Khursheed Hayat | Book Review | سات حروف کا شاعر امین شاد

Khursheed Hayat, Qr. No. 16/3 ,New N.E.Colony, Bilaspur-495004(C.G). India سات حروف کا شاعر امین شاد خالق کائنات نے انسان کو جن نعمتوں سے سرفراز کیا ہے – ان میں عظیم […]

Khursheed Hayat,
Qr. No. 16/3 ,New N.E.Colony,
Bilaspur-495004(C.G). India

سات حروف کا شاعر امین شاد

خالق کائنات نے انسان کو جن نعمتوں سے سرفراز کیا ہے – ان میں عظیم ترین نعمت انسان کا فہم’ ادراک ، اس کی قوت فکر ، قوت گویائی اور اس کے ذہن و دماغ میں تخیلات و تصورات کی موجودگی ہے – یہی نعمت انسان اور دیگر مخلوقات کے درمیان حد فاصل کا کام کرتی ہے – انسان اپنے ارتقا کے بام عروج تک پہنچنے کے عمل میں علوم و فنون کا سرمایہ عظیم اکٹھا کرتا جا رہا ہے – آج کا انسان چاند سے سرگوشیاں کرتا ہے ، سمندر کی ابھرتی ڈوبتی لہروں سے کھیلتا ہے ، …
 کائنات کی دھڑکنوں کو قریب سے سننے کی کوشش کرتا ہے – تلاش و جستجو کا یہ فطری عمل ، دھوپ کو دھوپ سے جدا   کرتے ہویے ، فرش سے عرش کی طرف سفر کرنے کے لئے
بے قرار ہے –

اور یہ بیقراری مجھے امین شاد کی شاعری میں دکھائی دیتی ہے

 جب شاعری کے فلک سے رحمتوں کے در کھلنے لگیں  ،ظلمت دور ہٹنے لگے ،جود و سخا کی آمد کا احساس ہونے لگے – گلشن کے ہر گل نغمے گنگنانے لگیں – اور باد صبا کی آمد کی جھنکار سنایی دینے لگے – تب شاعری آسمان کی چھت پر جا بیٹھتی ہے ، مچلنے لگتی ہیں تحریریں خالق کاینات سے رو بہ رو ہونے کے لئے –

تحریریں معتبر کب ہوتی ہیں – شاعری کو اعتبار کا درجہ کب ملتا ہے ؟

یہ میں کا بولوں ؟

سب رب جانے ہے –

 ‘وجہ وجود کاینات ” امین شاد کی شاعری کا ” تسلسل معتبر ”  ہے

 -یہ مجموعہ وجہ وجود کاینات جو کہ مدح مصطفیٰ صلا الله علیھ وسلّم اور آل مصطفیٰ پر مشتمل ہے –

بلا شبہہ اس کائنات کی پیدایش کا کوئی نہ کوئی تو سبب ضرور ہے – اور غور کرنے والوں کے لئے نشانیاں بکھری پڑی ہیں –

 کھا کر خالق نے زمانے کی قسم

سب جہانوں پر یہ واضح کر دیا

سب کے سب انسان ہیں نقصان میں

سن کر ہر ذی روح کا دل ڈر گیا

 پھر یہ فرمایا بجز اس کے کہ جو

خالق و مالک کو رازی کر گیا

 کس طرح ہوگی نصیب اس کی رضا

خود میرے مولا نے واضح کر دیا –

 کسی بھی تخلیقی فنکار کا سب سے بڑا مسلۂ تخلیقی اظہار ہوتا ہے – اور جب یہ اظہار بھی عبادت بن جائے تب لفظ لفظ شاعری معتبر ہویی جاتی ہے – دنیا کی یہ زندگی جس کا تجربہ ہم سب کر رہے ہیں وہ آخری زندگی نہیں ہے ، بلکہ اصل زندگی جو ہمیشہ رہنے والی ہے وہ اس کے بعد آییگی – اور وہاں کسی شخص کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ محض اس بات  پر ہوگا کہ اس نے اس زندگی میں اپنی انگلیوں میں پھنسے قلم سے کون سی عبارت لکھی – کس طرح زندگی گزاری ، اگر ہمارا ہر عمل صرف اور صرف رب کی خوشی حاصل کرنے کے لئے ہو – تب ایک عام آدمی ہو یا شاعر کامیاب  ہو تا دکھائی دیتا  ہے – کاینات کی  ہر شے کا تحرک کسی کی ذات سے جڑا  ہے – حیات و کائنات کی سانسیں کسی سے جڑی ہوئی ہیں – ہم سب کا وجود بے مقصد نہیں ہے ”، گواہ ہے رات جب چھا جائے –

گواہ ہے دن جب روشن ہو “

 امین شاد کی شاعری  زندگی کے روشن عنوان لے کر سامنے آتی ہے ، اور کبھی  زندگی کا پیام بن کر نمودار ہوتی ہے –

مدینے سے چلی تازہ ہوا ہے

معطر ہو گیی ساری فضا ہے

 میں کیوں مانگوں بھلا غیروں کے در سے

در آقا سے بن مانگے ملا ہے –

 امین شاد کی شاعری اس قافلے کے ساتھ چلتی دکھائی دے رہی ہے جو قافلہ کامیابی کی منزل تک لے جاتا ہے- شاعری جب نفس کی پاکیزگی کا ذریعہ بننے لگے – ہمارے تخلیقی لمحات ، نفس سے جہاد کرنے لگیں تب ہوتا یہ کہ شاعری کی پیاسی  زمین چاندنی  نہانے لگتی ہے – امین شاد کے یہاں شاندار مستقبل کی جھلک دکھائی دے رہی ہے – مجھے ان سے توقع ہے کہ وہ بہت جلد ایک نیا اعتبار حاصل کرینگے کہ ان کی لکھی نعتوں سے میں نے سبز گنبد سے آتی ہویی صداؤں کو محسوس کیا ہے -ان کے یہاں شاعری حصول عرفان کا ایک ذریعہ ہے – دنیا اور ما فی ہا کو سمجھنے کی کوشش ، لفظ معتبر کی ڈگر پر   چلتے ہویے ، فنا اور بقا ، حیات و ثبات ،عبد و معبود کے رشتوں کو شاعری کے پیکر میں ڈھالنے کا ہنر انھیں خوب آتا ہے کہ ان کے تخیّل میں بستا کوئی اور ہے –

میں تری نعت لکھوں یہ میری اوقات کہاں

میری اوقات کہاں اور تری نعت کہاں

 یہ ترا نام ہے جو رنگ جما دیتا ہے

ورنہ الفاظ میں ، آواز میں وہ بات کہاں

  ==========

Viewers: 3741
Share