Shahab Zafar Azami | شیرشاہ سوری کی زمین پر قاسم خورشید کو شاندار اعزازیہ

شہاب ظفر اعظمی
پٹنہ۔ انڈیا
shahabzafar.azmi@gmail.com

’’بہت بے چین ہیں موجیں کنارا ٹوٹ سکتاہے ‘‘

شیرشاہ سوری کی زمین پر قاسم خورشید کو شاندار اعزازیہ

علم وادب کے گہوارہ شیرشاہ سوری کی زمین سہسرام میں گزشتہ روز ہندی اردو کے مایہ ناز ادیب وفنکار اور ایس سی ای آر ٹی کے صد شعبہ ڈاکٹر قاسم خورشید کی آمدکی خبر ملی تو روہتاس کا ادبی حلقہ بے حد مسرور ہوا ۔قاسم خورشید نے انتہائی مصروفیات کے باوجود ’’ادارۂ فکر ونظر سہسرام ‘‘کے زیر اہتمام منعقد جلسے میں اپنی شرکت سے تمام حاضرین کو انتہائی متاثر کیا ۔ بہت عجلت میں قاسم خورشید کے نام ایک شام کے انعقاد میں سہسرام کے تمام قابل ذکرشعر اور ادیب شامل ہوئے ۔ صدر جلسہ جناب عبدالرب نشتر نے فرمایا کہ ادارہ فکر ونظر کے زیر اہتمام بہت بڑے جلسوں کا ماضی میں انعقاد کیا جاچکا ہے ۔آج یہ شام اس لئے بے حد یادگار کہی جائے گی کہ برسوں سے ہم قاسم خورشید کو اردو ،ہندی کے رسائل کے علاوہ ٹیلی ویژن اور یڈیو کے وسیلے سے دیکھتے اور سنتے آرہے ہیں۔ ادب کی عالمی بستیاں قاسم خورشید سے بخوبی واقف ہیں۔ آج ہماری خوشی وقتی ہے کہ قاسم خورشید سہسرام تشریف لائے اور ہمیں ان سے روبر ہونے کاموقع ملا ۔ ان کی کتابیں پوسٹر ، ریت پر ٹہری ہوئی شام ، کینوس پر چہرے ،تھکن بولتی ہے ، ڈر سے آگے وغیرہ خاصی مقبول ہیں ۔ حال ہی میں انہیں ہندی کہانی کی کتاب ’’ ڈر سے آگے ‘‘ کی رونمائی اور انعام صدر جمہوریہ ہند کے دستِ مبارک سے حاصل کرنے کا شرف ہمارے صوبہ کو ملاہے ۔ میں قاسم خورشید کی آمد کو یہاں کے ادبی تاریخ کا اہم ترین باب تصور کرتاہوں ۔ مہمان خصوصی قاسم خورشید نے تمام اہل ادب کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کیا اور ان کی فرمائش پر سب سے پہلے اپنا افسانہ ’’باگھ دادا‘‘ پیش کیا ۔ افسانہ ہمہ تن گوش ہو کرسبھوں نے سنا اور محفل پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوگئی ۔ اس بے پناہ خوبصورت افسانے کی پیشکش پر عبدالرب نشتر ، عالم پرویز ، شبیر سہسرامی،اثر فریدی ، اختر امام انجم ، آفتاب احمد آزاد اور دوسرے افراد نے بہ اعتبار مجموعی اس بات پر اتفاق کیا کہ اردو ادب میں برسوں بعد اتنا خوبصورت افسانہ منظر عام پر آیا ہے ۔ شاید یہ بڑی وجہ ہے کہ یہ افسانہ قاسم خورشید کے بعض دوسرے افسانوں کی طرح انگریزی ، ہندی اور دوسری زبانوں میں بھی مقبول ہو رہا ہے ۔ افسانے پر تفصیلی اظہار وخیال کے بعد قاسم خورشید بے حدسرشار ہوئے اور پھر وقفے کے بعد شعری نشست کا بھی اہتمام کیا گیا ۔ جلسے میں اہم ترین شاعر اثرفریدی نے نظامت کرتے ہوئے بتایاکہ قاسم خورشید مکمل طور پر تخلیقی فنکار ہیں اس لئے شاعری میں بھی بلند معیار کو ملحوظ رکھا ہے ۔ قومی اور بین الاقومی مشاعرہ میں کئی بار بہار کی نمائندگی کرچکے ہیں ، اس لئے قاسم خورشید کی شاعری بھی بہت انہماک سے سنی گئی ۔ ان کے ساتھ مدعوعین نے بھی اپنے کلام یوں پیش کئے ۔
ذرا ادب بادباں کھولو سہارا ٹوٹ سکتا ہے
بہت بے چین ہیں موجیں کنارا ٹوٹ سکتا ہے
دعاء بچے نے مانگی ہے کہ گھراس کا بھی روشن ہو
اسے معلوم ہے شاید ستارا ٹوٹ سکتا ہے
(قاسم خورشید )
ہیں اہل قلم لاکھ پریشاں سہی لیکن
رسوا کسی انسان کی عظمت نہیں کرتے
یوں سرد ہو رہا ہے وجود آدمی کا اب
دریا کو برف ، برف کو پانی لکھو
(عبدالرب نشتر )
گفتگو ایسی کرو کہ وہ ترانہ ہوجائے
جانے کس وقت ترے جانے کا بہانہ ہوجائے
ایک مدت ہوئی کہ آجاؤ ملنا ملانا ہوجائے
تم جو آجاؤ تو مضبوط گھرانہ ہوجائے
(اثر آفریدی )
کون ہے جو مری تنہائی میں آجاتا ہے
کس کا احساس اکیلا نہیں ہونے دیتا
وقت کا آئینہ چالاک ہے کتنا شبیرؔ
اپنے کردار کو رسوا نہیں ہونے دیتا
(شبیر سہسرامی )
بس ایک پھول کھلا ریگزار سحر میں
زمیں ہوگئی اس کے وجود سے سرشار
مرے سر ہے ستاروں کا مقدر
میں زلفوں کی سیاہی کیا کروں گا
(عالم پرویز)
گرے ہوؤں کو کہاں لوگ اب اٹھاتے ہیں
یہ اور بات کہ گھر اپنا سب سجاتے ہیں
روشن ہے ایسی کہ ہر گام پر ہی دیکھا ہے
کہاں کسی کے کوئی کام آج آتے ہیں
(اختر امام انجم)
اسی طرح مزاحیہ شاعر حسن انجم نے بھی اپنی خوبصورت نظم پیش کی ۔ انتہائی سرد رات ہونے کے باوجود جلسے کے اختتام تک سامعین محفل میں موجود رہ کر داد تحسین سے نوازتے رہے ۔آفتاب احمد آزاد جمشید رضوی ، سمن شرما ، ڈاکٹر معراج ، اور سریش کما بھی اس محفل میں خصوصی طور پر شریک تھے ۔ صدر محترم کے شکریہ کے ساتھ ’’قاسم خورشید کے نام ‘‘اس شام کا یاد گار انعقاد ہوا ۔ شیر شاہ سوری کی زمین پر بلاشبہ ایک ادبی تاریخ رقم کی گئی ۔
***

Viewers: 1560
Share