Farkhanda Razvi | Khab Khab Zindagi | فرزانہ فرحت کی’’شام کے بعد‘‘کی کہانی۔۔۔خواب زندگی زندگی

فرخندہ رضوی ریڈنگ۔ انگلینڈ ای میل: khanda56@hotmail.com فرزانہ فرحت کی’’شام کے بعد‘‘کی کہانی۔۔۔خواب زندگی زندگی فرزانہ فرحت صاحبہ کے دو شعری مجموعے ،شام کے بعد اور خواب خواب زندگی میرے […]

فرخندہ رضوی
ریڈنگ۔ انگلینڈ
ای میل: khanda56@hotmail.com

فرزانہ فرحت کی’’شام کے بعد‘‘کی کہانی۔۔۔خواب زندگی زندگی

فرزانہ فرحت صاحبہ کے دو شعری مجموعے ،شام کے بعد اور خواب خواب زندگی میرے سامنے ہیں ۔خوبصورت سَرورق میں لپٹی باتوں کی شاعری ،جیسا کہ پہلی کتاب شام کے بعد ،کا انتساب مصنفہ نے اپنے شہدبھائی کے نام اور خواب خواب زندگی کا انتساب انہوں نے ایک ایسی ہستی کے نام جس کی محبتوں کے قرض دار تا حیات رہیں گے ہم۔شام کے بعد ،کی اشاعت ۲۰۱۰ �أ میں ہوئی اور دو سرے شعری مجموعے کی اشاعت ۲۰۱۱ �أ میں ایک کتاب منظر عام پر آنے کے بعد ایک سال کے مختصر عرصے میں ان کا دو سرا شعری مجموعہ بھی شائع ہو گیا ۔یہ قابل غور بات ہے۔میں فرزانہ فرحت کو بلکل بھی نہیں جانتی تھی ۔کیونکہ میں خود بھی مشاعروں میں حاضری نہیں دیتی۔ایک دو ویب سائٹ پر فرزانہ کا نام دیکھا تو شاعری بھی پڑھنے کو ملی۔پھر ایک دن اچانک جرمنی سے شفیق مراد صاحب کا فون آیا جو خود بھی شریف اکیڈیمی کے چیف ایگزیکٹو بھی ہیں ۔باتوں باتوں میں انہوں نے فرزانہ فرحت کے حوالے سے ان دو کتابوں کا ذکر بھی کیا ۔
مجھے مصنفہ کا فون نمبر دیا۔مگر میری مصروفیت نے ابھی اجازت نہیں دی تھی کہ ایک دن اچانک میرے کانوں میں اُسی مصنفہ کی آواز کی بازگشت گونج اُٹھی ۔کافی دیر گفتگو جاری رہی ۔ذیادہ تر ہمارا مو ضوع ادب ہی رہا ۔یہ تو سچ ہے جب دو ایسے لوگ جن کا ادب سے تعلق ہو پھر بات گھوم پھر کر وہیں آجاتی ہے ۔وعدے کے مطابق فرزانہ فرحت نے اپنی دونوں شعری مجموعے پوسٹ میں ارسال کئے۔پچھلے کچھ ہفتے مصروفیت ایسی رہیں کہ ان کتابوں کا مطالعہ کرنا ممکن نہ ہو پایا ۔

اپنی عادت کے مطابق کہ جب تک کتاب پڑھوں نہیں کسی کے لئے کچھ بھی لکھنے کی جسارت نہیں کرتی ۔نئے شعرأ میں ایسے لوگوں کی تعداد خاصی ہے جو اچھا کلام لکھ رہے ہیں۔آج میں بھی اسی مصنفہ کی کتابوں کے مطالعے کے بعد کچھ لکھنے کی کوشش کروں گی ۔
پہلی کتاب شام کے بعد ،کے تعارف میں طیبہ شنہاز لکھتی ہیں کہ تقریباََ ڈیڑھ سال کا عرصہ گزرہ فرزانہ فرحت نے کچھ لکھنے کے لئے قلم تھاما ،پہلی نظم( شہد) بھائی کی نذر کی ۔اِسی نظم سے فرزانہ کی شاعری کا آغاز ہو چکا تھا ۔ادب کی دنیا میں قدم رکھ چکی تھی ۔دروتدریس سے تعلق تو تھا ہی مجھے یہ لکھتے بلکل تعجب نہیں ہو رہا ۔زمانہ بڑی تیز رفتاری کی گردش میں ہے تو قلم کی طاقت بھی اس تیز رفتاری کی زد میں ہے۔اشعار تو آہینہ ذات کی وہ کرچیاں ہیں کہ جنہیں یک جا کر دیا جائے تو ایک لکھاری کی ذات و شخصیت کی خوبصورت و مکمل تصویر بننے لگتی ہے۔
فرزانہ فرحت نے ،شام کے بعد میں بہت صاف گوئی و سادہ لفظوں کا استعمال کیا ہے۔جسے پڑھنے والے کو کسی لُغت کا سہارا نہیں لینا پڑھے گا ۔مصنفہ نے اپنی قلبی کیفیات کو اس طرح ظاہر کیا کہ قاری کو ان کی شاعری اسی لکھاری کے جذبات میں ڈوبی محسوس ہونے لگے ۔مثال ایک غزل کے دو اشعار ،میری اس بات کی عکاسی کرتے ہوئے
بہار آئی نہ رستے پہ کوئی پھول نکلا
تمام عمر نہ دیکھا گلاب کا موسم
میں گرم ریت پہ پانی سمجھ کے چلتی رہی
نگاہ میں تھا فقط اک سراب کا موسم
جلتے بجھتے ،ٹمٹماتے ستاروں کی رات میں آنکھ لگتے ہی لفظوں کے خواب بننے کی کوشش کرتی ہوئی فرزانہ کی شاعری ایک طرح کا احتجاج کرتی نظر آتی ہے۔اُس نے جب ہجر و وصال کی بات کی تو لفظ اشعاروں کی مالا بُنتے غزلوں کے روپ میں ڈھلتے ہی چلے گے ۔جس طرح ان کا دو سرا شعر پہلے شعر کی توثیق کرتا ہے۔انسانی وجود کے بکھراؤ کا رونا فرزانہ فرحت کی شاعری میں جابجا بکھرا ہوا ہے۔انہی کے اشعار ۔
سفر میں آبلہ پائی رہی تھی
دکھوں سے بھی شناسائی رہی تھی
نہ سچ ہے بے وفا وہ بھی نہیں تھا
نہ میں چاہت میں ہر جائی رہی تھی،
بہت سی اس کتاب کی غزلیں پڑھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں ۔غزلوں کے قوس وقزحی رنگوں میں بے کنار فضا کا پھیلاؤ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ قلم کا سفر طویل تو نہیں پھر بھی خوبصورت لفظوں کے شاداب و لہلہاتے منظروں کا ایک ہجوم سطح چشم پر ابھرتا ہے۔جہاں اظہار محبت و حقیقت کو لفظوں کی مالا میں پروہیہ جا سکتا ہے۔
کشمکش میں جو رات رہتی ہے
دل پہ اک وار دات رہتی ہے
گفتگو جب بھی تُجھ سے ہوتی ہے
کوئی اُلجھی سی بات ہوتی ہے
کہتے ہیں حساسیت قدرت کا سب سے بڑا عطیہ ہوتا ہے ۔کامیاب لوگ اپنی حساسیت کو اپنی طاقت بنا لیتے ہیں ۔فرزانہ فرحت نے بھی انہیں حساسیت کو اپنی طاقت بنا لیا ۔جو لفظ اسے راتوں کو سونے نہیں دیتے ۔وہ قلم میں سماتے دیر نہیں کرتی ۔وہ شب کی گہری اور مسلسل سیاہی میں بھی روشنی کا سفر طے کرتے آگے بڑھنے کی کوشش میں ہے۔
رنگ ،روشنی اور خوشبو کا یہ سلسلہ اشعاروں میں ڈھال لینے کا فن جانتی ہے۔مجھے فرزانہ فرحت کے ان دونوں شعری مجموعے پڑھنے کے بعد لگا ۔کہ ان کے چند اشعار ابتدائی عشق کے طور پر پڑھے جاسکتے ہیں ۔ابھی اس عشق کو دھواں بننے میں وقت لگے گا ۔اس بات میں کہیں بھی شک کی گنجائش نہیں کہ شاعری سے شدید عشق کے ساتھ سانسوں کا سفر طے کیا جاتا ہے۔
خواب خواب زندگی ،کی ایک نظم جسے مصنفہ نے خوبصورت اندازِ بیانی دی ہے۔میری مقبول ہوئی ہے دعا ۔ایک ایسی ہی خوبصورت نظم ہے ۔
شام کے بعد ،میں ماں کی جدائی ،رخصتی ،آنچل جیسے موزوں کو بڑی خوبصورتی سے اشعاروں کے سپرد کیا ہے۔میرے خیال میں زیر نظر مجموعے نظم غزل کے ارتقا کی داستان ہیں ۔محرومیوں اور نا کامیوں میں زندگی کی دلچسپوں کو برقرار رکھنے کا اس سے بہتر کوئی اور طریقہ نہیں ۔
اب میں کسی غزل اور نظم کا حوالہ نہیں دؤں گی ۔چاہوں گی ادب سے محبت کرنے والے خود اِن کتابوں کا مطالعہ کریں ۔مجھے اُمید ہے انہیں معیوسی نہیں ہو گی ۔ اس بات سے مطمین ہوں کہ کم از کم اردو ادب کی شمع جل تو رہی ہے پرانے لکھنے والوں کے ساتھ ساتھ نئی نسل بھی اردو کی فروغ کے لئے کوشاں ہے۔ اپنی تحریر کے اختتامیہ لفظوں سے پہلے ایک بات مصنفہ سے کہوں گی کہ انہوں نے249 شام کے بعد،میں میری شاعری کا ایک حیران کن سفر میں وضاحت کی ہے۔اپنی شاعری کی ابتدائی داستان کہ وینس ٹی۔وی کے ایک مشاعرے میں ایسی مہربان ہستی سے ملاقات(جو نامورشاعر)کا ذکر تو کیا مگر نام نہیں۔۔میرے خیال میں ایسے مہربانوں کے نام سَرِ فہرست آنے چاہیں جو نئے لکھنے والوں کو اپنے ساتھ کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں ۔میں فخر کرتی ایسے لوگوں پر ۔ایسا میرا خیال ہے کسی کا میرے خیال سے متفق ہونا ضروری بھی نہیں ۔
ان دونوں شعری مجموعوں میں رائے دیتے ہوئے محترم شفیق مراد شریف اکیڈمی جرمنی کے چیف ایگزیکٹو نے فرزانہ فرحت کو گلستان ِ اَدب میں کھِلنے والا پھول کہا۔۔اسی طرح ہمارے محترم ڈاکٹر عبدالغفار عزم صاحب نے (صدر اردو تحریک عالمی )نے فرزانہ فرحت کو افق ِ شعرو سخن پر ابھرتا ہوا روشن ستارہ کہا ہے۔میں آخر میں اتنا کہوں گی کہ خدا کرے ،فرزانہ فرحت،کے جذبات سے عاری درجنوں غزلوں اور نظموں کی بھیڑ میں ان دونوں خوبصورت مجموعوں کا ادبی دنیا میں استقبال ہو۔ان کے قلم کا یہ سفر یہونہی برقرار رہے۔ہزارں کامیابی کی دعاؤں کے ساتھ ۔اَدب سے محبت کرنے والے انشأاللہ ،شام کے بعد ،اور خواب خواب زندگی،سے نکلنے والی شعاعوں سے محظوظ ضرور رہوں ۔۔
فرزانہ فرحت کا ادبی محفل میں خیر مقدم ۔کامیابی کی ہزاروں دعائیں

Viewers: 7347
Share