Campus Ep:1 | Urdu Novel | امجد جاوید کے ناول ’’کیمپس‘‘ کی پہلی قسط

قسط نمبر: 1 راوی: ابان علی تحریر: امجد جاوید حاصل پور۔ پاکستان فون: 03476696304 نیو کیمپس کی حدود میں داخل ہوتے ہی مجھے شدت سے سنسنی خیزی کا احساس ہوا۔ […]

قسط نمبر: 1
راوی: ابان علی
تحریر: امجد جاوید
حاصل پور۔ پاکستان
فون: 03476696304
نیو کیمپس کی حدود میں داخل ہوتے ہی مجھے شدت سے سنسنی خیزی کا احساس ہوا۔ مجھے یوں لگا جیسے یہ سنسنی میرے بدن کے ریشوں تک میں اترتی چلی جارہی ہے۔ بظاہر میری نگاہ میں تارکول کی دورویہ سڑک تھی جو دور تک جاتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی، لیکن میرے ذہن میں وہ سارا منظر پھیلا ہوا تھا، جسے میں نہ جانے کتنی بار سوچ چکا تھا۔ سڑک کنارے سر سبزو شاداب درخت تھے، جن میں سے صبح کے سورج کی روشنی چھن چھن کر آرہی تھی۔ سبز درختوں میں سے زرد رنگ کی روشنی کسی آبشار کی مانند دکھائی دے رہی تھی۔ مختلف رنگوں کے پھولوں کے پودے بھی دورویہ راستے کے ساتھ ساتھ لگے ہوئے تھے۔ میرے ذہن میں پھیلا ہوا منظر، میرے اندر سنسنی بیدار کرنے لگا تو میرا دوران خون بڑھنے لگا۔ انہی لمحات میں مجھے احساس ہوا کہ میری کار کی رفتار معمول سے کچھ زیادہ ہو گئی ہے۔ میں نے کار کی رفتار دھیمی کرلی اور اپنے آپ کو سنبھانے لگا۔
میرے لیے اس کیمپس کا ماحول بالکل اجنبی تھا ۔ اونچی نیچی عمارتوں کے طویل سلسلے سے یوں لگ رہا تھا۔ جیسے صحرائی ٹیلوں کے ریگستان میں ایک چھوٹا سا شہر آباد کر دیا گیاہو۔ دورو نزدیک عمارتوں کو سڑکوں کے جال نے آپس میں ملا دیا ہوا تھا۔ انہی عمارتوں کے درمیان میں کہیں ایک وہ ڈیپارٹمنٹ تھا، جہاں میں نے کچھ وقت گزارنا تھا۔ وقت کا یہ دورانیہ کتنا ہو سکتا ہے، یہ میں نہیں جانتا تھا۔ یہ تو اس پر منحصر تھا، جس کے لیے میں یہاں تک آن پہنچا تھا۔ مجھے اچھی طرح احساس تھا کہ اس کیمپس کی فضا میرے لیے کوئی پھولوں کی سیج ثابت ہونے والی نہیں تھی۔ اصل میں سامنے دکھائی دینے والا ایک منظر ہر انسان کو مختلف اس لیے دکھائی دیتا ہے کہ وہ اس منظر کو اپنی سوچ اور زاویہ نگاہ سے دیکھتا ہے۔ کیمپس کے پہلے منظر ہی میں سے جو سنسنی خیزی ابھر کر آرہی تھی، دراصل وہ میرے اندر کی سوچیں ہی تھیں۔ میں جس مقصد کے لیے وہاں آیا تھا، اس کے لیے مجھے کس قدر قربانی دینا پڑتی، کامیاب ہو جاتا ہوں یا ناکام، جو کچھ بھی تھا، وہ وقت اور حالات کے دبیز پردوں میں چھپا ہوا تھا۔ میری سوچوں کو میرا مضبوط ارادہ حوصلہ دے رہا تھااور میں پورے اعتماد کے ساتھ کیمپس کی ان فضاؤں میں آگیا تھا، جو میرے لیے بالکل اجنبی تھیں۔
مجھے اپنا ڈیپارٹمنٹ تلاش کرتے ہوئے زیادہ وقت نہیں لگا۔ میں نے کار پارکنگ میں لگائی اورڈیپارٹمنٹ کی عمارت کی جانب بڑھ گیا۔ میں سیڑھیاں چڑھ کر راہداریوں سے ہوتا ہوا اس کلاس روم کے سامنے جا پہنچا، جس میں لمبے قد، پتلے بدن اور سانولی رنگت والے لیکچرار داخل ہو رہے تھے۔ میں تصدیق کرنے کے لیے کہ یہی میرا کلاس روم ہے ، نہایت ادب سے پوچھا۔
’’سر۔۔۔! میں سال اول کا طالب علم ہوں اور پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ یہی میرا کلاس روم ہے۔۔۔‘‘
’’چلو، چلو، بیٹھو،یہی ہے‘‘۔ انہوں نے عینک کے اوپر سے مجھے دیکھتے ہوئے جلدی سے کہا اور میرے ساتھ ہی اندر داخل ہو گئے۔ کلاس میں تقریباً سارے لوگ بیٹھ چکے تھے۔ میں نے سب پراچٹتی ہوئی نگاہ ڈالی۔لڑکے کم تھے اور پچھلی نشستوں پر بیٹھے ہوئے تھے جبکہ لڑکیوں کی تعداد زیادہ تھی۔ ان لڑکیوں کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔ پتہ نہیں وہ ان میں ہو گی یا نہیں ہو گی؟ میں پورے یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ اگر وہ ان میں ہے تو کون ہے؟ میں یہی سوچتا ہوا پچھلی رومیں ایک خالی نشست پر جا بیٹھا۔
’’نوجوان۔۔۔! کلاس کو شروع ہوئے دو ہفتے ہو گئے ہیں اور تم ہو کہ اب آرہے ہو، ایسا کیوں؟‘‘
’’سر۔۔۔! دراصل میں لاہور میں تھا ، وہاں سے وائنڈاپ کرتے کرتے کچھ دن لگ گئے۔ اس لیے دیر ہو گئی‘‘۔ میں نے کیمپس میں آ کر پہلا جھوٹ بڑی آسانی سے بول دیا۔
’’اوہ۔۔۔! کیا نام ہے تمہارا‘‘۔ انہوں نے پوچھااور رجسٹر کھولنے لگے۔
’’میرا نام ابان علی ہے‘‘۔ بڑے اعتماد کے ساتھ میں نے دوسرا جھوٹ بھی بول دیا۔
’’کہاں سے تعلق ہے؟‘‘ انہوں نے پھر عام سے لہجے میں پوچھا تو میں نے اسی شہر کے مضافات میں ایک گاؤں کا نام لے لیا۔ جو میرا تیسرا جھوٹ تھا۔ میرے جواب پر انہوں میری جانب غور سے دیکھا پھر مسکراتے ہوئے بولے۔ ’’لگتا نہیں ہے کہ تم اسی شہر کے مضافات سے تعلق رکھتے ہو؟‘‘
یہ بڑا نازک سوال تھا ور اس کا جواب مجھے بہت سوچ سمجھ کر دینا تھا مگر ایک دھیمی سی مسکراہٹ دے کر میں خاموش رہا تو کلاس میں چہ میگوئیوں کی ہلکی سی بھنبھناہٹ شروع ہو گئی۔ تبھی لیکچرار کلاس کی جانب متوجہ ہو گئے اور میں نے اگلی نشستوں پر بیٹھی لڑکیوں پہ ایک نگاہ ڈالی اور خود کو پُرسکون کرتے ہوئے لیکچرار کی طرف متوجہ ہو گیا۔
l l l
ابان علی میرا فرضی نام تھا ۔ حقیقت میں ابان علی یہیں اس شہر کے مضافات میں رہتا تھا جو میرے پاپا کے بہت ہی قریبی دوست کا بیٹا تھا۔ میں ایک طویل عرصے کے بعد پاکستان آیا تھا۔ اگرچہ میں نے ہوش پاکستان ہی میں سنبھالا تھا لیکن پھر بعد میں میرا لڑکپن اور نوجوانی کا کچھ حصہ برطانیہ کے شہر رچڈل میں گزرا تھا۔ ہم سے بہت پہلے میرے پاپا وہاں چلے گئے تھے۔ پھر بہت عرصے بعد انہوں نے ہمیں بھی وہیں بلوا لیا۔ وہیں میری بہن الماس پیدا ہوئی۔ یوں پاپا، ماما، الماس اور میں رچڈل میں بہت اچھے اور خوشگوار دن گزار رہے تھے۔ پاپا نے وہاں آ کر بہت محنت کی تھی۔ شروع دنوں میں مزدوری کرتے رہے، پھر چھوٹا سا کاروبار شروع کیا، جو بڑھتے بڑھتے کافی حد تک بڑھ گیا تھا۔ انہی دنوں میں پڑھائی تقریباً مکمل کر کے پاپا کے ساتھ بزنس میں ہاتھ بٹانے کا سوچ رہا تھا کہ ایک دن سڑک کے ایک حادثے میں پاپا شدید زخمی ہو گئے۔ کئی دن ہسپتال میں رہنے کے بعد جب وہ گھر واپس آئے تو میرا ان کے ساتھ بہت زیادہ وقت گزرنے لگا۔ میرے پاپا نے میری پرورش کافی حد تک مشرقی انداز میں کی تھی۔ وہ ہمیں ہر دم یہ احساس دلاتے رہتے کہ ہم مسلمان ہیں اور پاکستانی ہیں۔ بچپن کی دی ہو ئی سوچ پر میرے خیالات پرورش پاتے رہے تھے۔ ایک مشرقی بیٹا ہونے کے ناطے، میں پاپا کی خدمت کرنے کو سعادت خیال کرتا تھا۔ اس لیے میں ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کی کوشش کرتا تھا۔ پاپا کے گھر پر رہنے کے باوجود بزنس ٹھیک چل رہا تھا۔ ان کا منیجر سب کچھ سنبھالے ہوئے تھا۔ تاہم مجھے ہر دم خیال رہتا تھا کہ اب مجھے عملی زندگی میں آجانا چاہئے۔ مجھے بس انتظار اس بات کا تھا کہ پاپا مجھے خود اپنے بزنس میں آنے کی دعوت دیں کہ انہیں حادثہ پیش آگیا اور ہم دونوں زیادہ وقت ایک دوسرے کے ساتھ گزارنے لگے۔
ایسے ہی ایک دن میں اور پاپا،گھر سے باہر لان میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آسمان پوری طرح شفاف نہیں تھا، سفید بادل بہت زیادہ تھے۔ اس باعث دھوپ نہیں تھی مگر پھر بھی اچھی خاصی روشنی تھی۔ ہوا کسی حد تک تیز تھی۔ میں ایسے موسم میں بڑی خوشگواریت محسوس کیا کرتا تھا۔ ہم دونوں یونہی بزنس کے بارے میں باتیں کرتے چلے جارہے تھے۔ایسے میں ماما نے انہیں فون لا کر دیا۔ پاپا نے سوالیہ نگاہوں سے انہیں پوچھا کہ کس کا فون ہے تو وہ فون تھماتے ہوئے بولیں۔
’’زریاب بھائی کا فون ہے ، آپ بات کرلیں؟‘‘ یہ کہہ کر وہ واپس پلٹ گئیں تو میں بھی اٹھ آیا۔ میں نے بس اتنا ہی سنا تھا۔
’’کیسے ہو زریاب؟‘‘
نہ جانے ان کا فون کب بند ہوا۔ میں ڈرائنگ روم میں آ کر ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھ گیا تھا۔ میں ایک دلچسپ پروگرام میں کھویا ہوا تھا کہ پاپا میرے پاس آ کر بیٹھ گئے۔ تب میں نے ٹیلی ویژن بند کر دیا اور یونہی بات کرنے کی خاطر ان سے کہا۔
’’پاپا۔۔۔!زریاب انکل آپ کے ایک ہی پاکستانی دوست ہیں۔ وہ آپ کو اب تک یاد رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے علاوہ آپ کو پاکستان سے کبھی کسی کا کوئی فون نہیں آیا۔ کیا ہمارا وہاں پر کوئی نہیں ہے؟‘‘
مجھے نہیں معلوم تھا کہ میرے اس سوال کا ان پر اتناشدید ردعمل ہو گا۔ انہوں نے بے چارگی سے میری جانب دیکھا۔ ان کا چہرہ تن گیا اور وہ خاموشی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب گئے۔ وہ کتنی ہی دیر تک میرا چہرہ دیکھتے رہے۔ مجھے لگا کہ وہ چہرہ تو میرا دیکھ رہے ہیں، لیکن ذہنی طور پر وہ کہیں اور کھوئے ہوئے ہیں۔ بلاشبہ ماضی کی کسی یادمیں اتنی شدت تھی کہ اس نے انہیں خود سے غافل کر دیا تھا۔
’’ایسے کیا دیکھ رہے ہیں پاپا؟‘‘ میں نے ان کی حالت دیکھتے ہوئے بے چینی سے پوچھا۔
’’کچھ نہیں بیٹا‘‘۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے ایک طویل سرد آہ لی۔ میں نے واضح طور پر ان کے چہرے پہ آئی ہوئی بے بسی کو دیکھ لیا تھا۔ پھر وہ کچھ کہے بغیر وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔ میرے لیے ان کاردِعمل کافی حد تک حیرت انگیز تھا۔ میری نگاہوں کے سامنے سے پاپا کا چہرہ ہی نہیں ہٹ رہا تھا۔ کس قدربے بسی اور بے چارگی تھی ان کے چہرے پر، ایسا کیوں ہے؟ انہوں نے میرے سوال کا جواب کیوں نہیں دیا تھا؟ اور ان کی ایسی حالت کیوں ہو گئی؟ ان سوالوں نے میرے اندر تجسس نہ صرف بیدار کر دیا بلکہ امید کی خواہش بھی پیدا ہو گئی۔ پاکستان سے شدید محبت رکھنے کے باوجود نہ وہ کبھی پاکستان گئے تھے اور زریاب انکل کے سوا کسی سے کوئی رابطہ بھی نہیں تھا۔ ایسا کیوں تھا؟ فطری سی بات ہے کہ ان سوالوں کا جواب پاپا ہی کے پاس تھا اور وہی اس کا جواب دے سکتے تھے۔ میں چاہے ان سے جتنا بھی بے تکلف تھا مگر ان سے ایسے سوال کرنے کا حق نہیں رکھتا تھا ، جن سے ان کے چہرے پر بے بسی یا بے چارگی درآئے۔ میں اپنے آپ میں بہت شرمندہ تھا مگر تجسس مجھے بے چین کئے دے رہا تھا۔
اسی رات پاپا ڈنر پر بہت خاموش خاموش سے تھے۔ مجھے بڑا افسوس ہو رہا تھا کہ میں نے ان سے ایسا سوال کیا ہی کیوں۔ میں نے تھوڑا بہت کھایا اور وہاں سے اٹھنے لگا تو پاپا نے میری جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
’’تم نے کہیں جانا تو نہیں، میرا مطلب ہے گھر پر ہی ہونا؟‘‘
’’جی، میں گھر پر ہوں‘‘۔ میں نے کہا تو وہ ماما کی طرف دیکھ کر بولے۔
’’زینت۔۔۔! ہماری چائے اس کے کمرے میں لے آنا، ہمیں کچھ باتیں کرنی ہیں‘‘۔ یہ کہہ کر وہ کھانے کی طرف متوجہ ہو گئے۔
ان کے یوں کہنے پر ماما نے ذرا سی حیرت کے ساتھ انہیں دیکھا اور پھر کھانے میں مشغول رہیں۔ میں اپنے کمرے میں ان کا انتظار کرنے لگا۔ کافی دیر بعد وہ میرے کمرے میں آئے تو ماما بھی ان کے ساتھ تھیں۔ انہوں نے چائے کے دو مگ ہمارے پاس رکھے اور واپس چلی گئیں۔ وہ میرے پاس بیڈ پر ہی بیٹھ گئے تھے۔ انہوں نے چائے کا ہلکا سا سپ لیا اور گہرے لہجے میں بولے۔
’’بیٹے۔۔۔! آج وہ وقت آگیا ہے، جس کا مجھے برسوں سے انتظار تھا۔ زریاب کا فون آنے کے بعد مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں تم سے کیسے بات کر پاؤں گا۔ تم نے سوال کر کے میری مشکل آسان کردی۔ میں اب سارا کچھ تمہیں بتا دینا چاہتا ہوں۔ جو بات رہ جائے گی، وہ میں تمہیں بعد میں بتا دوں گا‘‘۔
’’ایسی کیا باتیں ہیں پاپا؟‘‘ میں نے گہری دلچسپی اور تشویش سے پوچھا۔
’’بیٹا۔۔۔! وہ باتیں میرے ماضی سے متعلق ہیں؟ میرا وہ ماضی ، جو پنجاب کی سر زمین سے جڑا ہوا ہے۔ میں نہ تو ان یادوں سے خود کو الگ کر پایا ہوں اور نہ ہی میں اپنا ماضی بھول سکا ہوں۔ میں نے چاہا تھا کہ سب کچھ بھلا دوں اور اپنے ماضی سے ہر طرح کا ناطہ توڑ لوں، مگر میں ایسا نہیں کرپایا میرے بیٹے۔ آج میں تمہیں اس لیے بتا دینا چاہتا ہوں کہ پھر تمہیں کبھی کسی سوال کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہو‘‘۔ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئے۔ کچھ دیر تک چائے کے ہلکے ہلکے سپ لیتے رہے۔ اس دوران میں خاموش رہا اور ان کی بدلتی ہوئی کیفیات کو بڑے غور سے دیکھتا رہا۔
’’میں جنوبی پنجاب کی ایک دور افتادہ بستی میں رہتا تھا۔ بستی میں اگرچہ بہت سارے لڑکے تھے، مگر ان میں ہم تین لڑکے ہی ایسے تھے، جو پڑھ رہے تھے۔ زریاب، اسلم اور میں ۔ ہم روزانہ سائیکلوں پر سوار ہو کر نزدیکی گاؤں میں موجود ایک سکول میں پڑھنے جاتے۔ چاہے کھیل کا میدان تھا یا پڑھائی کا،ہم سب لڑکوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی تگ و دو لگی رہتی تھی۔ میرا بڑا مختصر سا خاندان تھا، میرے والد، والدہ اور میں۔ میں اکلوتا تھا، اس لیے میرے والد غریب اور چھوٹے کسان ہونے کے باوجود پوری توجہ سے مجھے پڑھا رہے تھے۔ وہ میرے متعلق بڑے بڑے خواب دیکھا کرتے تھے۔ ہماری بستی پر وہی روایتی جاگیردارانہ فضا طاری تھی ۔ مگر ہمیں کسی نے کچھ نہیں کہا تھا۔ زریاب ایک کافی خوشحال کسان کا بیٹا تھا اور اسلم ہماری ہی بستی کے چھوٹے سے سکول میں تعینات ٹیچر کا بیٹا تھا۔ ہم اپنی مستی میں اپنی دنیا میں گم تھے۔ یہاں تک کہ ہم نے دسویں پاس کرلی اور شہر کالج میں پڑھنے آگئے‘‘۔ یہاں تک کہہ کر وہ سانس لینے کے لئے رکے اور مگ میں بچی ساری ٹھنڈی چائے ایک ہی گھونٹ میں پی گئے۔ پھر چند لمحوں بعدبولے۔
’’کالج پڑھنے کے لیے ہمیں شہر جانا پڑا۔ میں ، زریاب اور اسلم شہر میں ایک ہی جگہ رہتے تھے۔ ہم میں بڑی گہری دوستی ہو گئی۔ ہر ہفتے بعد ہم گاؤں جاتے، اگر کچھ زیادہ چھٹیاں ہو جاتیں تو وہ وقت بھی ہم گاؤں ہی میں گزارتے تھے۔ ہمارا وہ وقت بہت اچھاہوتا تھا۔ بے فکری کا دور ہنسی خوشی گزر رہا تھا۔ خیر ،قصہ مختصر، اس کی تفصیل پھر کسی وقت سہی، لیکن جو بات میں تمہیں بتانے جارہا ہوں وہ یہ ہے کہ اسلم نے اپنے دل کی بات ہمیں نہیں بتائی تھی، جس سے ہم پر ایسا عتاب آیا کہ سب کچھ ختم ہو کر رہ گیا‘‘۔
’’کیسا عتاب پاپا‘‘۔ میں نے تشویش سے پوچھا۔
’’یہ ایسا عتاب تھا، جس سے ہماری زندگی تک بدل گئی اور اس کے اثرات ہم پر آج تک ہیں‘‘۔
’’کیا ہوا تھا؟‘‘ میں نے دلچسپی سے پوچھا۔
’’ہماری بستی کے پاس ہی ایک بڑی حویلی تھی، جس کے مالک سردار فخرالدین تھے۔ بہت بڑا زمیندار تھا اس علاقے کا۔ بہت اچھا آدمی تھا اور خدا ترسی تو اس کی بہت مشہور تھی۔ اس کی وجہ سے ہی اس علاقے میں امن اور سکون تھا۔ اس کی اولاد میں دو لڑکے اور ایک لڑکی تھی۔ اس کے لڑکے بہت اچھے سکولوں میں پڑھ رہے تھے اور اس کی بیٹی وہیں تھوڑا بہت پڑھی تھی، اس کا دماغ پڑھائی میں اتنا نہیں چلتا تھا۔ نہ جانے کب اور کس وقت اسلم کی اس لڑکی کے ساتھ تعلق کی ابتدا ہو گئی تھی۔ بعد میں پتہ چلا تھاکہ وہ اسے پڑھانے جاتا تھا۔ کچھ دن گیا تھا اور اس کا ذکر اسلم نے ہم سے نہیں کیا تھا۔ ہمیں پتہ اس وقت چلا جب بات بہت آگے بڑھ گئی تھی‘‘۔
’’بات آگے بڑھ گئی تھی، کیسے؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔
’’ان دونوں کے درمیان تعلق اس حد تک آگے بڑھ گیا کہ انہوں نے شادی کا فیصلہ کر لیا۔ اس میں اسلم کی اتنی دلچسپی نہیں تھی، جتنی اس لڑکی کی تھی۔ اس نے اسلم کو مجبور کر دیا کہ وہ اسے یہاں سے لے کر کہیں دور چلا جائے۔ اسلم خوف زدہ ہو گیا۔ وہ جان چھڑوانا چاہتا تھا۔ مگر اس لڑکی نے جان نہیں چھوڑی، ان کے درمیان معاملہ ہی اس حد تک چلا گیا تھا کہ لڑکی ماں بننے والی ہو گئی‘‘۔
’’اوہ۔۔۔!‘‘ میں نے بے ساختہ کہا۔
’’خیر۔۔۔! ان دنوں ہم بستی گئے ہوئے تھے۔ شام ڈھلے اسلم نے مجھے اور زریاب کو اس معاملے کے بارے میں بتایا تو ہمارے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ۔ اگرچہ سردار فخرالدین اچھا آدمی تھا مگر وہ اپنی غیرت کے سلسلے میں اسلم کو کبھی معاف نہیں کرنے والا تھا۔ اور جہاں تک لڑکی کو وہاں سے بھگاکر لے جانے کا تعلق تھا، اسلم تو ایسا کر ہی نہیں سکتا تھا۔ اس کی اتنی اوقات ہی نہیں تھی۔ ہماری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ ہم کیا کریں۔ ہم اسلم کی مدد کس طرح کریں، یہ بھی ہمارے دماغ میں نہیں آرہا تھا۔ اسلم حد درجہ مایوس ہو گیا تو زریاب نے اپنے طور پر صلاح دی کہ لڑکی کو سمجھا بجھا لیتے ہیں کہ وہ گھر سے بھاگنے کا خیال ترک کر دے اور اس بچے سے کسی طرح جان چھڑالے ، وہ پہلے تو راضی نہ ہوا پھر ایک دم سے راضی ہو گیا‘‘۔
’’اس میں کیا بات تھی۔۔۔‘‘ میں نے تیزی سے پوچھا۔
’’اس میں اسلم کی خباثت تھی، مجھے اور زریاب کو کھیتوں کے درمیان ایک جگہ وقت دے دیا اور کہا کہ وہ لڑکی کے ساتھ وہاں آجائے گا، ہم وہاں پہنچ گئے۔ کچھ وقت بعد لڑکی بھی وہیں آگئی۔ وہ ہمیں دیکھ کر گھبرا گئی۔ اس نے اپنے ساتھ سامان بھی باندھ ہوا تھا۔ تب ہمیں احساس ہوا کہ ہم تو اسے سمجھانے کے لیے وہاں گئے تھے اور وہ گھر سے نکل آئی تھی‘‘۔
’’اس میں اسلم کی خباثت کیاتھی؟‘‘ میں نے الجھتے ہوئے پوچھا۔
’’یہ ہمیں بہت بعد میں پتہ چلا تھا، اس وقت تو ہم خود پریشان تھے کہ یہ کیا ہو گیا ہے، وہ لڑکی بھی پریشان تھی۔ زریاب نے پریشانی میں وہاں سے نکل کر اسلم کو دیکھنے کی کوشش کی وہ آ بھی رہا ہے یا نہیں، دفعتاً وہ بھاگتا ہوا میرے پاس آیا اور مجھے وہاں سے بھاگنے کے لیے کہا۔ میں کچھ بھی نہ سمجھا اور وہاں سے بھاگ پڑا۔ تب تک بہت سارے لوگ ہمارے قریب آچکے تھے ۔ بھاگتے ہوئے اچانک مجھے ایسا لگا کہ فائر ہوا ہے اور میری پنڈلی میں انگارے بھر گئے ہیں۔ اس وقت میں پوری طرح سمجھ گیا تھا کہ لڑکی کے گھر والوں کو پتہ چل گیا ہے‘‘۔
’’کیسے پتہ چلا انہیں؟‘‘ میں نے تیزی سے پوچھا۔
’’یہ بات بہت بعد میں پتہ چلی تھی، جب سب کچھ ختم ہو گیا تھا۔ اسلم نے پوری طرح اپنی جان چھڑانے کے لیے سارا الزام مجھ پر دھر دیا تھا۔ ہمیں وہاں پہنچا کر خود اس نے سردار فخرالدین اور اس کے بیٹوں کو بتا دیا کہ ان کی بیٹی میرے ساتھ بھاگ جانے والی ہے اور اس وقت کھیتوں میں ہے۔ وہ لوگ پہنچ گئے۔ انہوں وہی منظر دیکھ لیا جو اسلم انہیں دکھانا چاہتا تھا۔ وہ جو خود چور تھا، سادھ بن گیا اور ان کی نظروں میں ان کا بہی خواہ ثابت ہو گیا۔ مجرم بنا تو میں، یہاں تک کہ میری پنڈلی میں گولی لگ گئی‘‘۔
’’نہیں پاپا، وہاں ان کی بیٹی موجود تھی، وہ انہیں نہیں بتا سکتی تھی کہ آپ مجرم نہیں ہیں، وہ تو اسلم ہے، جس نے۔۔۔‘‘ میں نے دبے دبے غصے میں کہا۔
’’ایک فائر تو مجھے لگانا،لیکن دوسرا فائر جو سردار فخرالدین کے بڑے بیٹے نے کیا تھا، ان کی بیٹی کو لگا۔ انہوں نے اس کو وہیں مار دیا۔ ہو سکتا ہے، انہیں مزید گولیاں بھی ماری ہوں، مگر میں وہاں ٹھہرا نہیں تھا، میں بھاگتا رہا اورمیرے ساتھ زریاب بھی بھاگتا رہا۔ انہوں نے کچھ بندے ہمارے پیچھے لگائے، مگر ہم ان کے ہاتھ نہیں آئے تھے۔ یہ میری خوشی قسمتی تھی یا بدقسمتی، ہمیں سڑک پر جاتا ہواٹرک مل گیا۔ ہمارے اشارہ کرنے پرڈرائیور نے ٹرک روک دیا۔ ہم اس میں سوار ہو گئے اور شہر کی جانب چل دیئے، لیکن مجھے نہیں پتہ تھا کہ پیچھے میری ساری دنیا لٹ جائے گی‘‘۔ آخری کہتے کیسے ہوئے پاپا کا لہجہ بھیگ گیا اور ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ یہ دیکھ کر میں تڑپ گیا اور جلدی سے پوچھا۔
’’کیا ہو گیا تھا؟‘‘
’’میں ان کے ہاتھ نہیں لگا تھا۔ شہر میں ہمارے ایک کلاس فیلو کا والدہ ڈاکٹر تھا، اسے اعتماد میں لیا، انہوں نے زخم صاف کر کے پٹی کر دی میری میڈیکل ٹریٹ منٹ ہو گئی اور میں سکون آور انجکشن کے زیر اثر سو گیا، لیکن اس رات سردار فخرالدین کے بیٹوں نے میرے بابا اور میری اماں دونوں کو قتل کر دیا اور ہمارے گھر کو آگ لگا دی۔۔۔ کچھ۔۔۔ بھی نہیں بچا تھا‘‘۔پاپا جو پہلے ہی رو دینے والے تھے ایک دم سے دھاڑ مار کررو دیئے۔ میں نے پہلی بار انہیں اس قدر غم زدہ دیکھا تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں انہیں کیسے ڈھارس دوں۔ وہ ہچکیاں لے کر رونے لگ گئے تھے۔ میں حیرت سے بت بنا ان کی طرف دیکھتا رہا۔ کچھ دیر بعد انہیں ذرا سا حوصلہ ہوا تو خود پر قابو پاتے ہوئے بولے۔ ’’اسلم نے بہت سوچ سمجھ کر منصوبہ بنایا تھا، وہ نہ صرف خود بچ گیا بلکہ اس نے اپنے والدین کو بھی بچا لیا۔ اس کے باپ کی نوکری بچ گئی۔ وہ اسی طرح عزت واحترام کے ساتھ وہاں نوکری کرتا رہا۔ سردارکی بیٹی جو ماں بننے والی تھی اور جس کا مجرم اسلم تھا، اس کا راز اس کی موت کے ساتھ ہی دفن ہو گیا۔ وہ مخلص ثابت ہو گیا اور میں مجرم بن کر چھپا رہا۔ کوئی شنوائی نہ ہوئی، کوئی مدعی نہیں تھا، ایک ہی رات میں تین قتل ہو گئے اور کسی نے پوچھا تک نہیں‘‘۔
’’زریاب انکل کے گھر والوں نے کچھ نہیں کیا تھا؟‘‘ میں نے طوفان تھم جانے پر آہستگی سے پوچھا۔
’’انہیں تو پہلے سمجھ ہی نہیں آئی کہ حقیقت کیا ہے، وہ بے چارے توخود زریاب کے غائب ہو جانے پر پریشان تھے۔ ایک طرف انہیں شرمندگی کھائے جارہی تھی تو دوسرا زریاب کی گمشدگی انہیں پاگل کرنے لگی۔ زریاب فقط میرے لیے شہر میں میرے ساتھ رہ رہا تھا۔ ہم دونوں کو خبر نہیں تھی کہ پیچھے گاؤں میں کیا ہو گیا ہے۔ یہ تو چند دن بعد وہ گاؤں گیا تو پتہ چلا کہ سب کچھ میرا ہی خاکستر ہو گیا ہے۔ اس نے بہت شور مچایا، لیکن اس کی آوازیہ کہہ کر دبا دی گئی کہ وہ صرف مجھے بچانے کے لیے یہ سب ڈرامہ رچارہا ہے۔ وہ بھی اس کا ساتھی ہے۔ سردار فخرالدین نے ان کے خاندان پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا کہ زریاب کے ذریعے مجھے پکڑا جائے۔ وہ مجھے مار دینا چاہتے تھے۔ حقیقت پر پردہ پڑ گیا تھا۔ وہ گاؤں سے واپس میرے پاس شہر آیا تو اس نے ساری صورتِ حال بتائی۔ میں جوشِ انتقام میں پاگل ہو گیا۔ میں شاید انہیں مارنے کے لیے دوڑ پڑتا، جو سراسر خود کشی تھی اور آج میں تمہیں سب کچھ بتانے کے لیے یہاں موجونہ ہوتا۔ تم نہ ہوتے۔۔۔ مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ زریاب نے اور ڈاکٹر انکل نے مجھے سمجھایا کہ جو ہونا ہے، وہ تو ہو گیا، اب کیا کرو گے جا کر، خود کشی مت کرو۔ اپنے آپ کو سنبھالو، میں دنیا کا بدقسمت شخص ہوں جو اپنے والدین کے جنازوں کو کاندھا بھی نہ دے سکا تھا، جو بے گناہ مارے گئے۔ میں اکیلا ان کا ماتم کرتا رہا اور ان کی قبریں بھی نہ دیکھ سکا‘‘۔
’’اوہ۔۔۔! یہ تو بہت ظلم ہوا آپ کے ساتھ‘‘۔ میں نے انتہائی دکھ سے کہا۔
’’ہاں۔۔۔! ظلم ہوا ،لیکن آج تک میں اس درد کی کسک محسوس کر رہا ہوں۔ میں کچھ نہیں کر سکا۔ میں صبر کرنا چاہتا ہوں، مگر صبر تو وہاں ہوتا ہے میرے بچے کہ جہاں بدلہ لینے کی قدرت ہو اور وہ خود کو بدلہ لینے سے روک لے۔ طاقت ہونے کے باوجود دشمن کو کچھ نہ کہا جائے، مگر میں تو مجبور محض تھا اور آج تک ہوں۔ کچھ نہیں کر سکا تھا۔ تب بھی نہیں، جب مجھے وہ شہر چھوڑنا پڑا۔ ڈاکٹر انکل کے جاننے والے کراچی میں تھے۔ انہوں نے مجھے کراچی بھیج دیا۔ میں وہاں شپ یارڈمیں نوکری کرنے لگا۔ زریاب کے خط مسلسل آتے تھے۔ صرف اسی سے رابطہ تھا، اس کی اسلم سے دوستی دشمنی میں بدل گئی تھی، لیکن اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکا۔ وہ سرداروں کا منظورِنظربن گیا تھا۔ اس نے ان کی حمایت لے لی تھی۔ وہ لوگ مجھے مسلسل تلاش کر رہے تھے۔ یہ زریاب ہی کا مشورہ تھا کہ میں کسی اور ملک میں نکل جاؤں۔ ادھر پاکستان میں رہوں ہی نا، پھر جب کبھی وقت آیا تو دیکھ لیں گے۔ میں وقت کی تلاش میں رہا اور پھر ایک دن مجھے لندن کا چانس مل گیااور میں تب سے یہاں ہوں، پلٹ کر واپس نہیں جا سکا۔ ایک بدقسمت بیٹا، جو اپنے والدین کی قبریں بھی نہیں جانتا‘‘۔ یہ کہتے ہوئے وہ پھر بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو دیئے۔ مجھ سے برداشت نہ ہو سکا۔ میں نے پاپا کو گلے لگا لیا۔ میرا دل بھی بھر آیا تھا۔ کچھ دیر بعد انہوں نے مجھے خود سے الگ کیا، تو میں نے دل کی گہرائیوں سے کہا۔
’’پاپا۔۔۔! میں آپ کا دُکھ سمجھتا ہوں، پلیز مجھے بتائیں، میں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں‘‘۔
’’تم بہت کچھ کر سکتے ہو بیٹا! میں اپنے والدین کی قبروں کو دیکھ سکتا ہوں۔ ان پر جا کر فاتحہ پڑھ سکتا ہوں۔ اسلم سے اپنا انتقام لے سکتا ہوں۔ بہت کچھ کر سکتے ہو تم‘‘۔ انہوں نے کھوئے ہوئے انداز میں کہا
’’مجھے بتائیں۔ میں سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ’’میں نے پورے عزم اور انتہائی مضبوط ارادے کے ساتھ کہا تو وہ میری طرف چند لمحے دیکھتے رہے، پھر ان کے چہرے پر دھیمی سی مسکراہٹ آگئی۔
’’میں جانتا تھا بیٹے، تمہارا جواب یہی ہو گا۔ میں جب تمہیں اور تمہاری ماں کو اکیلا کراچی میں چھوڑ کر یہاں آیا تھا، تب تم بہت چھوٹے سے تھے۔ سکول جاتے تھے تم ۔نہ جانے کیوں میرے دل میں تھا کہ تم ہی میرا بدلہ لو گے۔ اگرچہ یہ بات اچھی نہیں ہے،انتقام کو وراثت میں دیناجاہلوں کا کام ہے، لیکن سچ کہوں، تب سے میرے دل میں یہی تھا۔ آج تم نے کہا تو مجھے لگا، میں نے اپنا انتقام لے لیا، میں تمہیں اس آگ میں جھونکنا نہیں چاہتا۔ تمہاری ماں نے بہت مصیبتیں سہی ہیں۔ تقریباً پانچ سال بعد وہ مجھ سے جدا ہو کر اپنے والدین کے ساتھ رہی، پھر یہاں آ کر بھی میرا ہاتھ بٹاتی رہی۔ تم اکیلے وہاں کیا کرو گے۔ جبکہ وہ اسلم، ایک طاقتور سیاستدان بن چکا ہے۔ تم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہومیرے بچے۔میں نہیں چاہتا کہ تمہیں کچھ نقصان ہو۔ تمہاری اپنی زندگی ہے، اسے بناؤ سنوارو، اپنی ماں کو خوش رکھنے کی کوشش کرو‘‘۔پاپا نے بے چارگی سے مسکراتے ہوئے کہا تو میرا دل کٹ گیا۔ تب میں نے بھی مسکراتے ہوئے کہا۔
’’پاپا۔۔۔! آپ فی الحال آرام کریں۔ میرا خیال ہے کہ آپ کے دل کی بھڑاس نکل گئی ہے۔ آپ سو جائیں ہم اس موضوع پر دوبارہ بات کریں گے۔ آپ پلیز آرام کریں۔ آئیں، میں آپ کو آپ کے کمرے تک چھو ڑ آؤں‘‘۔ میں نے اٹھتے ہوئے کہا تو وہ خاموشی سے اٹھ گئے۔ مجھے لگا کہ وہ پہلے سے زیادہ سکون محسوس کر رہے ہیں۔ میں انہیں ، ان کے کمرے تک چھوڑ کر واپس آگیا۔ میں نے واپس اپنے بیڈ پر آ کر وقت دیکھا۔ رات کے دس بج رہے تھے۔ میں زریاب انکل کو فون کرنا چاہا رہا تھا، لیکن اس وقت پاکستان میں تقریباً رات کے تین بجنے والے تھے ۔ میں نے ان سے صبح بات کرنے کا فیصلہ کیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔
l l l
’’آپ کہاں گم ہیں، کلاس تو ختم ہو گئی ہے، سب جا چکے ہیں‘‘۔ میں نے چونک کر دیکھا، کلاس میں کوئی نہیں تھا اور مجھ سے یہ کہنے والا میرے سامنے کھڑا مجھے دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے باقاعدہ میرا کاندھا ہلا کر مجھ سے یہ بات کہی تھی۔ میں نے اسے غور سے دیکھا، گورے چٹے رنگ کا لمبا سا گھنگھریالے بالوں والا لڑکا بڑی دلچسپی سے میری جانب دیکھ رہا تھا۔’’ مجھے اسد کہتے ہیں‘‘۔ اس نے اپنا نام بتایا اور مصافحے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔
’’ابان علی۔۔۔! تم مجھے ابان کہہ سکتے ہو‘‘۔ میں نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام لیا اور پھر اٹھ کر اس کے ساتھ کلاس روم سے باہر چل دیا۔
’’مجھے تمہارا بے تکلفانہ انداز اچھا لگا، لیکن تم اس قدر کھو کہاں گئے کہ کلاس ختم ہو جانے کا احساس تک نہیں ہوا‘‘۔ اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’بس یار۔۔۔! یہ سوچنے لگا تھاکہ میں یہاں تک آکیسے گیا‘‘۔ میں نے عام سے لہجے میں کہا۔
’’ارے چھوڑیار۔۔۔! ماضی میں کیا رکھا ہے، وہ گزر گیا۔ جیسا بھی تھا، اچھا برا، وہ تو اب ہاتھ آنے والا نہیں، اب تو یہ سوچو میری جان کہ یہاں دو سال کیسے گزرنے ہیں‘‘۔ اس نے شوخی سے کہا اور ہلکا سا قہقہہ لگا دیا۔ تو میں نے صاف گوئی سے کہا۔
’’مجھے تمہاری زندہ دلی اچھی لگی‘‘۔
’’آؤ، پھر اس خوشی میں کینٹین پر چلتے ہیں، وہاں تھوڑا بہت تعارف ہو جائے گا، اور جن کلاس فیلوز سے میرا تعارف ہو چکا ہے، ان سے بھی ملوا دیتا ہوں‘‘۔ یہ کہتے ہوئے وہ کلاس روم سے باہر نکلا۔راہداری میں کوئی بھی نہیں تھا۔ ہم دونوں چلتے ہوئے سیڑھیوں تک آئے اور پھر ڈیپارٹمنٹ سے باہر آگئے۔
بعض اوقات ماحول بھی موڈ بنا دیا کرتا ہے۔ اب اسدکو کیا معلوم تھا کہ میں کیا سوچ رہا ہوں اور میرے ماضی میں کیا تھا۔ شاید اس نے اپنے ماضی کے تناظر ہی میں مجھے دیکھا۔ ممکن ہے اس کا ماضی کوئی اتنا اچھا نہ رہا ہو۔ اپنے آپ ہی کو ڈھارس دینے کے لیے اس نے مجھے تسلی دی ہو۔جو کچھ بھی تھا، مجھے یہ اچھا لگا کہ اس نے مجھے محسوس کیا، میرے لیے رکا رہا اور میرے قریب ہونے کے لیے مجھے مخاطب کیا۔ ورنہ وہ بھی دوسروں کی طرح کلاس روم سے نکل جاتا۔ وہ مجھ سے دو قدم آگئے تھا۔ میں نے اسے پھر غور سے دیکھا۔ نیلی جینز پر چیک دار سفید شرٹ پہنی ہوئی تھی۔ پاؤں میں جاگر تھے اور کوئی اتنا خاص نہیں تھا کہ اس میں کوئی مزید کشش محسوس ہوتی۔ میں چونکہ اس ماحول کا عادی نہیں تھا، اس لیے اسد کے بارے میں کوئی اتنا زیادہ تجزیہ نہیں کر سکتا تھا۔ ڈیپارٹمنٹ کے باہر آتے ہی اس نے پوچھا۔
’’تم تو اس ماحول کے عادی ہو گے نا۔۔۔ میں پہلی بار اس علاقے میں آیا ہوں۔ خشک سا علاقہ ہے اب نہ جانے یہاں کے لوگ کیسے ہوں گے‘‘۔ اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے عام سے لہجے میں کہا تو میں ہنس دیا۔
’’سچ پوچھو نا اسد، میں بھی زیادہ اس علاقے میں نہیں رہا، میرا زیادہ وقت لاہور میں گزرا ہے، لیکن حوصلہ رکھو، تمہیں تم جیسے ہی لوگ مل جائیں گے۔ وہ کہتے ہیں نا ہر بندہ اپنے جیسے دوسرے بندے کو تلاش کر رہا ہوتا ہے‘‘۔
’’بات تو تمہاری ٹھیک ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ ماحول اور موسم وہاں کے انسانوں کے مزاج پر اثر انداز ضرور ہوتا ہے۔ اب دیکھیں میرا یہ خیال یہاں کے لوگوں کے بارے میں کس حد تک درست ثابت ہوتا ہے‘‘۔ اس نے کافی حد تک سنجیدگی سے کہا۔
’’لگتاہے تم کچھ ڈرے ڈرے سے ہو، کیا بات ہے‘‘۔ میں نے انتہائی بے تکلفی سے پوچھا۔
’’ڈر نہیں رہا، اجنبیت محسوس کر رہا ہوں۔ تھوڑا بور بھی ہو رہا ہوں، کیونکہ میں بہت بھرا پُرا گھر اور خوبصورت شہر چھوڑ کر آیا ہوں۔ میرپور آزاد کشمیر میرا علاقہ ہے‘‘۔
’’اوہ۔۔۔! تم تو خاصی دور سے آئے ہو۔ چلو کوئی بات نہیں۔ مجھے امید ہے کہ تم یہاں کے لوگوں کی کمپنی انجوائے کرو گے‘‘۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا تو اس کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آگئی۔ اس وقت تک ہم کینٹین تک پہنچ گئے۔ باہر لان میں کرسیاں خالی پڑی ہوئی تھیں۔ مگر اسد اندر ہی بڑھتا چلاگیا۔ وہاں جنوبی کونے میں چند لڑکے گپ شپ میں مصروف تھے۔ ہم دونوں کی جانب دیکھتے ہی وہ خاموش ہو گئے۔ ان میں سے ایک نے ویٹر کو خالی کرسیاں لانے کے لیے کہہ دیا۔ جو فوراً ہی آگئیں۔ ہمارے بیٹھتے ہی ایک سنجیدہ سے لڑکے نے میری جانب دیکھ کر کہا۔
’’تمہارا تعارف تو ہو گیا ابان، ہم سب تمہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔ امید ہے کہ ہم سب کا وقت بہت اچھا گزرے گا؟‘‘ اس نے بڑے ٹھہرے ہوئے انداز میں کہا تھا، اس سے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے وہ مجھے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ ان کا لیڈر ہے۔ تب میں نے دھیرے سے کہا۔
’’میں بھی کچھ ایسا ہی محسوس کر رہا ہوں‘‘۔
’’ہاسٹل میں رہو گے یاڈے سکالر ہو؟‘‘ ایک دوسرے نے لڑکے نے پوچھا۔
’’ڈے سکالر سمجھ لو، شہر میں ایک گھر ہے، جس کے مکین باہر کے ملک گئے ہوئے ہیں،بس نگرانی کے لیے وہاں ٹھہرا ہوا ہوں‘‘۔ میں نے ایک اور جھوٹ داغ دیا۔
’’سپر۔۔۔! یہ تو بہت اچھا ہے، تم بڑے سکون سے رہو گے وہاں‘‘۔ تیسرے نے کہا۔
’’ہاں۔۔۔! یہ تو ہے، خیر یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ یہاں سکون نام کو کچھ ملتا بھی ہے یا نہیں ،یا سارا وقت بے سکون ہی رہیں گے‘‘۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اتنے میں چائے آگئی۔ تب تعارف کا سلسلہ دراز ہوتا گیا۔ بات کیمپس کے ماحول سے نکلی تو پھیلتی گئی۔ وہ جو خود ساختہ لیڈر تھا ، وہ ڈی جی خان کے علاقے سے تھا، تنویر گوپانگ، درمیانہ سا قد، قدرے بھاری سا، بڑے چہرے اور بھاری مونچھوں والا، سانولے رنگ کا۔ اس کی آواز خاصی بھاری تھی۔ جب کوئی خاص بات کرنی ہو تو اسے بہت بنا سنوار کر کہتا تھا۔ کافی دیر تک یونہی گپ شپ چلتی رہی اور اس محفل میں ان سب کا نام میرے ذہن میں نہ رہا، میں بس ان کی طرف دیکھتا رہا اور وہ کہتے رہے۔ میں بھی یہی اندازہ لگاتا رہا، کون کس طرح کا ذہن رکھتا ہے۔ کافی دیر بعد اچانک ایک لڑکے نے اپنے سیل فون پر وقت دیکھتے ہوئے کہا ۔ ’’اوئے میڈم کا پیریڈ شروع ہونے والا ہے، چلو چلیں‘‘۔
یہ سنتے ہی تقریباً سبھی اٹھ گئے۔ تنویر گوپانگ نے فوراً ہی بڑا نوٹ نکالا اور ویٹرکو دے کر حساب بعد میں کرنے کا کہا اور باہر کی سمت چل دیا۔ میں نے اسد کی طرف دیکھا، اس نے مسکرا کر چلنے کا اشارہ کیا تو ہم دونوں باہر کی جانب لپکے۔ تبھی میں نے دیکھا کچھ لڑکیاں دوسری طرف سے نکل کر ڈیپارٹمنٹ کی جانب جارہی ہیں۔
’’یہ بے چاری لڑکیاں بھی نہ جانے کہاں کہاں سے آئی ہوں گی‘‘۔ اسد نے یوں کہا جیسے ان سے وہ ہمدری محسوس کر رہا ہو۔
’’تو کیا انہیں نہیں آنا چاہئے تھا؟‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’نہیں، ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے، بہر حال گھر سے دور رہنا خاصا مشکل ہوتا ہے‘‘۔ وہ مضطرب سے لہجے میں بولا۔
ہم ایسی ہی بے مقصد باتیں کرتے ہوئے پھر سے ڈیپارٹمنٹ کی راہداریوں میں آگئے۔ ہم کلاس روم میں داخل ہوئے تو سبھی اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ رہے تھے۔ میں بھی پچھلی رو میں جانے کے لیے بڑھا ہی تھا کہ چند لڑکیوں نے مجھے روک لیا۔ اس وقت مجھے بالکل بھی احساس نہیں تھا کہ یہ میری کلاس فیلوزہیں یا ہماری سینئر کلاس سے تعلق رکھتی ہیں۔ میں نے ان کی جانب دیکھا اور خاموش رہا۔
’’بڑی دیر کی مہربان آتے آتے۔۔۔‘‘ایک شوخ سی لڑکی نے میرا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، ایک دوسری موٹی سی لڑکی بولی اٹھی۔
’’نواں آیاں اے سوہنیا۔۔۔‘‘
اس کے مضحکہ خیز انداز پر وہاں موجود ہر ایک ہنس دیا۔ میں اسی لمحے سمجھ گیا کہ اب میرے ساتھ مذاق ہونے والا ہے اور ممکن ہے یہ میری کلاس کی نہ ہوں۔ تب میں نے بڑے سکون سے کہا۔
’’آپ کون ہیں اور کیا چاہتے ہیں؟‘‘
’’برخور دار سمجھ دار ہے، جلدی سمجھ گیا ہے‘‘۔ ایک لڑکی نے میری طرف دیکھ کر عجیب طرح سے ہنستے ہوئے کہا۔ مجھے غصہ آگیا۔
’’ظاہر ہے آپ جیسی ماؤں کے بچے سمجھ دار ہی ہوں گے‘‘۔ میں نے فوراً ہی اسے جواب دیا تو اس کا چہرہ فق ہو گیا۔ اسے امیدنہیں تھی کہ میں اسے ایسا جواب دوں گا۔ تب اس نے انتہائی غصے میں کہا۔
’’بہت بدتمیز ہو تم، تمیز نہیں ہے بات کرنے کی‘‘۔
’’میں نے کون سا غلط کہا ہے، تم نے برخوردار ہی کہا ہے نا مجھے‘‘۔ میں نے سرد سے لہجے میں کہا۔
’’جانتے ہو، تمہاری اس بات کے بدلے میں تمہارے ساتھ کیا ہو سکتا ہے‘‘۔ وہ بپھرتے ہوئے بولی۔
’’نہیں جانتا، بتا دو‘‘۔ میں نے پھر سکون سے کہا، تو اسد نے فوراً مجھ سے کہا۔
’’یار ابان یہ ہمارے سینئر کلاس فیلوز ہیں، وہ فرسٹ ائیر فول۔۔۔‘‘
’’کریں مذاق۔۔۔ میں نے کب روکا ہے۔ یہ تو رشتے جوڑنے بیٹھ گئے ہیں‘‘۔ میں نے ہلکی سی مسکراہٹ سے کہا۔ جس نے جلتی پر تیل کاکام کیا۔ تب اس لڑکی نے سب کی طرف دیکھ کر کہا۔
’’چلو، میں دیکھ لوں گی اسے‘‘۔
’’کسے دیکھو گی۔۔۔ کیا ابھی تم نے مجھے نہیں دیکھا‘‘۔ میں نے جان بوجھ کر ہنستے ہوئے کہا وہ غصے میں تیز قدموں سے چلتی ہوتی باہر چلی گئی اور پھر میری توقع کے مطابق دوسری لڑکیاں بھی باہر چلی گئیں۔ کلاس میں سناٹا چھا گیا۔ میں نے سب کی طرف ایک نگاہ سے دیکھا۔ مجھے کئی نگاہوں میں اپنے لیے ترس دکھائی دیا کہ نہ جانے اب میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ یہی وہ موقعہ تھا جب میں نے تمام لڑکیوں کی طرف دیکھا۔ ممکن ہے ان میں وہ ایک ہو۔۔۔ کون ہے وہ؟ کاش اس کے بارے میں مجھے آج ہی معلوم ہو جائے؟
’’کوئی بات نہیں ابان، آؤ بیٹھو، کرلیں گے بات ان سینئرز سے‘‘۔ تنویر گوپانگ نے ذرا اونچی آواز میں مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا تو میں نے بڑے سکون سے کہا۔
’’اوکے۔۔۔! لیکن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں میں دیکھ لوں گا‘‘۔
یہ کہتے ہوئے میں پچھلی طرف پڑی ایک خالی نشست پر آن بیٹھا۔ تبھی میڈم زہرہ جبیں کلاس روم میں آگئیں۔
وہ ادھیڑ عمر سمارٹ سی خاتون تھیں۔ گندمی رنگ، گہرے سیاہ لمبے بال جو انہوں نے کلپ سے باندھ رکھے تھے۔ تیکھے نقوس والی میڈم نے نفیس سا چشمہ لگایا ہوا تھا۔ لباس کے رنگ اور ڈیزائن میں بھی خاصی نفاست تھی۔ پہلی نگاہ میں ان کی گردن پر نظر پڑی تھی جو شفاف، لمبی اور خوبصورت تھی۔ گلے میں باریک سی چین میں ہلکا سا لاکٹ تھا۔ بڑی دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ انہوں نے کلاس پر نگاہ ڈالی اور بڑے شستہ لہجے میں بولیں۔
’’یہ کس نے سینئرز کو بھڑکا دیا۔ بڑے غصے میں دکھائی دے رہے تھے‘‘۔
’’یہ ابان نامی ایک نیا لڑکا آیا ہے اس نے ۔۔۔‘‘ ایک لڑکی نے اٹھ کرکہا اور پھر اختصارسے سب کہہ دیا۔ میڈیم غور سے سنتی رہی اور بار بار میری جانب دیکھتی رہی ۔ساری بات سن کر وہ میری جانب دیکھ کر بولیں۔
’’آپ نے تو آتے ہی ڈیپارٹمنٹ میں ہلچل مچا دی۔ آپ کو شاید معلوم نہیں کہ آپ کے سینئرز خاصے تگڑے لوگ ہیں‘‘۔ ان کے چہرے پر ہلکی ہلکی مسکان تھی۔
’’اچھی بات ہے میڈم، وہ تگڑے ثابت ہو جائیں تو مجھے ان پر فخر ہو گا‘‘۔ میں نے کھڑے ہو کر بڑے مؤدب لہجے میں کہا تو میڈم کے چہرے پر حیرت در آئی۔
’’اچھی بات ہے، خیر! ہم اپنے لیکچر کی جانب بڑھتے ہیں‘‘۔ وہ سکون سے بولیں اور لیکچر شروع کر دیا۔ کلاس میں سناٹا رہا اور پھر پیریڈ ختم ہوگیا۔ میڈم کے جاتے ہی کلاس میں ہلکا ہلکا شور ہونے لگ گیا تھا۔ موضوع میری ذات ہی تھا۔ میں نے کسی کی طرف توجہ نہیں کی اور باہر جانے کے لیے قدم بڑھا دیئے۔ انہی لمحات میں چند لڑکے دروازے میں آکے کھڑے ہوگئے۔ بلاشبہ وہ سینئرز ہی تھے۔ کیونکہ ان کے پیچھے وہی لڑکیاں تھیں جو کچھ دیر پہلے میرا مذاق اڑانے کے لیے آئی تھیں۔ ان لڑکوں کے چہروں پر غصے، غضب اور حیرت کے ملے جلے تاثرات تھے۔ ہر کوئی سمجھ سکتا تھا کہ وہ میری درگت بنانے کے لیے آئے ہیں۔ اسی لیے تنویر گوپانگ جلدی سے آگے بڑھا اور ان سے کچھ کہنے ہی والا تھا کہ ایک لیڈر ٹائپ سینئر نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا اور پھر بڑے گھمبیر لہجے میں بولا۔
’’یہ ہے وہ۔۔۔؟‘‘ اس نے اشارہ میری طرف کیا تھا۔
’’ہاں یہی وہ بدتمیز ہے‘‘۔ پیچھے کھڑی اس لڑکی نے تقریباً چیخنے والے انداز میں کہا تو اس نے میری جانب دیکھ کر کہا۔
’’چلو وہاں روسڑوم کے پاس کھڑے ہو جاؤ۔ دیکھتا ہوں تم کتنے بڑے بدمعاش ہو‘‘۔
’’اور اگر میں وہاں تک نہ جاؤں تو۔۔۔‘‘ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سرد سے لہجے میں کہا تو وہ چونک کر میری طرف دیکھنے لگا۔
’’تو پھر تمہارے ساتھ بہت کچھ ہو سکتا ہے‘‘۔ اس بار اس کے لہجے میں وہ پہلے والا تنتنا نہیں تھا۔
’’مثلاً کیا؟‘‘ میں نے پھر اسی انداز میں سے پوچھا۔
’’جس کا تم تصور نہیں کر سکتے‘‘۔ اس نے غصے میں کہا ۔
’’میں تیار ہوں‘‘۔
یہ کہہ کر میں اس کی جانب دیکھنے لگا اور کسی بھی غیر متوقع افتاد کے لیے تیار ہو گیا۔ وہ چند لمحے میری جانب دیکھتا رہا اور پھر انتہائی غصے میں بولا۔
’’دیکھ لوں گا میں تمہیں، تم کس طرح اس ڈیپارٹمنٹ میں رہتے ہو‘‘۔
’’میں یہیں پر ہوں۔ اپنا شوق پورا کر لینا۔ پھر جب میں نے کچھ کیا تو گھبرامت جانا، اتنے لوگ سن رہے ہیں، دھمکی تم دے کر جارہے ہو‘‘۔ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سکون سے کہا تو وہ کافی حد تک ڈھیلا پڑ گیا۔ اس درمیان تنویر گوپانگ نے صحیح وقت پر دخل اندازی کی اور بولا۔
’’او سرجی، بدتمیزی اور مذاق میں فرق ہوتا ہے، اس لڑکی کو نہیں چاہئے تھا کہ وہ ابان کے ساتھ بدتمیزی کرتی‘‘۔
’’آپ ایک ہی طرف کی بات سن کر یہاں چڑھ دوڑے ہیں۔ پہلے آپ اصل حقائق معلوم کرتے‘‘اسد نے فوری طور پر میری طرف داری کی۔
’’آئیں، پھر وہاں بیٹھ کر یہ معاملہ طے کر تے ہیں‘‘۔ اس سینئر نے دال گلتی نہ دیکھ کر کلرک کے کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو میں فواً بولا اٹھا۔
’’نو، نہیں، سب کے سامنے، یہاں۔۔۔ یہیں بات ہو گی۔ میں دخل اندازی نہیں کروں گا‘‘۔
’’اُو چلو چھوڑو یار ! ایسی بھی کیا بات ہو گئی ہے۔ وہ مذاق کرنے آئیں تھیں، بدتمیزی کرنے لگیں۔ اس نے بھی ویسا ہی کہہ دیا، بات ختم۔ اب آپ کیا اس کے لیے لڑائی جھگڑا کرو گے؟‘‘ تنویر گوپانگ نے بڑی ملائمت سے کہا۔
’’چلو پھر اسے کہو روسٹرم پر کھڑے ہو کر اپنا تعارف کروا دے۔ ان کی بھی بات رہ جائے گی‘‘۔ سینئر نے کہا تو میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’پیار سے کہو گے تو بہت کچھ برداشت کر سکتا ہوں، رعب جماؤ گے یا بدتمیزی کرو گے تو میں خود بہت بڑا بدتمیز ہوں‘‘۔
’’چلو میں تمہیں پیار سے کہہ رہا ہوں‘‘۔ وہ سینئر بولا۔
’’نہیں، وہی لڑکی پیار سے کہے، یہاں روسڑم پر آ کر اور جب تک میں کھڑا رہوں، میرے ساتھ کھڑی رہے‘‘۔ تب میں نے مضحکہ اڑانے والے انداز میں کہا تو وہ لڑکی پیر پٹختے ہوئے یہ کہہ کر مڑ گئی۔
’’مائی فٹ۔۔۔ کچھ نہیں ہو گا ان سے‘‘۔
سینئر اس لڑکی کو جاتا ہوا دیکھتا رہ گیااب وہ مزید کیا بات کرسکتے تھے۔ وہ بھی پلٹ کر واپس چلے گئے۔
کہتے ہیں کہ جو برستے ہیں وہ گرجتے نہیں، مجھے یہ اصول یاد تھا۔ وہ سینئر ان لوگوں کے سامنے تو کچھ نہیں کہہ سکا خاموشی سے واپس چلا گیا تھا۔ اب دوطرح کی ہی صورتِ حال سامنے آ سکتی تھی۔ ایک تو یہ کہ وہ بات کو بھول جائے اور معاملہ رفع دفع ہو جاتا، یا پھر میرے بارے میں کسی نہ کسی طور پر کوئی سازش تیارہو جاتی۔ یہ طے شدہ بات ہے کہ سازش ہمیشہ منافق اور گھٹیا لوگ ہی تیار کرتے ہیں اور جو کوئی جتنی طویل عرصے کی سازشیں کرتا ہے، وہ اتنا ہی منافق اور گھٹیا ہوتا ہے اور میں جب یہاں آیا تھا تو ہر طرح کی صورتِ حال کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو کر آیا تھا۔ انسانی فطرت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ طاقت ور کا ساتھ دیتی ہے ۔ اس کا جھکاؤ ہمیشہ طاقت کی طرف ہی ہوتا ہے۔ کلاس میں پہلے دن کے یہی وہ لمحات تھے، جہاں مجھے خود کو کمزور ثابت نہیں کرنا تھا۔ بحث اس سے نہیں کہ کون کیسی طاقت رکھتا ہے۔ یہ طاقت مختلف قسم کی بھی ہو سکتی ہے جیسے تنویر گوپانگ اپنی چرب زبانی یا دولت کی طاقت کا مظاہرہ میرے سامنے کر چکا تھا یا اسد کے پاس ہمدردی جیسے خوبصورت جذبے کی طاقت تھی یا وہ طاقت جس کی بنا پر میڈم نے سینئرز کو تگڑے کہا تھا۔
لوگ واپس چلے گئے تھے اور کلاس میں سناٹا تھا۔ شاید وہ میرا ردِعمل دیکھنے کے منتظر تھے۔ میں نے اسد کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور بڑے سکون سے پوچھا۔
’’اور کوئی پیریڈ ہے ؟پھر۔۔۔‘‘
’’ہاں، ایک پیریڈ ہے تو سہی، لیکن وہ سر آج آئے ہی نہیں ہیں‘‘۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا۔
’’اس کا مطلب ہے، پھر چلیں، کل ملاقات ہو گی‘‘۔ میں نے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ میں نے قریب کھڑے لڑکوں سے مصافحہ کیا اور ڈیپارٹمنٹ سے نکل کر پارکنگ تک آگیا۔
l l l
اس رات پاپا سے بات کر کے میں سو گیا تھا۔ رات گہری ہو جانے کی وجہ سے زریاب انکل کو فون نہیں کیا تاکہ وہ ڈسٹرب نہ ہوں۔ اگلے ہی دن پہلی فرصت میں، انہیں کال کر دی۔ وہ اپنے آفس میں تھے۔ میرا فون پا کر وہ بہت خوش ہوئے۔ تھوڑی دیر تمہیدی باتیں کر کے میں نے پاپا کی حالتِ زار کے بارے میں بتایا۔ وہ خاصے رنجیدہ ہو گئے۔
’’یار، بات یہ ہے، میں نے نہ جانے کتنی بار اسے کہا ہے کہ اگر تم نے اس سے بدلہ لینا ہے تو آجاؤ، چند دن پاکستان میں رہو، اپنے والدین کی قبروں پر جاؤ۔ فاتحہ پڑھو، جیسے بھی ممکن ہوا میں اسلم کو تمہارے سامنے لاکھڑاکر وں گا۔ پھر تم اس کے ساتھ جو مرضی کرلینا اور واپس برطانیہ چلے جانا۔ بعد میں جو ہو گا، میں بھگت لوں گا، مگر وہ مانتا ہی نہیں ہے۔ اندر ہی اندر جل کڑھ رہا ہے۔ اب اس کا علاج تو میرے پاس نہیں ۔۔۔ ہے نا بیٹے‘‘۔ انہوں نے ٹھہرے ہوئے انداز میں کہا۔
’’انکل۔۔۔! اگر اسلم کو ایک ہی فائر سے مار دیا جائے۔ اسے مرنے میں چند لمحے لگیں تو کیا یہ اس آزار، چبھن اور درد کا متبادل ہو سکتا ہے جو میرے پاپا نے اب تک محسوس کیا اور کرتے چلے آرہے ہیں۔ یہ کوئی انصاف نہیں ہے‘‘۔ میں نے اپنا نکتہ نگاہ واضح کرتے ہوئے کہا۔
’’کیا ہونا چاہئے، بولو، بتاؤ تمہارے خیال میں کیا ہونا چاہئے۔ وہی ہو جائے گا۔ کسی بھی قیمت پر میں تمہارے پاپا کو بہت خوش دیکھنا چاہتا۔ میں اسے یہ غم لے کر مرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا۔ اس کے لیے مجھے جو کچھ بھی کرنا پڑا میں کر گزروں گا‘‘۔ وہ جوشِ جذبات میں بولے۔
’’میرے بھی جذبات ایسے ہی ہیں انکل جیسے آپ کے ہیں، لیکن آپ ہی بتائیں۔ میں یہاں بیٹھ کر کیا کر سکتا ہوں۔ میری ماما، جس نے بہت دکھ سہے، وہ بھی اس اذیت میں مبتلا رہیں جس میں پاپا مبتلا ہیں۔ وہ اپنے والدین سے ملنے کراچی نہیں جا سکیں۔ یہاں تک کہ وہ بھی اس دنیا میں نہیں رہے۔ انہوں نے اپنے کسی رشتے دار سے رابطہ نہیں رکھا، مبادا کہیں میرے پاپا کو احساس ہو۔ وہ دکھ محسوس کریں۔۔۔ الماس کا کیا قصور ہے کہ اسے ان فضاؤں میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا جائے جو اس نے دیکھی ہی نہیں، یہاں وہ محفوظ تو ہے‘‘ میں نے دکھ بھرے لہجے میں انہیں بتایا تو وہ خاموشی سے سنتے رہے۔ میری بات ختم ہوتے ہی بولے۔
’’میں یہ سب جانتا ہوں اور سمجھ بھی رہا ہوں۔ سارے حالات ہمارے سامنے ہیں۔ بتاؤ ہم کیا کر سکتے ہیں۔ میں کچھ نہیں کر سکا ہوں، اس لیے میں کبھی تمہارے باپ سے ملنے بھی نہ جا سکا۔ میں شرمندہ ہوں اس سے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میرے دل میں اس کے لیے تڑپ نہیں ہے، میں بہت کچھ کرنا چاہتا ہوں اور کر بھی سکتا ہوں۔ مجھے بتاؤ میں ابھی کر دیتا ہوں‘‘۔ انہوں نے پورے اعتماد سے کہا۔
’’انکل۔۔۔! پاپا اگر اس سے بدلہ نہیں لے سکتے تو میں لوں گا۔ میں یہاں کی زندگی چھوڑ کر پاکستان آ جاؤں گا۔ کچھ پانے کے لیے ، تھوڑا بہت کھونا تو پڑتا ہے نا۔ جب تک میں لاعلم تھا، تب کی بات اور تھی لیکن اب اسے معاف نہیں کروں گا‘‘۔ میں عزم سے کہا۔
’’یہی بات میں نے تمہارے پاپا سے کہی ہے۔ وہ اپنا بزنس تمہارے حوالے کرے اور خود پاکستان آجائے، پھر دونوں مل کر اس سے اپنا انتقام لے لیں گے۔ یا پھر جو بھی ہو سکا ہم سے وہ ہم کریں گے۔جہاں تک تمہارے یہاں پاکستان آنے کی بات ہے، بیٹے تمہارے سامنے مستقبل ہے، تم اپنی لائف بناؤ، ہم تمہیں ان جوکھم میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ یہ ہم دونوں کا مسئلہ ہے، ہم ہی اس سے نپٹ لیں گے۔ تمہارے پایا نے محنت کر کے بزنس کو جس سطح پر چھوڑا ہے، تم اسے اس سے آگے لے جاؤ، جب وہ پاکستان آئے تو اسے کم از کم یہ پریشانی نہ ہو کہ وہاں کوئی سنبھالنے والا نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے مجھے تفصل سے سمجھاتے ہوئے کہا۔
’’تو پھرکیا کہا پاپا نے ۔۔۔‘‘ میں نے تجسس سے پوچھا۔
’’یہی کہ وہ بہت جلد تمہیں کاروبار میں ایڈجسٹ کر کے پاکستان آرہا ہے‘‘۔ انہوں نے سکون سے کہہ دیا۔
’’یہ بات انہوں مجھے نہیں بتائی‘‘۔ میں نے جلدی سے کہا۔
’’وہ کون سا فوراً آ رہا ہے، اسے یہاں آنے میں تھوڑا وقت لگے گا۔ وہ تم لوگوں کو اعتماد میں لے کر اور ذہنی طور پر تیار کر کے آئے گا‘‘۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔
’’انکل مجھے آپ سے بات کر کے بہت اچھا لگا۔ مجھے بہت حد تک ذہنی سکون ملا ہے‘‘۔ میں نے انہیں اپنی کیفیت بتاتے ہوئے کہا۔
’’تم میرے بچے ہو، اچھا ہوا تم نے مجھ سے اس موضوع پر بھی بات کرلی، تمہارا باپ بہت اچھا اور نرم دل انسان ہے۔ اس لیے تو انتقام لیتے لیتے اتنا وقت بیت گیا۔ تم مجھ سے بات کر لیا کرو، تم بھی تو میرے بیٹے جیسے ہو‘‘۔ انہوں نے انتہائی شفقت سے کہا تو مجھے بہت اچھا لگا۔ پھر کچھ دیر الوداعی باتوں کے بعد میں نے فون بند کر دیا۔
زریاب انکل، اعلیٰ انتظامی آفیسر تھے۔ ایسے لوگ کہیں ایک جگہ تو رہتے نہیں، شہروں شہروں گھومتے ہوتے ہیں۔پاپا کو ایک اچھا اور مضبوط بنیادوں والا بزنس بنانے میں ان کے مشوروں اور حوصلوں کا بہت ساتھ رہا تھا۔ ایک چھوٹے زمیندار کا بیٹا ہونے کے باوجود انہوں نے خاصی محنت کی تھی۔دولت جائیداد تو انہوں نے بنائی ہی تھی، اس کے ساتھ انہوں نے احباب کا ایک وسیع حلقہ بھی بنا رکھا تھا۔ شاید لڑکپن ہی سے ان کے لاشعور میں طاقت کے حصول کی خواہش جڑ پکڑ گئی تھی۔ اب جبکہ وہ اپنی ملازمت سے سبکدوش ہو جانے والے تھے۔ وہ اپنی زندگی کو ایک نئی طرز سے ، اپنی خواہش کے مطابق شروع کرنا چاہ رہے تھے۔ انہوں نے شادی اپنے ہی خاندان میں کی تھی۔ جس سے ان کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا۔ دونوں بیٹیاں فرح اور فروا بہت ذہین تھیں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ فرح مجھ سے بڑی تھی۔ فروا میری ہم عمر اور ابان مجھ سے چھوٹا تھا۔ وہ اپنی مختصر سی فیملی کے ساتھ بہت خوشگوار زندگی گزار رہے تھے۔ رچڈل میں ہماری زندگی بھی بہت اچھی بسر ہو رہی تھی۔ مگر جب سے میں نے پاپا کا دکھ سناتھا۔ تب سے میری زندگی میں بے چینی در آئی تھی۔
اب میں پاپا کو زیادہ وقت دینے لگا تھا۔ انہیں لے جاتا۔ ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ باتیں کرتا، انہیں گھماتا پھراتا، یہاں تک کہ ایک دن میری ماما نے بہت خوشگوار موڈ میں کہا۔
’’یہ آج کل تم باپ بیٹے کو کیا ہو گیا ہوا ہے؟‘‘
’’کیا ہو گیا ہے ماما‘‘۔ میں نے حیرت سے پوچھا۔
’’یوں لگتا ہے جیسے دونوجوانوں کی نئی نئی دوستی ہو گئی ہو۔ تیرے پاپا تو جیسے ہمیں بھول ہی گئے ہیں‘‘۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’اُو بیوی۔۔۔! تجھے یونہی لگتا ہے۔ تم کوئی بھولنے والی چیز ہو۔ میں تو بزنس اس کے حوالے کر رہا ہوں۔یہ وہاں پوری طرح ایڈجسٹ ہوجائے تو پھر سارا وقت تیرے لیے ہی تو ہے‘‘۔ پاپا نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’آپ لوگ جو مرضی کریں، میں اور میری الماس، ہم ایک دوسرے کے لیے کافی ہیں۔ میرے بیٹے کی زندگی بہت اچھی ہو، ایک ماں اس سے زیادہ اور کیا چاہ سکتی ہے‘‘۔ ماما نے دعائیہ انداز میں کہا تو ماحول میں ایک دم سے تقدس بھر گیا۔
ان دنوں میں پوری توجہ سے بزنس کو سمجھ رہا تھا۔ میری زریاب انکل سے روزانہ بات ہو جایا کرتی تھی۔ وہ چاہے بھول بھی جائیں لیکن میں ان سے ضرور بات کیا کرتا تھا۔ ان کی باتوں سے مجھے بہت حوصلہ ملا کرتا تھا۔ وہ بہت اچھی اچھی باتیں بتاتے رہتے تھے۔ ان سے باتیں کر کے مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ میں کوئی ذمہ دار قسم کا بندہ ہوگیا ہوں۔ وہ پرانا کھلنڈرا سا لڑکا نہ جانے کہاں گھو گیا تھا،جس کی ہزار ں دلچسپیاں ہوا کرتی تھیں۔ وہ کون سا کام تھا جو میں نے نہیں کیا تھا۔ میری فطرت میں تھرل تھا۔ ہر وہ کام جو ناممکن دکھائی دیتا تھا، میں اسے ہی ہمیشہ کرنے کی کوشش کیا کرتا تھا۔ چونکہ اس بزنس کو میں نے ایک چیلنج سمجھ کر قبول کیا تھا، اس لیے ہفتوں کے معاملات دنوں میں طے کرنے لگا تھا۔ پاپا مجھ سے بہت خوش تھے اور میں بھی اطمینان محسوس کر رہا تھا کہ ایک دن زریاب انکل کافون آگیا۔ تھوڑی دیر اِدھر اُدھر کی باتوں کی بعد وہ بولے۔
’’تم دو تین ہفتوں میں پاکستان آنے کے لیے تیار ہو جاؤ، کم از کم چھ مہینے سے پہلے واپس رچڈل نہیں جاپاؤ گے۔ ذہن یہی بنا کر آنا کہ تمہیں تقریباً دو سال یہاں رہنا ہے‘‘۔
’’ایسی کیا بات ہو گئی انکل، خیریت تو ہے۔ آپ نے یوں ایک دم۔۔۔‘‘ میں نے حیرت سے پوچھتے ہوئے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا۔
’’تم یہاں آجاؤ گے نا تو پوری تفصیل بتادوں گا۔ ویسے تمہارا حیران ہونا بنتا ہے کہ کہاں تمہیں وہاں پرایڈجسٹ کیا جارہا تھا اور کہاں تمہیں اچانک یہاں پاکستان بلوا رہا ہوں اور وہ بھی دو سال کے لیے ۔۔۔‘‘ انہوں نے پُرسکون انداز میں کہا۔
’’آپ نے پاپاسے بات کی ‘‘۔ میں نے تجسس سے پوچھا۔
’’ہاں، کرلی، جو کچھ میرے ذہن میں ہے، وہ بھی میں نے ان سے شیئر کر لیا ہے۔ تم بس فوراً تیاری کرو اور آجاؤ۔ زیادہ سامان اٹھانے کی ضرورت نہیں، ہر چیز تمہیں یہاں مل جائے گی‘‘۔
وہ اسی پُرسکون لہجے میں بات کر رہے تھے۔ اب سوائے ان کی بات ماننے کے میرے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ میں نے ان سے طے کر لیا کہ دو ہفتوں کے اندر اندر پہلی ملنے والی فلائٹ سے ان کے پاس آجاؤں گا۔
تقریباً تیسرے ہفتے کے درمیان ایک رات مجھے پاپا، ماما اور الماس ائیرپورٹ پرسی آف کرنے کے لیے موجود تھے۔ ماما خاصی پُرسکون تھی مگر پایا کا چہرہ خاصا دھواں دھواں ہو رہا تھا۔ اس سے میں نے اندازہ تو لگا لیا تھا کہ کچھ ایسا ہے جو انہیں پریشان کر رہا ہے۔ ظاہر ہے وہ میرے پاکستان جانے کی وجہ ہی سے تھا۔ کیا تھا، زریاب انکل ہی نے مجھے بتانا تھا۔ کچھ بھی معلوم نہ ہونے کے باوجود میں پاپا کو بہت تسلیاں دیتا رہا۔ ان کا حوصلہ بڑھاتا رہا۔ کیونکہ یہ طے تھا کہ میرا وہاں جانا اسلم ہی سے متعلق ہو سکتا تھا اور میں ذہنی طورپربھی اور جسمانی طور پر ہر طرح کے حالات کے لیے تیار تھا۔ دراصل میرے اندر کچھ عجیب سے جذبات پرورش پا گئے تھے۔ پاپا کی ہزیمت ان کا اندر ہی اندر پلنے والا دکھ، اور بے بسی کی حالت مجھ سے نہیں دیکھی گئی تھی۔ مجھے یوں لگا تھا کہ جیسے میری اپنی زندگی ایک جگہ آکر رک گئی ہے اور اب مجھے اپنے پاپا کی زندگی گزارنی ہے جو ساری زندگی ایک انجانے دکھ اور بوجھ تلے گزر گئی تھی۔ اب جبکہ وہ آخری عمر میں ہیں اور میں ان کا بیٹا انہیں اس بوجھ سے نجات نہ دلاسکوں تو میرا ہونا کیا ہوا۔ میرا وہ پاپا ، جس نے ساری زندگی مجھے پھولوں کی سیج دی اور خود کانٹوں پر لوٹتا رہا، یہ میرا اپنا فرض تھا کہ میں انہیں ایک پُرسکون زندگی دینے کے لیے اپنا آپ داؤ پر بھی لگا دیتا تو یہ میرا فرض منصبی ہے۔ کبھی کبھی تو اسلم کی گردن ناپنے کے لیے مجھے صرف فاصلہ اور وقت ہی حائل دکھائی دیتا تھا۔ دل چاہتا تھا کہ اٹھوں اور اسے جا کے ادھیڑ کررکھ دوں۔ فلائٹ کا وقت قریب آ گیا تو پاپا نے اس انداز سے مجھے رخصت کیا، جیسے کوئی دل پر بھاری پتھر رکھ کر مجھے وداع کررہا ہو۔ میں ماما اور الماس سے ملنے کے بعد پاپا سے گلے ملتے ہوئے ہولے سے بولا۔
’’پاپا۔۔۔! آپ بھی دعا کرنا اور ماما سے ساری بات کہہ کر انہیں بھی دعا کے لیے کہیے گا۔ آپ یقین جانیں آپ کی دعاؤں کے صدقے آپ کا بیٹا کامیاب لوٹے گا‘‘۔
’’آمین۔۔۔! ثم آمین!‘‘ یہ کہتے ہوئے پاپا نے مجھے خود سے جدا کیا تو میں تیزی سے اندرکی جانب بڑھ گیا۔
مجھے معلوم تھا کہ ائیر پورٹ سے باہر زریاب انکل اور آپی فرح میرے انتظار میں ہوں گے۔ میرے پاس ایک چھوٹا سا بیگ تھا۔ اس لیے ائیر پورٹ کے مراحل سے جلد ی گزر گیا۔ میں ان دونوں کی تصویریں بہت دفعہ دیکھ چکا تھا۔ اس لیے پہلی نگاہ ہی میں انہیں پہچان گیا۔میں ان کے گلے لگ گیا۔ تو میری پیٹھ تھپکتے ہوئے بولے۔
’’دیکھو۔۔۔ ! ہم پہلی بار مل رہے ہیں۔ مگر ذہنی طور پر ہم ایک دوسرے کے کتنے قریب ہیں‘‘۔
’’یہ تو ہے انکل۔۔۔!‘‘ میں نے کہا تو ایک جوان سی لڑکی نے مجھے گلے لگا لیا اور پیار سے بولی۔
’’پتہ ہے میں کون ہوں؟‘‘
’’فرح آپی۔۔۔!‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا تو وہ بہت پیار سے بولیں
’’نہیں، بلکہ میرا بھائی، ابان تو فروا کا بھائی ہے۔ اب میرا بھائی آ گیا ہے تو ہم دونونں مل کر خوب ان کی دھنائی کریں گے‘‘۔
اس پر زریاب انکل نے زور دار قہقہہ لگایا اور پھر بہت زیادہ خوش ہوتے ہوئے بولے۔
’’دیکھنا بیٹے۔۔۔! اس کی باتوں میں نہیں آجانا۔ وہ جیسا کہتے ہیں نا، ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور کھانے کے اور یہاں معاملہ ایسا ہے‘‘۔
’’نہیں پاپا۔۔۔! میں کم از کم اس کے ساتھ ایسا نہیں کروں گی۔ یہ میرا بھائی ہے کوئی اس کی کیئر کرے نہ کرے، میں ضرورکروں گی‘‘۔ فرح آپی نے بہت پیار اور سنجیدگی سے کہا۔
’’میں خوش قسمت ہوں آپی، میری کوئی بڑی بہن نہیں ہے اور ایسے ہی کسی رشتے کے لیے میرے دل میں ہمیشہ شدید خواہش تھی، جواب پوری ہو گئی ہے‘‘۔
’’اچھا چلو، جلدی سے گھر چلیں، وہ ناشتے پر ہمارا انتظار کررہے ہوں گے‘‘۔ زریاب انکل نے کہا تو ہم تینوں پارکنگ کی جانب چلے گئے۔
آنٹی فرحانہ، ابان اور فروا ہمارے منتظر تھے۔ وہ سب بہت پیار سے ملے۔ اک ذراسی بھی اجنبیت کا احساس نہیں تھا۔ مجھے لگتا تھا جیسے میں اپنے ہی گھر میںآ گیا ہوں۔
’’چلو ، سیدھے ناشتے کی میزپر، پھر بعد میں ہوتا رہے گا آرام‘‘۔ آنٹی نے کہا تو ہم سب ناشتے کی میز پر جا پہنچے، جہاں ناشتے کے نام پر ساگ سے لے کر ٹوسٹ تک پڑے ہوئے تھے۔ اس قدر اہتمام دیکھ کر میں نے فرح آپی سے کہا۔
’’لگتا ہے میں کسی اجنبی کے گھر آگیا ہوں‘‘۔
’’کیا مطلب ہے تمہارا، ہم اپنے ہی گھر میں آئے ہیں‘‘۔
’’تو یہ اہتمام۔۔۔! کیا روزانہ ایسا ہی ناشتہ کرنا پڑے گا‘‘۔ میں نے مصنوعی حیرت سے کہا تو سب ہنس دیئے۔
’’آج عیاشی کرلو ،کل سے تو فقط پراٹھا اچار ہی ملے گا‘‘۔ فروا نے تیزی سے کہا۔
’’کیوں جی، اسے وہی ناشتہ ملے گا، جو یہ چاہے گا؟‘‘ فرح نے باقاعدہ میز پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا تو زریاب انکل نے ہنستے ہوئے فرحانہ آنٹی سے کہا۔
’’تمہیں پتہ ہونا چاہئے کہ یہ اب فرح کا بھائی ہے۔ اس کی دیکھ بھال میں ذرا سی بھی کمی آئی تو احتجاج فرح نے ہی کرنا ہے‘‘۔
’’بس تو پھر، یہ گیا اپنے کام سے۔۔۔بس چند دن لگیں گے انہیں پاگل ہوتے ہوئے‘‘۔ فروانے ہنستے ہوئے کہا۔
’’ہاں۔۔۔! جیسے آپی خود ہیں‘‘۔ ابان نے لقمہ دیا تو ان دونوں کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے فرخ آپی نے انتہائی سنجیدگی سے کہا۔
’’اس وقت ہم اﷲ کے دیئے ہوئے رزق کے سامنے بیٹھے ہیں۔ اس لیے میں کسی قسم کی کوئی بحث نہیں کروں گی۔ لہٰذا ناشتہ شروع کیا جائے‘‘۔
پھر ایسی ہی نوک جھونک، رچڈل والوں کے بارے میں حال احوال، پاکستان کے موسم اور مقامی حالات پر باتیں کرتے ہوئے ناشتہ ختم کیا۔
’’لو بھئی تم کرو آرام اور میں چلتا ہوں آفس، بعد میں آ کر سکون سے باتیں کریں گے‘‘۔ زریاب انکل نے اٹھتے ہوئے کہا۔
’’ٹھیک انکل، جیسا آپ چاہیں‘‘۔ میں نے مؤدب انداز کہا تو فرح آپی بولیں۔
’’آؤ، میں تمہیں تمہارا کمرہ دکھاؤں۔ وہاں آرام کرو‘‘۔ یہ کہتے ہوئے وہ چل دیں اور میں ان کے پیچھے چل پڑا۔ دوسری منزل پر ایک کشادہ بیڈ روم میں جاتے ہی سکون کا احساس ہوا۔ وہ چند منٹ ٹھہر کر چلی گئیں اور پھر میں جو سویا تو شام کی خبر لایا۔
میں فریش ہو کر نیچے گیا تو انکل لان میں تھے۔ انہوں نے مجھے وہیں بلوالیا۔ میں ان کے پاس جا بیٹھا۔ اِدھر اُدھر کی گپ شپ کے بعد انہوں نے وہ ذکر چھیڑ دیا، جس کے لیے انہوں نے مجھے یہاں بلوایا تھا۔ انہوں بڑے سکون سے کہا۔
’’دیکھو بیٹا۔۔۔! دل تو یہی چاہتا ہے کہ اسلم کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو اس نے ہمارے ساتھ کیا، لیکن ہم بھی بیٹیوں والے ہیں، احترام بہر حال ہمیں کرنا ہے۔ اسلم کا نہیں ، اس کی بیٹی کا۔ اسے وہی عزت اور مان دینا ہے، جو اپنے گھر کی خواتین کو دیا جاتا ہے‘‘۔
’’میں آپ کی بات نہیں سمجھ سکا‘‘۔ میں آہستگی سے کہا۔
’’میں تمہیں پوری بات بتاؤں گا تو ہی سمجھ آئے گی‘‘۔ انہوں نے انتہائی سنجیدگی سے کہا، پھر چند لمحے توقف کے بعد کہتے چلے گئے۔’’ اسلم کی بیٹی یونیورسٹی میں داخلہ لے چکی ہے۔ جن دنوں میں نے تمہیں یہاں آنے کو کہا تھا، ان دنوں میں نے پوری طرح تصدیق کرلی تھی کہ اس کی بیٹی ماہم نے یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے لیے کاغذات جمع کروائے ہیں۔ ایک میں نہیں، دو تین ڈیپارٹمنٹ میں۔ میں نے ابان کے نام سے تمہاری تصویریں لگا کر کاغذات جمع کروا دیئے۔ابان کا داخلہ بھی سب میں ہو گیا۔ ماہم نے ایک ڈیپارٹمنٹ چنا اور اس میں باقاعدہ کلاس لینے لگی ہے۔ تمہارا داخلہ بھی ابان کے نام سے وہیں ہو گیا ہے۔ اب تم نے اس وقت تک وہاں پڑھنا ہے، پڑھنا کیا ، کلاسز لینی ہیں، جب تک تم ماہم کو اپنے اس حد تک کلوز کر لو کہ وہ تم سے شادی کے لیے راضی ہو جائے‘‘۔ یہ کہہ کر انہوں طویل نے سانس لیا۔
’’اوہ۔۔۔ ! تو یہ ہے بات‘‘۔ میں نے سمجھتے ہوئے کہا پھراچانک خیال آیا۔ ’’اس طرح ابان کی تعلیم کا کیا ہو گا؟وہ ۔۔۔‘‘
’’ یہ میرا مسئلہ ہے۔ داخلہ یقیناًغیر قانونی ہے۔ اس کا تمہیں دھیان رکھنا ہو گا۔ ماہم کی عزت، احترام اور حرمت ہر وقت ملحوظ خاطر رہے۔ کسی کو بھی ذرا سا شک نہیں ہوناچاہئے کہ تم یہاں کے نہیں ہو، برطانیہ سے ہو۔ اس دوران چھٹیوں میں تم واپس جاکر آجانا، اب یہ تم پر ہے کہ تم اس سارے معاملے کو نبھا پاتے ہویا نہیں‘‘۔ انہوں نے کسی حد تک بے یقینی کے سے انداز میں کہا۔
’’آپ نے یہ سب کر لیا تو میں کیوں نہیں کر پاؤں گا ۔ مگر آپ نے شاید ایک بات کا خیال نہیں رکھا۔ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے، ایک ہی گھر میں یہاں ہونے کی وجہ سے اسلم کو یا دوسروں کو معلوم نہیں ہو گا کہ میں کون ہوں؟‘‘ میں نے ان کی توجہ ایک اہم نکتہ کی طرف دلائی۔
’’میں نے اس کا بندوبست کر لیا ہوا ہے۔ اس شہر میں میرے دوست کی ایک بڑی ساری کوٹھی ہے۔ سب کچھ ہے اس میں ہر طرح کی سہولت جو تمہارے شایانِ شان ہو گی۔ یہ سب تمہارے لیے ہے میری طرف سے۔ تم نے ظاہر یہی کرنا ہے کہ اس کوٹھی کے مکین یورپ گئے ہوئے ہیں۔ تم یہاں کے مضافات سے تعلق رکھتے ہو۔ انہوں نے تمہیں یہاں نگرانی کے لیے رکھا ہوا ہے۔ تمہارے ساتھ دو ملازمین بھی ہیں۔ تم نے چونکہ پڑھنا تھا، اس لیے یہ آفر تم نے قبول کرلی۔ یہ تمہاری حد تک ہے،اس سے آگے کسی کو اپنا بھید مت دینا۔ تم ہم سے کٹ کررہو گے۔ یہاں تک کہ تم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو جاتے‘‘۔ انکل زریاب نے پوری بات سمجھا دی۔
’’تو انکل۔۔۔!اب مجھے اپنے پاپا کا بدلہ لینے کے لیے میدانِ عشق میں اترنا پڑے گا۔ خیر دیکھ لوں گا۔ کب جانا ہو گا مجھے کیمپس ؟‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے خوشگوار انداز میں پوچھا۔
’’صبح ،اور تم ابھی اس کوٹھی میں جارہے جس کا نام سبزہ زار ہے۔ وہاں سے آیا ہوا ملازم سلیم باہر تمہارا انتظار کر رہا ہے،وہ میرا بہت خاص بندہ ہے۔ کوئی مشکل معاملہ ہو یا کسی مشورے کی ضرورت پڑے تو بلاجھجک اس سے کر کیا کرنا‘‘۔ انکل نے کہا تو میں چونک گیا۔
’’صبح؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ہاں۔۔۔ تم پہلے ہی دو ہفتے لیٹ ہو ۔ کل تم نے کلاس جوائن کرنی ہے۔ باقی سب باتیں فون پر ہوتی رہیں گی۔ یہ لو، یہ سیل فون تم استعمال کرنا‘‘۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے جیب سے ایک عام سا فون نکالا اور مجھے دے دیا۔ میں نے وہ فون پکڑا اور اٹھ گیا۔
’’ٹھیک ہے انکل۔۔۔! میں چلتا ہوں‘‘۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ابھی ٹھہرو، اپنا بیگ لیتے جاؤ‘‘۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنے ملازم کو آواز دے دی۔ تب ان لمحات میں مجھے یوں لگا کہ میں میدان جنگ میں اتر گیا ہوں۔
l l l
گذشتہ شام جب میں یہاں سبزہ زار میں آیا تو مجھے خاصا خوشگور احساس ہوا تھا۔ سلیم مجھے موٹر بائیک پر لے آیا تھا۔ آتے ہی اس نے مجھے سارے گھر سے آگہی دے دی تھی۔ گیراج میں کھڑی کار سے لے کر سٹور روم تک اس نے مجھے دکھا دیا۔ میرا بیڈ روم اس نے سیٹ کیا ہوا تھا۔ وہیں جندوڈانام کا ایک دوسرا ملازم تھا۔ وہ کچھ ادھیڑ عمر تھا۔ اس کے ذمے کھانا بنانا اور گھر کی صفائی ستھرائی تھی جبکہ جوان عمر سلیم، چوکیدار سے لے کر میرے معاملات کی دیکھ بھال بھی کرنے والا تھا۔ اس نے مجھے شہر کے بارے میں خوب معلومات دیں۔ میں ان دونوں سے کچھ دیر باتیں کرتا رہا اور پھر بیڈ روم میں چلا گیا۔ ایسے میں انکل زریاب کا فون آگیا تھا۔
’’بیٹے۔۔۔! یہیں سامنے الماری میں لیپ ٹاپ پڑا ہے۔ چاہو تو اسے استعمال کرلو‘‘۔
’’ٹھیک ہے انکل میں دیکھ لیتا ہوں‘‘۔
’’نہ پتہ چلے تو سلیم سے پوچھا لینا، ویسے ماحول کیسا لگا تمہیں‘‘۔
’’بہت اچھا، بہت سکون ہے یہاں پر‘‘۔ میں نے واقعتا اپنی رائے دی۔
’’چلو ٹھیک ہے اور ہاں، ایک بات یاد رکھنا، ماہم سے متعلق ہر معاملہ بلکہ ماہم بذات خود صرف تمہارے اور میرے درمیان راز ہے۔ یا پھر تیسرا بندہ تمہارا پاپا ہے۔ اور چوتھا سلیم،باقی تم خود سمجھدارہو‘‘۔
’’میں سمجھ گیا ہوں‘‘۔ میں نے اعتماد سے کہا۔
’’وش لوگڈلک بیٹا۔۔۔!‘‘ انہوں نے جو ش سے کہا اور فون بند کر دیا۔
کیمپس میں پہلا دن گزارنے کے بعد جب میں واپس سبزہ زار آیا تو ہارن کی آواز سنتے ہی سلیم نے گیٹ کھول دیا۔ میں گاڑی پورچ میں کھڑی کر کے ڈرائنگ روم میں چلا گیا۔
’’سر۔۔۔! کیسا رہا کیمپس کا پہلا دن۔۔۔؟‘‘ سلیم نے مجھ سے تھوڑا فاصلے پر کھڑے ہو کر پوچھا۔
’’بہت اچھا، ماحول بھی ٹھیک ہے‘‘۔ میں نے یونہی جواب دے دیا۔
’’آپ کھانا کھاکر آرام کریں۔ شام کے وقت آکر آپ چاہیں تو میں آپ کو شہر گھما لاؤں گا‘‘۔سلیم نے صلاح دی۔
’’ہاں یار، شہرسے واقف ہونا بہت ضروری ہے۔ مجھے نیند آگئی تو ٹھیک ورنہ پھر نکل چلیں گے‘‘۔ میں نے اسے کہا۔
’’ٹھیک ہے سر۔۔۔! میں کھانا لگوا دیتا ہوں، آپ فریش ہو کر میز پر آجائیں‘‘۔اس نے جواب میں کہا اور وہاں سے ہٹ گیا۔
اس شام جب میں اورسلیم یونہی شہر دیکھنے نکلے تو موسم خاصا خوشگوار ہو رہا تھا۔ عارف ڈرائیونگ کررہا تھا اور میں ساتھ والی سیٹ پر تھا۔ مال پر گھومتے رہنے کے بعد کچھ دوسری سڑکیں دیکھیں اور پھر واپسی پر ہم ایک مارکیٹ میں جا پہنچے۔ مجھے کچھ چیزیں خریدنا تھیں۔ ایک جانب گاڑی روک کر ہم دونوں ایک دکان کی جانب بڑھے۔ تبھی سامنے سے مجھے اسد آتا ہوا دکھائی دیا ۔ وہ مجھے دیکھ کر ٹھٹک گیا۔ پھر گرم جوشی سے ملتے ہوئے بولا۔
’’یار۔۔۔! آج تو تم نے بڑا حوصلہ دکھایا ہے ، ورنہ ان سینئرز نے ہمیں بہت ذلیل کیا تھا‘‘۔
’’اپنا آپ خود بچانا پڑتا ہے۔ ورنہ دنیا تو انسان کو ذلیل کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ خیر۔۔۔! تم یہاں کیسے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ہاسٹل میں ذرا بھی دل نہیں لگ رہا تھا۔ سوچا۔ تھوڑا گھوم پھر آؤں۔ وقت اچھا گزر جائے گا‘‘۔ اس نے اُکتاتے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’آؤ، پھر چلتے ہیں، کہیں بیٹھ کر گپ شپ کرتے ہیں‘‘۔ میں نے اس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
’’وہ تو ٹھیک ہے، لیکن آخری بس نکل جائے گی کیمپس کی، پھر ہاسٹل تک جانا مسئلہ بن جائے گا‘‘۔ اس نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا۔
’’میں چھوڑ آؤں گا تمہیں۔ فکر نہیں کرو‘‘۔ میں نے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا تو وہ ایک دم سے کھل گیا۔
’’پھر ٹھیک ہے‘‘۔ وہ خوش ہوتے ہوئے تیزی سے بولا۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
’’آؤ، تھوڑی سی شاپنگ کرلیں‘‘۔
وہ میرے ساتھ پلٹ آیا اور ہم کچھ دیر تک شاپنگ کرتے رہے۔ پھر میں نے سلیم سے کسی اچھے ریستوران کی طرف جانے کے لیے کہہ دیا۔
ریستوران کی چھت پر دھیمی روشنی میں، اسد اور میں دونوں بیٹھے ہوئے باتیں کررہے تھے۔سلیم میرے ساتھ نہیں آیا تھا۔ ویٹر کو آرڈر دے دیا تھا اور اسد مجھے اپنے بارے میں بتا رہا تھا۔ پھر یہاں آنے اور پچھلے دو ہفتوں میں ہونے والے اہم واقعات اور اپنا تاثر بتانے لگا۔ میں دلچسپی سے سنتارہا۔ میں کلاس کا ماحول کسی حد تک سمجھ گیا تھا اور ڈیپارٹمنٹ کی جو فضا تھی اس سے بھی کسی حد تک واقف ہو گیا تھا۔ دراصل سینئر کلاس کو تگڑی کلاس اس لیے کہا جارہا تھا کہ اس میں چند لڑکوں کا ایک ایسا گروپ تھا جو ایک سیاسی ومذہبی طلبہ تنظیم سے تعلق رکھتے تھے۔ اگرچہ پورے کیمپس میں ان کا اتنا زور نہیں تھا لیکن ایک طاقتور عنصر کے طور پر ان کا دباؤ بہر حال طلبہ و طالبات کے ذہنوں پر موجود تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سینئر کا گروپ نئی آنے والی کلاس کو اپنے دباؤ میں کرلینا چاہتا تھا۔ ان کا طریقہ کار بہت عجیب سا تھا۔ وہ پہلے اپنا رویہ ہتک آمیز رکھتے۔ ان میں آگے سے کوئی بول پڑا تونرم پڑ جاتے ورنہ دبا کررکھتے۔ فسٹ ائیر فول میں سوائے ایک لڑکی کے سامنے سبھی خاموش رہے تھے۔ یا دوسرا میں تھا جو ان کے دباؤ میں نہیں آیا تھا۔ باقی سب کے ساتھ ان کا برتاؤ اچھا نہیں تھا۔ اس کی کیا وجہ تھی؟ اس وقت نہ تو اسد کی سمجھ میں آئی تھی اور نہ میری۔ اتنے میں ویٹر نے کھانا لگا دیا تو میں نے کہا۔
’’خیر۔۔۔! ان کے رویے کی سمجھ تو آجائے گی۔ کل مجھے لگا کہ وہ تنویر گوپانگ بھی انہی کی طلبہ تنظیم سے تعلق رکھتا ہے‘‘۔
’’ہاں لگا تو مجھے بھی ہے؟ لیکن ابھی اس نے کھل کر اپنا اظہار نہیں کیا۔ ابھی تک تو سب کلاس فیلوز سہمے ہوئے ہیں، نیا ماحول، نئی جگہ، ابھی ایک دوسرے کے بارے میں معلوم بھی تو نہیں ہے نا‘‘۔ اسد نے اپنا تاثر دیا۔
’’سب دیکھ لیں گے۔ تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ سب بھول جاؤ اور کھانے پر توجہ دو۔ وہ بھی یہیں اور ہم بھی یہیں‘‘۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا اور لڑکیوں کا ذکر چھیڑ دیا۔ یہی وہ موضوع ہوتا ہے جس پر بڑی خوشگواری اور دلچسپی سے باتیں چلتی چلی جاتی ہیں۔ اسد بھی ایک ایک لڑکی کے بارے میں باتیں کرتا چلا گیا جس کا نام اسے معلوم نہیں تھا۔ وہ اسے بہت اچھی لگی تھی، جس سے سینئر نے کوئی بات نہیں سنی تھی۔ اگرچہ وہ زیادہ خوبصورت نہیں تھی لیکن حوصلے والی تھی۔یہی خوبی اسے پسند آگئی۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ ماہم کیسی ہے؟ مگر میں نے اس کا تذکرہ تک نہیں کیا۔ یوں رات دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد میں اورسلیم اسے چھوڑنے کیمپس کی جانب چل دیئے۔ جہاں گرلز اور بوائز ہاسٹل کا ایک طویل سلسلہ تھا اور انہی میں سے ایک ہاسٹل میں اسد رہتا تھا۔ ہم اسے ہاسٹل سے باہر ہی چھوڑ کر آگئے ۔ واپسی پر میں عمارات کے اس سلسلے کو بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔ کہیں روشنی ، کہیں اندھیرا دور اور نزدیک عمارتیں۔ ان میں نہ جانے کتنے لوگ ہوں گے۔ کون کون اپنی کس کس طرح کی خواہش لے کر یہاں آیا ہو گا۔ جن کے بارے میں یقین سے کہا ہی نہیں جاسکتا تھا کہ ان کی وہ خواہش پوری ہو گی یا نہیں۔ اتنے لڑکے اور لڑکیاں ان کے لیے انتظامات کرنے والے لوگ اور پھر ان سے متعلق لوگ۔
’’سر۔۔۔! کیا سوچنے لگ گئے ہیں آپ؟‘‘سلیم نے پوچھا تو میں اپنے خیالات سے نکل آیا۔
’’بس یونہی، اس منظر کو دیکھ کر کیمپس کے بارے میں سوچ رہا تھا‘‘۔ میں نے عام سے انداز میں کہا تو وہ بڑے خلوص سے بولا۔
’’سر جی، یہ جو دکھائی دینے والا منظر ہے نا، سب کو ایسے ہی نظر آتا ہے، لیکن بہت کم لوگ ہیں جو وہ منظر بھی دیکھ لیتے ہیں، جو یہاں دکھائی نہیں دیتے‘‘۔
اس کی بات خاصی دلچسپ تھی، اس لیے میں چونکتے ہوئے کہا۔
’’تم کہناکیا چاہتے ہو‘‘۔
’’آپ اسے یوں سمجھ لیں کہ ایک وہ دنیا ہوتی ہے جو ہمارے سامنے ہے ، جو ہم دیکھ سکتے ہیں، لیکن یہاں دکھائی دینے والی دنیا کے علاوہ اور بہت ساری دنیا ئیں ہیں، جو فقط ان کو نظر آتی ہے جو اس سے متعلق ہوں‘‘۔
’’مان لیا کہ وہ کچھ ہے، جو تم کہہ رہے ہو، لیکن یہاں دو باتیں پیدا ہوتی ہیں؟ ایک یہ کہ تم کیسے جانتے ہو، کیا تم ان دنیاؤں سے متعلق رہے ہو اور دوسری بات کہ یہ کیسی دنیا ئیں ہیں جو دکھائی نہیں دیتی‘‘۔ میں نے دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا۔
’’آپ کی پہلی بات کا جواب تو یہ ہے سر جی کہ میں یہاں کچھ عرصہ رہا ہوں۔ میری ملازمت تھی یہاں پر، پھر میں نے چھوڑ دی اور جہاں تک آپ کے دوسرے سوال کا تعلق ہے وہ میں اس وقت آپ کو سمجھانا بھی چاہوں تو نہیں سمجھا پاؤں گا، وہ جب کبھی ضرورت پڑی تو آپ پوری تفصیل سے بتا دوں گا‘‘۔
’’ٹھیک ہے، تب سہی، مگر مجھے اس بارے میں تحسس ضرور رہے گا‘‘۔ میں نے پُرسکون لہجے میں کہا۔
’’وہ آپ فکر نہ کریں۔ میں سب بتادوں گا‘‘۔ اس نے کہا اور گاڑی کیمپس کے مین گیٹ سے مین روڈ پر ڈال دی۔ تب سبزہ زار پہنچنے تک ہم میں کوئی بات نہیں ہوئی۔
اگلی صبح جب میں کیمپس کی سڑک پر تھا اور کار بڑی آہستگی سے ڈرائیو کرتا ہوا جارہا تھا، تب میرے بدن میں کل جیسی سنسنی خیزی نہیں تھی۔ میں پُرسکون تھا اور صرف یہ ذہن میں تھاکہ اگر کل کی طرح آج بھی سینئرز کے ساتھ آمنا سامنا ہو گیا تو پھر میرا رویہ کیا ہونا چاہئے۔ انہوں نے بہت سوچ سمجھ کر لڑکیوں کو آگے کیا ہوا تھا تاکہ کوئی اپنا ردِعمل ظاہر بھی کرنا چاہے تو مخالف جنس کو دیکھ کر خاموش رہے، کہہ نہ پائے۔ ممکن ہے یہاں کے لڑکوں میں ابھی جھجک ، شرم اور حیا ہو جو میرے جیسے برطانیہ کے پروردہ میں نہیں ہوتی۔ اس لیے میں نے بہت بولڈ انداز میں ان کا سامنا کر لیا تھا۔ خیر، جوکچھ بھی تھا، آج اگر انہوں نے کوئی ایسی بات کی تو رویہ یکسر مختلف ہو گا۔ وہ خود سوچتے رہ جائیں گے کہ آخر یہ ہوا کیا ہے۔ اک ذرا سا ماحول میری سمجھ میں آیا تھا۔ اگر وہ واقعتا ہی ایسا تھا تو میرے لیے کوئی بندہ بھی مشکل پیدا نہیں کر سکتا تھا۔ میں انہیں بڑی آسانی سے اپنی راہ پرلے آتا۔ یہی سوچتے ہوئے میں ڈیپارٹمنٹ پہنچ گیا۔ آج بھی میں شلوار سوٹ میں تھااور خود کو پُرسکون محسوس کر رہا تھا۔ سیڑھیاں چڑھ کر جب میں راہداری میں آیا تو کلاس روم کے سامنے لڑکیوں کا جمگھٹا سا لگا ہوا تھا جو میری کلاس فیلوز تھیں۔ ان میں سینئر لڑکیاں نہیں تھیں۔ میں جیسے ہی ان کے قریب سے گزرنا چاہا تو ایک لڑکی نے تیز انداز میں کہا۔
’’ابان۔۔۔ ذرا بات سننا‘‘۔
میں رک گیا۔ مجھے اندازہ نہیں تھاکہ کس نے مجھے پکارا ہے۔ میں نے خاموشی سے سب کی طرف دیکھا تاکہ وہ دوبارہ مخاطب ہو تو مجھے پتہ چلے، چند لمحے کوئی نہیں بولا تو میں نے پوچھا۔
’’آپ میں سے کسی نے مجھے آواز دی ہے؟‘‘
’’جی۔۔۔ میں نے۔۔۔‘‘ ان میں سے ایک پتلی سی اور لمبی سی لڑکی نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’جی فرمایئے؟‘‘ میں نے کہا۔
’’کیا آپ ہمارے ساتھ کینٹین تک چلیں گے‘‘۔ اس نے پوچھا
’’خیریت، میں اکیلا ہی کیوں؟‘‘ میں نے کسی قدر حیرت سے پوچھا۔
’’وہیں چل کر بتاتے ہیں۔ آج سر نہیں آئے، میڈم ہی پیریڈ لیں گی۔ کلاس کا کوئی مسئلہ نہیں ہے‘‘۔ اس نے جلدی سے مجھے مطلع کیا۔
’’آپ چلیں، میں وہیں آجاتا ہوں‘‘۔ میں ے کہا اور آگے بڑھ گیا ۔ میں حیران تھا کہ انہوں نے مجھے ہی دعوت کیوں دی ہے۔ مجھے راہداری میں کوئی لڑکا دکھائی نہیں دیا تو وہی لڑکی بولی۔
’’سب باہر ہیں اور یہاں سینئرز کی کلاس ہو رہی ہے‘‘۔
’’چلیں‘‘۔ میں نے کہا اور واپسی کے لیے قدم بڑھا دیئے۔ میں آگے آگے تھا اور وہ لڑکیاں میرے پیچھے تھیں۔ میں اسد کو تلاش کررہا تھا کہ وہ بھی میرے ساتھ ان کے درمیان موجود ہو۔ مگر وہ کہیں بھی دکھائی نہیں دیا۔ میں کینٹین کے اندر چلا گیا تو ہمارے کلاس فیلوز ایک کونے میں بیٹھے ہوئے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ وہیں تنویر گوپانگ اور اسد دونوں تھے۔ میں ان کے قریب چلا گیا۔
’’اُویار ابان۔۔۔! کل تم نے تو کمال کر دیا، ان سینئرز نے تو ہماری بڑی بے عزتی کی تھی‘‘ ۔ تنویر گوپانگ نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔
’’کمال تو کر دیا، لیکن اگر اب عتاب آیا تو ان کی طرف سے اس پر‘‘۔ ایک لڑکا بولا۔
’’دیکھ لیں گے یار ، تم کیوں گھبراتے ہو‘‘۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا، پھر تنویر اور اسد سے کہا۔ ’’تم دونوں آؤ ذرا مجھے ایک کام ہے‘‘۔
وہ دونوں اٹھ کر کینٹین سے باہر آگئے۔ تو میں نے انہیں لڑکیوں کی دعوت کے بارے میں بتایا۔
’’ہاں یار وہ سامنے لان میں سب بیٹھ گئی ہیں، لگتا ہے تمہاراہی انتظار کررہی ہیں۔ مگر کیوں؟‘‘ تنویر نے آہستگی سے یوں کہا جیسے وہ ہماری بات سن نہ لیں۔
’’اس لیے تم۔۔۔ میرے ساتھ چلو‘‘۔ میں نے ان سے کہا۔
’’چلو، چلتے ہیں‘‘۔ اسد نے کہا اور ہم تینوں ان کے پاس جا کر خالی نشستوں پر بیٹھ گئے۔
’’جی ۔۔۔فرمائیے‘‘ ۔ میں نے اس لڑکی کی جانب دیکھتے ہوئے کہا، جس نے دعوت دی تھی۔
’’دراصل ہم سب کی طرف سے ایک چھوٹی سی پارٹی کا اہتمام ہے، جس میں آپ کو ویلکم کہنا ہے۔ کیونکہ، کل آپ نے وہی کیا جو ہمارے دل میں تھا‘‘۔
’’اوہ۔۔۔! میں نے کوئی بہت بڑا تیر تو نہیں مار لیا، انہیں ان کی باتوں کا صرف جواب دیا تھا۔ میری کون سی ان کے ساتھ دشمنی تھی‘‘۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’ابان، آپ کو پتہ نہیں، پہلا پورا ہفتہ انہوں نے ہمیں بہت تنگ کیا تھا۔ ایک دفعہ مذاق کر لیا ،ہو گیا، یہ تو نہیں دوسرے کو تنگ ہی کرتے رہیں‘‘۔ ایک دوسری لڑکی نے کہا۔
’’میں پھر کہوں گاکہ یہ کوئی اتنا بڑا کام نہیں تھا۔ ذرا سا حوصلہ کر لیا جائے تو کچھ نہیں ہوتا‘‘۔ میں نے عام سے لہجے میں کہا۔
’’دوسری بات تو سنی نہیں آپ نے۔ ہم سب جو یہاں موجود ہیں آپ کا ہر طرح سے ساتھ دیں گی۔ کیونکہ ہاسٹل میں سینئر لڑکیوں نے باقاعدہ آپ کو ذلیل کرنے کا پروگرام بنالیا ہوا ہے ۔وہ اپنی بہت زیادہ بے عزتی محسوس کر رہی ہیں؟‘‘ ایک لڑکی نے کہا۔
’’آپ سب کا بہت شکریہ، لیکن یہ بات اگر ہم سب کلاس فیلوز مل کر کرلیتے تو زیادہ بہتر نہیں تھا، میرا مطلب ہے بوائز اور گرلز ۔۔۔‘‘ میں نے ایک خیال کے تحت یونہی صلاح دی۔
’’ہاں جی، ایک گیٹ ٹو گیدر تو ہونی چاہئے۔ تاکہ دوسروں کو معلوم ہو کر ہم سب ایک ہیں‘‘۔ تنویر گوپانگ سے رہانہ گیا اس نے فوراً ایک تجویز دے دی۔
’’یہ ہم طے کر کے آج ہی رکھ لیتے ہیں‘‘۔ اسد نے کہا۔
’’چلیں؟ ہم سب آپ کو بتا دیتی ہیں، فی الحال جو ہم نے سوچا، وہ ہو جائے‘‘۔ اسی لمبی سی لڑکی نے کہا۔
’’جیسے آپ کی مرضی‘‘۔ یہ کہتے ہوئے اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا۔ وہ بات مجھے اسد نے رات ہی بتائی تھی۔ تب میں نے بوجھ لیا۔’’مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ گرلز میں سے ایک نے سینئرز کو دبا دیا تھا اور وہ اس سے مذاق نہیں کر پائے تھے، وہ کون ہیں؟‘‘۔ میں نے پوچھا۔
’’وہ۔۔۔! وہ ماہم چوہدری ہے۔۔۔وہ کل بھی نہیں آئی تھی اور آج کا پتہ نہیں آئے گی بھی یا نہیں۔ دراصل وہ یہاں کے ایک سیاستدان اسلم چوہدری کی بیٹی ہے کسی کو خاطر ہی میں نہیں لاتی اپنی مرضی کرتی ہے‘‘۔
’’لو۔۔۔! وہ آگئی، پتہ نہیں اس کی لمبی عمر ہے یا وہ شیطان۔۔۔‘‘ ایک لڑکی نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا تو میں نے دھڑکتے ہوئے دل سے اس کی جانب دیکھا۔ کار پارکنگ میں ایک جدید ماڈل کی کار رک گئی تھی۔ بلاشبہ وہ اس میں ہی تھی۔ میں اس کی جانب غور سے دیکھنے لگا۔ چند لمحوں بعد کار میں سے جو لڑکی نکلی، اس نے میرون کلر کی قمیص اور سفید شلوار پہنی ہوئی تھی، قمیص پر سنہرے رنگ کا ہلکا کام تھا۔ جو اس کی شخصیت میں عجیب ساتاثر دے رہا تھا۔ سلکی شولڈر کٹ بال، پتلی سی ، دراز قد، سیاہ گیسووؤں میں اس کا گورا رنگ یوں لگ رہا تھا جیسے ہمک رہا ہو۔لمبی لمبی انگلیوں والے نازک ہاتھوں میں بیگ تھامے، اس نے کار کو لاک کیا اور چاروں جانب دیکھا۔ تبھی اس کی نگاہ لان میں بیٹھی لڑکیوں پر پڑی۔ وہ سمجھ گئی کہ کلاس نہیں ہو رہی ہے۔ اس لیے وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوئی ہماری جانب آنے لگی۔ میں اس کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا، یہی وہ ماہم چوہدری تھی، جس کے لیے میں اتنا سفرکر کے یہاں تک آچکا تھا۔ اسے خبر ہی نہیں تھی کہ کوئی اس کے لیے اپنے دل میں کیا کچھ لیے بیٹھا ہے۔ وہ قریب آچکی تھی، اس کے نقش بتا رہے تھے کہ وہ خوبصورت چہرے کی مالک ہے، چند لمحوں بعد وہ میرے سامنے آجانے والی تھی، اس لیے میں رخ پھیر کر اس کی وہاں آمد کا انتظار کرنے لگا۔
(جذبات میں ہلچل مچا دینے والی یہ داستان جاری ہے)
***

Viewers: 312608
Share