Syed Najam Sibtain Hasni | Article | شاعری اور کربلا

سید نجم سبطین حسنی برسبین۔ آسٹریلیا ای میل: hasni313@yahoo.com شاعری اور کربلا (خصوصی حوالہ میر ببر علی انیس) میر انیس پَر نشست: کربلائی حوالہ کی شاعری کا موضوع سامنے آئے […]

سید نجم سبطین حسنی
برسبین۔ آسٹریلیا
ای میل: hasni313@yahoo.com

شاعری اور کربلا

(خصوصی حوالہ میر ببر علی انیس)

میر انیس پَر نشست:
کربلائی حوالہ کی شاعری کا موضوع سامنے آئے تو ہمیں میر ببر علی انیس کا نام سر فہرست نظر آتا ہے۔ میر ببر علی انیس کی شخصیت کا ادبی جاِیزہ کثیر علمی و تحقیقی مجاہدے کے ساتھ ساتھ کئی مسلسل محفلوں اور نشستوں کا متقاضی ہے۔ تاہم اردو اکادمی آف آسٹریلیا کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ آسٹریلیا میں اردو ادب پر کام کرنے والوں میں یہ پہلا فورم ہے جس نے مطالعاتی سطح پر زبان، شخصیات اور تہذیب کی علمی و تحقیقی خدمت کا بیڑہ اٹھایا ہے۔اور یوں ایک مکمل شام مرثیہ اور خدائے سخن حضرت میر انیس جیسی شخصیت کے نام کر تے ہوے ان جیسے محسنِ فکرو ادب کے تذکرہ کی ترویج کو اہلِ ادب کی ذمہ داریوں میں شمار کر کے ایک صحتمند رویہ کی بنیاد ڈالی ہے ۔
شاعری اور کربلا:
کربلا کا واقعہ کائنات کی ہر شئے پر اثر انداز ہوا ہے اور ہر زبان کے ادب نے کربلا کے موضوع سے فکری روشنی حاصل کی ہے۔ کربلا محض ایک حدیثِ غم ہی نہیں بلکہ اسرارِ حیات و کائنات کی معرفت سے بھر پور ایک بے مثال اخلاقی و تربیتی مخزن بھی ہے۔ اطاعتِ معبود ،حق پروری،حق گوئی، عرفانِ ذات، حقوق انسانی کی شناخت، شرافتِ کردار، صبر و ایثار اور ظلم و طاغوت کے خلاف دائمی ثابت قدمی جیسی اعلیٰ انسانی اقدار مکتبِ کربلا کے وہ بنیادی سبق ہیں کہ جو شخصی زندگی سے لیکر معاشرتی زندگی تک سماج کے ہر پہلو پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ یوں تو اردو ادب کی تمام تخلیقی اصناف کربلا کے ادراک سے لبریز نظر آتی ہیں لیکن اردو شاعری کی تاریخ اس موضوع کے بغیر اپنی شناخت ہی مکمل نہیں کر پاتی۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اردو شعر و ادب کربلا سے صرف متاثر ہی نہیں ہوئے بلکہ مضمونِ کربلا نے اردو شاعری کو کئی گرانقدر اصناف سے آراستہ بھی کیا ہے۔ تاریخِ ادب کے جائزہ سے یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ سلام، مرثیہ ، نوحہ اور منقبت جیسی اصناف کی تجسیم و تخلیق ہی کربلا کے بغیر نا ممکن تھی۔
تاریخی پس منظر:
اردو کئی زبانوں کے اختلاط سے وجود میں آنے والی ایک لشکری زبان ہے لیکن اس کے علمی ماخذات پر نگاہ کی جائے تو عربی اور فارسی ادب کے رحجانات اس کی پرورش میں زیادہ غالب اور فعّال نظر آتے ہیں اسی لئے اردو کے حروف تہجی ، مخارج اور رسم الخظ کے مروّجہ پیرائے عربی اور فارسی ہی کی جنس محسوس ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے اردو ادب میں بھی مضامینِ کربلا کی فکری میراث فارس و عرب ہی کے واسطوں سے داخل ہوئی۔ لیکن یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ اردو شاعری نے اس موضوع کو اپنے رگ و پے میں کچھ اس نفاست اور انفرادیت سے جگہ دی کہ بسا اوقات کربلا کا عنوان اردو شاعری کا بالکل ذاتی اور فطری موضوع محسوس ہونے لگتا ہے۔بلا مبالغہ اس کا ایک غالب سبب یہ بھی ہو سکتاہے کہ اوائل میں اردو کو ایک باقاعدہ ادبی و علمی زبان کا مقام دلوانے والے شعراء4 و ادباء4 کی اکثریت کا اپنانظریاتی واسطہ بھی بہ حسنِ اتفاق مکتبِ حسینیت ہی سے رہا اسلئے تاریخی طور پر ذکرِحسین اور کربلا کے بغیر اردو زبان ہی بے زبان ہوتی ہوئی نظر آنے لگتی ہے۔کم از کم ۰۰۵۱ عیسوی ہی سے اگر اردو کی تاریخ کا دکن میں قطب شاہی و عادل شاہی ادوارِ سلطنت سے مطالعہ کیا جائے تو اردو کی نثری تالیفات اور شعری تخلیقات کی مقبولیت اور حوصلہ افزائی کا ایک موثر ترین افق مجلسِ حسین کو سمجھا جاتا رہا۔ دکن میں علم اور ادب کے ذخائر نے اردو زبان کو بہت محبت سے گلے لگایا۔ اسی لئے قدیم روز مرّہ میں اْردو کو دکّنی کے نام سے بھی پہچانا جاتا رہا۔ چنانچہ اخلاقی نفاستوں اور تہذیبی اقدار کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ قرآن و حدیث کی امتزاجی بلاغت کا رزق بھی منبر حسین اور فرشِ عزاکے وسیلہ سے اردو ادب کے لطیف خْلیات کا بنیادی جزو بنتا چلا گیا۔
دکن ، لکھنو اور دلّی کے دبستان:
دکن میں ملک الشعراء نْصرتی، کمال خان رستمی،فرمانروائے گولکنڈہ حیدرآباد محمد قلی قطب شاہ، ملّاوجہی، غوّاصی اورولی دکنی سے لے کر دبستانِ دلّی و لکھنو میں اردو کی پرورش اور ارتقاء4 کیمحسنین میرزا رفیع سودا،میر تقی میر، ناسخ، ہمدانی مصحفی ، مومن خان مومن ،امیر مینائی ،خواجہ حیدر علی آتش، میر حسن، میر انیس، میرزا دبیر، جھنّو لال دلگیر،اسد اللہ خان غالب، استاد ذوق ،بہادر شاہ ظفر، یاس یگانہ چنگیزی اور حسرت موہانی تک اردو شاعری کی تاریخ بنانے والے ان اربابِ ادب کے نام تسبیحِ سخن کے وہ دانے ہیں کہ جن کے بغیر سلکِ اردو کا ورود و وجود ہی مکمل نہیں ہو پاتا۔اِن میں سے ہر ایک عظیم شاعر کے فکر ی رحجانات میں کربلا کے رثائی اور معنوی اثرات توانائی کے ساتھ گونجتے ہوے دکھائی دیتے ہیں۔جبکہ
انمیں انیس و دبیر اور جھنّو لال دلگیر جیسے شعراء4
کاتو قلم ہی ذکرِ کربلا کیلئے وقف رہا ہے
اقبال اور عہدِ نو کے شعراء :
کلاسیکی عہد کے بعد شاعرِ مَشرق علامہ اقبال کی فکری و شعری دنیا میں بھی کربلا کے شعوری سفر کو جنابِ ابراہیم تا جنابِ حسین جس لا محدود تناظر کے ساتھ سمجھایا گیا اس سے اردو ادب میں کربلا شناسی کا فلسفہ ایک منفرد نظریاتی تحریک کی صورت میں متعارف ہوا۔ اقبال کے بعد آج تک کے شعرائے اردو میں بھی کوئی ایسا نام نہیں جس کا قلم کربلا کے اثرات سے محروم رہا ہو۔ جوش ملیح آبادی، فیض احمد فیض، عبدالحمید عدم، احسان دانش ، ناصر کاظمی، استاد قمر جلالوی، سرکارِعلامہ رشید ترابی،عابد علی عابد ، سید ضمیر جعفری، جون ایلیا، رئیس امروہوی،شکیب جلالی،احمد ندیم قاسمی، قتیل شفائی، احمد فراز، منیر نیازی ، شیر افضل جعفری، کیفی اعظمی، مصطفیٰ زیدی ، کیپٹن جعفر طاہر، مشیر کاظمی،علامہ سید شاد گیلانی، بیدل پانی پتی، علامہ طالب جوہری، سیف زلفی،وحید الحسن ہاشمی، ڈاکٹر مسعود رضا خاکی ،قیصر بارہوی،افسر عباس افسر ،سجاد باقر رضوی، عدیم ہاشمی ،مہندر سنگھ بیدی ،بیدل حیدری ،حمّاد اہلبیت سید محسن نقوی ، محسن احسان، پروین شاکر،فارغ بخاری، ڈاکٹر عاشور کاظمی، مشکور حسین یاد،افتخار عارف ، ریحان اعظمی، حسن رضوی، امجد اسلام امجد،عباس تابش ، زاہد فخری،سید صفدر ہمدانی ، ڈاکٹر خورشید رضوی ،سبط جعفرزیدی ، شاہد نقوی، ریحان سرور، اختر چنیوٹی، زکی سرور کوٹی،صاحبزادہ رفعت سلطان،پیرنصیر الدین نصیر،ظفر سعید ظفر، سید ندیم عباس شاد، قائم نقوی،سید عقیل محسن نقوی، شوکت رضا شوکت، سیدعرفی ہاشمی، ڈاکٹر شبیہ الحسن ہاشمی،رمیض حیدری اور انکے علاوہ عہد حاضر کے بہت سے دیگر نامور اور گمنام تخلیق کار ایسے ہیں کہ انمیں سے چند ایک کا قلم تو مرثیہ و سلام نویسی کیلئے ہی مختص رہا جبکہ باقی سخنورغزل و نظم کے ساتھ ساتھ ایک موزوں تناسب کے ساتھ نعت، مرثیہ اور سلام کو بھی لکھتے رہنے کی ادبی روایت کے حامل نظر آتے ہیں۔
بھارت ،امریکہ، کینیڈا،انگلینڈ ،یورپ اور عرب ریاستوں میں رہنے والے کئی گرانقدر ادبی قامت کے شعرائے اہل البیت کی فہرست اس مضمون میں شامل نہیں ہے لیکن آسٹریلیا میں مقیم آج کی ادبی تقریب میں موجود کئی شعرا ئے اردو مثلاََ ڈاکٹر سید شبیر حیدر اور صباصادق بولانی، غزل کے ساتھ ساتھ سلام و نعت کہنے والوں میں شمار ہوتے ہیں خود میزبانِ مجلس نوشی گیلانی اور سعید خان کے نام بھی غزل کے علاوہ اس عہد کے پختہ کربلا نویس شعرا میں شمار ہونے کے لائق ہیں۔وسیع تناظر میں دیکھنے پر یہ حقیقت کھْل کے سمجھ میں آتی ہے کہ ماضی سے ابتک صرف افراد کا مسلکِ کربلا کی طرف مذہبی جھکاؤ ہی اْردوادب میں کربلا نویسی کا محرّک نہیں رہا بلکہ جہاں جہاں بھی حق پسندی، شعور کی پختگی اور عقلِ سلیم کی بلندی ملتی ہے وہاں وہاں کربلا کے اثرات سے قبولیت کے ادبی نقوش بر آمد ہوتے ہوے نظر آتے ہیں۔

شاعری میں لغاتِ کربلا:
تاریخ ا سلامی میں ایسے مستبد ادوار بھی کثرت سے ملتے ہیں کہ جن میں اعلانیہ ذکرِ حسین کرنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا لہٰذا ان زمانوں میں شعرا ء نے کربلا کو کنایوں اور استعاروں کی صورت میں پیش کرنے کی طرح ڈالی اور یوں شاعری کی عمومی اصناف بھی بالواسطہ فکرِ حسینی کے ابلاغ کا وسیلہ بنتی گئیں۔ چنانچہ عہد قدیم سے لیکر ابتک کے شعراء میں اگر مرثیہ کی مخصوص صنف سے ہٹ کر بھی نگاہ کی جائے تو اردو زبان کی غزل کو بھی ہر عہد کے شعراء کربلا کی تشبیہات اور استعارات سے مزیّن کرتے ہوے ملتے ہیں۔ اِس میدان میں مسلمان شعرا کے علاوہ اردو زبان کے بعض غیر مسلم شعراء کی تخلیقات بھی کربلائی استعارات اور افکار سے لبریز رہی ہیں اور یہ بات کربلا سے اردو کے لا زوال رشتے کی گواہی کو اور زیادہ مضبوط کر دیتی ہے۔ شاعری میں کربلا کے موضوع کی شعوری ترکیب مرثیہ ، سلام ، نوحہ او ر رباعی میں ظہور کرتی ہے جبکہ اس موضوع کی غیر شعوری ترکیب کا حوالہ اردو غزل و نظم میں موجزن نظر آتا ہے۔ اردو غزل کی لغات میں پیاس، وفا ،دشتِ بلا، شام غریباں، مقتل، نوکِ نیزہ، گریہء خون ، خیمہ ،قفس، درد ، خیر و شر، تشہیر، کوچہءّ عشق، فرات، دھوپ، سجدہ، جراحت،ماتم، سفر، یتیمی ، تشنہ دہانی ،غربتِ جاں ، چراغِ خیمہ ، آخری وداع، رسن بستگی،صبر، بیکسی، خنجرِ قاتل، شہیدِ وفا،مسافرت، حْر، گردِ سفر،تیغِ ستم، چہرے پہ خون ملنا،بندشِ آب،سر بْریدگی، بازو قلم ہونا، مشکیزہ، دریا، پامالی، بازارِکوفہ ، خاکِ مزار یا خاکِ شفا ، وقتِ عصر، چادرِ سر،عزا، مجلس اور اس جیسے کئی دیگر استعارات و اشارات کا معدن کربلا کے سوا کچھ بھی اور قرار نہیں دیا جا سکتا۔
صنفِ مرثیہ کا تشخص:
ایک تنگ نظر تنقیدی مقولہ رہا ہے کہ” بگڑا شاعر مرثیہ گو”۔۔ جبکہ عہد نو کی ادبی فراست اور وسعتِ نظر نے اس فرسودہ جملہ کو ردّ کر دیا ہے۔جدید تنقیدی بصیرت کی رْو سے مرثیہ گوئی کو فن شاعری کا سب سے حساس اور کٹھن عمل قرار دیا گیا ہے۔ باریک بین افراد جانتے ہیں کہ کئی اصنافِ سخن پر فنی گرفت رکھے بغیر ایک فکر انگیز اور جاندار مرثیہ نہیں کہا جا سکتا۔ شعر پر فنی گرفت کے ہمراہ جتنی فصاحتِ کلام، بلاغت ، حسّاسیت ، اور علمی وفکری مواد پر دسترس کی ایک کامیاب مرثیہ نگارکو ضرورت ہوتی ہے اتنی سعی ء4ِ نقد کسی اور صنفِ سخن میں مطلوب نہیں ہوتی۔
مرثیہ کے اجزاء:
بنیادی طور پر ایک روایتی مرثیہ اپنی ترکیب میں مندرجہ ذیل اجزاء کا حامل ہوتاہے۔ تاہم جدید مرثیہ میں قدرے مختلف ترکیبی تجربات بھی سامنے لائے گئے ہیں۔
۱۔ تمہید ۲۔چہرہ ۳۔سراپا ۴۔ رْخصت ۵۔ آمد ۶۔ رَجَز ۷۔ جنگ ۸۔ شہادت ۹۔ دعا
ھئیتِ مرثیہ:
مرثیہ کی صنف کوشعری ہئیت کے لحاظ سے قطعات، مسدّس اور مخمّس کی صورت میں لکھنے کا رواج دبستانِ لکھنو کے مشاہیر نے قاِئم کیا تھا۔ سن ۹۴۲۱ ہجری میں میر انیس کی ولادت[ یعنی ۴۶۲۱ ھجری] سے پہلے اْن کے والد کے ایک ہم عصر شاعر میر ضمیر کے ایک مسدس میں یہ دعویٰ موجود ہے کہ مرثیہ کو مروّجہ ھئیت میں لکھنے کی طرح انہوں نے ڈالی۔ مسدس ملاحظہ ہو

جس سال لکھے وصف یہ ہمشکلِ نبی کے
تھے بارہ سو انچاس وہ سالِ نبوی کے
آگے کبھی دیکھے نہ تھے یہ طرز کسی کے
اب سب ہی مقلد ہوے اس طرزِ نوی کے
بس میں کہوں سو میں کہوں یہ وِرد ہے میرا
جو جو کہے اس طرز میں شاگرد ہے میرا۔
دکن میں مرثیہ کی عمومی صورت نوحہ اور مثنوی سے مماثل تھی۔ بعد ازاں ہر دبستان میں مرثیہ برنگِ سلام کہنے کی تحریک بھی نظر آنے لگی۔۔ قدیم سلام کے بر عکس جدید سلام میں واقعہ نگاری کی جگہ نتائج اور احساساتِ لطیف کو جگہ دی جاتی ہے۔اسی لئے موجودہ عہد میں سلام نے غزل سے ترکیبی مماثلت کی بنا پر زیادہ کشش کے ساتھ مقبولیت حاصل کی ہے۔
میر انیس کا تعارف:
میر انیس کا نام ببر علی اور انیس تخلص تھا۔انکے والد میر مستحسن خلیق اور دادا معروف مثنوی سحر البیان کے خالق میر غلام حسین حسن تھے۔انیس کی ولادت سن ۱۰۸۱ میں فیض آباد میں ہوِئی اور وفات سن ۴۷۸۱ میں لکھنو میں ہوئی۔ عربی ، فارسی ، قرآن و حدیث و تاریخ کے علاوہ فنونِ شہسواری و سپہ گری کی تعلیم بھی لکھنو کے نامی اور لائق اساتذہ سے پائی۔ فارسی نظم و نثر لکھنے پر بھی قادر تھے۔ لڑکپن ہی سے شعر کہنے لگے۔ شعر میں اپنے والد سے اصلاح لیتے تھے۔پہلے حزیں تخلص تھا۔ شیخ امام بخش ناسخ کی فرمائش پر تبدیل کر کے انیس اختیار کیا۔اس خاندان میں شاعری کَئی پشتوں سے چلی آتی تھی۔ آپ کے مورثِ اعلیٰ میر امامی شاہجہان کے عہد میں ایران سے ہند میں آئے تھے اور اپنے علم و فضل کی بنا پر اعلیٰ منصب پر متمکّن تھے۔ ان کی زبان فارسی تھی لیکن ہندوستانی اثرات کے سبب دو نسلوں کے بعد ان کی اولادفصیح اردو زبان بولنے لگی۔ میر انیس کے پردادا اور میر حسن کے والد میر غلام حسین ضاحک اردو کے صاحبِ دیوان اور غزل گوشاعر تھے ۔
گویا میر انیس کے گھر انے کی اردو شاعری کا معیار تین نسلوں سے متقاضی تھا کہ وہاں میر انیس جیسا صاحب سخن پروان چڑھے اور تا قیامت اہلِ ادب اْسے” خدائے سخن “کے نام سے پکارتے رہیں۔ اردو ادب میں میر تقی میر، میرزا غالب اور علامہ اقبال کے ساتھ شاعری میں جو چوتھا نام سر فہرست سامنے آتا ہے وہ انیس کا ہے۔موضوع کی پاکیزگی،نظریہ کی بلندی ، اور دیر پامقصدیت کو سامنے رکھا جائے تو کلاسیکل شعراء4 میں نمایاں نام صرف انیس اور اقبال ہی کے رہ جاتے ہیں۔
شْمائل وخصائل:
محقق سید مسعود حسن رضوی کے مطابق میر انیس قدرے دراز قامت ، ٹھوس اور متناسب جسامت کے مالک تھے۔ خوبصورت کتابی چہرہ ،بڑی بڑی آنکھیں، صراحی دار گردن ذرا بڑی مونچھیں اور باریک داڑہی کہ جو دْور سے ترشی ہوئی محسوس ہو۔۔۔ میر انیس کا یہ سراپا سامعین کو شعر کے ساتھ ساتھ انکی شخصیت کا بھی گرویدبنا دیتا تھا۔ انیس کا پسندیدہ لباس چو گوشیا ٹوپی، لمبا گھیر دار کرتا اور شکن دار پاجامہ تھے کہ یہی اس زمانے کے شرفاء اور ذی علم افراد کا لباس ہْوا کرتا تھا۔ ماہِ نو کراچی کے میر انیس نمبر مطبوعہ ۲۷۹۱ میں تحریر ہے کہ میر انیس ایک خوش مزاج مگر نازک طبع آدمی تھے اس نازک طبعی کا سبب خود پسندی نہ تھی بلکہ بات یہ ہے کہ وہ نہایت مہذّب تھے۔ دوسروں کے حفظِ مراتب اور تالیفِ قلب کا حد درجہ خیال رکھتے تھے۔ دوسروں کیلئے حساس مزاج رکھنے والا انسان خود اپنے لئے بھی حساسیت کا حامل ہوتا ہے۔میر انیس نے اپنی شاعری کی تعریف سات آٹھ جگہ سے زیادہ نہیں کی ہے جو کہ ان کے کلام کی مقدار کو دیکھتے ہوے نہ ہونے کے برابر ہے۔ اپنے حریفوں کے مقابل اندازِ ستائش کچھ ایسا ہے کہ اس ستائش کا بھی منطقی رْخ مدحت محمد وِ آلِ محمد پر ہی محمول کر دیا۔ کیفیت دیکھئے
“خوانِ تکلم”ہے فصاحت میری
ناطقے بند ہیں سْن سْن کے بلاغت میری
رنگ اْڑتے ہیں وہ رنگیں ہے عبارت میری
شور جس کا ہے وہ دریا ہے طبیعت میری
عمر گْزری ہے اسی دشت کی سیّاحی میں
پانچویں پْشت ہے شبّیر کی مدّاحی میں
حضرتِ انیس ہی کا شعر ہے کہ جو روزمرّہ کا مقام رکھتا ہے
لگا رہا ہوں مضامینِ نو کے پھر انبار
خبر کرو مرے خِرمن کے خوشہ چینوں کو
انیس غزل سے مرثیہ تک
میر انیس ابتدا میں غزل کہتے تھے مگر والد کی نصیحت پر صرف سلام اور مرثیہ کہنے لگے اور پھر ایسے منہمک ہوے کہ کبھی غزل کہنے پر توجہ ہی نہیں دی ۔ محمد حسین آزاد نے کیا خوبصورت تبصرہ فرمایا ہے کہ” والد کی فرمانبرداری میں غزل کو ایسا چھوڑا کہ بس غزل کو سلام کر دیا۔ ” مرثیہ گو کو بگڑا شاعر کہنے والے طبقے نے شاید میر انیس کی غزل کا لہجہ نہیں دیکھا تھا۔۔ناصر لکھنوی نے “خوش معرکہء4ِ زیبا” [ مرتّبہ مشفق خواجہ کراچی ]میں لکھا ہے کہ غزلیں انہوں نے دانستہ ضاِئع کر دی تھیں مگر پندرہ سولہ غزلیں جو محققین کو دستیاب ہوئی ہیں وہ انیس کی غزل گوئی پر فنی قدرت کی واضح ترین دلیل ہیں۔ چند شعر دیکھئے
شہیدِ عشق ہوے قیسِ نامور کی طرح
جہاں میں عیب بھی ہم نے کئے ہنر کی طرح
کچھ آج شام سے چہرہ ہے فق سحر کی طرح
ڈھلا ہی جاتا ہوں فرقت میں دوپہر کی طرح
انیس یوں ہوا حالِ جوانی و پیری
بڑہے تھے نخل کی صورت گرے ثمر کی طرح
ایک اور غزل کا شعر دیکھئے۔۔۔۔
نزع میں ہوں مری مشکل کرو آساں یارو
کھولو تعویذِ شفا جلد مِرے بازو سے
اسی طرح ایک اور غزل کے شعر کا نمونہ دیکھئے
مثالِ ماہیءِ بے آب موج تڑپا کی
حْباب پھْوٹ کے روئے جو تم نہا کے چلے
روزمرّہ کا درجہ :
غور کیا جائے تو احساس ہو گا کہ ادب شناس حلقوں میں نا دانستہ طور پر بھی انیس کی غزل کا یہ عالم رہا ہے کہ گنتی کی چند غزلوں کے باوجود اکثر غزلیات کا کوئی نہ کوئی شعر یا مصرعہ محاورہ و روزمرہ کی سطح پر استعمال ہوتا چلا آیا ہے
خیالِ خاطرِ احباب چاہئے ہر دم
انیس ٹھیس نہ لگ جائے آنگینوں کو
بعینہ یہ شعر دیکھئے
انیس دم کا بھروسا نہیں ٹھہر جاو
چراغ لیکے کہاں سامنے ہوا کے چلے
لکھنوی ماحول اور انیس
مرثیہ کی میراث انیس کو اجداد سے منتقل ہوئی تھی مگر ان کی طبعِ رواں ذاتی لیاقت کربلا سے ایمانی وابستگی اور شاہانِ اودھ کے عہد حکومت میں لکھنو کے اندرعزاداری کیلئے مثالی ماحول کی دستیابی نے انیس کو مرثیہ نویسی اور مرثیہ خوانی کے فن میں طاقِ رْوزگار بنا دیا اور کچھ ہی عرصہ میں انیس نے سلاستِ زبان ، ادائیگی اور حسنِ بیان میں اپنے عہد کے راسخ البیان مرثیہ گو استادجناب میرزا سلامت علی دبیر اور دیگر اساتذہ ء4ِ فن کو بھی مقبولیت میں قدرے پیچھے چھوڑ دیا۔ لکھنو کے اس مثالی ادبی ماحول کا بیان خود میر انیس کیاس بند میں ملتاہے
ہر دل ہے عندلیبِ گلستانِ لکھنوء4
رضواں بھی ہے اِرم میں ثنا خوانِ لکھنوء4
گلزارِ مومنیں ہے زہے شانِ لکھنوء4
نعرے علی علی کے ہیں۔ قربانِ لکھنوء4
مومن ہر ایک عاشقِ شیدا علی کا ہے
بے فصل سب کو عشق خْدا کے ولی کا ہے
معمولات:
انیس کا معمول تھا کہ شب بھر جاگتے اور مطالعہ و تصنیف میں مصروف رہتے تھے۔انکے پاس دوہزار سے زائد قیمتی اور نایاب کتب کا ذخیرہ موجود تھا۔ نمازِ صبح پڑھ کر کچھ گھنٹے آرام کرتے تھے۔ بعدِ دوپہربیٹوں اور شاگردوں کے کلام کی اصلاح کرتے تھے۔ محفلِ احباب میں عقائد اور علوم وعرفانیات پر گفتگو کرتے تھے۔میر انیس کے ایک نواسے میر سید علی کا بیان ہے کہ میر انیس کے متعلّق آئینہ لیکر مشقِ مرثیہ خوانی کرنے کی روایت بالکل غلط ہے۔ اْن کا کمالِ ادائیگی دیکھ دیکھ کر کچھ لوگوں نے ازخود یہ سمجھ لیا تھاکہ آئینے کے رْوبرو مشق کرتے ہوں گے۔
مراثئِ انیس کی تعداد :
میر ببر علی انیس کو دشت کربلا کا عظیم ترین سیّاح قرار دیا گیا ہے۔ اْن کے مرثیوں کی تعدا د بارہ سوکے لگ بھگ بیان کی جاتی ہے۔”مجلّہ نقوش انیس نمبر” میں بہ تحقیقِ عمیق میر انیس کے ۶۲ نایاب اور غیر مطبوعہ مراثی طبع کئے گئے ہیں۔ محققین کے مطابق ان کے کئی مرثئے ابھی تک غیر مطبوعہ حالت میں مختلف بیا ضوں کے اندر موجود ہیں۔ میر انیس نے روایتی مرثیہ کے علاوہ سلام قصائد، نوحہ اور رباعیات کا بھی کثیر ذخیرہ چھوڑا ہے۔ رباعیاتِ انیس کی تعداد محققین کے مطابق ۰۰۶ کے برابر ہے۔ میر انیس کے کئی مراثی میں معجزاتی کرشمہ کاری کا عنصر ملتا ہے۔آپ کے ایک نواسے میر عارف کی تحریری یادواشت سے پتہ چلتا ہے کہ ۷۵۸۱ کے اواخر میں میر انیس نے ایک سو ستاون بند یعنی ایک ہزار ایک سو بیاسی مصرعوں کا یہ شاہکار مرثیہ ” جب قطع کی مسافتِ شب آفتاب نے” ایک ہی شب میں لکھا اوراپنے خاندان کے عشرہء4ِ مجالس میں پڑہا۔ انیس نے باب مدین? العلم حضرت علی ابنِ ابی طالب علیہ السّلام کے بے نْقط خْطبہ کی تاسی میں کچھ ایسے مرثئے بھی لکھے جو بے نْقط تھے۔ ان مرثیوں میں ایسے الفاظ لائے گئے ہیں کہ جن میں کہیں بھی نقطہ نہیں آتا۔۔میر انیس کے تین فرزندان تھے میر نفیس، میر جلیس اور میر سلیس اور یہ تینوں منجھے ہوے شاعر و مرثیہ نگار تھے۔ والد کے بعد میر نفیس کا مرثیہ اعلٰی پائے کی مرثیہ نگاری میں شمار ہوا ہے۔
میر انیس نے وعظ و نصیحت کے دفتر کھولے بغیر افرادِ مرثیہ کے عمل سے اخلاقیات کا ایک انمول خزانہ پیش کر دیا ہے۔بعض ناقدین کو اعتراض رہا کہ انہوں نے عرب کرداروں کو پیش کرتے وقت کسی حد تک ان کی پیشکش میں ہندی آہنگ اور تاثر کو غالب کر دیا ہے۔ گوچند مقا مات کے علاوہ مراثیء4ِ انیس میں اسکی مثال نہیں ملتی۔لیکن اس اعتراض کے جواب میں یہ جاننا چاہئے کہ ظاہری ملبوس و نفسیات کے ذریعہ ماحولیاتی قْرب پیدا کرنے کیلئے اگر ایسا کہیں لکھ بھی دیا گیا ہے تو انیس کا مقصد یہی نظر آیا ہے کہ کردار و ماحول سے فاصلہ اور اجنبیت کو دور کر کے قاری کو مقصدِ بیان سے قریب کیا جا سکے کیونکہ کسی مرثیہ میں رسوماتی یا سماجی ماحول کی تبدیلی لانے کے باوجود انیس کے ممدوح و موصوف کرداروں کی ناقابلِ تردید معنوی اخلاقی اور باطنی معرفت میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہو سکتی۔
میر انیس اور مرثیہ نگاری کی مقصدیّت :
انیس اثنا عشری امامیہ عقیدہ کے پابند تھے اور پیغمبرِ اسلام ہی کی طرح ان کے جانشین یعنی بارہ آئمہ ء4ِ اہل بیت صلوات اللہ علیہم کی عصمت ، امامت اور حیاتِ ابدی کے بھی قائل تھے۔ اللہ کی طرف سے نصِّ امامت پر فائز امام حسین علیہ السلام کہ جو بزبانِ رسالت “الحسین منّی و انا من الحسین” کا تشخص بھی رکھتے تھے اْن کے تمام درود فام اور لائقِ مدح وسلام خانوادہ کا میدانِ کربلا میں یزید جیسے فاسق ،جابراور پست ترین اخلاقیات والے انسان کے لشکرِ سفّاک کے ہاتھوں شہید ہو جانا ایک ایسا کائناتی حادثہ تھا کہ اسے خیر و شر کے مابین تاریخِ بنی آدم کا سب سے عظیم معرکہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
میر انیس کا اشکبار قلم اس سانحہ کو صرف لشکرِ یزید کے جگر سوز مظالم کی داستان کے حوالے سے بیان نہیں کرتا ، بلکہ واقعہ نگاری سے پہلے توحید و رسالت کی نگاہ میں امام حسین علیہ السلام کی فضائل مآب قدر و اہمیت کو بھِی پوری دیانت کے ساتھ پہچا ننے پر زور دیتا ہے۔ تاکہ معرفتِ حسین کے ذریعہ یہ اندازہ ہو سکے کہ کسی لشکرِ شریر و بے ضمیر کی اْن جیسے وارثِ رسالت و ولایتِ کے خلاف جارحانہ دہشت گردی اور قاتلانہ و بہیمانہ جسارت کی عند اللہ و عند الرّسول کیا نوعیت ہے ؟ اور اس شہادت عظمیٰ کے بعد ہر زمانے کے حق پرست ذہنوں میں جبرو استبداد اور طاغوتی شر انگیزیوں کے خلاف کس نوعیت کے فکری احتجاج اور اخلاقی انقلاب کو جنم لینے کی ضرورت ہے۔ ؟
جوازِ صنفِ مَرثیہ :
مرثیہ رثا ء سے مْشتق ہے جس کا شعوری مفہوم ہے کہ کسی مرنے والے کی توصیف وتعزیت میں کچھ کہنا۔ جبکہ ادبی مقصدیت کے لحاظ سے صنفِ مرثیہ ف?قط ایک حرفِ تعزیت سے کہیں زیادہ مرنے والے کی شخصیت کے اخلاقی معیار کی مظہر ہوتی ہے۔ دیر پامرثیہ کسی دیر پا شخصیت کیلئے ہی کہا جا سکتا ہے اور اس طرح ایک ادبی مرثیہ تعزیت ،خراجِ تحسین اور اہداف کی نشاندہی کے اتصال سے جنم لیتا ہے۔ اور اس لئے موضوعِ مرثیہ شخصیّت کے متوسّلین ولواحقین کیلئے یہ صنف عدم فراموشی،شعوری بیداری اور تحریکِ عمل کا پیام بن کر سامنے آتی ہے۔۔ایک با جوازمرثیہ حق شناسی کی حِس کو “حیّ علیٰ الفلاح” کی آواز دیتے رہنے کے مترادف ہے۔کسی عادل اور حق پرورمظلوم کی مظلومیت پر رونے کا اہتمام فراہم کرنا سنّتِ انبیائے ما سلف رہا ہے اور پاکیزہ قلوب کیلئے تلاوتِ آیات جتنا اثر رکھتا ہے۔۔ ایسا رونا طہارتِ فکر کی علامت ہے اور ظلم کے خلاف مہذب ترین احتجاج ہے۔ نظریاتی انداز میں کہا گیا مرثیہ مظلوم کی صداقت پر مستقل ادبی و تاریخی قرارداد کا مقام رکھتا ہے۔
مرثیہ اور معیارِ انسانیت شماری:
اللہ کی اوّلین شریعت کے حامل سب سے پہلے رسول حضرت نوح علیہ السلام تھے۔ آپ کا حقیقی نام عبد الرزّاق یا عبد الغفار تھا لیکن جب وہ اپنی اّمت کے مظالم کا نوحہ پڑہتے ہوے سرِ بازار نکلتے تھے تو اللہ ربّ العزّ? کمالِ محبت سے انہیں “نْوح “یعنی نوحہ پڑہنے والے کے لقب سے پکارتا تھا اور عرفِ عام میں یہی لقب آپ کا مستقل نام بن گیا۔ نوحہء4ِ حضرتِ نْوح ایک طرف اْس عہد کے ظالموں اور شر یروں کو بے نقاب کرنے کیلئے اتمامِ حجت تھا تو دوسری طرف نْصرتِ نمائندہء4ِ الٰہی کی دعوتِ عام بھی تھا۔ چنانچہ صادق و مظلوم افراد کا تذکرہ او ر مرثیہ کہنا اس لئے بھی اہم ہے کہ اس مرثیہ و نوحہ کے مرّتب کردہ اثرات نظامِ فطرت کو ازخود کسی معاشرے میں انسانیت شماری کے درست ترین اعداد بھی فراہم کر دیتے ہیں۔ چونکہ سید الشہداء4 امام حسین کی مظلومیت بھی مظلومیتِ انبیاء4 کی وارث ہے اور شہادت امامِ حسین جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیثِ “الحسین منّی و انا من الحسین” کی رْو سے اور بمطابق محدّثِ دہلوی حضرت شاہ عبد العزیز علیہ الرحم? [کتاب “ِ سرّ الشّہادتَین”] عین شہادتِ رسولِ اسلام کے برابر ہے لہِذا ایسے ہی نظریات کی عملی تفسیر پیش کرتے ہوے میر انیس جیسے ذہین اور خوش عقیدہ شاعر
نے اپنے قلم کو عبادت کی منزل تک خاندانِ رسول کے مظلو مین کی مرثیہ نگاری کیلئے وقف کر دیا۔
میر انیس کا مختصر فنّی جائزہ
جنابِ انیس کے رقم کردہ مرثئے ابتک کروڑوں آنکھوں زبانوں اور سماعتوں کو اپنے ملکوتی خصائل کا گواہ بنا چکے ہیں اسلئے مجھے اس اجمالی مضمون میں اْنکے خصایصِ کلام بیان کرتے ہوے عام روایت کے مطابق حوالہ کیلئے اْن کے مراثی کے بند لکھنے کی گنجائش نظر نہیں آتی۔۔ اْن کے مراثی سمندر جیسی وسعت کے حامل ہیں اور یہ تمام مرثئے فرصتِ فکر کے ساتھ والہانہ مطالعہ کے طالب ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ انیس کے کہے ہوے مرثیوں میں آیات و روایات ، تاریخ، تخیئل، ماحول، سراپا، رَجَز، مبارزت طلبی،مظلومیت، آہ و بکا، مکالمات ، اعداد و شمار،منطق و فلسفہ ، علومِ جہانی ،اور اصول و عقائد کے مفا ہیم کی ایسی متوازن آمیزش ملتی ہے کہ انیس کے علم و فضل کی وسعتیں بیکراں محسوس ہونے لگتی ہیں۔ انیس نے دبیر کے مقابلہ میں سلیس زبان استعمال کی اس کے باوجود اردو ادب کے محققین کے مطابق طولِ تاریخ میں تراکیب و فرہنگ کا سب سے عظیم ذخیرہء4ِ الفاظ میر انیس کے کلام میں ملتا ہے۔ عروض و قوافی ، صرف و نحو،تراکیب، صنائع و بدائع ،محاکات، محاورات اور بندشیں ان کے یہاں دست بستہ نظر آتے ہیں ۔ مرثیہ بیانیہ شاعری کا نام ہے۔ انیس نے اسمیں ایک ناظر کی حیثیت سے خارجی اندازِ ملاحظہ اور مرثیہ کے کرداروں کی اپنی داخلی کیفیات کو بیک وقت یک جا کر کے واقعہ نگاری کو معجزاتی انداز تک متحرّک اور بے نظیر بنا دیا ہے۔ قدیم ہندی ادب کے مطابق جذباتِ انسانی کی تقسیم کے نو مجوّزہ رْخوں یعنی محبت، نفرت، شجاعت، سکون، حیرت، خوف، غصّہ، مسرّت اور غم کی جملہ کیفیات ، اْن کے امتزاج اور مدارج پر انیس نے اپنے مرثیوں میں انفرادی ارتکاز کے ساتھ کام کیا ہے۔ مختلف جذبوں کے امتزاج کو کیمیائی محلولات کی طرح سے جانچنا اور لفظوں میں ڈھالنا میر انیس ہی کا فنّی خاصّہ ہے۔ ہر کردار پر گفتگو کے دوران اس کی نفسیاتی کیفیت، ایمانی سطح ، امام سے ارادت و شغف کا زاویہ اور سن و سال کی تمیز کا اس درجہ باریکی سے خیال رکھا گیا ہے کہ پورے منظر کی نبض قاری کے ہاتھ میں آ جاتی ہے۔میر انیس کا اجتماعی کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے مرثیہ نگاری کو ایک سماجی رسم کے درجہ سے اٹھا کے نفیس ترین ادبی صنف اور مرثیہ گوئی کو فنِّ لطیف میں بدل دیا ہے ۔ میر انیس نے اپنے مرثیوں میں فضائلِ اہلبیت میں قرآن و حدیث کے حوالے، تارِیخ پر گہری نظر کے شواہد، کربلا میں حسینی اور یزیدی سپاہ کے اعداد و شمار، مبارزین کے سراپے، حسین والوں کا جذبہء4ِ عشقِ الٰہی ، قربانی کا ذوق ، شجاعت ،صحرا کی کیفیت، گرمی کی شدت کا حال، تشنہ لبی کے مناظر، مصائب پہ صبر کی منزل، شہداء4 کاخیمہ گاہوں سے وداع، خونِ ہاشمی کے مباہات، اہل حرم کی ایمانی استقامت اور جذباتی کیفیات ، حسرتیں ، حسینی کرداروں کی اخلاقی بلندی اور حْسن و جمال، یزیدی سالاروں کے رذائل ، قاتلین کی سفّاکی، غربتِ خاندانِ رسول، معصوم بچوں کے جذبات
انصار و اعوان کی اطاعتِ امام ،شہادتِ عظمیٰ کی لفظی مصوّری، اور شہدا کی لاشوں کی آمد کے مناظر اس وضاحت و تواتر سے قلمبند کئے ہیں کہ محسوس ہونے لگتا ہے گویا وہ ان احوال کے چشم دید گواہوں میں شامل تھے
انیس بطور سحر انگیز مرثیہ خوان:
میر انیس ایک اعلیٰ سخنور ہونے کے علاوہ نہایت خوش آواز بھی تھے۔ نقوش کے میر انیس نمبر میں روایت نقل ہے کہ لکھنو کے ایک بزرگ سید محمد جعفر مرثیہ خوان تھے وہ کہتے ہیں کہ “میں نے بچپن میں میر انیس کو بار ہا مرثیہ خوانی کرتے ہوے سْنا ہے۔ انیس کی آواز میں جو دلکشی تھی وہ کسی انسان کا تو کیا ذکر ،کسی خوش الحان پرند اور باجے کی آواز میں بھی نہیں ہے۔ جب کبھی وہ بے تکلّف احباب کی صحبت میں بند کمرے کے اندر اپنے دادا میر حسن کی مثنوی پڑہتے تھے تو راہ گیر کھڑے ہو کے دیر دیر تک سْنا کرتے تھے۔” اْن کے تفاخرِِ لحن کو خود میر انیس کے اِس شعر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ
لہجہ سْنو زبانِ فصاحت نواز کا
تارِ نفس میں سوز ہے مْطرب کے ساز کا
منبر پہ مرثیہ تحت اللفظ پڑہنے میں بھی میر انیس کی مثل کوئی دوسرا نہ بن سکا۔ انیس پر لکھی گِئی کتب میں اس شانِ ادائیگی کا تذکرہ کئی راویوں کی زبان سے نقل ہوا ہے۔کتاب ” واقعاتِ انیس” میں علی مرزا پٹنے کا بیان ہے کہ وہ انیس کے متواتر سننے والوں میں سے تھے اور انیس بہ کمالِ توجّہ منبر سے انہیں مخاطب بھی کیا کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں
” ایک بات میں نے میر انیس میں حیرت ناک دیکھی۔ جب وہ مرثئے کا کوئی مقام رقّت انگیز پڑ ہتے تھے تو جوشِ رقت میں خود بھی بے چین ہو جایا کرتے تھے۔ضبطِ گریہ کی غرض سے نیچے کے ہونٹ کو دانتوں سے دبا لیتے تھے جس سے داہنی جانب کا رخسار متحرّک ہو جاتا تھا اور یہ موشن اْن کو لاکھ لاکھ بنا ڈالتا تھا۔ اْنکو تو
اِس انداز سے یہی مقصود تھا کہ جوشِ گریہ سے آواز گْلو گِیر نہ ہو جو مانعِ خوانندگی ہے، مگر قدرتاَ َاس دلفریب ادا کی چوٹ ہر دل کو بے چین کر دیتی تھی”
مولانا محمد حسین آزاد نے ۷۵۸۱ میں انیس کو لکھنو میں خود دیکھا تھا۔آبِ حیات میں انہوں نے انیس کیلئے لکھا ہے
“کمال اور کلام کی کیا کیفیت بیان کروں محویت کا عالم تھا وہ شخص منبر پر بیٹھا پڑھ رہا تھا اور معلوم یہ ہوتا تھا کہ جادو کر رہا ہے۔ انیس کی آواز ، اْن کا قد و قامت اْن کی صورت کا انداز غرض ہر شئے مرثیہ خوانی کیلئے ٹھیک اور موزوں واقع ہوئی تھی۔”
مولوی عبد الحلیم شرر “گزشتہء4ِ لکھنو” میں لکھتے ہیں کہ
” میر انیس نے مرثیہ گوئی کے ساتھ مرثیہ خوانی کو بھی ایک فن بنا دیا۔ یو نانیوں کے بعض مقرّروں کی نسبت سنا جاتا ہے کہ وہ آواز کے نشیب و فراز اور اوضاع و اطوار کے تغیّرات سے گفتگو میں جادوئی اثر پیدا کرتے تھے۔ اسلام کی اِس طولانی عمر میں اس نہایت ضروری فن کو اصول کے ساتھ خاص میر انیس نے زندہ کیا ہے”
حرفِ آخر:
میر انیس کے ہم پیشہ رقیب، فنی مقابل اور ہم عصر اساتذہ میں مِیرزا سلامت علی دبیر کا نام پیش پیش رہا ہے۔ بعض نقاد آج تک فنی سطح پر مقابلہ ءِ انیس و دبیر میں کسی اتمامی فیصلہ تک نہیں پہنچ پائے۔ میرزا دبیر بالیقین مکتب کے لحاظ سے انیس کے ہم پلہ مرثیہ گو تھے اور اْن کی مرثیہ کے ارتقا و نفوذ کے لئے خدمات بھی اپنی جگہ مسلّم ہیں لیکن قرائن سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عوام و خواص میں جو شہرت و پسندیدگی میر انیس کو نصیب ہوئی ان کے ہم عصر وہاں تک نہیں پہنچ پائے۔ میر انیس نے معدہ کی علالت میں چند روز بیمار رہنے کے بعد وفات پائی۔ ان کی موت پر لکھنو اور تمام ہندوستان کے لوگ کئی سال تک سوگوار رہے۔ لکھنو کے عزا خانے ان کی مفارقت میں خود بھی عزادارنظر آتے تھے۔ میرزا دبیر میر انیس کی وفات کے بعد صرف تین ماہ زندہ رہے۔۔ جہانِ مرثیہ سے انیس کی مفارقت کے خلا ء4 نیانہیں بھی دلی طور پر رنجیدہ و محزون کر دیا تھا۔ انیس سے تعلقِ خاطر میرزا دبیر کے انیس کیلئے کہے گئے فارسی قظعہء4ِ تاریخ کی صورت میں آجتک ادبِ عالیہ کا حصہ ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ۴۱ اشعار پر مبنی اس تعزیتی نظم میں جنابِ دبیر نے چند ہفتوں کے اندر اندر اپنے وصال کی پیش گوئی بھی تحریر کردی تھی۔
یادگارِ رفتگاں ہستیم و مہمانِ جہاں
چند روزہ چند ہفتہ بے برادر بے انیس
آسماں بے ماہِ کامل سدرہ بے روح الامیں
طْور سینا بے کلیم اللہ و منبر بے انیس
دور جدید کے عظیم انقلابی شاعر اور مرثیہ نگار حضرت جوش ملیح آبادی نے میر انیس رضوان اللہ علیہ کیلئے کیا لا زوال اشعار ثبت کئے ہیں:
اے دیارِ لفظ و معنی کے رئیس ابنِ رئیس
اے امینِ کربلا باطل فگار و حق نویس
ناظمِ کرسی نشین و شاعرِ یزداں جلیس
عظمتِ آلِ محمّد کے مورّخ اے انیس
تیری ہر موجِ نفس روح الامیں کی جان ہے
تْو مِری اْردو زباں کا بولتا قْرآن ہے

Viewers: 18561
Share