Ahmad Khiyal | Column | چاہ یوسف سے صدا

احمد خیال لاہور۔ پاکستان فون: 0334-5418078 ای میل: ahmad.khyal@gmail.com چاہ یوسف سے صدا پاکستان ایک ایسا ملک بن چکا ہے جس میں آئے روز بے یقینی کی ایک ایسی فضا […]

احمد خیال
لاہور۔ پاکستان
فون: 0334-5418078
ای میل: ahmad.khyal@gmail.com

چاہ یوسف سے صدا

پاکستان ایک ایسا ملک بن چکا ہے جس میں آئے روز بے یقینی کی ایک ایسی فضا نظر آتی ہے جس میں رینگتی پرچھائیاں اور دھندلے عکس بینائی کو کڑے امتحان میں ڈال دیتے ہیں ،کوئی واضح نقش نہیں بن پاتا،کچھ ہاتھ نہیں آتا ،کوئی بات سجھائی نہیں دیتی اور اندازوں اور افواہوں کی وہ گرد اڑتی ہے کہ چہرے دھول میں اٹ جاتے ہیں اور پگڑیاں ہوا میں اچھلتی نظر آتی ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے رو دھو کر اپنے چار سال تو پورے کر لیے لیکن اس عرصے میں آئے روز حکومت کی رخصتی کی پیشین گوئیاں کی جاتی رہیں بلکہ یوں کہنا مناسب ہو گا کہ حکومت دانستہ یا نا دانستہ ایسے معاملات میں الجھتی رہی کہ اس کے بد خواہوں کی دکان داری خوب چلتی رہی۔ان دنوں اس حکومت کے تابوت میںآخری کیلیں ٹھونکی جا رہی ہیں ،میمو سکینڈل اور این آر او دو ایسے معاملات ہیں جنہوں نے عدلیہ،افواج پاکستان اور حکومت کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے، آے روزمیڈیا کے ٹاک شوزکا ماحول ایسا ہوتا ہے کہ لوگ کسی ڈرامہ یا فلم کو چھوڑکر تفریح طبع کی خاطر ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں اور وقفے وقفے سے ریموٹ کے ذریعے چینل بدلتے جاتے ہیں اور جہاں پر انہیں اونچی آوازوں میں ایک دوسرے پر بہتان تراشی میں مصروف عوامی نمائندے نظر پڑتے ہیں وہیں ٹھہر کر خوب خوب حظ اٹھایا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ کے ان ریمارکس کے بعد کہ وزیر اعظم گیلانی بادی النظر میں ایماندار آدمی نہیں ہیں جناب وزیر اعظم کا وضاحتی بیان ان کی اندرونی بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے،انہوں نے فرمایا کہ میرے والد،دادا،پردادااور ان کے بزرگ عوامی آدمی تھے، ہم عرصہ دراز سے منتخب لوگ ہیں تو پھر میں ایماندار کیسے نہیں،کون نہ مر جائے اس سادگی پہ اے خدا،غلطی انسان سے کسی بھی وقت ہو سکتی ہے،کوئی شخص اپنی خطاسے پرکھوں کی کمائی ہوئی عزت پل بھر میں نیلام کر سکتا ہے،حسب نسب نہیں میرے حضور،اعمال، فقط اعمال۔جنرل کیانی دورہٗ چین پر تھے ،موصوف نے فوراایک چینی اخبار کو انٹرویودیا جس میں جنرل کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی احمد شجاع پاشا کے حوالے سے یہ بیان دیا گیا کہ انہوں نے میمو کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جواب داخل کرواتے وقت آئینی تقاضوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا،ان کا یہ اقدام غیر آئینی تھا،آئی ایس پی آر کی طرف سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی اور حکومت کو متنبہ کیا گیا کہ اس بیان کے انتہائی سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں،افواج پاکستان کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے بیانات آئینی طریقے سے جمع کروائے گئے اور وزیراعظم گیلانی نے کچھ دنوں پہلے اس کا اعتراف بھی کیا تھا،اسی دن وزیر اعظم گیلانی نے سیکرٹری دفاع جنرل (ر)خالد نعیم لودھی کو برطرف کردیااور چند ہی منٹ بعد پتا چلا کہ ٹرپل ون بریگیڈ کا سربراہ بھی تبدیل کر دیا گیا ہے،بریکنگ نیوز کا نہ تھمنے والا طوفان اٹھ کھڑا ہوا،ٹی چینلزنے اسی حوالے سے لائیو سپیشل پروگرامز کا اہتمام کردیا ،بعد میں وزیر اعظم کے بیان سے پتہ چلا کہ سیکرٹری دفاع کو انکوائری کے بعد فارغ کیا گیا ہے اور افواج پاکستان کی طرف سے وضاحت سامنے آئی کہ ٹرپل ون بریگیڈ کے سربراہ کو تو کافی دن پہلے تبدیل کردیا گیا تھا ،اتفاقا انہوں نے چارج آج سنبھالا ہے اس تبدیلی کو کسی اور تناظر میں نہ دیکھا جائے،شام کو گیلانی صاحب نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جو بیان دیا وہ بھی خاصا دلچسپ ہے،فرمایا کہ جنرل کیانی نے آئی ایس پی آرکی پریس ریلیز سے پہلے مجھے فون کیا اور کہا کہ ہم ایک وضاحتی بیان دینا چاہتے ہیں تو میں نے اس کی اجازت دے دی،ہو سکتا ہے کہ جنرل کیانی نے گیلانی صاحب کو فون کیا ہو لیکن آپ بتائیے کہ کیا یہ وضاحتی بیان تھا؟؟افواج پاکستان کی طرف سے انتہائی سخت رد عمل آیا تھا جس میں حکومت کو واضح الفاظ میں وارننگ دی گئی تھی،گیلانی صاحب کے اس بیان نے صاحبان نقدونظر کو خوب محظوظ کیا۔
ابھی کل کی بات ہے کہ گیلانی صاحب نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر افواج پاکستان کے بارے میں یہ فرمایا تھا کہ انہوں نے ریاست کے اند ر ریاست قائم کر رکھی ہے ،ہم نے ان کی تنخواہیں بھی دگنی کر دیں، اور بھی چند احسانات گنوائے اور بعد میں دباو آنے پر فورا پینترا بدلا اور کہا کہ نہیں میں نے تو یہ باتیں سیکرٹری ڈیفنس کے بارے میں کی تھیں؟۔ گیلانی صاحب کو یہ ملکہ حاصل ہے کہ وہ انتہائی مہارت کے ساتھ سچ کو جھوٹ ثابت کر دیتے ہیں،لیکن ان کی انہی پھرتیوں نے ان کا امیج انتہائی خراب کر دیا ہے ،ابھی دو دن پہلے فرمایا کہ مجھے جو کچھ ملا ہے وہ جناب صدر زرداری کی وجہ سے ہے،وزیر اعظم گیلانی نے اپنے تشخص کو پس پشت ڈالتے ہوئے کسی جیالے کی طرح نفع و نقصان سے قطع نظر پیپلز پارٹی کو سپورٹ کیا اور اس حد تک کیا کہ ان کی شخصیت پر سپریم کورٹ کی طرف سے بھی انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں اور عوام کی نظروں میں بھی گیلانی صاحب اپنی وقعت کھوتے چلے جا رہے ہیں،اک زمانہ تھا کہ وہ گرفتار ہوئے ،جیل میں ’’چاہ یوسف سے صدا‘‘ جیسی کتاب تصنیف کی ،اپنی قامت میں اضافہ کیا لیکن اس کے بعد۔۔؟ابھی تازہ خبریں ہیں کہ وہ شاید زردار ی صاحب کو سہارا دینے کے لئے مستعفی ہو جائیں ،ان کے بقول ان کے ضمیر نے انہیں پارٹی کے ساتھ غداری نہیں کرنے دی لیکن یہاں سوال اٹھتا ہے کہ ان کا ادا کیا ہوا یہ کردار تاریخ کس نظر سے دیکھے گی؟یوسف کنویں میں ہے، لیکن نہ وہ زمانہ ہے نہ ہی وہ یوسف ،چاہ یوسف سے صدا ضرور ابھرے گی لیکن کوئی سننے والابھی ہو گا؟اور اگر ہو گا بھی تو کیا ان کی مد د کو لپکے گا،اس کا فیصلہ آپ خود کیجیے۔
***

Viewers: 3626
Share