Hafiz Muzafar Mohsin | Subah Sawairay Sach | اِس یلغار کو روکو…….. ورنہ‘‘

حافظ مظفر محسن 101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور فون:0300-9449527 ’’اِس یلغار کو روکو…….. ورنہ‘‘ صبح سویرے اُس خبر کی تلاش تھی جو رات کو سُنی اور ٹیلی ویژن پر دیکھی […]

حافظ مظفر محسن
101۔چراغ پارک شاد باغ لاہور
فون:0300-9449527

’’اِس یلغار کو روکو…….. ورنہ‘‘

صبح سویرے اُس خبر کی تلاش تھی جو رات کو سُنی اور ٹیلی ویژن پر دیکھی ’’ پیر صاحب پگارہ شریف کی رحلت ‘‘۔
آج کے دور میں پیر کا لفظ ذہن میں آتے ہی محلے میں موجود اِک کمرے میں کرایہ پر ٹھہر ا ہوا وہ شخص جو لوگوں کو پھانسنے کے سو طریقے آزماتا ہو، محسوس ہوتا ہے۔ بڑے شہروں میں ایسے آستانے ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ بالکل جس طرح جعلی ڈاکٹروں کے کلینک ہر موڑ پر موجود ہیں اور ڈھیٹ قسم کے کمپوڈرز ’’ ٹائی ‘‘ لگائے گھومتی کرسی پر براجمان دکھائی دیتے ہیں۔ اِن جعلی ڈاکٹروں نے سالوں کی سخت محنت کے بعد بننے والے ڈاکٹروں کو بھی بد نام کر ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور انہی کے طفیل ’’ گھوڑا گدھا‘‘ یہاں ایک دام میں بکنے لگے تھے۔ ’’ شوگر‘‘ جیسا موذی مرض تو یہ جعل سازپل بھر میں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا دعویٰ کرڈالتے ہیں اور ’’ ضرورت مند تو مجبور ہوتا ہے‘‘۔
حکومتی ادارے ٹرک کی لائٹ کے پیچھے چلنے اور پھر چلتے رہنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ اُنہیںیہ جرائم پیشہ لوگوں کی آماجگاہیں میری مراد آستانے دکھائی نہیں دیتے اور نہ ہی میٹرک فیل جعلی ڈاکٹر جو نہ جانے کس مریض کو کون سے مرض کا ٹیکہ لگا کر تجربہ کرتے کرتے تباہ کر ڈالتے ہیں اور دام وصول کر لیتے ہیں اور ستم بر ستم یہ کہ دام بھی مُنہ مانگے۔ پہلے ڈگری ہولڈر حکیم بھی معاشرے میں ڈاکٹر وں کی کمی پورے کرتے تھے مگر عطائی ڈاکٹر بہت عام ہو چکے ہیں جو بلا کسی ڈر خوف کے مَن مرضی کے کام کر رہے ہیں ۔
’’ پیر پگارہ‘‘۔۔۔ کا لفظ سن کر ہمارے ذہن میں ایسے ہی نقش ابھرتے ہیں جیسے قائداعظم اور علامہ اقبال کے نقوش ہمارے تعلیمی نصاب نے ہمارے ذہنوں میں کندہ کر رکھے ہیں۔ اور سر آغا خان، مولانا سید ابو لاعلی مودودی، خان عبدالغفار خان اور دوسرے بہت مختلف قسم کے راہنماؤں کے نقوش ۔۔۔ اِن میں کچھ زندہ شخصیات بھی ہیں جو دلوں پر حکمرانی کررہی ہیں۔
یہ سب اپنی اپنی دنیاؤں کے لوگ تھے۔ اپنی اپنی سلطنتوں کے مالک۔ سلطنت جس پر اُنہوں نے راج کیا، خوب ڈٹ کر کیا اور عوام نے اُن کی موجودگی میں کسی دوسرے کی طرف نہ دیکھا اور نہ ہی دیکھنے کا سوچا۔ اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تومیں یہاں تک بھی کہہ سکتا ہوں کہ اُن کے کسی عمل سے کسی نے بھی اختلاف رائے کی جرات تک نہ کی اور اُن سے خاموش محبت کر تے رہے۔
ایران کے امام خمینی ہوں، تبت کا دلائی لامہ ہویا امریکہ کا گرو رجنیش۔ یہ لوگ بھی عجیب طرح روحانی پیشوا ء بن کر سامنے آئے اور ہمیشہ اِک بڑی تعداد اُن کے پیر وکار وں کی صف میں شامل رہی۔ اِن کا قداور شخصیت عام نہیں تھی۔ جاذب ہستی تھی یا خدا کی طرف سے کوئی ودیعت تھی۔ یہ کیا تھا۔ خدا جانتا ہے۔ ہم نے تو ان لوگوں کو اپنی اپنی دنیاؤں میں ’’ کنگ‘‘ کے طور پر دیکھا۔جو چھائے رہے۔ اِن میں سے امام خمینی سے تو بہت ہی زیادہ محبت کی گئی۔
شہزاداحمد چیمہ آف گجرات وزیرآباد (مجھے آج تک ان جڑواں شہروں میں فرق دکھائی نہیں دیا۔گجرات جاؤں تو لگتا ہے وزیر آباد میں پھر رہا ہوں اور وزیر آباد میں ہوں تو گجرات کے مزے) ہمیشہ کہتا ہے کہ ’’ آقا‘‘ میں کوئی کرشمہ ہوتا ہے۔ لوگ اُس کی شخصیت کی طرف کھینچتے چلے آتے ہیں۔ یعنی آقاؤں میں قدرتی طور پر جاذبیت بھری ہوتی ہے۔
ہماری اِک عزیزہ پونم آپی اِک بڑے اسکول میں پڑھاتی ہیں۔ ایم۔ ایس سی باٹنی ہیں۔ اِک دن پانچویں کلاس کی استاد نہ آئیں تو اُنہیں پانچویں کلاس کو ہینڈل کرنا پڑا۔
رئیس جو چھ سات کا بچہ ہے اس نے کہا ’’ میڈیم میری امی بھی کسی اسکول میں ٹیچر ہیں۔اُن کی پرنسپل اُن کو ہمیشہ کہتی ہیں ’’ سج ‘‘ کے آیا کرو۔‘‘
’’بیٹا۔ کیا وہ لپ اسٹک لگا کر اسکول نہیں جاتیں۔ ‘‘
’’جی! وہ لِپ اسٹک لگا کر اور سُرمہ ڈال کر روزانہ اسکول جاتی ہیں۔لیکن ’’ سج‘‘ کر نہیں جاتیں۔‘‘
’’وہ کیسے؟‘‘ پونم آپی نے پوچھا۔
’’ آپ کی طرح‘‘ بچے نے جواب دیا۔
کچھ لوگ آسمانوں سے ہی سجا کر بھیجے جاتے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شخصیت بھی جادوئی قسم کی تھی۔ لوگ اُن کو دل سے لیڈر ماننے کو تیار تھے اور ہمیشہ جو لوگ اُن کے نظریات سے اختلاف بھی کرتے تھے، وہ بھی اُن کی شخصیت کے سحر میں کھو جاتے تھے۔ عبدالستار ایدھی ایک سادہ لباس ، سادہ رہن سہن والا شخص ہے۔ اُن کے بولنے کا انداز بھی مختلف ہے لیکن لوگ اِس سلطنت کا عبدالستار ایدھی کو بھی بادشاہ مانتے ہیں۔ تاریخ میں قدرت اللہ شہاب۔۔۔ بظاہر اِک سرکاری افسر ت۔۔۔ مگر شاید وہ ولایت کے درجے پر فائز تھے۔ اُن کے اقوا ل ہر اردو پڑہنے والے کو ازبر ہیں اور ’’ شہاب نامہ‘‘ ۔۔۔کو ن ہے جس نے اس کتاب کو اپنے سر ھانے نہ رکھا ہو۔ یہ تحریریں کمال مقناطیسی طاقت رکھتی ہیں۔ ایسے ہی مجید نظامی صحافت سے وابستہ ہیں۔ اُن سے جب بھی ملے، یوں لگا، کوئی روحانی شخص ہے کہ جو دل سے اور زبان سے اِک سا ہے۔ خواہ قیامت ہی کیوں نہ ٹوٹ پڑے ، اپنے کہے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا یہ شخص۔ اب مجید نظامی اِک صحافی کے طور پر نہیں، اِک روحانی پیشوا کے طور پر لوگوں کے دلوں میں بس چکے ہیں۔ اُن کی دلکش شخصیت سے لوگ خاص طور پر نوجوان نسل محبت کر تی ہے۔ اپنے پرائے سب اُن کی بات نہ صرف توجہ سے سنتے ہیں ، بلکہ انتہائی غور سے سنتے اور پڑھتے ہیں۔ درست اور صحیح بھی مانتے ہیں۔ جناب مجید نظامی دو قومی نظریے کے وارث کے طور پر جانے پہچانے جاتے ہیں اور پاکستان ہی نہیں، دنیا بھر میں سچ کہنے اور سچ بولنے والی ہستی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
میں نویں کلاس میں تھا جب سید ابوالاعلی مودودی فوت ہوئے۔ اُن کے جنازے میں شرکت کے لیے گئے تو دس کلومیٹر لمبی فیروز پور روڈ پر انسان ہی انسان دکھائی دے رہے تھے اور قذافی اسٹیڈیم اِک پیالے کی طرح جنازے کے وقت سجا ہوا تھا۔ اُن سے محبت کرنے والے لاکھوں لوگوں سے، عقیدت مندوں سے ،کچھ تو تھا جو لوگ اِس قدر محبت کر تے تھے مولانا مودودی سے ۔
تاریخ میں ہٹلر اِک مختلف حکمران گزرا ۔ اُس کے نظریات شاید بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو پسند نہ آئیں یادنیا والوں نے اُن نظریات کو اُس طرح پذیرائی نہ بخشی جس کے وہ حقدار تھے۔ لیکن ہٹلر ہمیشہ لوگوں کو پرکشش راہنما کے طور پر ہی دکھائی دیا اور اِک منفرد شخصیت بن کر نظر آیا۔ تاریخ میں شواہد نہیں ملتے کہ ہٹلر کو قتل کیا گیا یا اُس نے خود کشی کر لی۔ شاید کہیں ویران جگہ پر اُس نے خاموشی سے باقی زندگی بسر کی ہو کہ ایسے لوگ انا پرست تو بہر حال ہوتے ہیں۔ جیسے صدام حسین آف عراق نے جب اُسے پھانسی گھاٹ کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔ اپنی آخری خواہش کے طور پر چاہا۔ کہ اس کے مُنہ پر پردہ نہ ڈالا جائے تاکہ دنیا والوں کو پتہ چل جائے کہ صدام حسین باالآخر پھانسی چڑھ گیا مگر اس نے سر نہ جھکایا۔ دنیا کی تاریخ میں قوموں کی آزادی کے لیے۔ اپنے سچے نظریات پر ڈٹ جانے والوں میں افلاطون ،سقراط بقراط اور بہت سے نام تاریخ میں موجود ہیں۔
اِک شاید سب سے متنازع شخص۔۔۔ اُسامہ بن لادن۔۔۔ وہ بھی دنیا والوں کے لیے معمہ ہی رہیں گے کہ اُن کی لاش سمندر میں بہا دی گئی۔ یہ بھی دنیا میں اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ ہے کہ اِس ڈر سے کہ اُس کی قبر کی پوجا نہ شروع ہو جائے یا نہ جانے کون سا خوف تھا کہ جس کے ہاتھوں مجبور امریکن حکومت کے حکم پر اُسامہ بن لادن کو سمندر میں بہا دیا گیا۔ لوگوں کی کافی تعداد آج بھی بضد ہے کہ اُسامہ بن لادن مرا نہیں۔ کسی جگہ روپوش ہے اور شاید کبھی نمودار ہوجائے یا شاید کبھی پتہ چلے کہ اُس نے گمنامی کی زندگی گزاری اور خاموشی سے دنیا سے رخصت ہو گیا۔
پیر صاحب پگارہ ۔۔۔ اب دنیا میں نہیں رہے ۔ مجھے ذاتی طور پر پیر مردان شاہ پیر آف پگارہ شریف اِس لیے پسند تھے کہ وہ ایک خوش مزاج شخصیت کے مالک تھے۔
پیر پگارہ کی زندگی کا ہر موڑ مثالی تھا۔ منفرد تھا۔ بچپن انگریزوں کی قید میں گزرا۔ باپ کو ۱۹۴۳ ؁ میں اِک سازش کے تحت انگریزوں نے پھانسی دے دی۔ اِس لیے دونوں بیٹوں کی انگریزی انداز میں تربیت کر کے اُنہیں مختلف طرز کی زندگی گزارنے پر مجبور کر نا چاہا مگر مقامی رنگ انگریزی رنگ کے طابع نہ ہو سکا۔
اِک بات جو شاید عوام سطح پر پذیررائی کا باعث ہو کہ پیر صاحب خواتین کی ترقی خاص طور پر تعلیم کے حوالے سے بہت توجہ چاہتے تھے۔ اُنہیں اعلیٰ تعلیم دلوانے کے ساتھ ساتھ پیر پگارہ نے اِک بار کہا۔بیٹیوں کو تعلیم دلانا نیک اور اچھا عمل ہے۔ بیٹیوں کے بے جوڑ رشتے نہ کیے جائیں ۔ شادیوں میں اُن کی مرضی کو فوقیت دی جائے اور جائیداد میں جائز حصہ بھی دیا جائے‘‘۔
میں نے پیر پگارہ کی وفات کی خبر پڑھی۔ دل دُکھی ہوا مگر جب اُس کے ساتھ ہی اخبارات میں لاہور میں کلچرل کمپلیکس میں پاؤں تلے کچلی جانے والی اُن بیٹیوں کی خبر پر نظر پڑی کہ جو ایک میوزیکل شو میں شریک تھیں۔ جہاں بھگدڑ مچ جانے سے لڑکیاں بدحواس ہو کر چھوٹے سے گیٹ کی طرف بھاگ نکلیں اور پاؤں تلے روندی گئیں۔ اُن ماں باپ کے لیے کہ جن کی بیٹیاں اِس بھگدڑ میں ماری گئیں ’’ قیامت‘‘ کا سماں تھا اور قوم کے لیے اداسی اور دُکھ کی بات ۔
آج بھی ہمیں کسی سیاسی ہی نہیں، روحانی پیشوا ء کی ضرورت ہے۔ کسی پر کشش قائد کی تلاش ہے کیونکہ بھارتی ٹیلی ویژن اور فلم کی یلغار نے ہماری آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے۔ ہماری سیاسی مُلکی قیادت کو کسی نہ کسی طرح اقتدار کو طول دینے کی فکر ہے۔ عوام کس حال میں ہیں ہماری نئی نسل کس سمت لے جائی جا رہی ہے۔ اِس سے کسی کو سروکار نہیں۔ پچھلے چند سال اخلاقی گراوٹ کے سال تھے ۔ شاید تربیت کا عمل رُک چکا ہے۔
اِس میوزیکل شو میں کچلی جانے والی فرح نوازکی بہن نے بتایا کہ اِس موسیقی کے پروگرام میں جانے سے پہلے معصوم فرح نے اپنی ماں سے کہا تھا ’’ ماں! مجھے آخری بار ٹاپ اور جینز پہن کر جانے دو۔ اُس کے بعد میں ایسا لباس نہیں پہنوں گی‘‘َ
کاش کوئی تھنک ٹینک ہو جو ایسے سوالات کا جواب تلاش کرے کہ معصوم فرح کیوں آخری بار ٹاپ اور جینز پہن کر جانا چاہتی تھی؟
کیا ہماری جدید فیشن ایبل تعلیمی ادارے بیٹیوں کو مغربی طرز لباس کی طرف مائل کرتے ہیں؟
کیا یہی ادارے مجبور کرتے ہیں؟۔۔۔
یہ ہم سب کو سوچنا ہے۔ ورنہ بھارتی کلچرل یلغار ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے گی؟

Viewers: 2833
Share