Hafiz Muzafar Mohsin | Tanz o Mizah | بھابھی تبت سنو کی وفات پر اِک خوشبودار خراجِ عقید ت

حافظ مظفر محسن 101چراغ پارک شاد باغ لاہور Cell # 0300 9449527 بھابھی تبت سنو کی وفات پر اِک خوشبودار خراجِ عقید ت کزن کا فون آیا۔ ’’ ہادی ہزاروی۔ […]

حافظ مظفر محسن
101چراغ پارک شاد باغ لاہور
Cell # 0300 9449527

بھابھی تبت سنو کی وفات پر اِک خوشبودار خراجِ عقید ت

کزن کا فون آیا۔ ’’ ہادی ہزاروی۔ بول رہا ہُوں بھابھی فوت ہو گئی ہیں‘‘؟!۔
’’اِنا لِلہ اللہ وَ اِنا الیہ راجعون‘‘۔ میرے مُنہ سے نکلا اور پھر میں نے حیرت سے پوچھا۔ ’’ ہادی کونسی بھابھی‘‘؟!۔
اوے میاں بھابھی تبت سنو فوت ہوگئی ہیں۔ رات بارہ بجے جب شہر میں برفیلی ہوائیں چل رہی تھیں کہ مرحومہ نے محض اِس خوشی میں صحن کا فرش رات بارہ بجے دھونا شروع کر دیا کہ بجلی بھی آرہی ہے۔ پانی بھی موجود ہے اور سونے پر سہاگہ گیس بھی۔ ( دیکھیئے ہماری محرومیاں ……… اور ہماری ننھی مُنی خواہشیں)۔
سخت سردی میں ٹھنڈا پانی اور پھر جو لگی سر کو سردی تو بے ہوش ہو گئیں۔ گھر والوں نے کہا پانی لاؤ۔ بیٹی فریج سے پانی کی بوتل نکال لائی۔ یخ پانی حلق سے نیچے اترا۔ ہوش تو کیا آنا تھا۔ مُنہ نیلا ہو گیااور پھر ۔ ہسپتال لے جانے کی نوبت ہی نہ آئی۔ ’’ ساس نے ہی ڈیکلیر کر دیا کہ بہو’’ بھابھی تبت سنو‘‘ ۔ ہمیں تو نہ ہوسکیں اللہ کو پیاری ہوگئیں!۔
ساس کی بات پر دوسروں نے اعتبار نہ کیا۔ اور پھر جب ڈاکٹر بلایا گیا تو اُس نے بھی ’’ دائیں بائیں دائیں سر ‘‘ ہلایا تو سب نے سُکھ کا سانس لیا کہ ساس نے پہلی بار بجا فرمایا تھا کہ ’’ بھا بھی تبت سنو‘‘ واقعی فوت ہو چکی ہیں۔
کئی سال پہلے جب بھابھی تبت سنوکی شادی ہوئی تو موصوفہ ۔ ’’ اندھیوں میں کانی رانی ‘‘ یعنی بی ۔ اے پاس تھیں اور باقی سب …..؟!۔ بھابھی تبت سنو اِس بات پر بھی خاصی خوش تھیں کہ اُن کے میاں کئی سال امریکہ میں انجینئر رہے۔ اور وہ بھی دو بار امریکہ جا چکی تھیں۔
چھوٹی بھابھی کہتیں کہ ۔ ’’ میں آپ سے زیادہ خوبصورت ہوں ‘‘ تو بھابھی تبت سنو جھٹ بولیں۔ ’’ تم کبھی امریکہ گئی ہو‘‘۔ نہیں وہ بے چاری شرماکے کہتیں اور بھابھی تبت سنو۔ قہقہ لگاکے آگے چل پڑتیں۔ منجھلی بھابھی نے اِک دن ٹکر لی۔ ’’ میں چھ فٹ دو انچ ہُوں۔ بھابھی تبت سنو جھٹ بولیں۔ ’’ تم کبھی امریکہ گئی ہو‘‘۔ ’’ نہیں‘‘۔ وہ پریشان ہو کے کہتیں اور بھابھی تبت سنو۔ قہقہہ لگا کے آگے چل پڑتیں۔
اِک دن کھانے کی ٹیبل پہ سب سے بڑی بھابھی کی آٹھ سالہ بیٹی نے بُرا مُنہ بنا کے کہا۔ ’’ امی ڈونگے میں بوٹی نہیں ہے‘‘۔
’’ نہیں ‘‘۔ بڑی بھابھی نے غصے سے کہا اور پھر بولیں۔ ’’ تم کبھی امریکہ گئی ہو‘‘۔ سب قہقہے لگانے لگے سوائے ۔ بھابھی تبت سنو کے۔ ( اکثر وہ سمجھداری کا مظاہرہ کرتیں ہیں)۔
’’ بھابھی تبت سنو‘‘۔ کا نام دراصل ارشاد بیگم تھا اور وہ گاؤں فتُووالا کی رہنے والی تھیں۔ وہ فتُووالے سے روزانہ تانگے پر گیارہ میل کا فاصلہ طے کر کے گاؤں ککڑی پُور آتیں جہاں سے اِک پرانے زمانے کی پھٹیچر بس پر بیٹھ کر وہ شرقپور سے لاہور پڑھنے جاتیں۔ یعنی اُنہوں نے بی۔ اے تک تعلیم حاصل کرنے کے لیے تقریباً یا اندازً لاکھوں میل کا سفر بھی طے کیا۔ جب موصوفہ شادی کے بعد شہر میں اپنے سسرال تشریف لائیں تو۔ ساس صاحبہ نے شام کو بڑے شوق سے جو نہاری پکائی تھی وہ کھانے کو پیش کی۔ چارو ناچار کھانے لگیں اور قے کر ڈالی۔ پھر اگلے دن ’’ فیملی فنکشن‘‘ اِک چائینز ریسٹورنٹ میں تھا۔ جہاں سُوپ کا پہلا چمچ منُہ میں ڈالا اور وہیں۔ پھر قے کر ڈالی۔
اُن کے شوہر امریکہ سے اپنی شادی کے لیے بہت سا سازو سامان بڑی خوشی اور محبت سے لائے تھے۔ جس میں سب سے اہم چیز اُن کا بیوٹی بکس تھا جس میں دنیا جہان کی خوشبوئیات، لِپ اسٹک وغیرہ وغیرہ موجود تھیں۔ جب بھابھی ارشاد بیگم بی۔اے کو وہ بڑے سائز کا نہایت نفیس ۔ عالیشان بیوٹی بکس پیش ہوا تو اُنہوں نے خوب اُلٹ پُلٹ کے اس بیوٹی بکس کو دیکھا۔ اُن کے چہرے اور حرکات و سکنات سے لگتا تھا کہ اُنہیں یہ میک اپ کے سامان سے لیس بیوٹی بکس دیکھ اور ٹٹول کر خاصی مایوسی بلکہ شدید پریشانی ہوئی ہے۔ شوہر نے پوچھا ( محبت سے ۔ حسرت سے۔ کسی اچھے جواب کی اُمید میں) ارشاد بیگم بی۔ اے کیسا ہے۔ یہ ہمارا پیش کر دہ خوبصورت سا بیوٹی بکس؟!۔
تو وہ غصے سے دیکھتے ہوئے۔ با آواز بلند بولیں۔ ’’ بکواس ہے یہ بیوٹی بکس۔ پتہ نہیں کس جاہل نے کہاں سے خریدا ہے۔ اِس میں تو تبت سنو نہیں ہے‘‘؟!۔
آج اُن کے جنازے پر جاتے ہوئے میں یہ محسوس کر رہا ہُوں کہ اچھی تھیں وہ سادہ دل عورتیں ۔ جو وینا ملک کی بے حیائیاں ، بگ باس کی فحش لباسیاں اور بھارتی چینلز پر چلنے والے ہزاروں قسطوں والے ڈراموں کی فریبی مکار عورتیں دیکھنے سے پہلے ہی دنیا سے چلی گئیں۔
تبت سنو کو تو شاید آنے والے دنوں میں لوگ بھول جائیں لیکن بھابھی تبت سنو کو خاندان والے ہمیشہ یاد رکھیں گے کہ محبت سے رکھے گئے یہ نِک نیم کبھی پیچھا نہیں چھوڑتے اور اصلی نام اِک کے نیچے دَب کر رھ جاتے ہیں۔
ہر طرف اندھیرا چھا یا تھا جب میری آنکھ کھلی
میں خود خود سے گھبرایا تھا جب میری آنکھ کھلی
میں مشرق ، مغرب اور شمال جنوب نہ ڈھونڈ ھ سکا
مجھے گرمی نے تڑیاپا تھا جب میری آنکھ کھلی
بچہ رویا، ماں چیخی دادا نے ہائے کی
میں کس کس سے ٹکرایا تھا جب میری آنکھ کھلی
مرغی کی ٹانگ سمجھ کے جب میں نے ہاتھ دیا
ہائے ہائے چلایا تھا جب میری آنکھ کُھلی
پتے شاخ سے اترے شاخ ہوئی ویران
جیسے قبر میں کوئی جا پہنچا انسان
پہلے صفحے کو دیکھ کے خوش ہور ہا ہے تو
اگلا صفحہ نکال تیرا نام ہے وہاں
دے دے کوئی مثال تیرا نام ہے وہاں
لکھے گا کوئی عشق کی مجھ جیسی داستان
ہر لفظ تیری شان ہر فقرہ تیرے نام
اِک بیاض کو سنبھال تیرا نام ہے وہاں
خوش ہو نا یوں زبان سے سن سن کے اپنا نام
آ دل میرا نکال تیرا نام ہے وہاں
***

Viewers: 8198
Share