Nasir Malik | Editorial | سب اچھا ہے

ناصر ملک ایڈیٹر’’اردو سخن‘‘۔ چوک اعظم ضلع لیہ فون: 0302-7844094 سب اچھا ہے (سخن ور فورم ملتان کی تقریبِ دل پذیر پر لکھا گیا ایک مضمون) جنوبی پنجاب کے ادب […]

ناصر ملک
ایڈیٹر’’اردو سخن‘‘۔ چوک اعظم ضلع لیہ
فون: 0302-7844094

سب اچھا ہے

(سخن ور فورم ملتان کی تقریبِ دل پذیر پر لکھا گیا ایک مضمون)

جنوبی پنجاب کے ادب پر اگر نظر ڈالی جائے تو رضی الدین رضی، شاکر حسین شاکر اور سخن ور فورم نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ سخنے درمے جہتِ مسلسل سے ادب کی آبیاری میں مگن رہنے والے افراد بہت قیمتی ہوتے ہیں۔ بلاشبہ رضی اور شاکر کی جوڑی کا مقام سنہرے لوگوں میں ہوتا ہے۔ ۲۷ نومبر کو سٹیٹ بینک آڈیٹوریم ملتان میں منعقد ہونے والے عظیم الشان ادبی میلے کا انعقاد بذاتِ خود ایک بہت بڑی تحریک تھی جس کے روح و رواں رضی ، شاکر، ضیا ثاقب اور سخن ور فورم تھے جن کی مشاقانہ اور دل جمعی سے لبریز لگن نے کارنامہ سرانجام دیا۔ اس سے جہاں دوسرے مفادات حاصل کیے گئے وہاں ادباء و شعراء نے باہمی ملاقات کا دور رس ثمر بھی کشید کیا۔ میرا خیال ہے کہ یہی مفاد حاصلِ تقریب تھا وگرنہ تو کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا بارہ آنے کے مصداق ایک لاحاصل ریاضت کی سوکھی ٹہنیوں سے نادیدہ پھل توڑ کر جی کو لبھا لیا گیا۔ علی الصباح، ساڑھے نو بجے شروع ہونے والی تقریب کے شرکاء دور دراز سے مدعو تھے جنہیں سورج نکلنے سے پیشتر گھروں سے نکلنا پڑا۔ ان کو پنڈال میں تلاشی دینے، سکینر سے گزرنے، کارڈ دکھانے اور رجسٹریشن کے نام پر ’’حاضری‘‘لگانے کے بعد ہال میں لا بٹھا دیا گیا۔ چاہئے تھا کہ ان کو کچھ دیر آرام کرنے کیلئے عارضی آرام گاہ فراہم کر دی جاتی، تازہ دم ہونے کا موقع دیا جاتا اور ان کی تواضح کی جاتی مگر اس طرف کسی کا دھیان نہیں گیا۔ بڑی تقریب کے انعقاد میں ایسے معمولی سقم رہ ہی جایا کرتے ہیں۔
اس تقریب کے دو پہلو تھے۔ ایک بشری رحمن صاحبہ کے ناول ’’دانا رسوئی‘‘ کا تعارف اور دوسرا وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے جنوبی پنجاب کے رائٹرز کا مکالمہ تھا۔ موخر الذکر پہلو تو تشنہ رہا کیونکہ حسبِ معمول گیلانی صاحب تشریف نہیں لائے بلکہ اپنی موجودگی پر ناراضی فرو کرنے کیلئے انہوں نے اپنی جگہ پر اپنے فرزند علی موسی گیلانی کو مسند نشین کر دیا۔ جلسے کے اس پہلو کی سرے سے ناکامی کی تاویل مجلس کو یہ دی گئی کہ ناٹو افواج کے پاک آرمی کی چوکی پر حملے سے پیش آنے والی ایمرجنسی کی بدولت گیلانی صاحب کو اپنا دورہ منسوخ کرنا پڑا۔ مان لیا گیا اور دل ہی دل میں ناٹو افواج کوکوس لیا گیا۔
چاہیے تھا کہ اگر وہ تشریف نہیں لا سکتے تھے تو حکومتِ وقت کا ذمہ دار نمائندہ مجلس کرتا اور اتھارٹی کے ساتھ اعلانات کرتا۔ اگر اس ضرورت کو پورا بھی کر لیا جاتا تو حاصل ہونے والے مفادات میں سرِ فہرست پاکستان اکادمی ادبیات کی ملتان برانچ کا قیام تھا۔ یہ مطالبہ کتنا وزن رکھتا ہے، اس کو سمجھنے کے لیے لاہور میں قائم اکادمی کی برانچ کی کارکردگی پر نظر ڈال لی جائے تو اس کے پھسپھسے ہونے کا پتا چلتا ہے۔ اکادمی کا ادارہ پاکستان کے دوسرے اداروں مثلاً پی آئی اے، پاکستان ریلوے وغیرہ سے مختلف کارکردگی کا حامل نہیں ہے۔ ایک مکمل طور پر ناکام ادارے کی ایک عمارت اگر ملتان میں کھڑی کر لی جائے، چند بیوروکریٹ اور سیاسی من پسند افراد کی تنخواہوں کو بوجھ خزانے پر لاد دیا جائے تو کیا عوامی پیسے کا زیاں نہیں ہو گا؟ اکادمی کی برانچ سے جنوبی پنجاب کے رائٹرز کو کون سے مفادات حاصل ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے؟ دوسرا مطالبہ پاکستان ٹیلی وژن سنٹر کے ریجنل آفس کی اپ گریڈیشن تھا۔ رضی اور شاکر صاحبان منجھے ہوئے لکھاری ہیں۔ کالم نگار ہیں۔ ہر پہلو پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ کیا انہیں یہ علم نہیں کہ ایک ریجنل آفس بھی جنوبی پنجاب کے رائٹرز کیلئے کچھ نہیں کرتا تو اپ گریڈیشن کے بعد ماسوائے چند بڑی تنخواہوں کے بوجھ میں دب کر کیا کرے گا؟ یہ ادارہ رائٹرز کے لیے کر بھی کیا سکتا ھے؟۔۔۔ پرائیویٹ چینلز کی بھرمار میں ویسے بھی یہ ادارہ پاکستان ریلوے کے نقش پا پر چل رہا ہے۔ کوئی دم آتا ہے تو اس کے دیوالیہ ہونے کی خبر آتی ہے۔ اس مطالبے کا کم سے کم ہماری دانست میں تو کوئی فائدہ نہیں سمایا۔ ممکن ہے تقریب کے منتظمین کا ہوم ورک بہتر ہو۔ ایک مطالبہ آڈیٹوریم کی دیوار پر آویزاں تھا کہ رائٹرز کالونی تعمیر کی جائے۔ نہ جانے کیا مصلحت تھی کہ رضی الدین رضی کے استقبالیہ میں اس مطالبے کا تذکرہ نہیں تھا۔ اسی طرح رائٹرز فنڈ کے قیام سمیت دوسرے مطالبوں کی کم سے کم ہمیں کوئی سمجھ نہیں آئی۔
کافی عرصے سے ہمیں ملتان کے ہر اخبار میں دو چار نام ادبی رپورٹوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اس پروگرام میں بشری رحمن کے ناول ’’دانا رسوئی‘‘ کی شان میں زمین و آسماں کے قلابے ملاتے ہوتے ہوئے وہی نام سامنے آئے۔ یہاں ’’واہ واہ‘‘ کی روش تو تھی مگر نظر و نقد کا سماں نہ تھا۔ ان بڑے ناموں کی پیش کی گئی تعریفوں کو عالمی ادب میں جگہ ملنی چاہئے تاکہ دنیا اس ناول کو پڑھے اور سراہے۔ جنوبی پنجاب کے بھرپور خطے سے آنے والے رائٹرز کو نہ تو پہلے سیشن میں نمائندگی دی گئی اور نہ ہی دوسرے میں۔ مجھے بخوبی یاد ہے کہ اکادمی ادبیات لاہور کی ایک منعقدہ تقریب میں رضی صاحب نے مجھ سے کہا تھا کہ ہم یہاں ’’سٹوڈنٹس‘‘ کی طرح لائے گئے ہیں۔ یعنی دیکھ سکتے ہیں، سن سکتے ہیں اور برداشت کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکتے۔ بعینہ یہی کیفیت اس تقریب میں تھی۔ رضی صاحب نے لاہور میں جو کاٹا تھا، وہ ملتان میں آ کر بو دیا۔ چاہیے تھا کہ ہر ضلع کو اس تقریب میں شامل کر لیا جاتا تاکہ ہر ضلع کی نمائندگی ہو جاتی۔ ہر ضلع سے ایک مندوبین کو اظہارِ خیال کا موقع دیا جانا چاہیے تھا۔
بے پناہ مایوسی کے عالم میں واپسی سفر میں ہم یہ سوچ رہے تھے کہ اگر ’’دانا رسوئی‘‘ کی بے جان اور پھسپھسی تعریفیں ہی سننا تھیں تو اتنے تردد کی ضرورت کیا تھی؟ ناول خرید کر پڑھ لینا اس سے کہیں بہتر تھا۔ رضی اور شاکر کے ادبی کارناموں کو ذہن میں رکھ کر تقریب کے بارے میں جو توقعات دل و دماغ نے تخلیق کر لی تھیں، وہ بہت مایوس کن انجام سے دوچار ہوئیں۔ البتہ دو چار دوستوں سے ملاقات کا حظ حاصلِ تقریب ٹھہرا جو دل کو تقویت دیتا ہے۔ یہ بھی کم نہیں تھا۔
***

Viewers: 6685
Share