Mehtab Khan | Shorty Story | انوکھا بندھن

مہتاب خان کراچی۔ پاکستان ای میل: mehtab.k@hotmail.com انوکھا بندھن وہ طوفانی محبت کا شکار ہوا تھا۔ ایسی محبت جو لمحوں میں بندے کو پچھاڑ کر رکھ دیتی ہے۔ یہ محبت […]

مہتاب خان
کراچی۔ پاکستان
ای میل: mehtab.k@hotmail.com

انوکھا بندھن

وہ طوفانی محبت کا شکار ہوا تھا۔ ایسی محبت جو لمحوں میں بندے کو پچھاڑ کر رکھ دیتی ہے۔ یہ محبت کیسے شروع ہوئی اس کا قصہ بھی بڑا دلچسپ ہے۔
اس دن ساحر اپنی لائبریری میں بیٹھا تھا اور اپنے نام آئے ہوئے خطوط پڑھ رہا تھا کہ اسفند آدھمکا۔ اس نے خطوط کا ڈھیر ایک طرف رکھا کیونکہ اب کوئی کام نہیں ہو سکتا تھا‘ وہ دونوں بہت گہرے دوست تھے ان کی یہ دوستی بچپن سے اب تک قائم تھی۔ لوگ ان کی دوستی پر اکثر حیران ہوا کرتے تھے کیونکہ ان میں کوئی بھی قدر مشترک نہیں تھی۔ ساحر انتہائی لاابالی اور کھلنڈری طبیعت کا مالک تھا اور اس پر شوبز سے وابستگی نے سونے پر سہاگہ کا کام کیا تھا‘ اسے میوزک سے شروع ہی سے لگائو تھا اور اس وقت وہ ایک مشہور گلوکار تھا‘ جسمانی طور سے بھی وہ اسفند کے مقابلے میں دراز قامت اور کھلتے ہوئے رنگ کا مالک تھا جب کہ اسفند کچھ کتابی کیڑا قسم کا انسان تھا وہ کہانیاں وغیرہ بھی لکھا کرتا تھا اور شعر و شاعری سے بھی اسے بہت دلچسپی تھی جسمانی طور پر بھی وہ کچھ کمزور سا تھا۔ وہ کرسی پر دھم سے بیٹھتے ہوئے بولا۔
’’کہیں چلتے ہیں یار! میں بہت بور ہورہا ہوں۔‘‘
’’ابھی تو آیا ہے یار! بیٹھ میں تیرے لیے چائے کا کہہ دوں۔‘‘ ساحر اٹھتے ہوئے بولا۔
’’تُو کیا کررہا تھا؟‘‘ اسفند نے پوچھا۔
’’یہ کچھ خطوط آئے ہوئے تھے کافی دنوں سے میں نے سوچا کہ آج ہمت کر ہی لوں جواب طلب خطوں کا جواب دے ڈالوں اور باقی کو ان کی اصل منزل تک پہنچادوں۔‘‘ اس نے ردّی کی ٹوکری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا۔
’’لا اِدھر دے انہیں‘ میں بھی تو پڑھوں کتنی حسینائوں کے خطوط آئے ہیں تیرے نام!‘‘ اس کی آنکھوں میں چمک لہرائی تھی‘ ان دونوں کی دوستی کچھ ایسی ہی بے تکلفانہ تھی۔ اس نے مسکراتے ہوئے خطوط اس کی طرف بڑھائے اور خود کمرے سے چلا گیا تھا۔
کچھ دیر بعد ملازمہ نے چائے لاکر تپائی پر رکھی‘ وہ واپس کمرے میں آیا تو اسفند بڑے انہماک سے ایک خط پڑھ رہا تھا۔ تپائی پر رکھی ہوئی چائے نہ جانے کب سے پڑی ٹھنڈی ہوچکی تھی۔
’’کیا پڑھا جارہا ہے اتنے غور سے۔‘‘ اس کا انہماک دیکھ کر ساحر کوہنسی آگئی تھی۔
’’تیری کسی فین مشعل کا خط ہے۔ کیا لڑکی سے یار! بہترین انداز تحریر ہے اس کا اور دیکھ شعر بھی کتنے اچھے لکھے ہیں اس نے تیرے لیے۔ یار! اس لڑکی کو خط لکھنا ہے دیکھ یہاں اس کا ایڈریس بھی موجود ہے۔‘‘ اس نے خط کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا تھا۔
’’پاگل ہوا ہے کیا! ایسے جذباتی قسم کے خطوط تو نہ جانے کتنے آتے ہیں ان کی جگہ وہاں ہے۔‘‘ اس نے ڈسٹ بن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’یہ خط میں لے کر جارہا ہوں‘ میں اسے تیری طرف سے خط لکھوں گا بس۔‘‘ اس نے فیصلہ کن لہجہ میں کہا تھا۔
’’بے وقوفی کی باتیں مت کریار! کسی کے جذبات سے کھیلنا اچھا نہیں۔‘‘ ساحر کے چہرے پر ناراضگی کے آثار تھے۔ وہ اس کی پروا نہ کرتے ہوئے بولا۔
’’میں اس معاملے کو سیریس نہیں ہونے دوں گا بس یونہی وقت گزاری کے لیے یہ خط و کتابت اگر ہوئی تو ہوگی۔ کیا پتا کہ وہ خط کا جواب ہی نہ دے۔‘‘
’’تجھے اس کے بارے میں کیا معلوم ہے؟ وہ کیسی ہے؟ اس کی عمر کیا ہے؟ کیوں خوامخواہ کی مصیبت مول لیتا ہے۔ خود بھی پھنسے گا اور مجھے بھی پھنسائے گا۔‘‘ ساحر مستقبل کے اندیشوں سے فکر مند ہوکر بولا تھا۔
’’مجھے نہ جانے کیوں اس لڑکی میں دلچسپی محسوس ہورہی ہے۔ مجھے اس سے دوستی کرنی ہے جو ہوگا دیکھا جائے گا۔‘‘ اسفند بچوں کی طرح ضد کرکے بولا تھا۔
’’ٹھیک ہے تو نہیں مانے گا‘ تجھے جو کرنا ہے وہ کر لیکن خیال رہے کہ اپنی اور میری نیک نامی کو دائو پر نہیں لگانا۔‘‘ وہ بالآخر ہار مانتے ہوئے بولا تھا۔
…٭٭٭…
وہ ایک پُر بہار شام تھی اور اسفند بڑی ترنگ میں تھا۔ ہر طرف بہار کے رنگ بھرے تھے۔ پھولوں پر تتلیاں منڈلا رہی تھیں اور آس پاس خوش بُوئوں کے ڈیرے تھے ایسے میں اس نے مشعل کو لکھا۔ آپ کون ہیں؟کہاں ہیں؟ کیسی ہیں؟ کیا کرتی ہیں؟ کچھ معلوم نہیں اور شاید کبھی معلوم ہو بھی نہ سکے لیکن آج اسے خوش رنگ کی شام ایک شعر میں سما کر آپ مجھ سے ملی ہیں۔ وہ شعر جو آپ نے اپنے خط میں میرے لیے بھیجا تھا۔ میں نے آپ کو محسوس کیا ہے۔ کاغذ پر پھیلے ہوئے الفاظ بھی کیا چیز ہوتے ہیں بظاہر ساکت ہوتے ہیں مگر ان میں ایک دنیا ہوتی ہے‘ ان میں رنگ‘ لمس اور جذبے حرکت کرتے ہیں۔ یہ مزاج کا آئینہ ہوتے ہیں‘ جو انجان لوگوں کو ایک دوسرے سے یوں منسلک کردیتے ہیں‘ جیسے وہ زمانوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہوں‘ آج جو آپ اپنے الفاظ کے ذریعے مجھ سے ملی ہیں تو گوکہ آپ میرے لیے اجنبی ہیں لیکن لگتا ہے کہ میں آپ کو پہلے سے جانتا ہوں۔ اسفند نے ایک بار لکھنا شروع کیا تو پھر لکھتا چلا گیا اور آخر میں چند شعر بھی ٹانک دیے۔ یہ خط اس نے اسی دن پوسٹ کردیا تھا۔
اسفند کو اس بات کی امید نہیں تھی کہ خط کا جواب آئے گا اور کئی اندیشے اسے ستارہے تھے کہ نہ جانے خط اس تک پہنچے گا یا نہیں۔ خط پر ایڈریس اس نے ساحر کے گھر کا ہی دیا تھا اور اس کے علاوہ یہ خط اس نے ساحر کے نام سے ہی لکھا تھا‘ اسے خو ش گوار حیرت ہوئی جب ایک ہفتہ بعد ساحر نے اس کا خط لاکر اس کے ہاتھ میں تھمایا تھا‘ وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا‘ اس نے ساحر کو گھما دیا تھا۔ واضح رہے کہ یہ قصہ اس وقت کا ہے کہ جب انٹرنیٹ‘ موبائل فون وغیرہ عام نہیں ہوئے تھے۔ مشعل نے اپنی خوب صورت ہینڈ رائٹنگ میں لکھا تھا۔
’’السّلام علیکم! آپ کا خط پاکر میری خوشی کی انتہا نہ رہی مجھے بالکل بھی توقع نہیں تھی کہ مجھ جیسی عام لڑکی کوآپ خط لکھیں گے۔ جتنے خوب صورت آپ خود ہیں اور آپ کی آواز ہے۔ اتنی ہی خوب صورت آپ کی تحریر ہے۔ آپ نے ٹھیک ہی لکھا ہے کہ کاغذ پر پھیلے ہوئے الفاظ انسان کاآئینہ ہوتے ہیں جوہمیں بہت کچھ دکھاتے ہیں‘ صرف دکھاتے ہی نہیں سناتے اور محسوس بھی کراتے ہیں‘ یہ الفاظ ہی تو ہیں جو کہیں تخت و تاج گراتے ہیں تو کہیں رہگزاروں میں گلستان کھلاتے ہیں‘ انہی الفاظ کے سبب خون کے رشتے خون کے پیاسے بن جاتے ہیں تو کبھی بدترین دشمن دوست بن جاتے ہیں۔ جی ہاں! آپ ٹھیک ہی کہتے ہیں۔ شعر پسند کرنے کابے حد شکریہ۔ سچ پوچھیں تو آپ کے الفاظ نے مجھے آپ کی شخصیت سے بھی زیادہ متاثر کیا ہے‘ مجھے ان میں ایک ہم ذوق شخص کی خوش بُو آئی ہے اور میں آپ کو جواب لکھنے بیٹھ گئی۔‘‘
اس خط کے بعد تو پھر خطوط کا سلسلہ ہی شروع ہوگیا۔ اس کی دلچسپی پر ساحر کوبھی لطف آنے لگا تھا۔ اس کا کہانیاں لکھنے اور شعر وشاعری کا شوق تبدریج خط لکھنے کی طرف منتقل ہوگیا تھا۔ ادب سے وابستگی کے سبب اس کی تحریر میں نکھار پیدا ہوگیا تھا۔ مشعل کو خط لکھتے ہوئے اسے بڑا لطف آتا اور اس کا جواب اسے مزید لطف اندوز کرتا تھا۔ وہ بڑے اچھے ذوق کی مالک تھی‘ وہ اسے خط لکھتے ہوئے خاصا محتاط رہتا تھا۔
ان کے درمیان خط و کتابت کا یہ سلسلہ تقریباً چھ سات ماہ جاری رہا ہے۔ اسے یوں محسوس ہونے لگا تھا جیسے وہ اس کا عادی ہوتا جارہا تھا‘ جیسے ایک نامعلوم سا بندھن اسے اپنی گرفت میں لے رہا تھا۔ جب اس کا خط نہ آتا تو اسے اپنے اندر ایک خلاء سا محسوس ہوتا تھا اور جب خط آجاتا تھا تو اپنا آپ اسے مکمل لگنے لگتا۔
وہ اکثر سوچتا کہ یہ کیا ہورہا ہے‘ وہ کیا کہہ رہا ہے‘ کہیں وہ اس کی محبت میں گرفتار تو نہیں ہورہا تھا‘ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا‘ نہ اس کا ایسا کوئی ارادہ تھا اور پھر اس کی منگنی بھی تو اس کی کزن سے ہوچکی تھی‘ ابھی تو ابتداء تھی‘ لیکن پتا نہیں کیوں اس کی چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو معاملات اس کے بس سے باہر ہوجائیں گے‘ کوئی ایسا سفر شروع ہوجائے گا جس میں رکنا یا واپسی کا سوچنا محال ہوگا۔ ابھی تو کچھ نہیں بگڑا تھا ایک معمولی سی غیر اہم سی کسک تھی اور ایک دلیرانہ کوشش سے اس کسک کو دل و دماغ سے جھٹکا جاسکتا تھا اور پھر اس نے اس کسک سے چھٹکارا پانے کے لیے کوششیں شروع کردیں اور خود کو زندگی کے ہنگاموں میں گُم کرلیا تھا کہ ایک دن ساحر تمتماتے ہوئے چہرے کے ساتھ اس کے پاس آیا اور کہا۔
’’آج تیری مشعل سے بات کرکے آرہا ہوں۔‘‘ وہ بڑے جوش میں نظر آرہا تھا۔
’’مشعل سے کب؟‘‘ اس نے حیران ہوکر پوچھا تھا۔
’’ابھی کوئی ایک گھنٹے پہلے اس کا فون میرے گھر کے نمبر پر آیا تھا نہ جانے اس نے میرا فون نمبر کہاں سے حاصل کیا‘ کافی دیر تک تو اس نے مجھے سسپنس میں رکھا‘ اپنا نام ہی نہیں بتارہی تھی پھر اس نے اپنے خطوط کے ایک دو حوالے دیئے کچھ شعر پڑھے تو میرے چودہ طبق روشن ہوگئے‘ میں نے فوراً اسے پہچان لیا کہ وہ مشعل تھی ۔ اپنے پہچان لیے جانے پر وہ کھلکھلا کرہنسی تھی‘ دس منٹ بات کی تھی اس نے…‘‘ ساحر نے اسے تفصیل بتائی۔
اگلے دو ہفتوں میں ایک بار مشعل کا فون آیا تھا اور دو مرتبہ ساحر نے اسے فون کیا تھا۔ ساحر نے دل کھول کر اس سے باتیں کی تھیں۔ ساحر کی مشعل میں یہ دلچسپی اس کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہ سکی تھی۔ اس ٹیلی فونک گفتگو میں اس نے مشعل کو آمادہ کرلیا تھاکہ وہ اسے اپنی تصویر بھیجے گی۔ وہ دونوں ہی مشعل کی تصویر کا بڑی بے صبری سے انتظار کررہے تھے مگر تصویر نہیں آئی تھی۔ مشعل شاید اس صورت حال سے بچنے کی کوشش کررہی تھی۔ اس دن ساحر اس کے پاس آیا اور کہا۔
’’یار! اپنے اسٹائل میں اسے ایک دھانسو قسم کا خط لکھ‘ ایسا کہ وہ پڑھ کر تڑپ جائے اور پہلی فرصت میں اپنی تصویر روانہ کردے۔‘‘
’’کیا؟ اسے تڑپانے کے لیے خط میں زہر ڈال دوں۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا۔
’’تُو زہر بھی ڈال سکتا ہے اور شہد بھی ‘ یہ مجھے پتا ہے۔ اس میں کچھ شاعری واعری بھی لکھ دے۔‘‘ وہ بولا تھا۔
’’دیکھ تُو اپنی بات سے پھر رہا ہے‘ تُو نے خود کہا تھا کہ اس معاملے کو سنجیدہ نہیں ہونے دیں گے۔‘‘ اسفند نے تنبیہ کی تھی۔
’’دیکھنے میں کیا حرج ہے یار…!‘‘ وہ بے پروائی سے بولا تھا۔
اس روز ایک طویل خط اس نے پوری توجہ سے لکھا تھا اور تصویر کے لیے ساری بے تابی اور جھنجلاہٹ اچھے طریقے سے لفظوں میں سمونے کی کوشش کی تھی۔ خط ارسال کرنے کے چند دن بعد ہی وہ اہم خط آگیا تھا‘ جس میں اس نے ساحر کی ضد کے سامنے ہار مانتے ہوئے اپنی تصویر ارسال کی تھی۔ وہ دن دونوں کے لیے بڑی مسرت کا تھا۔ ان دونوں کی رائے تھی کہ اگر یہ واقعی مشعل کی تصویر ہے تو بہت خوب صورت ہے۔ اس تصویر میں جو چیز اس کے چہرے سے بھی پہلے نظر آئی تھی وہ اس کی معصومیت تھی۔ اسفند کے لیے ایک حیران کن بات اس کی کم عمری تھی‘ اتنی چھوٹی عمر میں اتنے پختہ خیالات بے شک قدرت کا عطیہ ہی تھے۔
اگلے تین چار ماہ میں اس رومانی تعلق نے کئی مدارج طے کیے تھے۔ وہ خط لکھتا رہا اور مشعل کی طرف سے آنے والے جواب ساحر اسے دیتا رہا تھا۔ وہ بڑی تیزی اور شدت سے مشعل کے خیالات میں الجھتا جارہا تھا۔ اس کے دل میں یہ خواہش شدت پکڑتی جارہی تھی کہ وہ کسی طرح مشعل سے ملے لیکن کیسے اور کیونکر؟ وہ محبت کی تلاطم خیز لہروں کے نرغے میں خود کو پاتا تھا۔
…٭٭٭…
ایک دن یوں ہوا کہ ساحرتیزی سے اس کے کمرے میں آیا اور اسے اٹھا کر گھما ڈالا اور یہ خوش خبری سنائی تھی کہ وہ مشعل سے ملنے جارہے ہیں۔ اسفند کا دل تو یہ سُن کر دھڑکنا ہی بھول گیا تھا۔ سچ ہے کہ محبت ہی قدرت کا سب سے بڑا کرشمہ ہے‘ جس تن لاگے سوتن جانے‘ محبت کے ہی ذریعے انسان پر زندگی کے معنی منکشف ہوتے ہیں۔کائنات کا عکس اسی آئینے میں تو نظر آتا ہے۔
مشعل نے ساحر سے فون پر سارے معاملے طے کرلیے تھے کہ کب اور کہاں ملنا ہے۔ اسفند کے دل میں ہزاروں اندیشے جنم لے رہے تھے‘ اس نے ساحر سے کہا۔
’’یار! اسے حقیقت کے بارے میں کیسے بتائیں گے اور اس کا کیا ردّعمل ہوگا۔ میں تو اس بارے میں سوچ سوچ کر پریشان ہورہا ہوں۔‘‘
’’ابھی تو صرف اس سے ملتے ہیں‘ اچانک اسے سب کچھ بتانا ٹھیک نہیں رہے گا۔ آہستہ آہستہ میں اسے حقیقت سے آگاہ کردوںگا۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا۔ مگر اس کے دل کو اس بات سے اطمینان نہیں ہوا تھا۔
’’کہیں کسی مسئلہ میں گرفتار نہ ہوجائیں۔‘‘ اس نے فکر مندی سے کہا تھا۔
’’اوئے کچھ نہیں ہوتا تُو فکر نہیںکر۔‘‘
…٭٭٭…
اگلے روز سہ پہر کو وہ دونوں تیار ہوکر مشعل سے ملنے کے لیے روانہ ہوگئے تھے۔ اس نے ملنے کے لیے ناظم آباد میں واقع ایک غیر معروف سے ریستوران میں انہیں بلایا تھا۔ ریستوران میں داخل ہوکر انہوں نے ادھر اُدھر دیکھا مشعل انہیں کہیں نظر نہیں آئی۔ ایک خالی ٹیبل پر وہ دونوں بیٹھ گئے‘ ریستوران اس وقت تقریباً خالی تھا۔
’’تُو نے یہ تو بتایا نہیں کہ اس نے کپڑے کس رنگ کے پہنے ہوں گے۔‘‘ اسفند نے پوچھا۔
’’گلابی ‘نیلا… وہ آگئی…!‘‘ ساحر نے دروازے کی سمت دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
اسفند نے چونک کر دروازے کی سمت دیکھا تھا اور اپنی جگہ ساکت رہ گیا تھا۔ وہ لڑکی جس کے سپنے کئی ماہ سے اس کی آنکھوں میں سجے تھے اور جس کا خیال دھڑکن کی طرح اس کے سینے میں رہتا تھا۔ آج اس خوش گوار سہ پہر بڑی ادا کے ساتھ ان کی سمت بڑھ رہی تھی۔ وہ اکیلی نہیں تھی اس کے ساتھ ایک اور بھی لڑکی تھی‘ مشعل کی طرح وہ بھی شلوار قمیص میں تھی۔ سروقد مشعل نے قدرے گھبرائے ہوئے انداز میں اردگرد نگاہ دوڑائی۔ وہ دونوں اپنی جگہ سے کھڑے ہوچکے تھے۔ پھر اسفند نے مشعل کے چہرے کے بدلتے ہوئے تاثرات نوٹ کیے تھے اس کی نگاہ ساحر پر پڑی اور اس کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی تھی۔
آپس میں سرگوشیاں کرتی دونوں لڑکیاں ان کے پاس آگئی تھیں۔ چہرے جو عموماً دور سے خوب صورت نظر آتے ہیں‘ نزدیک آنے پر ان کی خامیاں اجاگرہوجاتی ہیں لیکن مشعل کے حوالے سے ایسا نہیں ہوا تھا‘ وہ قریب آکر مزید خوب صورت لگی تھی۔ اس کے چہرے کی سب سے دل کش چیز اس کے چہرے پر چھائی ہوئی معصومیت تھی۔ اس کی ساتھی لڑکی اس سے عمر میں ایک دو سال بڑی لگتی تھی۔ وہ بھی مشعل کی طرح گوری رنگت والی ایک خوب صورت لڑکی تھی۔
اسفند بڑی محویت سے مشعل کو دیکھ رہا تھا‘ نجانے کہاں سے اس کی آنکھوں میں آنسوئوں کی نمی آگئی تھی۔ مشعل نے ایک لمحہ کے لیے اس کی سمت دیکھا تھا پھر اس کی گھنی پلکوں نے بوجھل ہوکر اس کی آنکھوں کو چھپالیا تھا اور دوسرے لمحے وہ ساحر کو دیکھنے لگی تھی۔ ساحر بھی مشعل کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا‘ خاموشی کا وقفہ طویل ہوا تو مشعل نے ہمت کرکے نگاہ اٹھائی اور انہیں سلام کیا۔ جواب میں بہ یک وقت ان دونوں نے بھی یہی الفاظ دہرائے۔ اس پر دونوں لڑکیاں مسکرادیں‘ مسکراہٹ نے ماحول کے تنائو کو خاصا کم کیا تھا۔
’’آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔‘‘ ساحر نے رسمی جملہ کہا۔
’’ہمیں بھی…!‘‘ مشعل نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔ چند ہی لمحوں میں اس نے خود کو سنبھال لیا تھا پھر کچھ دیر ریستوران میں بیٹھے رہے چائے پی کچھ اسنیکس کھائے تھے۔ اسی دوران رسمی بات چیت ہوتی رہی۔ ریستوران سے نکل کر وہ سڑک کے کنارے کنارے چل دیئے۔ وہ بولی۔
’’یہاں پاس میں ایک بڑا خوب صورت پارک ہے‘ آیئے وہاں چل کر بیٹھتے ہیں۔‘‘
ساحر بولا۔ ’’آپ کی پسند ہے خوب صورت تو ہوگی ہی۔‘‘
’’آپ کے خطوط کی طرح اور آپ کی باتیں بھی خوب صورت ہیں۔‘‘ وہ ذرا شرما کر بولی تھی اور باتیں کرنے کے لیے یہ واقعی بڑی مناسب جگہ تھی۔ سایہ دار درخت تھے اور ان کے نیچے لکڑی اور پتھر کے بنچ تھے۔ پاس ہی موجود کینٹین سے ایک لڑکا فوراً ان کے پاس پہنچ گیا تھا۔
’’آپ کیا لیں گی؟‘‘ ساحر نے دونوں لڑکیوں سے پوچھا تھا۔
’’یہ سوال تو ہمیں پوچھنا چاہیے تھا آپ ہمارے مہمان ہیں۔‘‘ مشعل نے سادگی اور بے تکلفی سے کہا تھا۔
’’ان صاحبہ کا تعارف تو آپ نے کروایا ہی نہیں؟‘‘ ساحر نے مشعل سے کہا۔
’’یہ میری وہی کزن ہیں جن کا تذکرہ میں نے اکثر اپنے خطوط میں کیا تھا۔‘‘
ساحر نے اسفند کی طرف دیکھا ایک لمحہ کے لیے وہ گڑبڑا کر رہ گیا تھا۔
’’یہ میری کزن صلہ ہے‘ ہم دونوں کے گھربھی ساتھ ساتھ ہیں۔ یہ میرے ساتھ ہی پڑھ رہی ہیں۔‘‘ ساحر نے مشعل کے منع کرنے کے باوجود چائے‘ سینڈوچ اور پیٹس وغیرہ منگوالیے تھے۔ پھر وہی باتیں شروع ہوگئیں جو دیرینہ تعلق کے بعد پہلی بار ملنے والے کرتے ہیں۔ آپ کا فلاں خط ایسا تھا‘ فلاں خط ویسا تھا۔ آپ کی فلاں باتیں مجھے اچھی لگیں‘فلاں خط کا جواب بہت دیر میں ملا اور میں نے بہت انتظار کیا۔ آپ کے بارے میں فلاں وقت میں نے یہ سوچا تھا‘ آپ کے بارے میں فلاں فلاں اندازے درست ثابت ہوئے۔
ساحر اور مشعل باتیں کررہے تھے اور اسفند محسوس کررہا تھا کہ یہ وہ گفتگو نہیں جو کرنا چاہیے تھی‘ اس کے علاوہ بھی کچھ کہنا اور سننا چاہیے تھا۔ وہ ان کہی کہانیاں جو ابھی ادھوری تھیں۔ اس نے انہیں موقع فراہم کرنے کی غرض سے مسکراتے ہوئے صلہ سے کہا۔
’’اگر آپ بُرا نہ مانیں تو میرے ساتھ پارک کی سیر کو چلیں‘یہ واقعی بہت خوب صورت پارک ہے۔‘‘
’’وائی ناٹ!‘‘ اس نے اٹھلا کر کہا تھا اور اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ وہ دونوں روش پر چلتے ہوئے ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگے تھے۔
دھیرے دھیرے ان کی گفتگو کا رخ مشعل اور ساحر کی طرف مڑ گیا تھا۔ صلہ نے بڑی سنجیدگی سے کہا تھا۔
’’اسفند صاحب! مشعل آپ کے دوست سے واقعی بہت محبت کرتی ہے۔ وہ اس معاملے میں کافی آگے نکل گئی ہے۔ نہ جانے آپ کے دوست اس معاملے میں کتنے سنجیدہ ہیں۔‘‘
’’اس کی سنجیدگی کا اندازہ آپ اس بات سے لگالیں کہ وہ اپنی ساری مصروفیات ترک کرکے یہاں موجود ہے۔‘‘ اس نے دھیمے لہجے میں کہا تھا۔
’’کیا ساحر بھائی اس حد تک سنجیدہ ہیں کہ وہ مشعل سے شادی کرلیں گے ‘وہ ایک عام سی لڑکی ہے جب کہ وہ ایک مشہور آرٹسٹ ہیں۔‘‘
’’میرا خیال ہے کہ وہ اس سے بھی زیادہ سنجیدہ ہیں۔‘‘
’’کیا ان کے گھر والے بھی اس شادی پر راضی ہوجائیں گے۔‘‘
اسفند نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔ ’’جب میاں بیوی راضی تو…‘‘
وہ بھی مسکرائی تھی وہ دونوں ایک گھنٹے پیڑ کے نیچے لکڑی کی ایک بنچ پر جا بیٹھے اور باتیں کرنے لگے تھے۔ مستقبل کے حوالے سے اسفند کی معلومات میں کافی اضانہ ہوا تھا۔ خطوط سے اسے یہ تو پتا تھا کہ مشعل کے والدین فوت ہوچکے ہیں اور وہ اپنے بھائی اور بھابی کے ساتھ رہتی ہے‘ وہ صلہ کی باتیں سن رہا تھا مگر اس کا تمام دھیان ساحر اور مشعل کی طرف تھا وہ مسلسل انہیں دیکھ رہا تھا۔ ہَوا سے مشعل کے خوب صورت بال بار بار اڑ کر اس کے گالوں کو چھو رہے تھے اور وہ انہیں سنبھالتی ہوئی ساحر سے باتیں کرتی ہوئی بڑی دل کش لگ رہی تھی۔ وہ کسی بات پر مسکراتی تو کبھی شرماتی پھر تیزی سے سیدھی ہوکر بیٹھ جاتی تھی۔ انہیں دیکھ کریہ اندازہ ہورہا تھا کہ آہستہ آہستہ ساحر بے تکلف ہوتا جارہا تھا اور اس کے انداز میں کچھ بے باکی سی اس نے محسوس کی تھی۔
واپسی پر ساحر بہت خوش تھا اور اسفند کے کمرے میں آتے ہی وہ اسے آج کی تفصیل بتانے بیٹھ گیا تھا۔ اسفند بھی یہ سب سننے کے لیے بے تاب تھا۔
’’وہ بہت پیاری ہے یار! اس کی باتیں بھی بڑی دلچسپ تھیں۔ بس مجھے ایک پرابلم ہوئی کہ وہ بار بار خطوط کا حوالہ دے رہی تھی۔‘‘
’’اور کیا کہتی وہ؟‘‘ اسفند نے دھیمے لہجے میں پوچھا تھا۔
اس کے متغیر چہرے کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے وہ بولا۔ ’’کچھ جلنے کی بُو آرہی ہے۔‘‘
’’نہیں یار! ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ وہ کھسیا گیا تھا۔
’’میں یہ سوچ کر پریشان ہوں کہ اسے حقیقت کے بارے میں کیسے بتائیں گے اور اس کا کیا ردّعمل ہوگا۔ صلہ بتارہی تھی کہ وہ اس معاملے میں بہت سیریس ہے ۔ تُو بتا‘ تُو کہاں تک سنجیدہ ہے؟‘‘ اس نے غور سے اسفند کو دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
’’تجھے تو پتا ہے میری منگنی ہوچکی ہے‘ میں اس سے شادی تو نہیں کرسکتا‘ میرا خیال کہ اس معاملے کو یہیں ختم کردیتے ہیں۔‘‘ اسفند کے لہجے میں کچھ اداسی در آئی تھی۔
’’ایک دو ملاقاتیں اور کریں گے پھر خدا حافظ کہہ دیں گے۔‘‘ ساحر بڑی بے دردی سے بولا تھا۔
’’اسے حقیقت بتائے بغیر خدا حافظ کہہ دیں گے۔‘‘ اسفند نے معنی خیز نظروں سے ساحر کو دیکھا تھا۔
’’ اس سے بھلا کیا ہوگا‘ نہ تو تُو اس سے شادی کرے گا اور نہ ہی تو اس معاملے میں سنجیدہ ہے‘ تفریح ہی تو کرنی ہے تو وہ تُو کررہا ہے میرے ساتھ مل کر۔‘‘ اس نے پھربغور اسفند کو دیکھا تھا۔
’’بس اب تو خود ہی اس سے مل‘ میں نہیں جائوں گا تیرے ساتھ‘ خوامخواہ کباب میں ہڈی بننے کا کیا فائدہ۔‘‘ اسفند نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا تھا۔
’’بکواس بند کر ایک بار اس سے مل کر اسے حقیقت ضرور بتائوں گا پھر دیکھتے ہیں کہ حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔‘‘
پھر وہی فاصلے درمیان میں آگئے تھے جو محبت کرنے والوں کا مقدر ہوا کرتے ہیں۔ آج حسب وعدہ اسے آنا تھا اور ان دونوں نے اس کے گھر کے قریب سڑک پر اس کا انتظار کرنا تھا۔ ساحر نے سڑک کے کنارے ایک درخت کے نیچے اپنی گاڑی پارک کی ہوئی تھی۔ آج وہ تنہا آئی تھی اس نے سادہ لیکن خوش رنگ لباس پہنا ہوا تھا۔ وہ کسی مومی گڑیا کی مانند نظر آرہی تھی‘ اس کا سراپا بہت دل کش تھا۔
’’کہاں چلنا ہے؟‘‘ گاڑی میں ساحر کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے مشعل نے سادگی سے کہا تھا۔
’’کوئی فلم دیکھتے ہیں۔‘‘ اسفند نے تجویز پیش کی۔
’’ابھی فلم کا ٹائم کہاں ہوا ہے۔‘‘ ساحر بولا۔
’’ایسا کرتے ہیں کہ فلم کا ٹائم ہونے تک گھوم پھر لیتے ہیں پھر فلم دیکھنے چلیں گے۔ میں گھر سے ایک سہیلی کی برتھ ڈے کابہانہ کرکے آئی ہوں‘شام تک مجھے گھر پہنچنا ہے۔‘‘ اس نے خبردار کیا تھا۔
سیر سپاٹے کرتے ‘ کھاتے پیتے سہ پہر کے قریب ایک سینما گھر پہنچے‘ جوں جوں وقت گزر رہا تھا وہ ایک دوجے سے بے تکلف ہوتے جارہے تھے۔ اسفند نے مشعل سے پوچھا۔
’’بھئی آج آپ کی ساتھی دکھائی نہیں دے رہیں۔ کہاں ہیں محترمہ؟‘‘
’’تمہیں محترمہ کی اتنی فکر کیوں لاحق ہوگئی ہے؟‘‘ ساحر نے معنی خیز لہجہ میں کہا تھا۔
’’نہیں میں تو اخلاقاً پوچھ رہا تھا۔‘‘ اسفند نے بات بدلنے کی غرض سے کہا۔
یہ ایک رومانی فلم تھی‘ فلم کے دوران اسفند نے محسوس کیا کہ مشعل کچھ بے چینی سی محسوس کررہی تھی‘ وہ ان دونوں کے درمیان بیٹھی تھی وہ غیر محسوس طور پر ساحر کی طرف سے ہٹ رہی تھی اور اسفند کی طرف جھک رہی تھی۔ اس نے کن انکھیوں سے دیکھا ساحر کا ہاتھ مشعل کی کرسی کے ہتھے پر رکھا تھا‘ وہ اس کے کان میں سرگوشیاں کررہا تھا۔
واپسی پر عجیب سی جھنجلاہٹ اسفند پر طاری تھی۔ راستے میں ساحر نے اسفند کو مخاطب کرنے کی کوشش کی تھی‘ اس کی یہ خلاف معمول خاموشی اسے کھل رہی تھی لیکن اس نے اس کی باتوں کاکوئی مناسب جواب نہیں دیا تھا۔ آخر ساحر بولا تھا۔
’’دیکھ یار! آج تو اس سے بات کرنے کا کوئی موقع ہی نہیں ملا۔ ایسا کرتا ہوں کہ ابھی جاکر میں فون پر اسے سب کچھ بتادیتا ہوں۔‘‘ اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے اسفند کو اس کے گھر کے سامنے اتارا تو اسفند نے اسے چائے کی آفر کی جسے ساحر نے رد کردیا اورگاڑی اسٹارٹ کردی۔ اسفند کاموڈ سخت آف تھا وہ فیصلہ کرچکا تھا کہ اب ان کے ساتھ کہیں نہیں جائے گا۔ اگر کوئی پروگرام بنا بھی تو وہ بہانہ بنادے گا۔ اگلے روز ساحر نے اسفند کو فون کیا اور کہا۔
’’یار! فون پر یہ سب کہنا مجھے مشکل لگ رہا ہے‘ ایسا کرتے ہیں کہ کہیں پکنک کا پروگرام بناتے ہیں ‘ وہاں موقع دیکھ کر اسے سب کچھ سچ سچ بتادیں گے۔‘‘ اسفند نے کہا۔ ’’تم لوگوں کی جو مرضی پروگرام بنائو میں اس میں شامل نہیں ہوں گا‘ مجھے معاف ہی رکھو۔‘‘ پھر انہوں نے دوچار اِدھر اُدھر کی باتیں کیں اور فون بند کردیا تھا۔
اگلے روز دس بجے کے قریب مشعل کا فون اسفند کے پاس آیا تھا۔ ساحر نے غالباً اس کا نمبر دے دیا تھا۔ وہ کہنے لگی کہ اگر آپ پکنک پر نہیں آئیں گے تو پھر ہم بھی نہیں آئیں گے وہ اس کے سر ہوگئی تھی کہ اسے ضرور آنا پڑے گا پھر اس نے صلہ کو فون دے دیا تھا۔ صلہ بھی اسے منانے کی کوشش کرنے لگی۔ اس نے بیماری کابہانہ بنانا چاہا تو وہ بھی نہ چلا‘ بہرحال اسے ہاں کرتے ہی بن پڑی تھی۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق اس دن وہ پکنک پر روانہ ہوئے تھے۔ راستے سے کھانے پینے کا سامان لے کر گاڑی میں رکھ لیا تھا۔ دونوں لڑکیاں دل کش نظر آرہی تھیں تاہم مشعل زیادہ دل کش نظر آرہی تھی۔ آج موسم بھی بہت خوش گوار تھا‘ ہلکی ہلکی بارش ہورہی تھی‘ گنگناتا‘ ہچکولے لیتا‘ ٹھاٹھیں مارتا سمندر سامنے تھا۔ کچھ دیر ساتھ بیٹھے اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے پھر ساحر نے مشعل کے کان میں کوئی سرگوشی کی دونوں اٹھ کھڑے ہوئے اور ایک جانب چل دیئے۔ وہ ساحر کے پہلو میں چلتی ہوئی بہت دل کش لگ رہی تھی۔ اسفند اور صلہ کچھ فاصلے پربیٹھے ان دونوں کو دیکھ رہے تھے۔ اسفند نے کہا۔
’’یہ دونوں کتنی جلدی ایک دوسرے سے بے تکلف ہوگئے ہیں کہ لگتا ہے نہ جانے کب سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔‘‘
صلہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’ساحر صاحب کے لکھے ہوئے خطوط میں نے بھی پڑھے ہیں‘ وہ جو بھی لکھتے تھے دل سے لکھتے تھے اور دل سے لکھی ہوئی بات ضرور اثر کرتی ہے‘ یہ انہی خطوط کا اثر ہے۔‘‘
اسفند ایک لمحہ کے لیے گڑبڑا کر رہ گیاتھا۔ اب سہ پہر ہونے والی تھی اور انہیں بھوک ستارہی تھی‘ کھانے کے دوران مشعل کے بالوں کی کچھ لٹیں اس کے چہرے کی طرف پھسل آئی تھیں۔ وہ بے حسین نظر آرہی تھی۔ ساحر اب مشعل کو بے تکلفی سے ’’تم‘‘ کہہ کر مخاطب کررہا تھا اور وہ بھی ذرا جھجک کے ساتھ یہی لفظ استعمال کررہی تھی۔ ساحر کے بارے میں اسفند جانتا تھا کہ وہ صرف جسمانی محبت کا قائل تھا‘ ایسی محبت جو صرف جسم سے شروع ہوکر جسم پر ہی ختم ہوتی ہے۔ مرد اور عورت کی محبت میں جسم کے عنصر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا لیکن کچھ لوگوں کے معاملے میں یہ اتنا حاوی ہوتا ہے کہ خوش بُو دار جذبے کہیں دور چلے جاتے ہیں۔ اسفند کو عجیب کوفت کا احساس ہوا تھا۔ گھر آکر وہ دیر تک اپنے کمرے میں بند رہا اور اس نئی صورت حال کے بارے میںسوچتا رہا تھا۔
اس کے سامنے وہ فائل پڑی تھی جس میں مشعل کے لکھے ہوئے خط رکھے تھے‘وہ بستر پر نیم دراز ہوکر انہیں پڑھنے لگا یہ کوئی درجن بھر خط تھے‘ ہر خط‘ پر تاریخ درج تھی۔ نیلے‘ گلابی اور سبز رنگ یہ خوش بُو دار خطوط اس نے بڑی توجہ اور محبت سے لکھے تھے۔ اس نے ترتیب وار خط پڑھنے شروع کیے۔ گزرا ہوا پورا دور اس کی نگاہوں کے سامنے آگیا ۔ شروع کے چند خطوط میں روزمرّہ کے چھوٹے موٹے واقعات تھے۔ زندگی کے بارے میں فلسفیانہ باتیں تھیں‘ اشعار تھے۔ یہ خط اس نے دوبارہ پڑھے تو اسے اور بھی اچھے لگے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان خطوط میں چلتی ہوئی پُرخلوص دوستی کی لہر بھی محسوس ہوتی تھی۔ بعد کے خطوط کچھ مختلف ہوگئے تھے لیکن ان میں بھی شائستگی‘ ادبیت اور لطافت موجود تھی۔ شاید یہ اسفند کے خطوط کا اثر تھا کہ اس نے اس کی تھوڑی سی بے باکی اور پرتپش رومانیت کو نہ صرف برداشت کیا تھا بلکہ انہیں بتدریج اپنے دل میں بھی جگہ دی تھی۔
اس کے ذہن میں مشعل کے ساتھ گزرے ہوئے روز و شب گھومنے لگے اور ساحر کا قدرے بے باک رویہ یاد آیا‘ سینما ہال میں فلم کے دوران مشعل بے آرام ہوئی تھی شاید ساحر نے اس کے ساتھ کچھ بے تکلف ہونے کی کوشش کی تھی۔ بہرطور یہ اس کا ظرف تھا کہ کسی موقع پر بھی اس نے ساحر کی دل شکنی نہیں کی تھی۔ اب اس نے تسلی سے ان خطوط کو پڑھا اور پھر ان میں پائے جانے والے دھیمے پن کا موازنہ اس رویہ سے کیاجو ساحر نے اس کے ساتھ روا رکھا تھا تو اسے اس میں کئی خلاء نظر آئے۔ اس نے مشعل کے بارے میں سوچنا شروع کیا تو اسے محسوس ہوا کہ کوئی بے نام سا ناتہ ہے جس کی جڑیں آج بھی اس کے دل کی گہرائیوں میں موجود ہیں۔ کوئی بات ہے جو ختم ہوکر بھی ختم نہیں ہوئی تھی‘ کوئی ڈور تھی جو ٹوٹ کر بھی اس کے پاس تھی۔ یہ ڈور شاید ہم ذوقی اور ہم مزاجی کی ڈور تھی‘ یہ انسیت اور ہمدردی کی ڈور تھی جو ایک انسان ایک دوسرے اچھے انسان کے لیے محسوس کرتا ہے یا پھر یہ کوئی ایسا تعلق تھا جو خوب صورت لفظوں کے تبادلے سے پروان چڑھا تھا اور اب وہ اس ڈور کوتوڑنا چاہتا تھا‘ اس تعلق کو ختم کرنا چاہتا تھا۔ اس سے ایک سنگین جرم سرزد ہوا تھا‘ مشعل کو دھوکا دینے کا جرم‘ اس جرم کی سزا اسے بھگتنا تھی۔ یہ بات نہیں تھی کہ مشعل کے لیے اس کی محبت یا انسیت اسے جو بھی نام دیں کم ہوگئی تھی یہ تو موجود تھی بلکہ اب تو یہ جسم کے ایک ایک رگ و ریشے میں بس چکی تھی۔ اس کے دل سے آواز آتی تھی کہ محبت صرف پالینے کا نام ہی تو نہیں ہے ‘ ایک دوسرے کو کھودینے کا نام بھی تو محبت ہے۔ یہ دل نشین احساس کتنا اہم ہوتا ہے کہ دنیا میں کہیں کسی جگہ ایک ایسا شخص موجود ہے جو آپ کو سوچتا ہے‘ آپ کے لیے آہیں بھرتا ہے اور آپ کے لیے اس کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں‘ نہ یہ ملنے سے کم ہوتا ہے نہ جدا ہونے سے ختم ہوتا ہے۔
…٭٭٭…
وہ سوموار کا دن تھا‘ جب صلہ کا فون اسفند کے پاس آیا تھا‘ ایک ملاقات کے دوران صلہ نے اس سے اس کا فون نمبر لے لیا تھا۔ اس نے خاصی گھبرائی ہوئی آواز میں اسے بتایا تھا۔
’’آج مشعل تنہا ساحر سے ملنے اس کے گھر گئی ہے‘ نہ جانے میرا دل کیوں گھبرا رہا ہے‘ جیسے کوئی انہونی ہونے والی ہے۔‘‘ اس نے اسفند سے پوچھا تھا کہ اس ملاقات کا اسے پتا تھا یا نہیں۔ ساحر نے اس ملاقات کو اسفند سے پوشیدہ رکھا تھا‘ یہ بات باعث تشویش تھی۔ پکنک والے دن کے بعد اس کی ملاقات یا بات ساحر سے نہیں ہوئی تھی اور اسی دن اس نے بتایا تھا کہ اس کے گھروالے اسلام آباد جارہے ہیں۔ اس کا مطلب تھا کہ ساحر گھر میں اکیلا ہی ہوگا۔ خطرہ کی گھنٹی بج چکی تھی‘ اس نے صلہ کو ساحر کے گھر کا ایڈریس بتایا اور اسے وہاں فوراً پہنچنے کی ہدایت کرتے ہوئے خود بھی تیزی سے ساحر کی طرف روانہ ہوگیا۔ مشعل خطرے میں تھی۔
وہ ساحر کے گھر پہنچا اور ڈور بیل بجائی تو چوکیدارنے گیٹ کھولا‘وہ دندناتا ہوا اوپر ساحر کے کمرے تک پہنچا‘ دروازہ بند تھا۔ اس نے دو تین بار دستک دی‘ آخر دروازہ کھلا اورساحر کی صورت نظر آئی‘ اسے دیکھ کر وہ چونک گیا۔ ایک سیکنڈ کے لیے لگا کہ وہ دروازہ بند کردے گالیکن اسے اتنی مہلت نہیں ملی‘ اسفند نے اسے دھکا دیا اورکمرے میں داخل ہوگیا‘ اس نے دیکھا کہ بستر پر مشعل بے سدھ لیٹی ہوئی تھی‘وہ غالباً ہوش میں نہیںتھی شاید اسے کوئی نشہ آور چیز دے کربے سدھ کیا گیاتھا۔ساحر کو سنبھلنے میں تھوڑا سا وقت لگا اور وہ تیزی سے اسفند پر جھپٹا اور اسے دھکے دینے لگا وہ دونوں ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہوگئے۔ اسفند نے محسوس کیا کہ وہ اس وقت نشہ میں تھا۔ اسفند نے اسے ایک گھونسا رسید کرتے ہوئے کہا۔
’’دغا باز! دیکھ لی تیری یاری! تیری نیت کا فتور تومیں نے بہت پہلے محسوس کرلیا تھا‘تُو نے جب اس کی خوب صورتی دیکھی تو تُو بے ایمان ہوگیا۔ تُو میرا یار نہیں رہا۔ اس کے بعد تُو نے جو بھی قدم اٹھایا اپنی ہوس کے لیے اٹھایا۔‘‘ شور شرابے کی آواز سُن کر مشعل ہوش میں آگئی تھی اور چکراتے ہوئے سرکو تھامے سکتے کی کیفیت میں بیٹھی سب دیکھ اور سُن رہی تھی۔ اسی دوران صلہ بھی کمرے میں آچکی تھی اس کی سانس تیز بھاگنے کی وجہ سے پھولی ہوئی تھی۔ ساحر نے اسفند کو گریبان سے پکڑ کر جھٹکا دیتے ہوئے کہا۔
’’دھوکا میںنے نہیں تُو نے دیا ہے اسے میرے نام سے جھوٹے خط لکھتا رہا ہے‘ بول جواب دے تُونے ایسا نہیں کیا ؟‘‘
صلہ مشعل کو سنبھالنے میں مصروف ہوگئی تھی‘ مشعل کا دل رو رہا تھا اور شاید پورا جسم رو رہا تھا۔ اسے کیا بتاتا‘کیا سمجھاتا۔ اس کے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ اس کے پاس پسٹل ہو اور وہ ساحر کو گولی مار کر اپنی کنپٹی میں بھی گولی اتارلے۔ جو غلطی اس سے سرزد ہوئی تھی‘ اس کی سزا اسے ملنی چاہیے تھی۔ اچانک ساحر خود کو اس سے چھڑا کر زینوں کی طرف بھاگا وہ اس کے پیچھے دوڑا اور راستے میں اسے جالیا۔ طیش اور جھلاہٹ کے عالم میں خود کو چھڑانے کے لیے اس نے اسفند کودھکیلا‘ وہ ٹیرس کے حفاظتی جنگلے کی نوکیلی سلاخوں پرگرا تھا‘ اسے بڑی شدید چوٹیں آئی تھیں۔ اس کی آنکھوں میں رنگ برنگے تارے ناچے تھے۔ اس نے خود کو سنبھالا اور اٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔ اسی دوران ساحر جاچکا تھا اور مشعل اور صلہ اس کے پاس آگئی تھیں۔ اسے اپنے کندھے پر ہلکی سی نمی کا احساس ہورہا تھا‘ اس نے گردن کے عقب میں ہاتھ لگا کر دیکھا تو ہاتھ پر خون دکھائی دیا‘ سر کے پچھلے حصہ سے بھی خون بہہ رہا تھا‘یہ کافی شدید چوٹ تھی۔ گرتے وقت جنگلے کا کوئی کنارا اسے لگا تھا۔ تاہم اس نے اپنی یہ حالت ان پہ ظاہر نہیں ہونے دی تھی۔ نہ ہی یہ بتایا تھا کہ اس کے سر کے عقبی حصے سے خون رس رہا ہے۔ اسے چکر آرہے تھے۔ صلہ نے اسے اٹھنے میں مدد دی اور اسے بغور دیکھا اور بولی۔
’’ہائے اللہ! آپ تو بہت زخمی ہیں‘ خون بہہ رہا ہے۔‘‘ وہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہتی تھی مگر اس طرح بات پھیلنے کا اندیشہ تھا۔ ’’اگر آپ وقت پر نہ آجاتے تو پتا نہیں کیا ہوجاتا اس کے ساتھ…‘‘ صلہ لرزتی ہوئی آواز میں بولی تھی۔
مشعل کا رنگ ابھی تک زرد تھا اورچہرے پر اندیشوں کے مہیب بادل چھائے ہوئے تھے۔ وہ شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی آخر روہانسی آواز میں بولی۔
’’آپ لوگوں نے ایسا کیوں کیا میرے ساتھ…‘‘ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن پھر خود کو روک لیا۔ اسے سر کے پچھلے حصے میں اب شدید درد محسوس ہورہا تھا‘ چوٹ ٹھنڈی ہوکر مزید تکلیف دہ ہوگئی تھی۔ پتا نہیں اسے ان زخموں میں تکلیف محسوس نہیں ہورہی تھی اگر تھی بھی تو یہ لذت آمیز تکلیف تھی۔
کمرے میں موجود فرسٹ ایڈ کے سامان سے صلہ نے اس کی مرہم پٹی کردی تھی۔ موجودہ صورت حال میں اس کی شخصیت مشعل کے سامنے مسخ ہوگئی تھی۔ جو کچھ اس کے سامنے آیا تھا وہ ہر گز قابل معافی نہیں تھا وہ سوچتا رہا اور عرق ندامت میں ڈوبتا رہا۔ گھر سے باہر نکلتے ہی مشعل کا ایک فقرہ گونج کی طرح اسفند کے کانوں سے ٹکرایا۔
’’تم نے ایسا کیوں کیا میرے ساتھ…؟‘‘
چند لمحے بعد اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے پوچھا۔
’’میں سمجھا نہیں…‘‘
’’لیکن میں سمجھ بھی گئی ہوں اور جان بھی گئی ہوں۔‘‘ وہ اسی انداز میں بولی‘ اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔
’’کک… کیا جان گئی ہو؟‘‘ اس کی کھوپڑی میں جھماکے ہورہے تھے‘ وہ سمجھ گیا تھا کہ بات کس رخ پر جارہی ہے۔
وہ لرزاں آواز میں بولی۔ ’’تم ایک سال تک مجھے ساحر بن کر خط لکھتے رہے‘ بہت اچھا تماشا کیا ہے تم نے۔ کتنا بڑا دھوکا دیا ہے تم نے۔ کتنا بے رحم ناٹک رچایا ہے تم نے۔ پڑھے لکھے ہوکر ایک تھرڈ کلاس آوارہ گرد کا سا کردار اداکیا ہے تم نے اور ایسا کرتے ہوئے ایک سال میں تمہیں ایک باربھی شرم نہیں آئی۔ ایک بار بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ تم کتنا بڑا دھوکا دے رہے ہو اور اس دھوکے کا کسی کی زندگی پر کیا اثر پڑے گا۔‘‘ وہ چپ تھا۔ اس کے پاس کچھ کہنے کے لیے الفاظ ہی نہیں تھے۔ وہ پھنکاری۔ ’’کیا سمجھتے ہو تم لوگ عورت کو؟ ایک کھلونا! اس سے تفریح کی‘ اس سے کھیلا‘ توڑا اور پھر بے کار سمجھ کر پھینک دیا۔ ایسا کرتے ہوئے تم اپنی مائوں‘ بہنوں کی طرف کیوں نہیں دیکھتے۔ کوئی ان کے ساتھ ایسا بے رحم تماشا کرے‘ اس طرح ان کے ساتھ تفریح کرے‘ انہیں اجاڑے‘ برباد کرے تو کیسا لگے گا تمہیں۔ بتائو کیسا لگے گا تمہیں…؟‘‘ اس کی آواز بھرا گئی تھی‘ اس نے کچھ اورکہنا چاہا لیکن کہہ نہیں سکی۔ وہ رونے لگی اور جب ایک بار اس کے آنسو نکلے تو پھر نکلتے ہی چلے گئے۔ یوں لگا جیسے کسی سیلابی پانی کابند ٹوٹ گیا ہے۔ صلہ نے اسے دلاسہ دیا اور کہا۔
’’بس چپ ہوجائو مشعل! کیوں تماشا بنارہی ہو‘ ہم سڑک پر کھڑے ہیں‘ لوگ کیا سوچیں گے؟‘‘
وہ اپنی جگہ سکتہ کی سی کیفیت میں تھا۔ ایسے شخص کی طرح جس پر اچانک فرد جرم عائد کردی گئی ہو اور اس کے پاس صفائی کے لیے کوئی دلیل نہ ہو۔ پھر اسفند کی طرف دیکھے بغیر وہ بولی۔
’’بہتر ہے کہ آپ یہاں سے چلے جائیں اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں‘ میں آئندہ آپ سے ملنا نہیں چاہتی۔‘‘
گھر پہنچ کر وہ بستر پر گرپڑا۔ شام تک اسے تیز بخار ہوگیا۔ گردن اورکندھے پر کچھ سوجن بھی ہوگئی تھی۔ اس کے ذہن میں مشعل کے تیز و تند الفاظ مسلسل گونج رہے تھے۔ اس نے شکر ادا کیا کہ گھر میں کوئی نہیں تھا‘ سب ایک شادی میں شرکت کے لیے گئے ہوئے تھے ورنہ ان کے سوالات کا جواب دینا اس کے لیے مشکل ہوجاتا۔
اس کا سارا دن تکلیف میں گزرا تھا اور کچھ کھایا پیا بھی نہیں گیا تھا۔ اس نے جیسے تیسے درد دور کرنے کے لیے دوا کھائی اور بے سدھ ہوکر پڑا رہا۔ اسے کندھے میں شدید درد محسوس ہورہا تھا‘ اندازہ ہورہا تھا کہ زخم میں انفیکشن ہوگیا ہے۔ بخار کی شدت بھی شاید اسی لیے بڑھ گئی تھی۔ کہتے ہیں کہ نیند توسولی پر بھی آجاتی ہے۔ اسے بھی نیند آگئی تھی۔
دوبارہ اس کی آنکھ کھلی تو وال کلاک دن گیارہ بجے کا وقت بتارہی تھی۔ اس کی آنکھ کسی آہٹ کے سبب کھلی تھی۔ اس کی امی کمرے میں آئی تھیں۔
’’کیا ہوا اسفند! طبیعت خراب ہے کیا؟‘‘
’’ہاں!‘‘ اس نے مختصر جواب دیا۔
’’کیا لڑائی ہوئی ہے کسی سے؟‘‘ انہوں نے فکر مندی سے پوچھا۔
’’ایک چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا۔‘‘ وہ بستر سے اٹھتے ہوئے بولا۔
’’رات تم نے بتایا نہیں۔‘‘
’’میں سوگیا تھا۔‘‘ اس نے صفائی پیش کی۔
ناشتے کے بعد اس کی امی اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئی تھیں۔ اگلا آدھا گھنٹہ ڈاکٹربے حد مصروف رہے تھے‘ انہوںنے اس کے زخموں کامعائنہ کرکے اور اچھی طرح صاف کرکے بینڈیج کی‘ دو انجکشن لگائے اور کھانے کے لیے بھی دوا دی۔ انجکشن لگنے کے بعد وہ خود کو کافی بہتر محسوس کرنے لگا تھا۔
…٭٭٭…
سہ پہر کے قریب وہ بستر پر لیٹا ہوا تھا کہ سائیڈ ٹیبل پر رکھے ہوئے فون کی گھنٹی بجی۔ اس نے ریسیور اٹھایا‘ دوسری طرف صلہ تھی‘ صلہ نے اس کی خیریت دریافت کی اور کہا۔
’’نہ جانے کیوں مجھے ایسا لگتا ہے کہ اس پورے واقعے میں آپ بے قصور ہیں‘ یہی بات میں مشعل کو بھی سمجھانے کی کوشش کررہی ہوں۔‘‘ جواباً اس نے کہا۔’’میں اس قابل تو نہیں کہ مشعل کا سامنا کرسکوں لیکن اگر ہوسکے تو ایک آخری ملاقات ضرور کرنا چاہتا ہوں تاکہ انہیں سب کچھ صاف صاف بتاسکوں۔ پلیز ہوسکے تو اس سلسلے میں میری مدد کریں۔‘‘
اور صلہ نے اس سے وعدہ کرلیا تھا کہ وہ اس آخری ملاقات کا انتظام کردے گی۔ نہ جانے محبت کرنے والے اس آخری ملاقات کا اہتمام کیوں کرتے ہیں۔
اور پھر صلہ نے نہ جانے کیسے ملاقات کا انتظام کیا تھا‘ یہ اس کی کسی دوست کا گھر تھا جس کا شوہر ملک سے باہر تھا‘ وہ اپنے دو بچوں کے ساتھ اکیلی رہتی تھی۔ بچے اس وقت اسکول گئے ہوئے تھے۔ صلہ نے نہ جانے کیسے مشعل کو اس ملاقات پر آمادہ کیا تھا۔ اس نے ہمارے لیے مکمل پرائیویسی فراہم کی تھی۔ کمرے میں اس وقت وہ اور مشعل تنہا تھے‘ صلہ اٹھ کر اپنی دوست کے پاس چلی گئی تھی جو اس وقت کچن میں مصروف تھی۔
وہ ایک صوفے پر سرجھکائے بیٹھی تھی‘ اس کا رنگ زرد ہورہا تھا۔ اس کے تاثرات بتارہے تھے کہ اس کی آنکھوں سے بہت سے پردے اٹھ گئے ہیں۔یہ سب کچھ اس کے سان و گمان میں بھی نہیں تھا وہ تو ایک سیدھی سادی گھریلو لڑکی تھی جو ایک سیدھی سادی زندگی گزارنے کی خواہاں تھی وہ تو اپنے لیے ایک باعزت جیون ساتھی کا تصور کررہی تھی لیکن یہاں تو سب کچھ تہہ و بالا ہوگیا تھا‘ سب کچھ جل کر خاک ہوا جارہا تھا۔ اسفند نے دیکھا اس کی خوب صورت پیشانی پر پسینے کی چمک تھی۔
وہ چند لمحے متذبذب رہا پھر اگلے ایک گھنٹے میں اسے سب کچھ تفصیل سے بتادیا کچھ بھی نہیں چھپایا۔ اس کے ساحر کے نام آئے ہوئے خط سے لے کر اس کے خطوط لکھنے تک‘ پہلی ملاقات سے لے کر اس واقعہ تک جس نے سب کچھ ختم کرکے رکھ دیا تھا‘ سب کچھ اس کے گوش گزار کر ڈالا۔ وہ اس ساری روداد کو بے حد حیرت اور دکھ کے عالم میں سنتی رہی‘ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔ وہ بھی صرف سچائی بیان کررہا تھا اپنی طرف سے کوئی قطع و برید اس نے نہیں کی تھی۔ یہ سب اس کو بتا کر وہ خود کو ایک دم ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگا تھا۔
وہ آمنے سامنے بیٹھے تھے اور ان کے سامنے اورنج جوس کے گلاس رکھے تھے۔ مشعل کی ناک سرخ تھی اور اس کی آنکھوں کے کنارے بار بار نم ہوجاتے تھے۔ اس کی بات اختتام کو پہنچی تو مشعل کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے چہرہ گہرے غم کی تصویر ہوگیا‘ اس نے کہا۔
’’میں تمہیں دکھ دینا نہیں چاہتا تھا‘ لیکن حقیقت کا سامنا کرنے کے لیے دل کڑا کرنا پڑتا ہے‘ میں نے بھی دل کڑا کیا ہے۔‘‘
’’میری توپوری زندگی ہی برباد کردی آپ نے…‘‘ اس کی آواز میں عجیب سا کرب تھا۔ اس کے چہرے پر اتنی زیادہ سنجیدگی تھی کہ اس سے بات کرنے کی اسے ہمت نہیں ہورہی تھی۔ وہ کچھ دیر چپ بیٹھی رہی پھر تیزی سے اٹھ کر اندر جانے لگی۔
’’مشعل!‘‘ اس نے آواز دی۔ وہ ٹھٹک کر مڑی اور اس کی طرف دیکھنے لگی۔ ’’کہاں جارہی ہو؟‘‘ اس نے اس کے قریب آکر پوچھا تھا۔
اس کی نم آنکھوں میں تازہ آنسو امڈ آئے۔ ایک لحظے کے لیے لگا کہ وہ کچھ کہنے لگی ہے‘ مگر پھر اس نے رخ پھیر لیا اور جھٹکے سے آگے بڑھی‘ وہ پھر اس کے پیچھے گیا اس مرتبہ اس نے اس کا بازو پکڑا۔
’’میں تمہیں ایسے نہیں جانے دوں گا‘ کچھ کہو مجھے بُرا بھلا ہی سہی۔‘‘
’’تم مجھے روکنے والے کون ہوتے ہو‘ چھوڑ دومجھے۔‘‘ وہ مکمل بے رخی سے بولی تھی۔ ’’پلیز مجھے جانے دو۔‘‘ وہ روتے ہوئے بولی۔
’’تمہارے شکوے تو ساحر سے ہوں گے میں نے تو ہمیشہ تمہارا بھلا ہی چاہا ہے کم ازکم مجھے…‘‘
’’مجھے تم دونوں سے کوئی سروکار نہیں‘ چلے جائو یہاں سے‘ میں کسی کی شکل دیکھنا نہیں چاہتی‘ کسی کی بھی نہیں… دفع ہوجائو یہاں سے…‘‘ وہ اسے دھکیلتے ہوئے چلّائی۔ ’’کوئی غلط نہیں‘ میں ہی غلط ہوں‘ مجھے سزا پانے دو‘ مر جانے دو مجھے…‘‘ وہ زارو قطار رو رہی تھی۔ اس کا چہرہ لال بھبوکا ہورہا تھا۔
’’میں تمہیں ایسے نہیں جانے دوں گا۔‘‘
وہ ہذیانی انداز میں اسے جھنجوڑنے لگی پھر نجانے اسے کیا ہوا اس نے ایک تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا پھر دوسرا… اس کا دوسرا تھپڑ اس نے روک لیا تھا‘ اس کی کلائی اس کے ہاتھ میں تھی وہکلائی چھڑانے کے لیے زور لگانے لگی۔ ساتھ ساتھ وہ رو رہی تھی اور ہیجانی انداز میں دہرا رہی تھی۔
’’چھوڑ دو مجھے… پیچھے ہٹ جائو… دور ہوجائو۔‘‘
اس نے اس کی کلائی نہیں چھوڑی‘ نہ ہی اسے خود سے دور ہونے دیا‘ پھر اچانک نہ جانے اسے کیا ہوا وہ دھاڑیں مار کر روتی ہوئی اس کے سینے لگ گئی‘ اس پر ڈھے سی گئی‘ وہ چند لمحے سکتے کی سی کیفیت میں رہا پھر اسے اپنے ساتھ لگا لیا وہ اس کے سینے میں منہ چھپا کر روتی چلی گئی۔
مشعل اس طرح اس کے سینے سے چمٹی تھی کہ اس کے جسم کا حصہ ہی بن گئی تھی‘ اس کے گرم آنسو اس کی قمیص کو بھگو رہے تھے۔ اس کی اپنی آنکھیں بھی نم تھیں۔ وہ دونوں دو ڈرامائی کرداروں کی طرح ایک دوسرے کی بانہوں میں کھڑے تھے۔
اس نے اس کو خود سے علیحدہ کرنے کی تھوڑی سی کوشش کی لیکن اس کا انداز دیکھتے ہوئے ترک کردی‘ وہ اس وقت ہیجانی کیفیت کا شکار تھی۔ وہ تقریباً دس منٹ تک روتی رہی تھی۔
’’تم نے ایسا کیوں کیا میرے ساتھ اسفند …؟ ‘‘    وہ گلو گیر آواز میں بولی تھی۔
’’میں نے کیا کیا ہے؟‘‘
’’انجان مت بنو! تم الفاظ لکھنا جانتے ہو‘ ان کا مطلب بھی سمجھتے ہو پھر ان کی طاقت کو کیوں نہیں سمجھ سکے۔ کیوں نہ جان سکے کہ تمہارے لکھے ہوئے لفظ صرف تمہارے ہیں وہ کسی اور کا آئینہ نہیں بن سکتے؟‘‘ وہ بڑے جذباتی انداز میں بول رہی تھی۔ اسفند کی سمجھ میں نہیں آیا کہ کیا جواب دیا۔ ’’تم نے کھیل کھیل میں کچھ خط لکھے اپنے لفظوں سے ایک رشتہ بنایا تمہارے لیے یہ محض ایک شغل تھا‘ تم نے یہ نہ سوچا کہ تمہارے اس شغل نے کسی کی زندگی میں کیا کردار ادا کیا ہے‘ کتنا برباد کیا ہے۔ تم نے مجھے ہی نہیں خود اپنے آپ کو بھی دھوکا دیا ہے۔‘‘
’’ہاں مشعل! تم ٹھیک کہتی ہو مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔‘‘ اس نے کراہ کر کہا تھا۔
’’مجھے معاف کردو میں نے تمہیں تھپڑ مارا۔ میں اپنے ہوش میں نہیں تھی۔ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا‘ مجھے سزا دو اسفند! تم بھی مجھے مارو۔‘‘ اس نے خود کو سنبھالا اور گہری سانس لے کر کہا۔
’’ہاں سزا تو تمہیں ملنی چاہیے یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔‘‘ وہ چپ رہی جیسے اس کی طرف سے سزا سنائے جانے کی منتظر ہو۔ اس نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔
’’سزا یہ ہے کہ تم میری محبت کا اقرار کرو ابھی اسی وقت۔‘‘
اس کے کومل جسم میں ایک پیاری سی لرزش نمودار ہوئی پھر وہ بولی۔
’’میں تم سے پیار کرتی ہوں۔‘‘ کائنات کی گردش جیسے تھم گئی تھی‘ تھوڑا سا توقف کرکے وہ پھر بولی۔ ’’اب سے نہیں بہت پہلے سے شاید تب سے جب تمہارا پہلا خط ملا تھا۔‘‘
وہ اپنے لیے اس کے بے پناہ جذبے کو محسوس کرتا رہا۔ اسے لگتا تھا کہ وہ اس کے لیے ہر حد تک جانے کے لیے تیار ہے‘ آنکھیں بند کرکے ہر طوفان سے ٹکرا سکتی ہے۔ مشعل نے عجیب دل گداز لہجے میں کہا تھا۔
’’اسفند ! ہم ملیں گے نا!‘‘
’’اگر جذبے سچے ہیں تو ضرور ملیں گے۔‘‘
’’کہیں کوئی دیوار تو ہمارے درمیان نہیں آجائے گی؟‘‘
’’ارادے مضبوط ہوں تو دیواریں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں۔‘‘وہ پورے یقین سے بولا تھا۔
…٭٭٭…
وہ واپس گھر پہنچا تو امی ابو کا رویہ بہت کھنچا کھنچا سا تھا‘خاص طور پر امی بہت دل گرفتہ نظر آرہی تھیں۔ معلوم ہوا کہ اس کی غیر موجودگی میں ساحر کا فون آیا تھا اور اس نے ساری تفصیل ان کے گوش گزار کردی تھی‘ کچھ اپنی طرف سے نمک مرچ لگا کر… ابو نے خاصی ڈانٹ ڈپٹ کی تھی اور پھر کمرے سے چلے گئے تھے‘ وہ سر جھکائے بیٹھا سب کچھ سنتا رہا تھا۔ امی کی کیفیت محسوس کرتے ہوئے اس نے فیصلہ کیا کہ ان سے کچھ نہیں چھپائے گا اپنے اور مشعل کے حوالے سے سب کچھ صاف صاف بتادے گا اور ان سے کہے گا کہ اب وہ اس کے بارے میں خود فیصلہ کریں اور پھر اس نے ایسا ہی کیا‘ اس محترم ہستی سے کچھ بھی نہ چھپایا‘ دل کی ہر واردات ان کے گوش گزار کردی۔ انہوں نے سب کچھ بڑی رقت آمیز شفقت سے سنا تھا اور آخر میں رونے لگی تھیں۔
’’اسفند! ہم نے کیا سوچا تھا تمہارے لیے اور تم کس طرف چل پڑے ہو‘ یہ کیا ہوا ہے تمہارے ساتھ؟‘‘
’’مجھے خود خبر نہیں ہوئی امی! لیکن میں آپ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرے دل میں کوئی کھوٹ نہیں تھا‘ پھر پتا نہیں کیسے آپ ہی وہ کچھ ہوتا چلا گیا جو مجھے مشعل کے قریب لے گیا۔‘‘
امی نے ایک گہری سانس لی‘ ان کی آنکھیں سوچ میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ انہوں نے بھیگے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’اوپر والے نے ہمیں سخت امتحان میں ڈال دیا ہے۔‘‘ وہ خاموش رہا تھا۔ وہ رندھی ہوئی آواز میں بولیں۔ ’’اب بتائو کرن اور اس کی ماں کو کیا منہ دکھائوں گی؟‘‘
اس نے گہری سانس لی۔ ’’امی! میں جانتا ہوں کہ آپ کرن کو اس گھر کی بہو بنانا چاہتی تھیں‘ میں بھی یہی چاہتا تھا لیکن ایک بات میں آپ سے سچ سچ بیان کردینا چاہتا ہوں کہ ہم دونوں کے بیچ کوئی گہرا تعلق کبھی پیدا نہ ہوسکا۔‘‘
’’تمہارے ابو سے بات کرکے دیکھتی ہوں وہ کیا کہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے اداس لہجے میں کہا تھا۔
ابو اس سے زیادہ بات نہیں کررہے تھے وہ جتنی بات کرتا بس اتنا جواب دیتے تھے اور وہ بھی خراب موڈ میں ان کی خفگی سمجھ میں آنے والی بات تھی۔
وہ تمام حالات کو بخوبی سمجھ رہاتھا اور پتا نہیں کیوں اسے لگتا تھا کہ اب وہ حالات کوبدل دے گا‘ یہ ایک انوکھا عزم تھا۔ ایک انجانی تحریک تھی وہ خود کوبالکل نیا محسوس کررہا تھا ‘ تازہ دم اور پُرجوش۔ یہ کیسی تونائی تھی‘ ہاں یہ محبت کی توانائی تھی۔ بے شک محبت ہی ایسا انوکھا جذبہ ہے اور پھر واقعی اس نے حالات بدل ڈالے۔ مشعل سے شادی کرکے اسے گھر لے آیا تھا۔ ابو کی ناراضگی بھی دیر تک قائم نہیں رہ سکی تھی۔ مشعل نے اس کے گھر میں آتے ہی سب کے دل جیت لیے تھے۔

Viewers: 5194
Share