Atif Mirza |Urdu Poetry| غزل ۔ خوردۂ ماہ و سال، تو ہی نہیں

عاطفؔ مرزا اعزازی مدیر۔اردو سخن atifmirza71@gmail.com فون: 03227033466 خوردۂ ماہ و سال، تو ہی نہیں سچ کہوں! خستہ حال تو ہی نہیں دوست، دشمن، رقیب، چارہ گر دیکھ، مجھ پر […]

عاطفؔ مرزا
اعزازی مدیر۔اردو سخن
atifmirza71@gmail.com
فون: 03227033466

خوردۂ ماہ و سال، تو ہی نہیں
سچ کہوں! خستہ حال تو ہی نہیں
دوست، دشمن، رقیب، چارہ گر
دیکھ، مجھ پر وبال تو ہی نہیں
رابطہ دو طرف سے ہوتا ہے
محرمِ اتصال تو ہی نہیں
بٹ رہی ہے عروج کی دولت
مبتلائے زوال تو ہی نہیں
میرے نسخے میں اور کچھ بھی ہے
باعثِ اندمال تو ہی نہیں
اک زمانہ صدا لگاتا ہے
محوِ عرض و سوال تو ہی نہیں
اور آنکھیں بھی دیکھتی ہیں مجھے
دشت میں بس غزال تو ہی نہیں
دشت کا دشت مجھ سے واقف ہے
واقفِ عرضِ حال تو ہی نہیں
پہلے ترتیب تیرے دم سے تھی
اب کہاں دیکھ بھال، تو ہی نہیں
عشق میں صاحبِ نصاب ہوں میں
صرف آسودہ حال تو ہی نہیں
ایک دنیا ہے دسترس میں مری
شاملِ مِلک و مال تو ہی نہیں
مطمئن ہے یہ جان کر عاطفؔ
وجہِ حزن و ملال تو ہی نہیں

Viewers: 7520
Share