Khursheed Hayat | Review | روحانی فضا میں لپٹی ہوئی اردو شاعری کی شہزادی

خورشید حیات روحانی فضا میں لپٹی ہوئی اردو شاعری کی شہزادی سیدہ نفیس بانو شمع شاعری جب خوشبو بدن – لباس میں لپٹی ہوئی ہو ، اور اظہار زینت بننے […]

خورشید حیات

روحانی فضا میں لپٹی ہوئی اردو شاعری کی شہزادی سیدہ نفیس بانو شمع

شاعری جب خوشبو بدن – لباس میں لپٹی ہوئی ہو ، اور اظہار زینت بننے کی بجاے ذکر الٰھی میں مصروف دکھائی دے ، ابتدا میں بھی اسی کا عکس ، اور انتہا بھی اسی کے ذکر پر تب شاعری معتبر ہوئی جاتی ہے – جب زندگی کی تپتی دپہریا اور تیکھی ہوتی صبح بھی میٹھا میٹھا احساس جگا جائے ، جب ٹوٹا بکھرا وجود ،قسطوں میں بنٹی زندگی ، برف کی طرح پگھلتی خواہشیں ، اور بھیڑ میں بھی تنہائی کا احساس پاؤں پسارنے لگے تب لفظ لفظ تحریریں ، سبز گنبد سے آتی ہوئی صداؤں کی سھیلی بن جاتی ہیں – ایسی صورت میں شاعری کی ردا ذاتی نہ ہو کر اجتماعی بن جاتی ہیں – اظہار کسی کے بھی ” میں ” کے ذریعہ ہو ہر صورت میں وہاں سماج موجود ہوتا ہے – سماج کے زندگی رنگ چہرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں – اظہار کے لئے لفظ ضروری اور لفظ لفظ شاعری کے لئے ایک نیے آفاقی لفظی نظام کی تشکیل کی بھی ضرورت ہوتی ہے تبھی شاعری اپنے عہد کی نمائندگی کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے عہد سے بہت آگے کا سفر طے کرتی ہے

جب شاعری کے فلک سے اترتی ہوئیں لفظ لفظ بوندیں ، مٹی بدن – ذہن کو بیدار کر جایں ، جب شاعری چلمن کی اوٹ سے جھانکتے ہویے ‘ ہماری پلکوں پر ہمیشہ قایم رہنے والی زندگی کے خواب رکھ جایں ، اور خواب بھی کچھ ایسے جو ہمیں تجربے کی جانب مایل کر دیں – تب شاعری زندگی کا حقیقی درپن بن جاتی ہیں تو کبھی زندگی کی ڈگریا اور ایسا ہی کچھ سیدہ نفیس بانو شمع کی شاعری میں لاشعوری طور پہ در آیا ہے –
سیدہ نفیس بانو شمع کی غزلیہ شاعری ، ہولے ہولے ، زندگی سیڑھی چڑھتی دھوپ رنگ ، چدریہ اوڑھ کر اور نکھر گیی ہے – اور اس کا احساس ہر اس شاعری پسند قاری کو ہوگا جو لفظ معتبر کی ملن کی آس میں خود کو نکھارتے رہتے ہیں – نفیس غزل چہرہ دیکھئے :-
” کوچے میں تیرے جاناں وہ نقش قدم تیرا
وہ خاک شفا میں نے پلکوں سے اٹھائی ہے –
پل بھر میں مری جان کو تو درد سے بھر دیگا
معلوم ہے یہ مجھ کو دل دل ہے سوالی ہے
جب نور سے یہ اپنے آوروں کو کرے روشن
پھر شمع کی قسمت میں کیوں رات یہ کالی ہے
 ریشمی ریشمی ‘” درد کی چبھن کو سہنے والی شاعرہ احساس کی نرم دہلیز پر ، ایک کہانی تہذیب میں ، شاعری کی ایک نئی پوشاک کچھ اس طرح تیار کر جاتی ہیں کہ شاعری گانو کا مٹی بدن قاری ان کی شاعری کی زمین پر چہل قدمی کرنے لگتا ہے – اور اسے زندگی کے غم بھی حسین لگنے لگتے ہیں ، اور جسے غم حسین لگنے لگیں وہ تو معتبر ہوا جائے ہے –
میرے حسین غم کے نگہبان تمہی تو ہو
جاناں تمہی تو ہو مرے جاناں تمہی تو ہو
کیوں پوچھتے ہو کس کی ہے خوشبو یہ شیر میں
میری غزل میں آج گل افشاں تم ہی تو ہو
نفیس غزلیں کبھی زعفرانی رنگ – خوشبو کا احساس جگاتی ہیں ، کبھی پرواہیوں کے ساتھ بہا لے جاتی ہیں – کبھی انکی شاعری کی ڈگر اپنی بانہیں پھیلاے ، نئی صدایں دیتی نظر آتی ہیں –
آنگن میں پھول جھڑیں یا سوکھے پتے ، رم جھم غم برسے یا خوشی – پیاسی دھرتی ترسے یا سرمیی شام ، ….. زندگی کی بانسری یوں ہی بجاتے رہنا – لفظوں کے نیے معنا کی تلاش میں ، کھلی اور آزاد فضا میں ٹہلتے ہویے بھی ایک بندھن کا احساس جگاے رکھنا – یہی تو روح کے زندہ ہونے کی علامت ہے –
نفیس بانو شمع صاحبہ کی غزلیں ہمارے وجدان کے دریچوں کو کھولنے میں کامیاب نظر آتی ہیں – تخلیقی اظہار جب شاعری کے ذریعہ ہو اور نفیس کے اندر بیٹھے ایک فکشن رائٹر کی لفظ لفظ تحریریں شاعری کی ردا میں سجدہ ریز ہوں تب شاعری معتبر ہوئی جاتی ہے – ایک طرف درد کا صحرا دوسری طرف برف کی طرح پگھلتا وجود ، اور تمنا چاندنی لباس میں لپٹنے کی ہو تو کبھی ، نیلے غبارے کی طرح فلک کی وسعتوں کو قریب سے دیکھنے کی – … ایسی صورت میں معنویت اور تخلیقیت کی وسعتیں شاعری کو اک نیا اعتبار دے جاتی ہیں –
تمھارے ذکر سے جو چشم تر نہیں ہوتی
وہ آنکھ ہوتی ہے لیکن نظر نہیں ہوتی
تمہاری چشم کرم مجھ پہ ہو گیی ورنہ
زمین کی خاک کبھی یوں گہر نہیں ہوتی
ایک ایسے ماحول میں جہاں زمین پہ پانو رکھتے ہویے بھی پرندے ڈرتے ہیں – جہاں سے گزرتے ہویے دریا کی سکڑتی ہوئی موجیں ، ایک خوف زده معصوم بچے کی طرح مچلتی ہیں اور ایک خاموشی رات کے تیسرے پہر یہ صدایں دیتی ہے کہ آگے کا راستہ ابھی کھلا ہے بند نہیں –
ابھی تو مرحلے دل کے بہت سے باقی ہیں
ہر ایک موڑ پر منزل نشان میں رکھنا
نفیس غزل بدن پر لپٹی چدریہ کی مشابہت کسی اور سے کرنا شاید ممکن نہیں -کہ کاتب تقدیر کی حکومت ان کی سوچ و فکر کی لہروں پر ہے – یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری کبھی ہرے نشانوں کے درمیان تیز تیز چلتی ہے – اور کبھی پہاڑوں پر طلوع آفتاب کے وقت پر سکوں انداز میں سفر کرتی ہے – ان کی شاعری کبھی خشکی کے راستے سے گزرتی ہے تو کبھی سمندر کی لہروں کی طرح پھیل جاتی ہیں –
گلاب رنگ خوشبو کی طرح نفیس کی شاعری کو ایک بلند اعتبار ملے گا اس کا مجھے یقین ہے -کہ ان کی شاعری لا سے الہ تک کا سفر ہے , وہ بھی درد کے صحرا میں !
انکے یہاں درد کا جنگل بھی ہے اور نفس کی دنیاوی خواہشوں کا مقتل بھی – نفیس کے پانو سات رنگین مٹی سے جڑے ہویے ہیں – ان کے درون میں کیسریا رنگ خوشبو رچی بسی ہے – جہاں موسم کا بدلتا مزاج اٹکھیلیاں کرتا ہے ، سہیلیوں کی طرح !
نفیس کی شاعری پگڈنڈی پر چلتے ہویے مجھے ہری ہری نرم نرم گھانسوں کے سرہانے غموں کا پہاڑ دکھائی دیا – اور دور بہت دور شاعری محل میں اک لفظ معتبر ، شاعری کے لہجہ کو ایک نیا اعتبار دیتا نظر آیا –
نفیس کی شاعری کی عظمت کا راز ان کی غیر معمولی فکری صلاحیتیں ہیں – ان کے یہاں عشق پاکبازانہ اور معصومانہ جذبہ ھے –

Viewers: 14163
Share