Iqbal Khursheed | Short Story | پھٹے حال

اقبال خورشید کراچی ۔ پاکستان ۔ فون : 0092-321-2312907 E-mail:iqbal.khursheed@express.com.pk پھٹے حال ’’اگر کوئی جانوروں کی بولی سمجھے، فرشتوں کی زبان بولے، اور انسان کی چال چلے، پر بے روزگار […]

اقبال خورشید
کراچی ۔ پاکستان ۔ فون : 0092-321-2312907
E-mail:iqbal.khursheed@express.com.pk

پھٹے حال

’’اگر کوئی جانوروں کی بولی سمجھے، فرشتوں کی زبان بولے، اور انسان کی چال چلے، پر بے روزگار اور پھٹے حال ہو، تو اُس کا بہرا، گونگا اور لنگڑا ہونا افضل ہے۔ اور اگر کوئی دانش کا گہوارہ ہو، اور علمیت کی میخوں سے زمین پر گڑا ہو، پر ہو بے روزگار اور پھٹے حال، تو وہ کچھ بھی نہیں!!‘‘
یہ قدیم، بھونڈے اور نرالے ڈھنگ سے مقدس معلوم ہونے والے جملے راکھ ہو کر وقت کی کوکھ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گُم ہو چکے ہوتے، اگر ’’برنس وارڈ‘‘ میں سَسکتا ہوا، سوختہ مریض، اُنھیں مدہوشی کے عالم میں نہ بڑبڑاتا، اور غلاظت اٹھاتا خاکروب انھیں اتفاقاً سن نہ لیتا۔ بے شک یہ جملے وقت کی کوکھ میں گُم ہو چکے ہوتے، اگر خاکروب بیت الخلاء کے انچارج سے اِن کا ذکر نہ کرتا، جو آگے اُنھیں ہونٹ چبانے کی قبیح عادت میں مبتلا نرس تک نہ پہنچا دیتا، جو بوس وکنار کے دوران کینٹین بوائے کے سامنے اِس بابت اپنے عالمانہ خیالات کا اظہار نہ کر بیٹھتی۔ اور یقیناً یہ گُم ہوچکے ہوتے، اگر کینٹین بوائے اُس شخص کے سامنے اِن کا ذکر نہ چھیڑ دیتا، جو اسپتال کی کینٹین سے ادھار کا کھانا کھاتا تھا!
قصّہ کچھ یوں ہے کہ یہ بے ہودہ جملے فیض علی ولد جمشید علی کا تعاقب کرتے تھے۔ اُسے ہراساں کرتے، پلید ہونے کا احساس دلاتے، اور دھکا دے کر کرب کے غلیظ گڑھے میں دھکیل دیتے۔ یہ جملے سڑک پر اُس کے ساتھ ساتھ چلتے، بیت الخلاء میں بھی سائے کی طرح داخل ہوتے، اور بستر میں موت کے مانند پہلو میں لیٹ جاتے۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ وہ دھیرے دھیرے اُن کتابوں سے متنفر ہوتا گیا، جن کے بوسیدہ اوراق کی پُراسرار بُو اُسے سحر انگیز معلوم ہوتی تھی، جنھیں ہاتھ میں لیتے ہی وہ ہتھیلیوں کو حاملہ اور مقدس محسوس کرنے لگتا تھا، اور جنھیں تکیے کے نیچے رکھ کر سوتے سمے وہ سکون آور، گیلے خواب دیکھتا تھا۔
جب سے تمنا اُس کی تاریک دنیا میں داخل ہوئی تھی، جسے وہ تمنا کی آمد سے قبل روشن خیال کرتا تھا، وہ اِن نحوست زدہ آسیبی جملوں کی لپیٹ میں تھا، جو سڑک پر اُس کے ساتھ چلتے، بیت الخلاء میں سائے کی طرح تعاقب کرتے، اور بستر میں …
یہ اُس دور کا ذکر ہے، جب فیض علی کی دُکھی زیست کو اچانک بے روزگاری کے احساس نے بھنبھوڑ ڈالا تھا!
ایم اے پاس، ناکارہ فیض علی تنہا اپنی بے روزگاری کا ذمے دار نہیں تھا، اِس میں پروفیسر جمشید علی کا بھی ہاتھ تھا، جو کبھی، اعلیٰ عہدوں پر فائز اپنے شاگردوں کے پاس بیٹے کی ملازمت کے لیے بھیک مانگنے نہیں گیا۔ بے شک بڈھا قصوروار تھا، اُس نے جہان بھر کی فضول کتابیں گھر میں اکٹھی جو کر رکھی تھیں، اور برسوں سے اپنے سپوتر کو اُن کے لاحاصل صفحات چاٹنے کی فحش ترغیب دیتا آرہا تھا۔
اور فیض علی کی ماں بھی قصوروار تھی، جو احمقانہ حد تک صابر اور شاکر تھی، اور اپنے دُور پرے کے بھائی سے، جو کلیکٹر بتایا جاتا ہے، بیٹے کی نوکری کے لیے درخواست کرنے سے کتراتی تھی، اور اچھی بیویوں کی طرح کبھی اپنے شوہر کو یہ تحریک نہیں دیتی تھی کہ وہ اُجلا مستقبل کھوجے۔
فیض علی جس متوسط ماحول میں پروان چڑھا، وہ پیچیدگیوں کی لپیٹ میں تھا۔ روشنی سے محروم تنگ مکانات نے روشن دالانوں والے کشادہ گھروں کی جگہ لے لی تھی۔ تیز رفتاری زندگی کی نرماہٹ پر غالب آگئی تھی۔ کار کی خواہش نے بسوں کے سفر کو شرم ناک بنا دیا تھا، بین الاقوامی کھانوں نے روایتی کھانوں کو دھکا دے کر میز سے گرا دیا تھا۔ الغرض بہت سے معاملات نے مقامات بدل کر زندگی کو معما بنا دیا تھا۔
فیض علی بدقسمت رہا۔ اگر وہ اپنے طبقے کے دیگر تڑپتے ارکان کی طرح تذبذب میں پروان چڑھتا، تو امکانات تھے کہ وہ خود کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے زور مارتا، لیکن اُس کے ’’پڑھاکو‘‘ باپ نے ظلم کیا۔ شرافت کا مرض وراثت میں دیا، اور ’’مطالعہ‘‘ اور ’’غوروفکر‘‘ نامی زنگ آلودہ ہتھیار اپنے بیٹے کے ہاتھ میں دے کر اُس کی ناکامی پر مُہر ثبت کر دی۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ وہ بچپن ہی سے اپنے لخت جگر کے کانوں میں ’’زاید المعیاد‘‘ نظریات ٹھونس رہا تھا، جو بے وجہ، علم کو قوت اور جہل کو ذلت قرار دیتے ہیں۔ شاید اِس معاملے میں وہ قابل معافی ہو، پر المیہ یہ تھا کہ اپنے ’’بوگس‘‘ نظریات میں اُس نے معاشی استحکام نامی دور جدید، خصوصاً پہلی، دوسری، تیسری اور چوتھی جنگ عظیم کے بعد جنم لینے والی قدیم ترین حقیقت کا ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ قطعی نہیں!
اور اب اِس حماقت کے سبب وہ قرضوں کے بوجھ تلے دب چکا تھا!
فیض علی پہلی بار لاابالی تمنا سے اپنے ’’اسٹڈی سرکل‘‘ کے تحت ثقافتی مرکز میں ہونے والی ایک نشست میں ملا تھا، جس کے ارکان کو تمنا، بڑی ہی ہتک آمیز معصومیت سے “Bunch of losers” کہا کرتی تھی۔ اُس روز، وہ پُراعتماد مادہ اپنی ایک خوب رو دوست کو بڑی سی کار میں ڈراپ کرنے آئی تھی۔
علم کو عشق پر فوقیت دینے والے فیض نے منہگے لباس اور بھینی خوش بُو کو نظرانداز کرنے کی حتیٰ الامکان کوشش کی، پر ناکام رہا۔ اور مجبوراً اُسے گفت گو میں شریک ہونے کی بچگانہ دعوت دے ڈالی، جسے اُس نے بادل نخواستہ قبول کیا۔
موضوع ’’علم: اکلوتی حقیقت‘‘ تھا، جوفیض ہی کا تجویز کردہ تھا، اور اُس نے علم کو معاشرے کی دیگر حقیقوں سے اہم تر ثابت کرنے، اور تمنا کو اپنی قابلیت سے متاثر کرنے کے لیے بہت زور مارا۔
وہ جمائیاں لیتی رہی۔ اور ایک گھنٹے کی نشست کے بعد، جب سستے کپوں میں چائے پیش کی گئی، اُس نے ہاتھ نہیں لگایا۔ اور ٹوٹے پھوٹے بسکٹوں کی جانب توجہ دینے کی زحمت نہیں کی۔
یوں پہلی ملاقات تمام ہوئی!
دوسری بار وہ ایک بڑے بوتیک میں ملے، جہاں فیض اپنے ایک اعلیٰ متوسط طبقے کے کلاس فیلو کے ساتھ، جسے وہ دل ہی دل میں گدھا سمجھتا تھا، پہنچا تھا۔ اور لاتعلق کھڑا، طبقاتی تقسیم کے تعلق سے جملے بُن رہا، جو ادائی کے سمے برمحل معلوم ہو۔
اور تب اُسے سرخ و سپید تمنا دکھائی دی، جو تین چار رشتے دار ٹائپ لڑکیوں میں گھری تھی، جو یک ساں طور پر بھینی بھینی اور منہگی معلوم ہوتی تھیں۔
فیض نے تمنا کو سلام کیا، جس کا اُس نے چونک کر، ناگواری سے جواب دیا۔ جب امیر گروہ آگے بڑھ گیا، تو فیض نے محسوس کیا کہ وہاں چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔
’’Who is this silly guy?، یہ پھٹے حال کون تھا؟‘‘ ایک بھونڈی اور منہگی آواز گونجی۔
اور تب وہ چونکا۔
’’دانش وَر ہے!‘‘ شوخ آواز سنائی دی، جس میں دبی دبی ہنسی بھی شامل تھی۔ یہ آواز تمنا ہی کی تھی۔ اور یوں وہ مزید چونکا۔
’’مائی گاڈ، اُس کی شرٹ تو دیکھو!‘‘ پھر بھونڈی، امیر آواز تھرتھرائی۔
وہ چونکنے کی انتہا پر پہنچ چکا تھا۔ اور یوں دوسری ملاقات تمام ہوئی!
تیسری ملاقات ایک ہٹے کٹے بھکاری کے روبرو ہوئی۔ گرم سڑک پر جب صحت مند گداگر نے اچانک اُس کے سامنے ہاتھ پھیلا دیا، تو وہ عادت کے عین مطابق اُسے لیکچر دینے لگا کہ میاں ہٹے کٹے ہو، محنت کرو! پہلے پیشہ وَر گداگر مسکرایا، پھر منمنایا، اور پھر اپنے منہ کو ’’برا سا منہ‘‘ بنانے کی مشق کرنے لگا۔
اِسی اثناء میں وہاں ایک بڑی سی کار آکر رکی، جس کی ڈرائیونگ سیٹ پر تمنا براجمان تھی۔ بھکاری نے فوراً اپنے سامنے کھڑے ’’بھکاری‘‘ کی بک بک سے راۂ فرار اختیار کی، اور کھڑکی کے سامنے ہاتھ پھیلا دیا، جس پر ناپسندگی کے ساتھ پچاس روپے کا نوٹ رکھ دیا گیا۔
اور جب یہ عمل انجام دیا جارہا تھا، فیض علی ولد جمشید علی مزید کچھ کہنے کی ذلیل خواہش میں مبتلا تھا۔ اُس کے ہونٹ کھلے ہوئے تھے، اور دائیں ہاتھ کی انگلی، لیکچر دینے کے بھونڈے انداز میں فضا میں کانپ رہی تھی۔
ذلیل خواہش تکمیل سے محروم رہی، پیشہ وَر گداگر نے پچاس کا نوٹ اُس کی آنکھوں کے سامنے لہرا۔ اِسی اثناء میں دھڑ سے بڑی گاڑی کا بھاری دروازہ بند ہوا، اور دراز قد تمنا اُس کے سامنے آن کھڑی ہوئی۔
اُس نے اپنی منہگی سیاہ عینک کو ذرا نیچے کیا، چند ساعت پہچاننے کی کوشش میں جُٹی رہی، پھر کہا۔ ’’اوہ، آپ!‘‘
معلوم ہوتا تھا، وہ مایوس ہوئی ہے۔ اور یوں تیسری ملاقات تمام ہوئی!
چمکتی آنکھوں والی کشش وہ لڑکی تھی، جو تمنا کی دوست تھی، اور فیض کے اسٹڈی سرکل میں باقاعدگی سے شرکت کرتی تھی۔ وہ ایک ایسے اعلیٰ متوسط خاندان کا حصہ تھی، جو متمول طبقے کا حصے بننے کا آرزومند تھا، اور خود کو تہذیب یافتہ ثابت کرنے کی غرض سے انٹیلیکچوئل طرز زندگی کو، سرعام سراہتا تھا۔ خاندان کا یہی طریق کشش کو یونیورسٹی کے سب سے ہونہار نوجوان کے اسٹڈی سرکل میں کھینچ لایا، جس کا حصہ بننے کے بعد اُس نے چند کتابیں پڑھ لیں، اور تھوڑی بہت تقریر کرنے لگی۔
مشرقیت سے مغربیت کی جانب دھیرے دھیرے قدم بڑھاتی کشش کے پاس اپنی دوست، یعنی تمنا کے مانند ذاتی کار تو نہیں تھی، پر ذاتی کار کی خواہش ضرور تھی۔ غیرملکی پرفیومز نہیں تھے، پر علاقائی خوشبوئیں ضرور تھیں۔ معروف ڈیزائنرز کے سوٹ نہیں تھے، پر اچھے کاری گروں کے تیار کردہ ملبوسات ضرور تھے!
تو پہلی ملاقات کے طرز پر چوتھی ملاقات بھی کشش ہی کے توسط سے ہوئی، اور یوں فیض کا تمنا سے پھر سامنا ہوا، جو اپنی دوست کو ڈراپ کرنے ثقافتی مرکز آئی تھی۔
اِس بار اُس نے سب کو امریکی انداز میں ہیلو کہا، اور مسکراہٹ کی پُرقوت روشنی بکھیرتی ہوئی اپنا قیمتی وزن کرسی کے حوالے کر دیا۔ اُس نے احساس تفاخر کے ساتھ ٹوٹی پھوٹی اردو بولی، اور گفت گو میں شریک ہوئی۔ موضوع ’’معیشت پر علم کی فوقیت‘‘ تھا، جس پر، تمنا کی آمد سے قبل فیض کافی کچھ بول چکا تھا، اور سننے والوں کو تقریباً قائل کر چکا تھا، پر جب ٹوٹی پھوٹی، کانوں کو بھلی لگنے والی اردو اور دل میں رس گھولنے والے انگریزی کے امتزاج سے جنم لینے والی آواز نے معیشت کی اہمیت پر روشنی ڈالی، تو سُننے والوں نے پہلی بار بہرے پن کو خیرباد کہا، اور اثبات میں سر ہلانے لگے۔ اور اُس دن سُننے والوں کے دلوں میں گُھسا فیض علی ولد جمشید علی کا بت چٹخا۔ یوں اسٹڈی سرکل (Bunch of Losers) کے سامعین نے بت پرستی کی لعنت سے نجات حاصل کی، اور مستقبل میں اِس دن کو یوم نجات کی طور پر منانے کی قسم کھائی، اور یوں چوتھی ملاقات تمام ہوئی!
کہنے والے سچ ہی کہتے ہیں کہ وقت تیزی سے اپنی کوکھ میں گُم ہوجاتا ہے، اور اِس عمل کے دوران تبدیلیاں جنتا رہتا ہے!
پانچویں ملاقات تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوئی، جس میں ’’علم: واحد حقیقت‘‘ کا موضوع، تمنا کی شمولیت کے بعد ’’معاشی استحکام: بنیادی حقیقت‘‘ میں تبدیل ہوگیا۔ اُس روز جھوٹے پیغام رساں، یعنی فیض علی ولد جمیشد علی کے شیطانی علم سے اختلاف کیا گیا، بت شکنی کی روش اپنائی گئی، اور نئی دیوی کی نشان دہی پر نئے رستے پر چلنے کی قسم کھائی گئی۔
نشست کے اختتام تک خوب رو کشش کو چھوڑ کر ہر پیروکار فیض علی کا ساتھ چھوڑ چکا تھا۔
یوں اعتماد کا بادل بکھرنا شروع ہوا، اور اذیت کے ساتھ پانچویں ملاقات تمام ہوئی!
واپسی میں فیض علی ناراض تھا، خصوصاً اپنے سامعین کے رویے سے، البتہ اختلاف کے باوجود اُسے خوداعتمادی کے آٹے سے گُندھی تمنا کے تعلق سے خفگی محسوس نہیں ہوئی کہ وہ خواہ مخواہ آزادی اظہار کا داعی تھا۔
اور پھر حالات تیزی سے تبدیل ہوئے!
اسٹڈی سرکل کے اگلے اجلاس کے لیے موضوع تمنا ہی نے چُنا، جو ’’غربت: ایک لعنت‘‘ تھا۔ حیران کُن طور پر فیض کو آخری لمحات میں ایک پرانے ساتھی نے بے دلی سے نشست کے انعقاد کی اطلاع دی۔ اور حالات بدل گئے!
اُس روز فیض کو زیادہ بولنے کا موقع نہیں ملا۔ یوں اُس کی عزت نفس ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے گزری۔ اسٹڈی سرکل سے واپسی پر جو نوجوان اُسے اپنی موٹرسائیکل پر لفٹ دیا کرتا تھا، وہ خاموشی سے نکل گیا۔
جب وہ بس اسٹاپ پر کھڑا تھا، ایک بڑی سی کار پاس آکر رکی۔ کھڑکی نیچے ہوئی، بھینی خوش بُو، نتھوں سے ہوتے ہوئے مرکز تک گئی، اور علم کو پاش پاش کر گئی۔
خوب رو کشش نے مسکراتے ہوئے اُسے کار میں بیٹھے کی دعوت دی۔ پُراعتماد تمنا خاموش رہی۔
جب اُس نے انکار کیا، تب تمنا کے، قابل پرستش لب وا ہوئے۔ ’’Come on دانش وَر صاحب، It is ok!‘‘
اور وہ بیٹھ گیا، اور خاموش رہا، اور یوں سفر طے ہوا، اور یوں وہ گھر پہنچا، اور یوں چھٹی ملاقات تمام ہوئی!
اشیاء اور جذبات اپنی ہیئت بدل رہے تھے!
منہگی معلوم ہونے والی خوش بُو نے اُس روز فیض علی کا تعاقب کیا، اُسے اپنی موجودگی کا احساس دلایا، اور دھیرے دھیرے قوی ہوتی گئی۔ وہ ڈھیٹ اور پُرقوت تھی، نظریات کی توڑ پھوڑ میں مہارت رکھتی تھی، اور اعتماد چوس لیتی تھی۔
ساتویں ملاقات چمکیلی آنکھوں والی کشش کی سال گرہ کے موقعے پر ہوئی، جب وہ ایک غریب فلمی ہیرو کی طرح ایک کتاب بہ طور تحفہ لے گیا، جسے دیکھ کر سال گرہ کے شرکاء نے ہلکے ہلکے قہقہے لگائے۔ کشش کے گھر والے بھی ہتک آمیز انداز میں مسکرائے۔
فیض علی کے فوراً بعد، کسی دیوی کے مانند تنی ہوئی تمنا نے اپنا تحفہ پیش کیا، جو ایک نیکلیس تھا۔ روشن کمرا مزید روشن ہوگیا۔ سال گرہ کے شرکاء نے اجتماعی ’’اوہ ہ ہ…‘‘ کہا۔
اِسی تقریب میں، جب اس نے اچانک خود کو تمنا کے بے حد نزدیک پایا، تو جانا کہ لاابالی مادہ عجیب و غریب توانائیوں کا اخراج کرتی ہے، جو گرویدہ بنا لیتی ہیں۔ اور جب وہ گھر لوٹا، تو گرویدہ بنا لینے والی آسیبی قوت اُس کے ساتھ تھی۔ اُس شام اُس نے پڑھنے سے اجتناب برتا، اور لکھنے کے عمل کو فضول جانا۔ اُس شب وہ بے چین سویا، اور اگلی صبح بے چین بیدار ہوا۔ پھر شام ہوئی، پھر رات ہوئی، اور یوں ایک دن تمام ہوا۔ اور پھر اگلا دن بھی یونہی تمام ہوا، اور پھر اُسے اسٹڈی سرکل کی نشست کی خبر ملی۔
اور ماضی کی طرح وہ جذبات سے لدا پُھندا ثقافتی مرکز کی جانب دوڑا۔ پر اِس بار نشست کا موضوع ’’علم: ایک زنگ آلودہ ہتھیار‘‘ وجۂ کشش نہیں تھا، قطعی نہیں! بلکہ بھینی خوش بُو اور گرویدہ بنانے والی شکتی سے روبرو ہونے کی خواہش تھی، جس کے تحت وہ فرط جذبات سے کانپ رہا تھا، اور جھڑ رہا تھا۔
اور جب وہ وہاں پہنچا، خوش بُو بہ ذات خود موجود نہیں تھی، پر حیرت انگیز طور پر حاضرین اُس میں لتھڑے تھے۔ وہ مدھوش معلوم ہوتے تھے۔ وہ سب محبت نامی قوت کے زیر اثر تھے، جو حواس معطل کر دیتی ہے۔ اور وہ سب ایک دوسرے سے رقابت محسوس کر رہے تھے کہ اُن کا ظالم محبوب ایک تھا، جو فی الوقت وہاں موجود نہیں تھا، سو وہ اذیت کے ساتھ علم نامی زنگ آلودہ ہتھیار پر اپنی زبان گھستے رہے۔
اور جب تھکی تھکی، گیلی پیلی نشست اختتام کو پہنچنے کو تھی، اُس زرخیز دیوی کا ظہور ہوا، اور بانجھ چہروں پر روشنی کا نور پھیل گیا۔ مایوسی کے اندھیرے کو امید کے اجالے نے نگل لیا۔ اور دلوں کا قرار آگیا۔
تمنا نے دیر سے آنے پر انگریزی میں معذرت کی، جسے سب نے قبول کیا۔ اُس نے موضوع دریافت کیا، چند ساعت توقف کیا، پھر جو اُس کے دل میں آیا، چند جملوں میں سمو کر کہہ دیا۔ سب نے اُن جملوں کو مقدس جانا۔ چند نے تو چپکے سے نوٹ بک میں محفوظ بھی کر لیا۔
اِس پورے عمل کے دوران وہ بت بنا یہ سوچتا رہا کہ محبت ہی شاید وہ پھل ہے، جسے کھانے کی ممانعت تھی کہ اِسے کھانے والا جھڑتا جاتا ہے، اور پستی کی جانب سفر، آواز کی رفتار سے طے کرتا ہے۔
اٹھتے سمے سڈول تمنا نے اُسے لفٹ دینے کی پیش کش کر دی، جسے اُس نے بت بنے بنے قبول کیا، اور رقیبوں نے حسد محسوس کیا۔
دوران سفر اے سی کی ٹھنڈ اور تمنا کے تباہ کن سراپے سے مرغوب فیض علی ولد جمشید علی خاموش رہا۔ تمنا بھی خاموش رہی، اور خاموشی قائم رہتی، اگر فیض ٹوٹے پھوٹے جملوں میں وہ سوال نہیں کر لیتا، جو اُس نے کیا۔
’’کشش نہیں آئی؟‘‘
’’ہاں بھئی، کشش نہیں آئی۔‘‘ تمنا کے خوب صورت، گناہ پر اُکسانے والے ہاتھ اسٹیرنگ پر تھے، اور قاتل آنکھیں سڑک پر ٹکی تھیں۔
’’خیریت؟‘‘ علم کے مارے نے سوال کیا۔
’’No, not at all! خیریت تو نہیں دانش وَر صاحب!‘‘ استہزائیہ مسکراہٹ اُسے کم تر ہونے کا احساس دلا رہی تھی۔
’’کیا مطلب؟‘‘ کم تر کے چہرے پر، کم تری سے جنم لینے والی فطری حماقت تھی۔
’’کیا آپ کو اندازہ نہیں؟‘‘ اُس کے کمان سے ابرو استہزائیہ انداز میں اوپر کو اٹھے ہوئے تھے۔
’’میں سمجھ نہیں پارہا۔‘‘
’’دانش وَر صاحب، ان فضول کی سرگرمیوں سے نکلو گے، تب سمجھو گے نہ؟‘‘ گورے چٹے، گناہ کی دعوت دینے والے مضبوط ہاتھ اسٹیرنگ گُھما رہے تھے۔
’’جی…‘‘ وہ ہونق معلوم ہوتا تھا۔
’’کبھی سوچا ہے مسٹر کہ کشش تم سے کیوں ملنے آتی تھی؟‘‘
وہ ’’تم‘‘ کہہ کر اُسے مخاطب کر رہی تھی، یہ طرز تخاطب اعتماد کو پارہ پارہ کر دینے کی قوت رکھتا تھا۔
’’Come on man…. وہ تم سے محبت کرتی ہے، احمق انسان!‘‘ ایک تیز دھار قہقہہ کار کی ٹھنڈ میں لہرا۔
’’کیا…؟‘‘ کوئی منمنایا۔
’’جی ہاں!‘‘ توانا ہاتھ اسٹرینگ پر رہے۔ ’’اُسی کی خواہش پر تو میں نے اِس useless اسٹڈی سرکل، جیسی بونگی سرگرمی میں شرکت کرتی رہی۔‘‘
’’بونگی سرگرمی!‘‘ ہاں، اس نے یہی کہا، لیکن اس وقت فیض نے اس بابت اپنی دل چسپی کا اظہار نہیں کیا۔ ’’جی، کیا مطلب…؟‘‘ وہ فقط یہی کہہ سکا، وہ ہونق اور احمق معلوم ہوتا تھا۔
’’کیا، کیا مطلب، کیا مطلب کی رٹ لگائی ہوئی ہے۔‘‘ اب وہ براہ راست اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی، اور وہ پگھلنے لگا۔
’’… وہ تم سے محبت کرتی ہے۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ کوئی پھر ممنایا۔
’’Yes my dear, She loves you…‘‘ پُرقوت قہقہہ تھرایا۔ ’’پاگل کہیں کی۔ خیر، میں نے اُسے سمجھا دیا ہے۔ اُس کا رشتہ آیا ہوا ہے ناں!‘‘
’’کیا مطلب!‘‘ ناکارہ علم کے حامل فیض علی کی حماقت، شرم ناک حد تک اذیت ناک ہو چکی تھی۔
بریک چرچرائے، اور بڑی سی کار رک گئی۔
’’او مائی گاڈ!‘‘ اُس نے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ ’’you have lost it poor guy!…‘‘ اب وہ طنزیہ انداز میں مسکرا رہی تھی، اور اُسے ’’poor guy!‘‘ یعنی ’’غریب لونڈا‘‘ کہہ رہی تھی۔
’’سن یار…‘‘ اُس نے گستاخانہ لہجے میں کہا۔ ’’She loves you… پر میں نے اُسے سمجھا دیا کہ یہ Possible نہیں ہے۔ You know… اس کے ماں باپ کسی امیر کے ہاتھ میں تو اس کا ہاتھ دے دیں گے، لیکن کسی Jobless کے ہاتھ میں Never, No way!… دیکھو، مسٹر دانش وَر، برا مت ماننا، اگر تم Jobless نہ ہوتے، تو کوئی چانس تھا، پر اب، No way!، بھول جاؤ۔‘‘
فیض علی خاموش رہا۔ چند ساعت نگل لینے والی تمنا اُسے ہم دردانہ نظروں سے دیکھتی رہی۔ ’’دانش وَر I really feel sorry for you!.. لیکن کیا کرسکتے ہیں، You and your usless gift at the party… یار ذرا تیار ہو کر آتے۔ اُس کے ماں باپ خاصے Disappointed تھے۔ And just because of you…. اوہ، مجھے تم پر ترس آرہا ہے۔‘‘
اُس سمے کسی نامعلوم آواز نے گیلے پن کے شکار فیض کو مشورہ دیا کہ تمنا کے سینے پر سر رکھ کر رونا شروع کر دے، بدقسمتی سے اُس نے اِس مشورہ پر عمل نہیں کیا۔
’’او کے، اب بات ختم کرتے ہیں، اُس کی شادی ہونے والی ہے۔ ایک بزنس مین سے! مجھے لگا تھا کہ تم بھی اُسے پسند کرتے ہو، پر تمھیں دیکھ کر تو لگتا ہے کہ تمھیں فقط بے کار کاموں میں دل چسپی ہے، یا شاید تمھارے ساتھ کوئی sexual problem ہے، چلو اچھا ہے، میں اُسے بتا دوں گی کہ You are useless!‘‘ اُس نے آنکھ ماری۔
وہ خاموش، بت بنا، گیلا بیٹھا رہا۔
’’ہیلو دانش وَر، Wake up… چلو تمھارا اسٹاپ آگیا۔ I have to go now!‘‘
’’اوہ…‘‘ وہ چونکا۔ اور گاڑی سے اترنے کے جتن کرنے لگا، لیکن جدید لاک سسٹم سمجھنے میں ناکام رہا۔ اُس کا نچلا دھڑ جواب دے چکا تھا۔
ایک ’’اوہ مائی گاڈ!‘‘ کے ساتھ تمنا نے ہاتھ آگے بڑھا کر دروازہ کھول دیا، اور اُس سمے بھینی خوش بُو کا گھاتک وار فیض کے مرکز کو چیر گیا۔
اور جب وہ اپنا پلید، گیلا وجود لے کر منہگی کار سے مکمل طور پر اتر چکا تھا، اُسے احساس ہوا کہ اُس کا بے قیمت مرکزی عضو، اونچی ایڑی کی سینڈلوں تلے لاتعلقی اور لاعلمی کے ساتھ کچلا جارہا ہے۔ اور تب پُرقوت مونث نے آخری جملہ کہا۔ ’’اوئے مسٹر دانش وَر، میرا مشورہ ہے، Do some thing with your life, At lest, get a job!، کب تک پھٹے حال رہو گے یار؟‘‘ اُس نے پھر آنکھ ماری۔
اور یوں اُس آٹھویں ملاقات کا اختتام ہوا، جس کا ذکر آٹھویں دن کے ذکر کی طرح پیدایش کے باب سے غائب ہے!!
اور اُسی منحوس لمحے آسیبی جملوں نے پھٹے حال فیض علی ولد جمشید علی کا تعاقب شروع کیا، جو موقع ملتے ہی اُسے کرب کے گٹر میں دھکیل دیتے، سڑک پر اُس کے ساتھ چلتے، اور….
’’اگر کوئی جانوروں کی بولی سمجھے، فرشتوں کی زبان بولے، اور انسان کی چال چلے، پر بے روزگار اور پھٹے حال ہو، تو اُس کا بہرا، گونگا اور لنگڑا ہونا افضل ہے۔ اور اگر کوئی دانش کا گہوارہ ہو، اور علمیت کی میخوں سے زمین پر گڑا ہو، پر ہو بے روزگار اور پھٹے حال، تو وہ کچھ بھی نہیں!!‘‘
پھر ایک روز اطلاع آئی کہ پروفیسر جمشید علی کی لائبریری ’’فیض گاہ‘‘ میں آگ لگ گئی ہے، جس کے شعلوں نے فیض علی کو جُھلسا دیا ہے۔ اسپتال اور ادویہ کا بل بھرتے بھرتے پروفیسر جمشید علی اپنی عزت نفس کھو بیٹھا، اور قرضوں کے بوجھ تلے دب گیا۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ پروفیسر جمشید علی، المعروف قرض دار کا گودام (لائبریری) جلا نہیں تھا، بلکہ جلایا گیا تھا۔ اور کہنے والوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ فیض علی ولد جمشید علی ملحد ہوگیا تھا، اور یہ خدا کا عذاب ہے! پر کہنے والوں کو اُن عجیب و غریب، قدیم، بھونڈے اور نرالے ڈھنگ سے مقدس معلوم ہونے والے جملوں کی بابت زیادہ علم نہیں، جو آتش زدگی کے واقعے سے قبل ’’فیض گاہ‘‘ المعروف گودام میں گونجے تھے، اور جنھیں مدہوشی اور سوختگی کے عالم میں برنس وارڈ کے مریض نے دہرایا تھا، جو خاکروب سے ہیڈ خاکروب تک پہنچے تھے، جہاں سے وہ ہونٹ چبانے والی نرس کے پیٹ میں داخل ہوئے تھے، اور بوس و کنار کے راستے کینٹین بوائے کے مرکز میں جا گرے تھے، جسے اُس نے ادھار کا کھانا کھانے والے پروفیسر جمشید علی تک پہنچ دیا تھا۔ اور ساتھ ہی یہ ہم دردانہ مشورہ بھی دیا کہ وہ اِس برس امتحانی کاپیاں چیک کرتے سمے ذرا ’’ہولا‘‘ ہاتھ رکھے، تاکہ اُس کے بیٹے کا علاج مناسب انداز میں ہو سکے، اور ساتھ ہی کینٹین کا ادھار بھی چُکا دیا جائے۔
اور کہنے والے کہتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا!

Viewers: 5337
Share