Hafiz Muzafar Mohsin | Column | میں تے چُپ کر کے نکل گیا سی؟!‘‘

 حافظ مظفر محسن 101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور 0300-9449527 طنزو مزاح ’’میں تے چُپ کر کے نکل گیا سی؟!‘‘ ’’ یار ۔ کل عجیب خوفناک واقعہ ہوا۔ میں رِنگ روڈ […]

 حافظ مظفر محسن
101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور
0300-9449527
طنزو مزاح

’’میں تے چُپ کر کے نکل گیا سی؟!‘‘

’’ یار ۔ کل عجیب خوفناک واقعہ ہوا۔ میں رِنگ روڈ پر ایک سو پچاس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جا رہا تھا۔ شہزادہ لگ رہا تھا۔ ویسے گاڑی کے انجن سے ایسی آوازیں آ رہی تھیں جن سے لگتا تھا کہ گاڑی کا انجن کھل جائے گا یا کوئی ٹائر پھٹ جائے گا۔ گاڑی اگرچہِ چھوٹی تھی مگر آج پتہ چلا کہ بڑے کام کی ہے۔ میرا تو دل چاہتا تھا سپیڈ اوربڑھا دُوں۔ خوب مزہ آ رہا تھا مگر گاڑی نے انکار کر دیا۔ گویا اِس سے زیادہ رفتار کی گنجائش ہی نہ تھی۔ ویسے اگر ہوتی تو میں کب باز آنے والا تھا۔ میں نے تو آج حد کر دینے کا سوچ رکھا تھا۔ اِتنی خوبصورت سڑک اور اوپر سے سونے پہ سہاگہ دور دور تک کوئی پولیس والا بھی نہ تھا۔ ہمیں ایسی کھلی چھٹی ملے اور ہم من مرضی نہ کریں۔ نہ بابا نا۔ اِس طرح کی ہمیں عادتیں نہیں ہیں۔ ہم جدید دور کے لوگ ہیں اور ایک ہمت والی قوم کے افراد ۔ قانون توڑ کر شرمندہ نہ ہونا بلکہ بھاگ جانا ہماری عادت ہے۔ مجھے لگا جیسے گاڑی سے چڑ چڑ چڑ۔ چاڑ ۔ چاڑ چاڑ چاڑ ۔ چڑ کی آوازیں اچانک آنے لگی ہیں۔ یہ آوازیں خاصی بلند ہوں گی جو ٹیپ ریکارڈ پر نصیبو لال کے گانوں کے باوجود صاف سنائی دے رہی تھیں۔
اگاں لا کے سانوں عشق دیاں
آپ مِٹھی نیند سوناں ایں
کبھی دھیان گانے کی طرف جائے کبھی ’’ چڑ چڑچڑ۔ چاڑ‘‘ کی طرف۔ آگے موڑ آگیا۔ اور بلندی بھی۔ میں نے پاؤں نہیں اٹھایا گاڑی کی سپیڈ خود ہی کچھ کم ہوگئی لیکن اب بھی ایک سو تیس کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ ’’ شاؤں‘‘ ۔ یہ آواز آئی اور میں نے دیکھا جس گاڑی سے میں دوڑ لگا رہا تھا۔ وہ مجھ سے آگے نکل گئی ۔ مجھے غصہ تو بہت آیا۔ اور محسوس ہوا جیسے وہ مجھ سے طاقتور ہے۔
مگر ’’ اگاں لاکے سانُوں عشق دیاں‘‘۔ پھر ’’ چڑ چڑ چڑ۔ چاڑ‘‘۔ اور بلندی والا موڑ ۔ ارے یہ موبائل فون کی ’’ ٹرن ٹرن‘‘ ۔ میں کھو سا گیا۔ خود بخود میری گاڑی کی بریک لگ گئی۔ ہجوم سا اکٹھا ہو گیا۔ پولیس والے بھی تھے۔لوگ اِدھر اُدھر سے چھلانگیں مار کے ’’ جائے وقوعہ‘‘ پر پہنچ رہے تھے۔ میں نے دیکھا شدید زخمی حالت میں لوگ ڈرائیور کو گھسیٹ کر گاڑی سے نکال رہے تھے۔
’’اگاں لاکے سانوں عشق دیاں‘‘
یہ گانا اور نصیبو لال اِس وقت مجھے زہر لگ رہے تھے۔ میں نے ٹیپ ریکارڈ ر کا سوئچ آف کر دیا۔ ’’ چڑ چڑچڑ۔ چاڑ‘‘ والی آواز بھی بند ہو چکی تھی۔ گاڑی جو رُ کی ہوئی تھی۔ فون ’’ ٹرن ٹرن‘‘ بجتا چلا جا رہا تھا۔ اوئے ۔ یہ تو باس کا فون ہے۔ ’’ باس نے کل مجھے اپنی پندرہ دن استعمال شدہ جرابیں اتار کے دی تھیں اور حکم دیا تھا کہ بالکل اسی رنگ ، سائز والی جرابیں صبح مجھے پہنچانا۔ ورنہ میں دفتر وقت پر نہیں پہنچ پاؤں گا!۔ باس کا سرخ چہرہ آنکھوں میں گھوم رہا تھا ۔ میں نے گاڑی سٹارٹ کی۔ ’’ چڑ چڑ چڑ۔ چاڑ‘‘ آواز شروع ہوگئی۔ اِس دوران دیکھا کہ ڈرائیور تقریباً مردہ حالت میں سٹرک پر پڑا تھا۔خون میں لَت پَت ……. بے سُدھ۔
’’ اوئے ۔ یہ تو وہی گاڑی تھی۔ جو رنگ روڈ پر میرے ساتھ مقابلہ کرتی چلی آرہی تھی۔ اور ’’ شاؤں‘‘ کر کے اس وقت میرے پاس سے گزری تھی جب میں بلندی والے موڑ سے ایک سو تیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گزر رہا تھا۔ باقی مسافروں کا کیا ہوا۔ پتہ نہیں ۔ کیونکہ ۔ ’’ میں تے چُپ کر کے موقع توں نکل گیا سی‘‘!۔ عبدالستار ایدھی کے سوا ہم سب ایسے موقع پر غائب ہو جانے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں؟!۔
میں نے دانتوں تلے انگلی دبا دی۔ استاد کمر کمانی اپنی بہادری کا قصہ سنا کر مطمئن تھا۔ کیونکہ وہ موقع سے دُم دبا کر نکل گیا تھا۔
استاد جی۔ وہ واقعہ نہیں یاد آپ کو ( اب ملک عطا ء کی باری تھی ناں) جب اِک ٹریفک پولیس کا آفیسرمیرے پیچھے لگ گیا۔ میں نے موٹر سائیکل کی رفتار فُل کر دی۔ ریس دیتے ہوئے میں نے نہیں سوچا کہ موٹر سائیکل کا انجن کھُل جائے گا یا میں کسی سامنے آتی گاڑی سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاؤں گا۔ یا۔ پکڑا جاؤں گا اور قانون کی گرفت میں آجاؤں گا۔
’’ پھر ہوا کیا‘‘۔ استاد کمر کمانی نے غصے سے پوچھا۔ ’’ اُستاد چھری تھلے ساہ تے لے‘‘۔ ملک عطاء غصے سے بولا۔ ہوا یہ کہ جو ٹریفک پولیس کا آفیسر میرے پیچھے لگا ہوا تھا۔ اُس کی موٹر سائیکل بے قابو ہوگئی ۔ اور وہ رگڑیں کھاتا ۔ دُور جا گرا۔ اُس کی موٹر سائیکل کدھر گئی۔ وہ کس قدر زخمی ہوا۔ مجھے تو کچھ پتہ نہیں کیونکہ ۔ ’’ میں تے چُپ کر کے موقع تو ں نکل گیا سی‘‘!۔
اچانک میرا دھیان ۔ چھ ماہ پہلے بیتی کہانی کی طرف چلا گیا جب میں اتوار کی شام نئے کپڑے پہن ٹائی شائی لگائے گھر سے گاڑی پہ نکلا۔ ’’ کسی‘‘ سے ملنے۔ اچانک ’’ اس ‘‘ کا ایس ۔ایم۔ ایس آگیا۔
’’ کہاں ‘‘ ۔ ’’ مر گئے‘‘؟!۔
’’ حضُور مریں گے تو اُس وقت جب آپ کو دیکھیں گے‘‘۔
میں نے یہ خوش آمدی قسم کا ایس۔ایم۔ایس جواب میں لکھا اور SEND کرنے ہی لگا تھا کہ سڑک کے بائیں طرف کھڑی گول گپے والے کی نہایت خوبصورت سجی سجائی ریڑھی میں گاڑی جا گُھسی۔ ’’ْ قصور یقیناًاُس کا ہی تھا کیوں وہ سڑک سے پیچھے ہٹا کر اِس قدر مطمئن ہو کر گول گپے بیچ رہا تھا۔ آج اتوار تھی اُسے آج چھٹی کر نی چاہیے تھی‘‘؟!۔
خیر وہ دُور جا گرا۔ سڑک پر گول گپے ۔ ایسے پھیل گئے جیسے گول گپوں کی بارش ہو تی ہو۔
’’ کون کون زخمی ہوا۔ اُن پر کیا بیتی ۔ ’’ مجھے کچھ پتہ نہیں۔ کیونکہ ۔ ’’ میں چُپ کر کے موقع توں نکل گیا سی‘‘۔
استاد کمر کمانی سر جھکاکے بیٹھ گیا۔ ایسے سنجیدہ لطیفے پر بھی وہ جعلی سا قہقہہ ضرور لگاتا ہے مگر اب کے اُس نے کوئی کسی قسم کا ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔ غمزدہ سا لگ رہا تھا۔ اُداس ۔ اُداس ۔ کسی گہری سوچ میں غرق۔
اُستاد خیر تو ہے؟!۔
’’ یار ۔ مظفر۔ میں سوچ رہا ہوں۔ کہ تمھارے دوست شہزادکی بجائے اگر صدر آصف زرداری تمھارے ساتھ کیڈٹ کالج ٹپارو میں اِک ساتھ پڑھے ہوتے تو یقیناًتمھارے ساتھ اُن کی دوستی ضرور ہوتی کیونکہ تم دوست بنانے میں ماہر ہو؟!۔
’’ اُستاد۔ تمھیں پتہ ہے میں بڑے لوگوں سے دوستیاں لگانے سے ڈرتا ہوں‘‘؟!۔ میں نے آہستہ سے کہا۔
’’ اوئے نہیں یار۔ یہ بات نہیں فرض کرو اگر ایسا ہوتا۔ تو دوستی کے ناطے تم دبئی خیریت دریافت کرنے جاتے تو وہ تمھیں مزے لے لے کر تمھیں تفصیل سناتے۔
’’ لوڈ شیڈنگ اچانک ختم ہوگئی ۔لوگوں کوپتہ ہی نہیں چلا کہ اُن کے ساتھ ہم تین سال سے زیادہ عرصہ ’’ اندھیرا اندھیرا‘‘ کھیلتے رہے۔ کیوں؟!۔ پھر میمو سکینڈل سامنے آ گیا۔ کون ذمہ دار تھا اور کون پکڑا گیا۔ اور در پردہ کیا ہے۔ ہم کیوں بتائیں۔
پھر بات ہوگی۔اُن چوبیس پاک فوج کے شہیدوں کی کہ جن کو انجانے میں مارا گیا یا جان بوجھ کر۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں ( بس آنکھیں آنسوؤں سے تر ہیں) ۔ شمسی ائر بیس کیوں خالی ہوا کسی کو کچھ پتہ نہیں‘‘!۔ وغیرہ وغیرہ۔
ایسے میں صدر زرداری ۔ راز داری سے کہیں گے۔ ’’ اب کیا ہوگا۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں ۔ نہ ہی میرے علم میں ہے۔ کیونکہ ۔
’’ میں تے چُپ کرکے جائے وقوعہ توں نکل گیا سی

Viewers: 5783
Share