Muhammad Azam Khan | Article | لفٹ کا سوال ہے بابا

محمد اعظم خاں 273-J-II جوہر ٹاؤن۔ لاہور۔ پاکستان +92 300 4107328,فون نمبر E-mail: azamkhan273@gmail.com لفٹ کا سوال ہے بابا لفٹ کا لفظ مختلف اوقات میں مختلف مفہوم و معنی کے […]

محمد اعظم خاں
273-J-II جوہر ٹاؤن۔ لاہور۔ پاکستان
+92 300 4107328,فون نمبر
E-mail: azamkhan273@gmail.com

لفٹ کا سوال ہے بابا

لفٹ کا لفظ مختلف اوقات میں مختلف مفہوم و معنی کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے، ایک لفٹ تو ہمارے گلوکار ’’عدنان سمیع ‘‘ والی ہے جو اکژ یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں ’’تھوڑی سی تو لفٹ کرا دے‘‘ لیکن ہم پاکستانیوں نے اپنے اس گلوکار کو نہ کوئی اہمیت دی اور نہ ہی کوئی لفٹ کروائی، کیونکہ یہ ہماری ’’عادت‘‘ میں شامل ہے، وہی گلوکار ہمسایہ ملک میں گیا تو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور اب وہ شہرت کی بلندیوں کو چھو رہا ہے۔
ایک لفٹ وہ ہوتی ہے جو بڑی بڑی عمارتوں، پلازوں اور ہوٹلوں میں لگائی جاتی ہے تاکہ وہاں آنے جانے والے لوگ باآسانی اپنی مطلوبہ منزل پر پہنچ سکیں۔ سائنس کی ترقی نے ہمارے لئے تن آسانیاں پیدا کر دی ہیں، پہلے پہل کئی کئی منزلہ عمارتیں بغیرلفٹ کے ہوا کرتی تھیں، سیڑھیوں کے راستے ہی اوپر کی منزلوں تک پہنچا جاتا تھا، کم از کم اس طرح چند قدم چل ہی لیتے تھے لیکن اب جو بھی نئی عمارت تعمیر ہوتی ہے اس میں لفٹ ضرور لگائی جاتی ہے، خواہ چند سیڑھیاں چڑھ کرپہلی منزل پر ہی جانا مقصود ہو،ہم نہیں جاتے اور لفٹ کے انتظار میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔
ویسے لفٹ تو ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں بھی لگی ہوتی ہے جو مریضوں کی سہولت اور انہیں با آسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ یا مطلوبہ وارڈمیں لے جانے کے لئے لگائی جاتی ہے جو اکژ اوقات خراب رہتی ہے اگر ’’خدانخواستہ‘‘ ٹھیک ہو تو اچھے بھلے صحت مند لوگ لفٹ کے مزے لے رہے ہوتے ہیں جبکہ مریض ان کا منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔
خیر۔۔۔۔۔آج ہم جس لفٹ کی بات کریں گے وہ درج بالا لفٹ کی اقسام سے بہت مختلف ہے، آج ہم ان لفٹ لینے والوں کا ذکر کریں گے جو عام طور پر سڑک کے کنارے لفٹ کے انتظار میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ آپ میں سے بھی بہت سے افراد نے اس قسم کی لفٹ لینے والوں کو کہیں نہ کہیںآتے جاتے سڑک کنارے اپنے انگھوٹے کو سیدھا کر کے اشارہ کرتے ہوئے ضرور دیکھاہو گاجو لفٹ مانگ رہے ہوتے ہیں۔ ان میں اکژیت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو لفٹ مانگنے کے ’’عادی‘‘ بن چکے ہوتے ہیں اور ہر روز صبح شام لفٹ سے ہی کام چلاتے ہیں، اس طرح نا صرف وہ اپنے پیسے بچا لیتے ہیں بلکہ سفر بھی پرسکون اور آرام دہ طریقے سے طے کر تے ہیں،ساتھ ہی ساتھ وہ بسوں اور ویگنوں میں سفر کرنے کے’’ عزاب‘‘ سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔
لفٹ لینے کے عادی لوگ تو باقائدہ مختلف گاڑی والوں کی نفسیات جاننے کے ماہر ہو چکے ہوتے ہیں، وہ کسی مناسب گاڑی والے کو دیکھ کر ہی لفٹ لینے کا اشارہ کرتے ہیں اور اس میں کامیاب بھی رہتے ہیں جبکہ کچھ لوگ ہر آنے والی گاڑی کو دیکھ کر اپنا انگوٹھا دکھا دیتے ہیں، ایسا کرنے سے بعض اوقات انہیں لفٹ مل بھی جاتی ہے لیکن زیادہ تر لوگ انہیں گھورتے ہوئے وہاں سے گزر جاتے ہیں۔
میرے خیال میں بھیک مانگنے کی طرح لفٹ مانگنا بھی ایک فن ہے جو ہر کسی کو نہیں آتا، اس فن کے ماہر اپنی مہارت کے بل بوتے پر بغیر وقت ضائع کیے فوری طور پر لفٹ لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جبکہ اس فن میں ناپختہ اور اناڑی لوگ اپنی ناپختگی کی وجہ سے دیر تک لفٹ کے انتظار میں کھڑے رہتے ہیں، ابعض اوقات لفٹ لینا واقعی مجبوری ہوتی ہے مگر گھنٹوں کھڑے رہنے پر بھی کوئی لفٹ نہیں کرواتا۔
میں نے ذاتی طور پربہت عرصہ قبل ہی لفٹ دینے سے ہمیشہ کے لیے توبہ کر لی تھی۔ آخری بار ایک خوبصورت ’’دوشیزہ‘‘ کو سڑک کنارے پریشان کھڑے دیکھ کر لفٹ دی تھی۔ اس نے تو خیر لفٹ مانگی ہی تھی مگر اس کے لفٹ مانگنے سے پہلے ہی میرا دل اسے لفٹ دینے کے لیے مچل اٹھا تھا۔ ابھی تھوڑا سا فاصلہ ہی طے ہوا تھا ، میں اسے لفٹ دے کر ہواؤں میں اڑ رہا تھاکہ اس نے پستول میری ’’کنپٹی‘‘ پر رکھ دی اور اپنی ’’مترنم‘‘ آواز میں جو کچھ میرے پاس تھا اس کے حوالے کرنے کو کہہ دیا، میں نے کسی قسم کی ’’چوں چراں‘‘ کئے بغیر اپنا سب کچھ اس کے حوالے کیا اور خود کو کوستا ہوا گھر جا پہنچا۔ بد قسمتی سے پرس میں میری مہینے بھر کی تنخواہ بھی تھی جو اسی روز ملی تھی اور میں اپنی بیوقوفی کی وجہ سے لٹا بیٹھا تھا، پھر پورا مہینہ مانگ تانگ کر گزارہ کیا، تب سے کسی بھی لفٹ مانگنے والے کو کھڑا دیکھ کر میرا خون کھول اٹھتا ہے اور میں نفرت و غصے کی ملی جلی کیفیت میں اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیتا ہوں۔
جب سے اس قسم کے واقعات ہونے لگے ہیں لوگ محتاط ہو گئے ہیں اور لفٹ دیتے ہوئے گھبرانے لگے ہیں مگر اس کے باوجود بہت سے یار لوگ اب بھی لفٹ لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں نہ لفٹ لینے والوں میں کمی آئی ہے اور نہ ہی لفٹ دینے والوں میں۔
بھائی جی کا کہنا ہے کہ لفٹ لینے کے بھی کچھ قائدے قانون ہوتے ہیں ، گاڑی اور موٹر سائکل کی لفٹ لینا اپنی جگہ لیکن سائکل کی لفٹ لینے کا بھی اپنا اصول ہے۔ سائکل کی لفٹ لینی ہو تو اس کا اصول یہ ہے کہ سائکل والے کو پیچھے بٹھا کر سائکل خود چلانا پڑتی ہے۔ بھائی جی کی یہ بات سن کر میرے کان کھڑے ہو گئے۔ فی الحال میں نے اس بات کا کسی سے ذکر تونہیں کیا لیکن اپنی گاڑی بیچ کر سائکل خریدنے کا فیصلہ کر لیا ہے، اس طرح پٹرول کی بچت بھی ہو جائے گی اور گاڑی کی مرمت پر آنے والا خرچہ بھی بچ جائے گا۔کسی نہ کسی کو لفٹ دیتے ہوئے اس سے سائکل چلوا کر آرام سے سفر طے ہو جایا کرے گا۔ ویسے میری مانیں تو آپ بھی گاڑی بیچ کر سائکل خرید لیں ، مزے میں رہیں گے۔
***

Viewers: 2997
Share