شہر میں رہ کر ہی رکھا جا سکتا تھا۔ وہ تو ان سے ملنے کے لیے نہیں جا سکتا تھا وہ ہی اس سے ملنے کے لیے آسکتے تھے۔ ہفتے ۱۵ دنوں میں ایک آدھ بار ۔ بچوں کی اسکول کا مسئلہ تھا اس لیے وہ کسی نئے شہر میں بس کر بچوں اور بیوی کو اپنے پاس بلانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
۱۱ بجے کے قریب آخری امید بھی ٹوٹ گئی تھی۔
کچھ سوشل ورکر جو اس کی شہر بدری کے خلاف عدالت سے اسٹے حاصل کر نے لیے عدالت گئے تھے وہ مایوس لوٹ آئے۔اس کا جج چھٹی پر تھا اس لیے نہ تو اس کی عرضی داخل ہو سکی اور نہ اسے اسٹے دینے پر غور ہو سکا۔
اور وقت متعین پر پولس فورس دندناتی ہوئی محلے میں پہونچ گئی ۔مشین گنوں کو نوک پر اسے پولس کی جیپ میں بیٹھنے کا حکم دیا گیا۔
احتجاج کر تی اس کی بیوی کو دو تین لیڈیز پولس کا نسٹبلوں نے اپنے گھیرے میں لے لیا ۔ احتجاج کر تے بچوں کو دو چار کا نسٹبلوں نے دبوچ لیا۔
اور تو کوئی نہ احتجاج کر نے والا تھا اور نہ آگے آنے والا تھا سب خاموش تماشائی بنے دیکھ رہے تھے۔
کسی میں نہ تو حتجاج کرنے کی قو ت تھی اور نہ لب کشائی کی۔
کسی بھی جرأت کا انجام و ہ اچھی طرح جانتے تھے۔
پولس کی جیپ ایک انجان منزل کی طرف چل دی۔
اس نے جیپ کی کھڑکی سے ہاتھ نکال کر کھڑے لوگوں کو الوداع کہا ۔
ہاتھ ہلاتے ہلاتے اس کا دل بھر آیا ۔پہلے آنکھوں سے آنسو نکلے پھر منہ سے سسکیاں نکلنے لگیں گلا رندھ گیا اور پھر وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
اس کے رونے کی آواز اور اس کے آنسو دیکھ کر جیپ میں بیٹھے ایک پولس کانسٹبل کا دل بھی پسیج گیا۔
’اب بچوں کی رونے سے کیا ہوگا سلیم بھائی!جو تقدیر میں لکھا ہے اس کا سامنا تو کر نا پڑیگا ۔تم کو شہر بدر کرنے سے کم سے کم میں تو خوش نہیں ہو ں۔ میں جانتا ہوں تمھارا کوئی قصور نہیں ہے تم نے کوئی ایسا گنا ہ نہیں کیا ہے جس کی سزا کے طور پر تمھیں شہر بدر کیا جائے ۔لیکن پولس کی انا کاسوال ہے ۔
پولس اپنی قوت کا مظاہرہ کرکے دہشت پھیلانا چاہتی ہے تاکہ سب کو پولس کی قوت کا پتہ چل جائے او رپھر کوئی سلیم پولس کے خلاف آواز نہ اٹھائے۔ پولس سے ٹکرانے کی کوشش نہ کرے۔۔۔
بات تو سچ تھی۔
اس نے پولس کے خلاف آواز اٹھائی تھی اس نے پولس سے ٹکرانے کی کوشش کی تھی۔
لیکن یہ کوئی اس کا گنا ہ نہیں تھا ۔ایک سچائی تھی اس نے انصاف کے لیے نا انصافی کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔
گذشتہ دنوں احتجاج کرتی عوام پر پولس نے اندھا دھندہ گولیاں برسائی تھیں ۔پولس کی اس وحشیانہ فائرنگ میں کئی لوگ مارے گئے تھے۔اور کئی زخمی ہوئے تھے۔
ظاہر سی بات تھی پولس کی اس بربریت کے خلاف سبھی نے آواز اٹھائی تھی او ر اس نے سب سے زیادہ اس لیے اٹھائی تھی کیونکہ وہ وہ پولس کی بربریت کا چشم دید گواہ تھا۔
وہ پولس کے خلاف احتجاج کر والوں میں شامل تھا کیونکہ وہ محلے کا ایک شوسل ورکر تھا ۔ایک سیاسی جماعت کا رکن اور سرگرم ورکر بھی تھا ۔جب عوام اپنے کسی مطالبہ کے لیے احتجاج کر رہی ہو تو اس میں اس کا شامل ہو نا لازمی تھا۔
اور وہ حادثہ ہو گیا۔
جیسے ہی پولس فائرنگ کی خبر میڈیا کو ملی ۔چاروں طرف سے میڈیا کے نمائندے چاروں طرف سے امڈ پڑے ۔ان کو اپنے اخبارات کے صفحات سیاہ کرنے تھے اپنے چینل کے دھماکے دار گرم گرم خبریں مہیا کر نا تھا۔
مورچے میں شامل ایک ایک فرد کو ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر اس کے پاس پہونچتے اور اس سے انٹر ویو لیتے۔
وہ تو ایک سوشل ور کر تھا ۔اس کے پاس گفتار کے قوت بھی کافی مضبوط تھی اس لیے میڈیا کے ہر فرد نے اس سے انٹر ویو لیا۔اس نے بھی اپنے فن تقریرکی مہارت کا استعمال کر کے سارے واقعات کیمرے کا سامنے بیان کر دییے اور پولس کے رویے کے خلاف کافی سخت سست کہا۔
ہر ٹی وی چینل نے اس خبر کو دکھایا اور ساتھ ہی اس کو انٹر ویواس طرح سے وہ ہیرو بن گیا۔
اپنے ظلم کو چھپانے کے لیے اور اپنے آپ کو ظالم کے بجائے مظلوم ظاہر کرنے کے لیے اور پولس نے پینترا بدلا۔
پولس نے پولس فائرنگ کا جواز پیش کیا مظاہرین نے پولس پر سخت پتھراؤ کیا تھا اس پتھراؤ کی وجہ سے کئی پولس والے جن میں اعلیٰ افسر بھی شامل ہیں شدید زخمی ہوئے اس وجہ سے پولس کو فائرنگ کرنی پڑی۔
ان پولس والوں کو سول اسپتالوں میں داخل کر کے ان کے زخمی ہونے کے ثبوت اکٹھا کر لیے گئے اور اعلیٰ افسر بڑے بڑے پرائیوٹ اسپتالوں کے اے سی وار ڈ میں داخل ہو کر سرکار کے خرچے پر اپنی مختلف بیماریوں کا علاج کر وانے لگے۔
ڈنڈے کی زور پر پولس نے ماحول بنادیا کہ پولس کا قدم جائز تھا۔
اب پولس نے مظاہرین کے خلاف دنگے فساد کرنے کا مقدمہ قائم کیا۔
مظاہرے میں شامل افراد کو چن چن کر گرفتار کیا گیا۔زخمیوں کو اسپتالوں سے گرفتار کر کے لاک اپ میں ٹھونس دیا گیا۔
یہا ں تک کہ فائرنگ میں مرنے والوں کے خلا ف بھی مقدمے درج کئے گئے مقدمہ اس پر بھی قائم کیا گیا لیکن وہ اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے جلد باہر آگیا۔
بار آنے کے بعد اس کی نا انصافی کے خلاف آواز کچھ زیادہ ہی بلند ہو گئی۔
پولس کی زیادتیوں سے وہ پھر ایک بار عوام ، خواص، ارباب اقتدار،ہائی کمانڈ کو متعارف کرنے لگا جس کی وجہ سے پولس کی نظر میں آگیا۔
ایک دو بار پولس کے اعلیٰ حکام نے بلاکر اسے وارننگ دی۔
’سلیم !پولس سے ٹکرانے کی کوسش مت کرو ورنہ اس کا انجام بہت بر اہوگا۔ پولس جو کر رہی ہے اس کو اپنا کام کرنے دو ان کے معاملے میں ٹانگ اڑانے کی کوشش مت کرو نہیں تو کہیں کے نہیں رہو گے۔‘‘
لیکن اس وارننگ کی وجہ سے وہ کچھ زیادہ ہی بیباک ہو گیا۔
’میری زبان بند کرنے کی کوشش کا جارہی ہے۔ مجھے دھمکیاں دی جارہی ہیں لیکن میں ظلم کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالوں گا ۔سچ کہنے کے لیے کسی بھی دباؤ سے نہیں ڈروں گا۔
اور پھر اس کے اسی رویہ کی وجہ سے اس کے خلاف ایک بار پھر پولس کی انتقامی کاروائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
دو دو سال پرنے معاملوں میں بھی اسے گھسیٹا جانے لگا۔
جن معاملوں سے اس کا کوئی تعلق بھی نہیں تھا اس کو ان معاملوں میں گھسیٹا جانے لگا۔
یہاں تک کے ایک دو بار چوری ،ڈکیتی ، ہفتہ وصولی کے دو چار معاملوں میں بھی اسے ملوث کر کے اس پر کیس بنا دیا گیا۔
پولس اس کی پہونچ سے ڈرتی تھی ۔ کیونکہ جب بھی اسے اس طرح کے کسی معاملے میں گھسیٹا جاتا کسی معتبرآدمی کا پولس کو فون پہونچ جاتا تھا کہ انھوں نے اسے کیوں گرفتار کیا ؟ اس کو اس معاملے میں ملوث کیا جارہا ہے اسے فوراََ چھوڑ دیا جائے ورنہ انجام اچھا نہیں ہوگا ۔
پولس کا ایک ہی جواب ہوتا۔
ہم نے سلیم کو شک کی بنیاد پر گرفتا ر کیا ہے؟
’’آپ کے پاس یہی تو ایک دفعہ ہے جس کے تحت آپ صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم کے بھی بلا وجہ گرفتار کر سکتے ہیں ۔اپنی دفعات کا استعمال ظلم کرنے کے لیے بند کرو۔۔ ورنہ ہمیں بھی اس کے خلاف کچھ کر نا پڑے گا ۔۔‘‘
پولس اسے ضمانت پر یا وارننگ دیکر چھوڑ دیتی لیکن ایک کیس تو اس پر تیا ر ہوجا تا ۔
اس طرح اس پر پولس نے اتنے کیس تیا ر کر لئے جن کی بنیا د پر وہ اسے نامی غنڈہ بد معاش قرار دے سکتی تھی کہ اس کی وجہ سے شہر میں امن و امان کی صورت حال کو خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
اس لیے اسے شہر بدر کر دیا جائے ۔
پولس کو یہ کار وائی چند سیاسی بے لگام گھوڑوں پر لگام کسنے کے لیے کر نی بھی تھی اور عوام میں دہشت پھیلانا چاہتی تھی کہ وہ پولس سے الجھنے کی کوشش نہ کریں۔
اپنی وردیاں اور کرسیاں بچانے کے لیے پولس جو بھی کاروائی کر یں تماشائی بن کر چپ چاپ دیکھا کریں ان میں کوئی دخل نہ دیں نہ ان کے خلاف آواز اٹھائے۔
او پولس نے کمشنر سے ان کیسوں کے پس منظر میں اس کا شہر بدر کیے جانے کا حکم نامہ حاصل کر لیا ۔
یہ خبر سنتے ہی سارے شہر میں ایک بے چینی سی پھیل گئی ۔
یہ ظلم ہے ۔ ناانصافی ہے۔
’پولس راج ہے۔‘
’’غنڈے بد معاش تو شہر میں آزاد دندناتے پھر تے رہے اور شریف عزت دار لو گوں کو شہر بدر کیا جائے۔‘‘
لیکن عوام اور خواص کا احتجاج صرف زبانی طور پر تھا ۔ پولس کے کانوں پر اس سے جوں کہاں ہے رینگنے والی تھی۔
یہ طے کیا گیا کہ اس کے خلاف احتجاج کیا جائے گا ۔ پارٹی ہائی کمان سے شکایت کی جائے گی ۔
لیکن ساری باتیں زبانی چلتی رہیں ۔
اور اس کے شہر بدر کا وقت آگیا۔
اب وہ ایک انجان شہر کی طرف انجان منزل کی جانب ایک انجان سی زندگی شروع کر نے جا رہا تھا۔
اپنے ماضی پر نظر ڈالتے سوچ رہا تھا کہ اس کا ماضی صحیح تھا یا غلط جو اسے اس انجان مستقبل کی سزا مل رہی ہے۔
(غیر مطبوعہ )
طبع زاد
ختم شد

Viewers: 3343
Share