Hafiz Muzafar Mohsin | Column | شیطان ، سید بدر سعید اور مافوق الفطرت مخلوقات

حافظ مظفر محسن 101 چراغ پارک شاد باغ لاہور فون نمبر: 0300-9449527 شیطان ، سید بدر سعید اور مافوق الفطرت مخلوقات شیطان کی دنیا میں آمد کوئی معمولی واقعہ نہیں […]

حافظ مظفر محسن
101 چراغ پارک شاد باغ لاہور
فون نمبر: 0300-9449527

شیطان ، سید بدر سعید اور مافوق الفطرت مخلوقات

شیطان کی دنیا میں آمد کوئی معمولی واقعہ نہیں ۔ شیطان کی آمد کیوں ہوئی۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ شیطان کیوں دھتکارہ گیا۔ کیسے وہ بلندیوں سے پستیوں میں جا پہنچا۔ یہ سب ہمیں قرآن و حدیث میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا ہے ۔ یہ انسانی فطرت ہے انسان جن بھوت دیو چڑیل کو دیکھنا چاہتا ہے۔ آپ آنکھیں بند کریں آپ کے ذہن میں جن دیو۔ بھوت ، چڑیل اور دیگر مافوق الفطرت مخلوقات کا تصور ابھرتا ہے۔ خوابوں میں بھی انسان کئی دفعہ جن چڑیل یا کوئی ڈراونی مخلوق دیکھ کر گھبرا جاتا ہے۔ آنکھ کھل جاتی ہے۔ اور سردیوں میں بھی انسان پسینے سے شرابور ہو جاتاہے۔ کچھ لوگ ایسے خوابوں کی فوری تعبیر چاہتے ہیں اور اِدھر اُدھر بھٹکتے ہیں۔ بچوں کو آج سے بیس پچیس سال پہلے ایسی تحریروں ۔ کہانیوں وغیرہ سے خوب ڈرایا جا تا تھا۔
تاریخ انسانی میں کئی شیطان مشہور ہیں۔ کئی شیطان آج بھی ہمارے آپ کے درمیان اپنی شیطانی صفات کا مظاھرہ کرتے پھر رہے ہیں۔ سیاست کے میدان میں میسو لینی ، ہٹلر ہلاکوخان، پچھلے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش بھی تو شیطان نہیں تو کم از کم شیطان کے چیلے تو تھے۔ ہمیں پچھلے بارہ سال دنیا میں جو کچھ ہوا۔ اُسے یاد کرنے سے اندازہ ہو جاتا ہے۔ کہ کیسے کیسے کھیل کھیلے اِس شیطان نے۔ اور پچھلے ادوار میں گزرے شیاطین کی زندگیاں اور اُن کے ہاتھوں مچی ہولناکیاں اگر ہم تصور کی آنکھ سے دیکھنا چاہیں تو اُس کے لیے ہمیں تاریخ کی کتابوں سے مدد لینا ہوگی۔ سب سے زیادہ شیطان صفت لوگ ہمیں سیاسی دنیا میں ملیں گے۔ کہ اقتدار پر قابض ہو جانا ہی شاید انسان کی سب سے بڑی خواہش اور سب سے اہم خواب ہے۔
تاریخ انسانی بتاتی ہے کہ کیسے انسان نے محض چندسالہ اقتدار کے لیے رشتوں کا تقدس پامال کیا۔ بھائی نے بھائی کی آنکھیں نکال دیں۔ نسلیں تباہ کر دیں۔ انسانوں کو اذیتیں دے کر قتل کر ڈالا اور پھر کھوپڑیوں کے مینار بنا کر درس عبرت نبانے کی کوشش کی۔ کل عالم پر اپنا اقتدار قائم کرنے کی خواہش کرنے والوں میں ہٹلر سے لے کر سکندر اعظم یونانی تک بہت سے سُورما آئے اور یوں غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔
سکندر اعظم یونانی انسانوں کو تہہ و تیغ کرتا۔ ظلم و ستم کی داستانیں رقم کرتا جب برسات کے موسم میں تلمبہ کے قریب پہنچا تو وہاں اُس نے گھوڑے سے چھلانگ لگا کر قلعہ کی فصیل پر چڑھنا چاہا۔ گو یا وہ اپنی مردانگی کی دھاک اپنے ساتھیوں پر بٹھانا چاہتا تھا۔ میں نے اپنی آنکھوں سے وہ قلعہ وہ فصیل بھی تلمبہ جا کر دیکھی ہے۔ وہاں سکندر اعظم یونانی دیوار پر نہ چڑھ پایا اور گر گیا۔ جس سے اُس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ یہ راستہ تلمبہ سے خانیوال ، پل باگڑ وغیرہ سے گزرتا ملتان کی طرف جاتا ہے جو اُس وقت اِس علاقے میں بہت بڑا شہر تھا۔ اِسی سفر کے دوران انفیکشن کے باعث شدید بخار اور بر وقت علاج نہ ہونے سے سکندر اعظم یہیں فوت ہوا۔ غرور و تکبر کا سورج اِس سخت گرم خطے میں غروب ہو گیا۔
یہ بات کہاں تک سچ ہے یہ تاریخ کے طالب علم ہی بتا سکتے ہیں کہ سکندر نے کہا۔ ’’ جب مجھے دفن کرو تو دفنانے سے پہلے کفن سے میرے دونوں ہاتھوں کو باہر نکال دینا کہ دنیا دیکھے ۔ سکندر اعظم خالی ہاتھ آیا تھا اور دنیا سے خالی ہاتھ ہی گیا‘‘۔
آج تک میں نے نہیں دیکھا کہ کسی انسان نے ایسی باتوں سے عبرت پکڑی ہو۔ ہر انسان خود سے تجربہ کرنا چاہتا ہے کر گزرنا۔ چاہے۔ اِس کے لیے بڑی سے بڑی اذیت ہی کیوں نہ سہنی پڑے انسان کی سدا خواہش رہی ہے۔
تاریخ میں آسکروالڈ سے لے کرسلمان رُشدی تک بہت سے شیطان آئے کہ جنہوں نے فحش نگاری بھی کی اور انسانی جذبات سے اپنی تحریروں کے ذریعے کھیلے بھی۔ حیرت کی بات ہے کہ ایسے شیطانوں کے پیچھے ۔ ’’ بڑے شیطانوں ‘‘ نے اُن کی ہمیشہ پشت پناہی بھی کی۔ وہ شیطان سُنا ہے اپنے خاندان سمیت جل کر حال ہی میں مر گیا کہ جس نے ڈنمارک میں سرکارِ دو عالم ﷺ کے خاکے بنائے ۔ گو یا مسلمانوں کے دلی جذبات سے کھیلا ۔ اُنہیں اذیت دی۔ اور دنیائے سیاست کا درجہ حرارت کافی بڑھا دیا۔ جذبات میں اشتعال پیدا کر ڈالا۔ ’’ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات‘‘۔ یہ ایک پرانا محاورہ ہے جیسے اِک دور میں محاورہ تھاکہ IDEAS HAVE LEGS ََ۔ ’’ خیالات کی ٹانگیں ہوتی ہیں‘‘ ۔ یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ چلتے پھرتے منتقل ہو جاتے ہیں۔ پھر ہماری جوانی کے دور میں پندرہ بیس سال پہلے یہ محاورہ بدلا ۔ اور اِس کی جگہ نئے محاورے نے لے لی۔ اور یہ شکل سامنے آئی۔ IDEAS HAVE WINGS۔ ’’ خیالات پروں کے ذریعے اڑ کر یہاں سے وہاں منتقل ہو جاتے ہیں‘‘ ۔ اب کمپیوٹر ایج ہے۔ یہ نئے دور کے پڑھنے لکھنے والے بتائیں گے کہ اب خیالات کس رفتار سے دل سے دل میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ اور دماغ کی آج کے دور میں سوچنے سمجھنے کی کیا رفتار ہے؟!۔ آج سوچنے کی رفتار بھی تیز تر ہے تو لکھنے کا انداز بھی جدید تر۔
سید بدر سعید لاہور کے ایف ۔ سی کالج میں کلاس چہارم کے طالب علم ہیں۔ احمد ؔ فراز کی وفات کے پندرہ دن بعد تشریف لائے اور اِک مضمون مجھے تھمایا اور شرمندہ شرمندہ روانہ ہوگئے۔ کچھ دن تو مضمون پڑ ا رہا۔ اِک دن فرصت ملی تو میں نے مضمون دیکھا۔
اُف ۔ اللہ۔ احمد فرازؔ کہاں۔ کہاں سید بدر سعیدؔ ۔ میں نے سر سری جائزہ لیا اور مسودہ سائیڈ پہ رکھ دیا۔ اگلے دن پھر سید بدر آدھمکا ۔ ’’ جی۔ بتائیے‘‘۔ وہ بولا۔
’’ کیا بتاؤں ‘‘؟۔ میں نے سر کھجاتے ہوئے کہا۔ ’’ میرے پاس اِن سب باتوں کے ٹھوس ثبوت ہیں‘‘۔ وہ بولا۔
میں نے ہاتھ آگے کیا۔ اُس نے اخبارات کے تراشے کچھ تصویریں اور بہت کچھ تھما دیا۔ دکھا بھی دیا۔
چھوڑ یار۔ بدر سعیدؔ یہ ایک بہت بڑا نام ہے بہت پرسنل باتیں لکھ ڈالی ہیں آپ نے؟!۔
’’ یادوں کی بارات‘‘ آف جوش ملیح آبادی کے بارے میں کیا رائے ہے۔ وہ بولا۔ ’’ وہ اُن کی سوانح حیات ہے۔ یہ آپ کی ذاتی کاوش‘‘۔
سید بدر سعیدؔ ہنسنے لگا اُس نے مسودہ مجھ سے چھینا اور بغیر سلام دعا کیے کمرے سے نکل گیا۔
شاید وہ ناراض تھا۔ میں بھی چپ رہا۔
شعیب مرزا کے دفتر ہم بیٹھے تھے کہ سید بدر سعیدؔ آ دھمکا۔ شعیب مرزا نے ایک معتبر ماہنامہ میرے آگے رکھ دیا۔ میں نے وہیں بیٹھے ۔ مضمون پڑھنا شروع کر دیا۔
میں نے۔ اِس قدر معلوماتی اور دلچسپ تحریر۔ بڑی مدت بعد پڑھی۔ سات صفحات پڑھے۔ تو شعیب مرزا نے تھپکی دی۔ ’’ حضور یہ میگزین آپ گھر لے جائیں۔ میں ایک اور کاپی خرید لونگا۔ ویسے بھی پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے اِس سے تفصیلی جامع اور خوفناک حقائق پر مبنی تحریر۔ شاید آپ نے پہلے نہ پڑھی ہو؟‘‘۔
میں نے رسالہ شعیب مرزا کو واپس کر دیا۔ اور رات گئے ۔ میں نے گھر جا کر وہ طویل ترین مضمون مکمل پڑھ ڈالا۔
کچھ عرصہ بعد فیصل آباد سے عابد کمالویؔ صاحب کی کال تھی۔ ’’ یہ بدر سعیدؔ تو باقاعدہ ریسرچ سکالر بن چکا ہے۔ بلوچستان کے مسئلے پر بڑی جامع تصویر ہے اِس بچے کی۔کیا کیا نکتے ہیں جن پر اِس نے بحث نہیں کی۔خاصی گرم تحریر ہے چھونے سے ہاتھ جلتے ہیں!‘‘۔
’’ حضُور ۔ یہ بدر سعید ؔ اب ویسے تو شاید Mature نہیں ہوا لیکن اِس کی تحریریں بڑی جاندار ہیں اور بلا خوف و خطر جن نازک موضوعات پریہ جوان لکھتا چلا جا رہا ہے۔ شاید یہ کسی گرفت میں آجائے۔ اور اگر بچ گیا۔ تو یہ آنے والے وقت میں بہت بڑا صحافی بنے گا‘‘۔
عابد کمالویؔ نے میرا بیان سنتے ہی فون بند کر دیا۔ اِک خوفناک کشمیری راہنماء کے ساتھ میں نے فیس بُک پر سید بدر سعید کی تصویریں دیکھیں تو سر پکڑ کے بیٹھ گیا۔ بڑا تفصیلی انٹرویو تھا اور بڑی ہی گہری اور نازک باتیں۔ پھر فیس بُک پر ہی میں نے سید بدر سعید ؔ کو آئی۔ ایس۔ آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل کے ساتھ دیکھا ۔ اُن کا افغانستان اور پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے حوالے سے انٹرویو موجود تھا۔ یہاں بھی موضوعات بڑے خوفناک اور نکتے بڑے پچیدہ اور ہلا کے رکھ دینے والے تھے۔
حسن عباسیؔ کا فون آیا۔ یہ بدر سعیدؔ کس کا شاگرد ہے۔ ’’ کم از کم میرا تو نہیں‘‘۔ میں نے یکدم کہا۔ تو مخصوص انداز سے ہنسنے لگے۔ الزام تو آپ پر ہی آرہا ہے۔ حسن عباسیؔ پھر بولا۔ ’’ حضُور ۔ مجھے بچائیے ۔ یہ بوجھ کسی اور پر ڈال دیں‘‘۔
’’ آج وہ ایک نہایت خوبصورت غزل پڑھ رہا تھا۔ اِک ویلنٹائن ڈے مشاعرے میں۔ جو محترمہ عمرانہؔ مشتاق صاحبہ نے کروایا تھا‘‘۔
حسن عباسیؔ بھی نئے لکھاریوں کی نہ صرف حوصلہ افزائی کر تا ہے۔ بلکہ اُن کو پروموٹ کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔
آج عادل گلزار اور سید بدر سعید اکٹھے آئے تو اِک ضخیم مسودہ بھی اُن کے ہاتھ میں تھا۔ میں نے سرسری غور کیا۔ بڑے بڑے شیطانوں کے حوالے سے بدر سعید کی جاندار تحریریں اِس کتاب میں موجود تھیں۔ بدر نے ایسے ایسے نکتے اٹھائے ، ایسی ایسی گُتھیاں سُلجھائیں۔ کہ میں دیکھتا ہی رہ گیا۔ سوچتا چلا گیا۔ ’’ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات ‘‘ والا محاورہ کچھ اِس ’’ فنکار ‘‘ پر جچتا نہیں۔ میں نے اپنی مشکل فہیم انور چغتائی کے سامنے رکھی تو اُنہوں نے برجستہ کہا۔( بدر کی کاٹ دار تحریروں اور خوفناک انداز تحریر کو دیکھتے ہوئے)
حیران ہوں کہ دار سے کیسے بچا ندیم
وہ شخص تو غریب و غیور انتہا کا تھا
(احمد ندیم قاسمی)

Viewers: 5645
Share