Reehan Bashir Shad | Short Story | بزدل انسان؟؟؟

ریحان بشیر شاد بہاولنگر۔ پاکستان فون: 03007586223 ای میل: rbshaad@gmail.com بزدل انسان؟؟؟ ’’پاپڑ کرارے، کرارے پاپڑ‘‘ میری آواز جیسے ہی گلی میں گونجتی ، محلہ بھر کے بچے میرے گرد […]

ریحان بشیر شاد
بہاولنگر۔ پاکستان
فون: 03007586223 ای میل: rbshaad@gmail.com

بزدل انسان؟؟؟

’’پاپڑ کرارے، کرارے پاپڑ‘‘
میری آواز جیسے ہی گلی میں گونجتی ، محلہ بھر کے بچے میرے گرد ایسے جمع ہوجاتے جیسے شہد پر مکھیاں۔۔۔ معصوم بچوں کو دیکھتا تو مجھے اپنا بچپن یاد آجاتا ،بچوں میں گھرا اپنے آپ کو خوش نصیب تصور کرتا ۔۔۔۔ بچوں کی معصومانہ شرارتیں، پیارو خلوص سے لبریز باتیں اور فکرو غم سے ماورا چہرے فرشتوں سے کم نہیں تھے۔۔۔ انہی بچوں کے درمیان میں خود کو بھی کھیلتے کودتے دیکھتا،بچپن کی ناآسودہ خواہشوں کا کڑوا ذائقہ ابھی تک میری زبان پر تھا۔۔۔۔ شایدیہی وجہ تھی کہ میں کمانا ہی نہیں لٹانابھی جانتا تھا ۔۔کسی معصوم بچے کو حسرت اور للچائی نظروں سے پاپڑ وں کی طرف تکتے دیکھتا تو یونہی تھوڑے پاپڑ اٹھا کر بچے کے ہاتھ میں تھما دیتا۔۔۔۔ بچوں کے چہرے پر حسرت کی جگہ رونق لے لیتی۔۔۔ مسکراتے ہوئے مٹھی بھر پاپڑ پاکر ایسے بھاگتے جیسے کوئی بہت بڑا خزانہ مل گیا ہو۔۔۔۔۔۔ دو روپے میں بچوں کو شاپر بھر کر پاپڑ دینا میری عادت سی بن گئی تھی۔۔۔ کیسا عجیب انسان تھا میں۔۔۔۔۔ کہ اپنے گھر والوں کا پیٹ پالنے کیلئے لوگوں کا پیٹ بھرتا پھر تا تھا۔
آسائشات زندگی سے کوسوں دور ۔۔آنے والے وقت کے ڈراؤنے چہرے سے بے خبر…آنکھوں میں بھوک لییبھوکے ننگے ، غریب بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھتا تو میری آنکھیں بھر آتیں ۔۔۔۔ میرا اپنا بچپن بھی من میں مچلتی خواہشوں سے آنکھ چراتا رہا، اندھے پر بستے کی بجائے بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ رہا۔۔۔۔۔محنت مزدوری کے ساتھ ساتھ میں نے اپنی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور جوں توں کرکے آٹھ جماعتیں پاس کرلیں۔ کبھی کبھار جیب میں اگرتھوڑے بہت پیسے آبھی جاتے تو گھنٹوں سکول کے باہر لگی دہی بھلوں، فروٹ چارٹ کی ریڑھیوں کے پاس کھڑے ہو کر سوچتارہتا کہ ان پیسوں سے پیٹ کی آگ بجھاؤں یا لکھنے پڑھنے کا سامان خریدوں۔۔۔۔ ہر بار پڑھنے کا جنون بھوک پر حاوی ہوجاتا ۔دن بھر پڑھتے ہوئے مستقبل کے سہانے خواب دیکھتا اور شام کو وردی کی جگہ ان دھلے اور بوسیدہ کپڑے پہن کر ، پھولوں کے گجرے اٹھائے کسی چوراہے پر کھڑا ہوتا یا کسی ہوٹل کے برتن مانجھ رہا ہوتا۔۔۔۔۔ محرومیوں سے لڑ کر بچپن۔۔ آنکھ چراتا لڑکپن تک پہنچا ۔۔۔۔۔پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر پاپڑوں سے بھری ریڑھی دھکیلتے دھکیلتے مجھے شدید احساس تھا کہ کولہو کے بیل کی طرح جتے، فکرِ معاش کے باعث۔۔۔بچپن کی معصومیت کے بعد اب جوانی کی شوخیاں اوروقت کی رنگینیاں بھی میرے ہاتھوں سے نکلتی جا رہی ہیں۔۔۔۔۔ اور آج بھی ہر روز کی طرح بچوں کے ہاتھوں لٹ کر خالی ریڑھی دوڑائے ، تیزی سے اپنے گھر کی جانب رواں دواں تھا۔
سورج سر پر تھا ، ہانک لگا لگا کر گلا خشک ہورہا تھا۔۔۔ ۔نقاہت سے ،چلنا تو کیا بولنا تک دشوار ہو گیا تھا۔۔۔ہو کا عالم تھا، گلی میں نہ کوئی دکان کھلی تھی اور نہ ہی کوئی آدمی دکھائی دیا کہ جس سے پانی مانگتا۔۔۔چلتے چلتے سڑک کے دائیں جانب میری نظر ایک بڑی سی شاندار کوٹھی پر پڑی ۔۔۔ جس کی دیواروں کو مختلف رنگوں کی خوشبودار بیلوں نے ڈھانپ رکھا تھا۔۔۔ ۔ کوٹھی ے اندر لگے بڑے بڑے درختوں کا سایہ کوٹھی سے باہر جھانک رہا تھا۔۔۔ پیاس کی شدت اور مسلسل چلنے کی وجہ سے سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔۔ دل میں نجانے کیا آئی ۔۔۔ سستانے اورپیاس بجھانے کی خاطر میں ۔۔۔ ڈرتے ڈرتے دیو قامت گیٹ کے پہلو میں لگی گھنٹی بجا بیٹھا۔۔۔۔۔ گھنٹی کے جواب میں گیٹ کے دائیں جانب دیوار میں نصب سپیکرز میں سے نسوانی آوازسنائی دی : کون؟؟؟؟
میں نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا: گردشِ ایام سے گھبرا کر کچھ دیر سستانے کی غرض سے آپ کی کوٹھی کے سایے میں پناہ لینے کی جسارت کر لی ہے،۔۔۔۔زندگی کی سانسیں قائم رکھنے کیلئے دستی ریڑھی چلاتا ہوں۔۔۔۔۔ پیاس لگی ہے، پانی ملے گا؟؟؟اتنی لمبی تمہید کے بعد اندر سے وہی نسوانی آواز سنائی دی ۔۔۔۔ کرمو بابا! باہر کوئی شاعر صاحب کھڑے ہیں پانی کا گلاس دے آؤ۔ ۔۔۔ محترمہ نے لفظ شاعر پر خاصا زور دیتے ہوئے میرے اندازِ تخاطب پر شاید طنز کیا تھا۔
کندھے پر رومال رکھے پیوند لگے کپڑے پہنے۔۔۔ چہرے کی جھریوں میں صدیوں کی مسافت لیے بابا جی۔۔۔۔( جو شاید امیرزادی کا پرانا خدمت گزار تھا ) باہر آئے اور گلاس تھماتے ہوئے بولے۔ لو بیٹا پانی !میں نے فوری بابا کرمو سے گلاس پکڑا اور غٹاغٹ ایک ہی سانس میں سار ا پانی اندر لگی آگ پر انڈیل دیا۔۔۔۔۔۔ پانی پینے کے بعد شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے گھر کی راہ لی۔ آج خلافِ معمول بچوں کی معصومانہ باتیں ذہن میں گونجنے کی بجائے ایک ہی بات سماعتوں سے ٹکرا رہی تھی۔ ’’کرمو بابا! باہر کوئی شاعر صاحب کھڑے ہیں پانی کا گلاس دے آؤ! ‘‘ بات تو خیر کچھ نہ تھی، مگر آواز میں گونجتی میٹھی دھن کا اثر تھا کہ ایک دن گزرنے کے باوجود ذہن کی دیواروں سے یہی بازگشت بار بار ٹکرا رہی تھی۔
اگلے دن بچوں کے ہجوم میں گھرے ہونے کے باوجود ۔۔۔۔میں اسی خوبصورت آواز کے حصارمیں تھا، آج دوپہرکو معمول سے زیادہ سخاوت کرتے ہوئے جلدی جلدی اونے پونے داموں سارے پاپڑ بیچ کر خالی ریڑھی لئے پھر اسی در پر آن کھڑا ہوا۔ گھنٹی دینے کے بعد پھر وہی سماعتوں میں رس گھولنے والی آواز سنائی دی، ڈرتے ڈرتے میں نے کہا: پانی کا ایک گلاس ملے گا؟؟؟
کچھ دیر کے توقف کے بعد دیو قامت گیٹ تھوڑا سا کھلا اور ایک پری ذاد چہرے نے باہر جھانکا ، چہرے کا گیٹ سے باہر جھانکنا تھا کہ ایسے لگا جیسے چلچلاتی دھوپ اچانک غائب ہوگئی اورموسم خوشگوار ہو گیا، دل و دماغ میں چڑیوں کے چہچہانے کا اک شور برپا ہوا۔۔۔۔ ہوا کے ٹھنڈے تھپیڑے جسم سے یوں ٹکرائے کہ ساری تھکن ہوا ہو گئی۔۔۔۔حسن کی چکا چوند ایسی تھی کہ ایک دم آنکھیں چند ھیا گئیں ۔۔۔۔آنکھوں کے آگے اندھیرہ چھا گیا۔۔۔۔۔ پرندوں کے شور سے یوں لگا جیسے پرندے کہہ رہے ہوں’’ آؤ اس حورِ بے مثال کو دیکھو۔۔۔۔۔ بڑی بڑی کالی ساگر سے بھی گہری آنکھیں۔۔۔۔ گلاب سے نازک ہونٹ۔۔۔۔چہرے پر جھولتی لٹ ، سونے پہ سہاگہ۔۔۔۔۔۔۔ تیکھا ناک، مسکراتا شوخ، چاند سا چہرہ۔۔۔۔صراحی سی گردن، اور سرخ رنگ کا لباس قیامت ڈھا رہا تھا۔
’’کل کیا آپ نے آبِ حیات پی لیا تھا کہ آج پھر آدھمکے ؟‘‘۔ خوبصورت آواز سکوت توڑتے ہوئے، مجھے خیالوں کی وادی سے باہر لے آئی۔ جج، جی جی ہاں، نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں بس ویسے ہی گلی کے باقی خستہ حال مکانوں سے گرم پانی ملتا ہے، آپ کے ہاں ٹھنڈا پانی ملاتھا ناں!کل کے پانی میں ایک خاص ذائقہ تھا ، جس سے پیاس فوری بجھ گئی، لیکن اگر آپ پانی نہیں پلانا چاہتیں تو کوئی بات نہیں ، میں کہیں اور چلا جاتا ہوں۔۔ ابھی چلنے کی تیاری ہی میں تھا کہ واپس مڑتے ہوئے قدموں کی چاپ سنائی دی عجیب بندہ ہے!!! بابا کرمو! پھر آج وہی شاعر صاحب دروازے پر کھڑے ہیں، پیاسے ہیں ، پانی پلا دو۔ بابا کرمو نے گلاس تھماتے ہوئے کہا، بیٹا ماتھے پر بڑا پسینہ ہے، لگتا ہے بڑی محنت کرتے ہو ، لو ٹھنڈا پانی پیوتھوڑا سکون ملے گا۔ اب بابا کرمو کو میں کیا بتاتا کہ ماتھے پر پسینہ گرمی کی شدت سے نہیں حسن کی کی تمازت سے آیا ہے۔۔۔۔۔ پانی پی چکنے کے بعد گلاس واپس لیتے ہوئے بابا کرمو نے کہا بیٹا کوئی بات نہیں کبھی پیاس محسوس ہو تو بیل دے دیا کرو۔ بابا کرمو کی اس بات سے تھوڑا حوصلہ ہوا اور دل میں سوچا: بابا جی پیاس نہ بھی ہو آپ دوپہر کو گلاس میں ٹھنڈا پانی تیار رکھا کریں۔
گھر جاتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ پیار محبت کے جذبوں سے ناآشنا کسی بندے پر جب بہار آتی ہے تو سمجھ بوجھ کی حس ختم ہو جاتی ہے اور خوابوں کے ویران جزیرے ہر ے بھرے کر دیتی ہے۔ ۔۔۔اندر کیا طوفان برپا تھا ؟مجھے نہیں معلوم ! ۔۔۔۔۔ بس زندگی کا معمول بدلتا جا رہاتھا اور من کی بے چینی روز بروز بڑھتی چلی جارہی تھی۔
میں روزانہ گلی کوچوں میں پاپڑ بیچتے ہوئے جلدی جلدی فارغ ہوکر ملکہ کے محل نما کوٹھی کی جانب چل پڑتا ، انجام کے خوف سے ذہن ماؤف ہوتا جارہا تھا اور دل۔۔ ذہن کی حائل کردہ ساری دلیلوں اور حقیقتوں کو جھٹلاتا چلا جا رہا تھا۔۔۔ اور میں پانی پینے کے بہانے روزاس در پر جا کھڑا ہوتا ۔
حسن کا پردہ روز بروزسرکتاچلا گیا۔۔۔۔ اور کچھ ہی دنوں کے بعد دوشیزہ سر سے پاؤں تک اپنی پور ی حشر سامانیوں کے ساتھ میرے سامنے کھڑی تھی۔اسکے چہرے کے تاثرات سے مجھے شائبہ ہوا کہ شاید اس نے پھٹے پرانے بوسیدہ کپڑوں کے اندر ایک مجبور نوجوان کو دیکھ لیا ہو۔ آنکھ کی پتلی کے پیچھے چھپی سچی محبت بھی اس سے پوشیدہ نہ تھی۔۔۔۔۔ اب کیا ہوتا ! پانی پینے کے بہانے میں روز اس کے شاندار محل کے سامنے اپنی تمام تر غربت کے ساتھ کھڑا پانی پی رہا ہوتا۔۔۔۔۔۔ وہ مسلسل میرے سامنے کھڑی مجھے تکتی رہتی ، اسکی نگاہیں میرے وجود کو ٹٹول ٹٹول کرنجانے کیا ڈھونڈتی رہتیں ۔۔۔۔۔ میں چسکیاں لینے کے انداز میں پانی پینے لگتا اور اس حسینہ کی آنکھوں میں ڈوبتا چلا جاتا۔دل میں ایک انجانا خوف تھا جو مجھے اس سے مخاطب ہونے میں حائل تھا، تمام تر کوششوں کے باوجود مجھے اس سے بات کرنے کا حوصلہ نہ ہوتا۔۔۔۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ان دنوں بابا کرمو کا بھی کوئی اتا پتہ نہ تھا۔
آنکھوں آنکھوں سے باتیں کرتے کرتے ایک مہینہ بیت چلا۔۔۔۔۔ پہل کون کرے؟؟؟؟ اسی دیوا ر کے آر پار دونوں ایک دوسرے کے سامنے چپ چاپ کھڑے رہتے اور وقت اپنی رفتا ر لیے اُڑتا چلا گیا۔
اس حسینہ کے سلکی بالوں کی چہرے سے چھیڑخانیاں کرتی لٹ۔۔۔۔ اس کی نشیلی جھیل سی آنکھوں میں پیاس۔۔۔۔۔ اس کے شرم سے لال ہوتے گال۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بغیر لپ اسٹک کے قیامت ڈھاتے ہونٹوں نے میرا سب کچھ چھین لیا تھا۔۔۔۔۔
اسکی آنکھوں سے عیاں ہوتی بغاوت مجھ سے چیخ چیخ کر کہتی کہ میں پیار کیلئے ہر طرح کا سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار ہوں۔ لیکن میری غربت نے میری زبان پر ہمیشہ ایک تالا لگائے رکھا۔
گزشتہ کچھ روز سے میری عجیب سی کیفیت تھی، یونہی بوجھل قدم اٹھاتا بے دلی سے پاپڑ بیچنے کیلئے گلیوں کے چکر لگاتا، وقت کی پابندی بھی خاصی متاثر ہوئی تھی، پاپڑ بیچنے کے اوقات بھی اب وہ نہیں رہے تھے، بچے گلی میں کافی کافی دیر کھڑے انتظار کرتے اورتھک ہار کرچلے جاتے اور میں بعد میں پہنچتا ۔ اور شاید آج یہی وجہ تھی کہ اس گلی سے گزرتے ہوئے میں نے آواز لگائی۔ ’’ پاپڑ کرارے ، کرارے پاپڑ‘‘ ،تو خلافِ توقع کوئی بچہ پاپڑلینے نہیں آیا ۔۔۔۔مجھے ایسے لگا جیسے سارے بچوں نے میرے اندر رونما ہونے والی تبدیلی کو بھانپ لیا ہے۔۔۔۔ اور شاید سارے بچے مجھے خود غرض گردانتے ہوئے۔۔۔ ناراض ہوکر اپنے اپنے گھروں میں دبکے بیٹھے ہیں۔ لیکن اپنے پیار اور اس پری زاد کی آنکھوں کے سحر میں اندھے ہوئے۔۔۔۔ مجھے نہ تو بچوں کی غیر موجودگی کا زیادہ احساس ہوا اور نہ ہی اپنی کمائی کا ۔ ۔۔۔
پھر ایک دن تیز تیز قدم اُٹھاتا ، خاموش محبت کی ڈور میں کھچامیں اس محل نما کوٹھی کے در وازے پر تھا۔گلی میں داخل ہو کر میرا آواز لگا نا ہی تھا کہ وہ مہہ وش پہلے سے پانی کا گلاس ہاتھ میں لئے دروازہ میں کھڑی میرا انتظار کر رہی تھی۔
آج وہ پہلے سے کچھ زیادہ حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔ مگر اسکی آنکھوں کی چمک کی جگہ مایوسی ، شکوہ و شکایات اور ناراضگی نے لے رکھی تھی۔ میں نے اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پانی کاایک گھونٹ بھر ا تو پانی ، پانی نہیں شربت تھا۔۔۔۔۔۔ زبان پر لگے تالے نے یہ بھی مہلت نہ دی کہ آج اس کرم نوازی کا سبب ہی پوچھ لوں ۔
میری آنکھوں میں اسکی امارت کا رعب و دبدبہ۔۔۔۔۔ اور اپنے خوابوں کے ٹوٹ جانے کا خوف ۔۔۔۔ جبکہ اسکی آنکھوں میں۔۔۔۔۔عورت کی حیاء اور اپنی امیری کی اناء تھی۔۔۔۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کافی دیر ہمِ خاموش محوِ گفتگوکرتے رہے کہ اچانک بادل گرجے اور بارش برسنا شروع ہو گئی۔ وہ کبھی مجھے اور کبھی ریڑھی پر پڑے بھیگتے پاپڑوں کو دیکھتی ۔ مگر بتانا یا خاموشی توڑنا ہم دونوں کیلئے اناء کی دیوار گرانے کے متراد ف تھا۔ ۔۔۔ اور ویسے بھی میری آنکھوں سے اندھی محبت کا پردہ ہٹتا تو میں ریڑھی پر پڑے پاپڑوں پرشاپر ڈالتا۔
دل و دماغ میں گردش کرتی کشمکش کے ہاتھوں کئی بار میں نے محبت کا اظہار کرنے کیلئے سکوت کو توڑنا چاہا، مگر اپنی غربت اور اپنی اوقات کے پیش نظر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ۔۔۔ ہر پل دل میں ٹھاٹھیں مارتی محبت کو وسوسوں اور خدشات نے دبا دیا۔بہت کوشش کی کہ دل میں مچلنے والے جذبات کو دو لفظوں کی صورت پیش کر دوں ۔۔ مگر بے سود۔۔۔ روز کی طرح جب اس نے مجھے خاموش کھڑے دیکھا تواسکی خوبصورت آنکھوں میں سرخی اتر آئی ، کھلتا پھول سا چہرہ مرجھا گیا، اس نے میرے ہاتھ سے شیشے کا گلا س چھینااور دیوار پر دے مارا۔۔۔۔ گلاس ایک چھناکے سے ٹوٹ گیا ۔ حقارت سے تکتے ہوئے اور پاؤں پٹختے چل دی۔ اور میرے سارے خواب چکنا چور ہوگئے ، جاتے جاتے اس نے صرف اتنا کہاتھا ، بزدل انسان!!!
***

Viewers: 4301
Share