Dr. Shabeeh ul Hassan | Review | عمران نقوی کا نعتیہ منظر نامہ

ڈاکٹر سید شبیہ الحسن لاہور۔ پاکستان۔ فون:0092-333-4255153 ای میل: drshabihulhasan@gmail.com عمران نقوی کا نعتیہ منظر نامہ اس کائنات رنگ و بو میں تخلیق ہونے والی ہر شے اپنی نوعیت اور […]

ڈاکٹر سید شبیہ الحسن
لاہور۔ پاکستان۔ فون:0092-333-4255153
ای میل: drshabihulhasan@gmail.com

عمران نقوی کا نعتیہ منظر نامہ

اس کائنات رنگ و بو میں تخلیق ہونے والی ہر شے اپنی نوعیت اور اہمیت کے اعتبار سے مفید اور کارآمد ہے۔ تاہم یہ امر صاحبان فہم و ذکا کے لیے موجب امتنان ہے کہ ہر تخلیق دوسرے سے مختلف ہے بلکہ بعض کو بعض پر فضیلت بھی حاصل ہے۔ ہر پتھر اس قابل نہیں ہوتا کہ اسے حجرِاسود کی طرح بوسہ دیا جائے۔ اسی طرح ہر چادر کو یہ فضیلت حاصل نہیں ہوسکتی کہ وہ چادر تطہیر بن جائے۔ اگر عمیق نگاہی سے اس فلسفے پر غور کیا جائے تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ہر شے کسی نہ کسی نسبت سے دائمی عظمت کی حامل ہوتی ہے۔ ہمارا اختصاص یہ ہے کہ ہمیں حضور اکرم حضرت محمد ؐ سے خصوصی نسبت ہے اور یہی وہ نسبت ہے جس نے ہماری ابتدا ء کو ہماری انتہا سے ملا دیا ہے۔
ہمیں نسبت ہے ختم الانبیاء ؐ سے
ہماری ابتداء ہے انتہا سے
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ہر شے کا خالق ایک ہی ہے تو ان مخلوقات میں فضیلت کا معیار کون طے کرے گا۔۔۔؟ خالق یا مخلوق؟ صاحبان دانش اس امر پر متفق ہوں گے کہ خالق مخلوق کی ہر ادا سے واقف ہوتا ہے لہٰذا معیار فضیلت بھی وہی طے کرے گا۔ اگر اسی بات کو شاعر انہ پیرائے میں ادا کیجئے تو کہا جائے گا کہ محبوب کو عاشق کی ایک ایک ادا کی خبر ہوتی ہے اور وہی عاشق اور بوالہوس کے مابین حدّ امتیاز طے کرتا ہے لیکن اسے کیا کہیے کہ اس کائنات میں ایک ایسا موقع بھی آجاتا ہے جب خالق خوس اپنی تخلیق کا عاشق بن کر اسے محبوب بنانے پر مصر ہوجاتا ہے اور کمال ہے کہ محبوبِ خدا بننے والا اپنا ہر تسلیم خم کر کے اپنے عبد ہونے کا اعلان کردیتا ہے۔ اس عبد خاص کو اللہ تعالیٰ نے محض لاثانی و لافانی ہی نہیں بنایا بلکہ اس جلیل القدر ہستی کو یہ فضیلت بھی عطا کی کہ جو اس ذات گرامی سے منسلک ہوجاتا ہے وہ بھی لافانی ہوجاتا ہے۔ اس راز کو پالینے کے بعد شعر و ادب کے پرستار عمران نقوی بھی کوچہء نعت میں سر کے بل حاضر ہو گئے ہیں۔ اس طرح مرحتِ سرکارؐ کے نتیجے میں وہ دار البقاء میں داخل ہوگئے ہیں۔ بقول عمران نقوی
؂ ان کی رحمت سے ہوں میں اہل بقاء میں ورنہ
چار سو پھیلا ہوا رنگ فنا دیکھتا ہوں
عمران نقوی ایک زیر ک صحافی کی حیثیت سے مقبول ہیں۔ انہوں نے اپنے عہد کے نامور تخلیق کاروں سے گفتگو کر کے اپنے عہد کے سیاسی، سماجی، مذہبی، شعری اور تہذیبی رویوں کو محفوظ کرنے کی سعی کی اور ’حرفِ ملاقات‘‘ اور ’’شرفِ ملاقات‘‘جیسی کتابیں صاحبانِ علم و ادب کی خدمت میں پیش کیں۔ ایک اوردو اور پنجابی شاعر کی حیثیت سے وہ اپنی شناخت منوا چکے ہیں۔ ’’خیمہء شام‘‘ (اردو شعری مجموعہ) اور ’’کل دی گل اے‘‘ (پنجابی شعری مجموعہ) کے بارے میں معتبر ناقدین کی آرا ہمارے موقف کی تائید کے لیے کافی ہیں۔اسی طرح ان کے ادبی کالموں کا مجموعہ حرفِ زار زیورِ طبع سے آراستہ ہو چکا ہے۔ آفتاب احمد نقوی مرحوم اور خورشید گیلانی جیسی شخصیات کے حوالے سے بھی ان کی کتابیں منصہ شہود پر آچکی ہیں اور اب انہوں نے اپنے افکار و نظریات کو باوضو کر کے نعتیہ مجموعہ ’’وَجَبَ الشُّکرُ عَلَیْنَا‘‘ پیش کر دیا ہے۔ آئیے سب سے پہلے اس مجموعے میں شامل ناقدیم کی آراء ملاحظہ فرما لیجئے۔ ڈاکٹر خورشید رضوی ’’خیر مقدم‘‘ کے عنوا ن سے رقم طراز ہیں:۔
’’۔۔۔ عمران نقوی کے ہاں نعت محض کارِ ثواب نہیں واردات اور سرگزشت ہے ۔ خوشبو زور کرتی ہے تو منہ بند کلی کو کھلنا ہی پڑتا ہے۔ نسبت کی قوّت اور جذبے کا وفور عمران سے نعت کہلواتا ہے۔ یہ وفور اس کے ہاں کس حد تک زور کرتا ہے اس کا کچھ اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس مجموعے میں شامل نوّے فیصد نعتیں پے بہ پے صرف تین ماہ کی مدت میں وارد ہوئیں اور اہل ذوق دیکھ سکتے ہیں کہ مشقِ سخن سے نہیں نقشِ احساس سے عبارت ہیں۔‘‘
(ڈاکٹر خورشید رضوی خیر مقدم مشمولہ وَجَبَ الشُّکْرُ عَلَیْنَا عمران نقوی لاہور نگاہ پبلیکیشنز صفحہ ۱۲)
ڈاکٹر تحسین فراقی ’’روشنی کا رزق‘‘ کے عنوان سے عمران نقوی کی نعت نگاری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ :۔
’’وَجَبَ الشُّکْرُ عَلَیْنَا میں عمران صاحب نے بڑی سہولت سے گہری باتیں کہنے کا اہتمام کیا ہے۔ یہ گہری باتیں انہوں نے تازہ اسلوب اور اعلیٰ ہنر مندی کے امتزاج سے کہیں ہیں۔ گوہ کہ اس مجموعے میں فنِ نعت کے اساتذہ سے فیض اندوزی اور الہام گیری بھی کہیں کہیں دکھائی دیتی ہے مگر یہ رنگ دھیماہے اور تہ موج کی صورت میں ہے۔ ندرتِ اظہار اور اچھوتِ اسلوب کے جا بجا تیور وں ے اس مجموعے نعت کو نعت کے روایتی مجموعوں سے الگ پہچان بخشی ہے۔ بعض نعتوں کے مطلعے بڑے تواناں اور پرکشش ہیں اور بعض شعروں میں ضربِ المثل بننے کی غیر معمولی صلاحیت ہے۔
(ڈاکٹر تحسین فراقی روشنی کا رزق مشمولہ وَجَبَ الشُّکْرُ عَلَیْنَا عمران نقوی لاہور نگاہ پبلیکیشنز صفحہ ۱۹)
اس کتاب کے پبلشر اعجاز فیروز اعجاز ’’توفیق خداوندی‘‘ کے عنوان سے رقم طراز ہیں۔
’’عمران نقوی کی زیادہ تر نعتیں غزل کے پیرائے میں تخلیق ہوئیں ہیں۔ کئی نعتوں کے مضامین قصیدے کے قریب تر ہیں۔ وفورِ جذبات، لب و لہجہ کی توانائی، لفظ و بیان کے استعمال کا سلیقہ، فکر انگیر مضامین اور محطاط اسلوب نے ان کی نعتوں کو ایسی منفرد حیثیت بخشی ہے کہ یہ مجموعہ تازہ کاری کا عملی نمونہ بن گیا ہے۔‘‘
(اعجاز فیروز اعجاز توفیق خداوندی مشمولہ وَجَبَ الشُّکْرُ عَلَیْنَا عمران نقوی لاہور نگاہ پبلیکیشنز صفحہ ۲۲)
ان معتبر ناقدین کی درج بالا آراء کے بعد عمران نقوی کی نعت گوئی کے حوالے سے مزید کچھ کہنا ناممکن نہیں تو دشوار ضرور ہے۔ تاہم ان کی تمام نعتوں کے عمیق مطالعے کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ عمران نقوی کی نعتیں بنیادی طور پر درج ذیل چھ امتیازی اوصاف سے مالا مال ہیں۔
۱) سرکارِ دو عالم ؐ سے والہانہ محبت و عقیدت دے۔
ب) حضرت محمد مصطفی ؐ سے نسبت اور تعلق خاطر رکھنے والے احباب و اشیاء کی پذیرائی۔
ج) احترام رسالت مآبؐ۔
د) عصرِ حاضر کے مصاب و آلام کا بیان اور رحمتہ لِلعالمینؐ سے مدد کی التجاء۔
ر) رسول اکرم ؐ کی سیرت کے لافانی اور روشن نقوش۔
س) معطر اور معنبر اندازِ بیان۔

اس مختصر سے شذرے میں درج بالا چھ خصوصیات کو بیان کرنا تو ممکن نہیں تاہم سرِ دست عمران نقوی کی ان مختلف نعتوں کو ملاحظہ فرمائیے اور دیکھئے کہ انہوں نے کس طرح درج بالا اوصاف حمیدہ کو اپنی نعتوں کا مرکز و محور بنایا ہے۔
۔۔۔( ۱ )۔۔۔
اک حرفِ اُجالا مری تقدیر میں لکھ دے
مدحِ شہِ والاؐ مری تقدیر میں لکھ دے
جب آنکھ کروں بند، کھلے شہرِ مدینہؐ
یہ خواب نرالا مری نقدیر میں لکھ دے
بے سوذ و صداء ہوں میں کسی غار کے مانند
اک سوچنے والا مری تقدیر میں لکھ دے
ہو گنبدِ خضرا سے نمو کشتِ سخن کی
یہ سبز و حوالہ مری تقدیر میں لکھ دے
روشن میرا ہر لفظ ہو مہتاب کی صورت
توصیف کا ہالہ مری تقدیر میں لکھ دے
۔۔۔( ۲ )۔۔۔
میرے یثرب کو جو اعزاز مدینہ مِلتا
آمدِ سیّدِؐ لولاک کا مژدہ مِلتا
دِل سجاتا کبھی رستے میں بچھاتا آنکھیں
رہ میں نجاّر کا بے مثل قبیلہ مِلتا
دھڑکنیں جب طلع البدر علینا لکھتیں
طُلمتِ شب میں دھنگ رنگ اُجالا مِلتا
ثبت ہو جاتے مرِے دِل پہ قدم ناقہ کے
رِفعتِ عرِ بریں سے مِرا سینہ ملتا
قریہء نُور میں دِ رات گُزرنے لگتے
سایہء سیّدِؐ ابرار میں جِینا مِلتا
اِک مہاجر مِرے گھر کو بھی فروزاں کرتا
سب کو جب عہدِ مواخات کا تُحفہ مِلتا
کعبؓ و حسّانؓ کی صحبت میں گزرے شب و روز
پیش سرورؐ مجھے مدِحت کا شبینہ مِلتا
کوئی قول آپؐ کا مجھ سے بھی روایت ہوتا
لوحِ تاریخ میں میرا بھی حوالہ مِلتا
جس گھڑی آپؐ تبسّم سے اُجالا کرتے
کھلی آنکھوں سے مجھے اس کا نظارہ مِلتا
کھینچتیں مسجدِ نبویؐ کی اذانیں مجھ کو
آپؐ کے قدموں کے پیچھے مجھے سجدہ مِلتا
جاں ہتھیلی پہ لیے حاضرِ خدمت ہوتا
جب کسی غزوے میں شرکت کا اشارہ مِلتا
ایک خُوشبُو مِری نسلوں کی وراثت بنتی
میرے بچوں کو جو حسنین ؑ کا صدقہ مِلتا
موت آتی مجھے بخشش کی بشارت دینے
خاکِ طیبہ میں مجھے خلد کا گوشہ مِلتا
کتنی صدیاں مِرے لمحوں کو سلامی دیتیں
سب زمانوں سے جو افضل ہے زمانہ، مِلتا
۔۔۔( ۳ )۔۔۔
جبلِ نُور پہ جب غارِ حِرا دیکھتا ہُوں
قریہء سنگ میں اِک پھُول کھِلا دیکھتا ہُوں
ایک خُوشبُو مِری سانسوں میں رواں رہتی ہے
مِدحتِ سرورِ ؐ عالم کا صلہ دیکھتا ہُوں
اُنؐ کی رحمت سے ہُوں مَیں اہل بقا میں ورنہ
چار سُو پھیلا ہُوا رنگ فنا دیکھتا ہُوں
زِندگی آگ کے رستے کے سِوا کچھ بھی نہ تھی
اِک چمن زار سرِ کوہِ صفا دیکھتا ہُوں
ق
دونوں عالم میں مدینے کے رہینِ احساں
ہر طرف اس کی جھلک، اس کی اَدا دیکھتا ہُوں
اِک چٹائی ہے سرِ عرش بریں ضو افروز
طاقِ افلاک پہ مٹّی کا دِیا دیکھتا ہُوں
۔۔۔( ۴ )۔۔۔
پھر آج نعتِ نبویؐ کا ہوا دِیا روشن
دیارِ جاں سے گُزرنے لگی ہَوا روشن
جوارِ مکہّ میں جیسے ہُوا حِرا روشن
رو کور چشموں پہ ہونے لگا خُدا روشن
نسیمِ طیبہ سے ٓئی مُراد کی خُوشبُو
لبوں پہ جب بھی ہُوا حرفِ اِلتجا روشن
جو روشنی لبِ دیار کی پیاس سے پھُوٹی
تھا آلِ احمدِؐ مرسل کا سِلسِلہ روشن
دِلوں میں دِیپ جواب تک ثنا کے جلتے ہیں
تو ہے یہ حضرتِ حسّانؓ کی ادا روشن
مِرے نبیؐ کے نقوشِ قدم کا ہے فیضان
فلک پہ ہے جو ستاروں کا قافلہ روشن

Viewers: 2839
Share