Dr. Aslam Jamshepuri | علمائے اسلام نے اپنے نظریہ وخیالات کو منظر عام پر لانے کے لیے اردو زبان کو اظہار کا ذریعہ بنایا

دیوبند(پریس ریلیز)مقامی شیخ الہند ہال میں منعقد علماء وعمائدین کی تقریب میں ’’اردو زبان وادب کی ترویج واشاعت میں چند گمنام علماء کا مخلصانہ کردار‘‘نامی کتاب کا رسم اجراء عمل میں آیا ۔تقریب کی صدارت دار العلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابو القاسم بنارسی اور نظامت مفتی عظیم فیض آبادی نے کی۔ جب کہ چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر ڈاکٹر اسلم جمشید پوری بطور مہمان خصوصی اور مولانا عبد الخالق سنبھلی بطور مہمان ذی وقار کے طور پر شامل ہوئے۔تقریب کا آغاز دار العلوم کے شیخ القراء قاری ابو الحسن کی تلاوت اور جاوید خوش نگری کی نعت پاک سے ہوا۔واضح ہو کہ مولاناشاہ عالم گورکھپوری کی 160صفحات پر مشتمل اس کتاب میں سید الطائفہ حاجی امداد اللہ اور ان سے پہلے کے اکابر علمائے دیوبند اور قدیم دور کے صوفیاء کی ان خدمات کا خصوصی تعارف کرایا گیا ہے جن میں انھوں نے اپنے نظریات کو عام کرنیکے لیے اردو زبان کے ہی استعمال پر اکتفاء کیا تھا۔اس موقع پر دار العلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابو القاسم بنارسی نے کہا کہ علمائے اسلام نے اپنے نظریہ وخیالات کو منظر عام پر لانے کے لیے اردو زبان کو اظہار کا ذریعہ بنایا ،ان کی تصنیف وتالیف،ملفوظات ،وعظ نصیحت اور درس وتدریس سب کچھ اردو میں ہوتا تھا اور آج بھی علماء نے ان سب چیزوں کے اظہار کے لیے اردو کو ہی ذریعہ بنایا ہے،لیکن ان کی زندگی کا یہ پہلو اوجھل تھا جس کو زیر بحث کتاب میں سامنے لایا گیا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ 19ویں صدی سے آگے کے 50سالوں پر محیط عرصہ پر بھی روشنی ڈالی جائے۔مہمان خصوصی کے طور پر بولتے ہوئے ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے کہا دینی درسگاہوں میں عصری علوم ہوں اور یونیورسٹیوں میں مذہبی علوم ہوں ،یہ آج کی اہم ترین ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ قدیم دور کے مسلم سربراہوں ابن رشد،بو علی سینا اور ہیثمی جیسے چوٹی کے علماء نے فلکیات،زرعیات،رصدگاہوں ،دوربینوں،جغرافیہ اور کیمیا جیسے شعبوں میں ناقابل فراموش کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔انھوں نے کہا تعلیم میں دین ودنیا کی تعلیم میں دوئیت کا کوئی نظریہ نہیں ہے۔اسلم جمشید پوری نے آخر میں کہا مدارس سے صالح انقلاب کی خوشبو آرہی ہے۔مدرسوں کے تعلیم یافتہ انجینئراور آئی اے ایس بنیں گے تو عام لوگوں کی بھلائی ہوگی۔قبل ازیں کتاب کے مصنف مولانا شاہ عالم گورکھپوری نے علمائے اسلام کی اردو خدمات اور کتاب کے موضوعات پر سیر حاصل بحث کی۔سابق چیرمین ومسلم فنڈ کے مینیجر جناب حسیب صدیقی نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ آًؓ اس موقع پر دیوبند اردو نیوز نیٹ ورک کی طرف سے مہمان خصوصی کو میمورنڈم دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔تقریب کوڈاکٹر ذاکر حسین قاسمی،مولانا عبد الخالق ،سینئر صحافی عادل صدیقی وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔ مولانا عبد الرحیم بستوی،مولانا خضر،مفتی محمد صابر وغیرہ نے خاص طور پر شرکت کی۔

Viewers: 4035
Share