Prof. Riffat Mazhar | Column | میمو گیٹ اور عدالتی کمیشن

پروفیسر رفعت مظہر لاہور۔ پاکستان prof_riffat_mazhar@hotmail.com میمو گیٹ اور عدالتی کمیشن وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی جعلی نمبر پلیٹ لگا کر لینڈ کروزر میں سپریم کورٹ تشریف لائے ،اپنی حفاظت […]

پروفیسر رفعت مظہر
لاہور۔ پاکستان
prof_riffat_mazhar@hotmail.com

میمو گیٹ اور عدالتی کمیشن

وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی جعلی نمبر پلیٹ لگا کر لینڈ کروزر میں سپریم کورٹ تشریف لائے ،اپنی حفاظت پر کروڑوں خرچ کر ڈالے اور فرمایا کہ وہ سپریم کورٹ کے احترام میں آئے ہیں جبکہ دھرتی کو ماں کے جیسی کہنے والے اعتزاز احسن نے فرمایا کہ سوئس کورٹ کو خط نہ لکھنا بد نیتی پر مبنی نہیں ، خط لکھنے کی نیت ہے لیکن صلاحیت نہیں کیونکہ آئین اجازت نہیں دیتا۔خیال تھا کہ اعتز از احسن کی پٹاری میں بہت کچھ ہو گا لیکن اتنے نامی وکیل نے وہی کچھ کہا جو ایک عام فہم شخص بھی کہہ رہا تھا شاید وہ یہ سوچ کر آئے ہونگے کہ ان کے احسانوں کے بوجھ تلے دبی عدلیہ انہیں دیکھتے ہی ہتھیارڈال دے گی ا ور انہیں کچھ کہنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی ۔اس سے قطع نظر کہ موصوف چند روز پہلے تک یہی ڈھنڈورا پیٹتے رہے کہ حکومت خط نہ لکھ کر غلطی کر رہی ہے اور اب بالکل متضاد سٹینڈ لے لیا ہے ۔سوال مگریہ ہے کہ اعتزاز صاحب یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ خط نہ لکھنے میں بد نیتی شامل نہیں تھی۔؟ پہلی بات تو یہ کہ سوئس کیس سرے سے استثنا کا معاملہ ہی نہیں تھا ۔اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کے مطابق حکومت کو ملک قیوم کی طرف سے لکھے گئے خط کو واپس لینا ہے کیوں کہ ایسا خط لکھنا کسی بھی اٹارنی جنرل کے دائرہِ اختیار میں نہیں آتا ۔اس میں صدارتی استثناء کہاں سے آ گیا ؟۔ اگر حکومت بضد ہے کہ یہ استثنائی معاملہ ہے تو پھر حکومت پچیس ماہ تک انتظار کیوں کرتی رہی یہ نکتہ این آر او کیس کی سماعت کے دوران کیوں نہ اٹھایا ؟ ۔دسمبر 09 میں جب Re-View کے دوران سپریم کورٹ بار بار کہتی رہی کہ اگر صدر کو استثنیٰ ہے تو درخواست کی جائے ، کیوں کہ یہ فیصلہ بھی سپریم کورٹ نے کرنا ہے کہ استثنیٰ ہے یا نہیں۔اب جب کہ کورٹ نے فیصلہ سنا دیا اور توہینِ عدالت کا الزام بھی عائد کر دیا گیا ، اب اعتزاز صاحب کو اچانک استثنیٰ یاد آ گیا ؟ کیا یہ صریحاََبد نیتی نہیں تھی ؟ کیا یہ َ بد نیتی نہیں تھی کہ کورٹ سے ایک ماہ کا وقت حاصل کر کے کسی نہ کسی صورت میں 23 فروری تک کیس کو لٹکا دیا جائے تاکہ سوئس عدالت میں کیس ری اوپن نہ ہو سکے اور نہ رہے بانس ، نہ بجے بانسری، ؟۔بطور وکیل اعتزاز صاحب جتنے جی چاہے پینترے بدلیں لیکن بطور سیاست دان قوم ان سے یہ پوچھنے کا حق رکھتی ہے کہ اس طویل نظم کا کیا ہوا جس سے قوم کو مستقبل کے سہانے خواب دکھا کر کئی ماؤں کی کوکھیں اجاڑی گئیں ،کئی گھروں میں صفِ ماتم بچھی اور کئی سہاگنوں کو بیوگی کی دہلیز پر پر اپنی چوڑیاں توڑنی پڑیں؟ سانحہ 12 مئی کراچی کا حساب کون دے گا ، زندہ جلا دیئے گئے وکلاء کی راکھ کو وہ کس گنگا میں بہانے کا مشورہ دیں گے ؟۔اگر ڈاکٹر اسرار شاہ کی کٹی ہوئی ٹانگوں اور ساہیوال کے تیزاب سے جھُلسے ہوئے وکیلوں کی قربانیوں کا مآل یہی ہے تو پھر آفرین ہے اعتزاز صاحب پر۔

فیصلہ تو خیر کورٹ نے کرنا ہے جو یقیناََ اعتزاز احسن کا چہرہ دیکھ کر نہیں کیا جائے گالیکن یہ بہرحال مسّلم الثبوت ہے کہ حکومت ججز کی بحالی سے لے کر کل تک بد نیت تھی اور آج بھی ہے ۔پچھلے دنوں حامد میر کو دئیے گئے انٹر ویو میں صدر زرداری پوری قطعیت سے یہ کہہ چکے ہیں کہ سوئس حکومت کو خط لکھنا بے نظیر کی قبر کے ٹرائل کے مترادف ہے ۔انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ بی بی شہید ہیں اور اسلام میں شہید کے سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ۔بجا ارشاد لیکن بہتر ہوتا کہ زرداری صاحب پہلے دینِ مبین کے ’’فلسفۂ شہادت‘‘ کو سمجھ لیتے یا کسی مفتی سے فتویٰ لے لیتے ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ اپنی ذات کا دفاع کرتے کرتے وہ ’’بی بی‘‘ کو بھی متنازع بنا دیں جیسے ’’بھٹو مرڈر کیس‘‘ کو ری اوپن کروا کر وہ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کو متنازع بنا چکے ہیں۔ ہمارے ہاں تو کئی متنازع شہید ہیں۔بہت سے لوگوں کے نزدیک ضیاء الحق آمر تھے جب کہ کثیر تعداد انہیں بھی شہید گردانتی ہے ۔صدر صاحب تو خود ضیاء الحق کی قبر کا ٹرائل کروا رہے ہیں ۔ضیاء کے متوالے بھی تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ’’ شہید ‘‘ کے سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ۔البتہ اگر پی پی پی ’’سیاسی شہادت ‘‘ کی طلبگار ہے تو الگ بات ہے کہ پی پی پی کو سیاسی اکھاڑے میں کودنے کے لئے ہمیشہ ایک شہید درکار ہوتا ہے ۔اب کی بار ’’سیاسی شہادت ہی سہی ۔ویسے بھی محترم زرداری صاحب اس فن میں طاق ہیں ۔انہوں نے تو اپنے پورے خاندان کو ’’بھٹو‘‘ بنا ڈالا، سیاسی شہادت کو اصلی شہادت کا روپ دینا تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔ حصولِ مقصد کے لئے بد زبان و بد کلام بابر اعوان کو عدلیہ کی توہین کا ٹارگٹ دیا گیا تھا ۔اس نے اپنی معطلی پر ایک دفعہ پھر عدلیہ کی توہین کی لیکن اس بار اس نے انتہائی منافقت سے کام لیتے ہوئے ’’واللہ ھو خیر ا لرازِقین‘‘ کہہ کر اعلیٰ عدلیہ کو یہ پیغام دیا کہ معطلی کی اسے کوئی پرواہ نہیں۔کیونکہ اس کا رزق ججز کے ہاتھ میں نہیں۔ بابر اعوان کی معطلی پر علی احمد کرد بڑے عرصے بعد ایک دفعہ پھر اپنی زلفوں کو لہراتے مٹکاتے نظر آئے ۔انہوں نے فرمایا کہ وہ توہینِ عدالت کے قانون کو نہیں مانتے اور پارلیمنٹ کو چاہیے تھا کہ اٹھارھویں ترمیم میں آئین کے اس آرٹیکل کو بھی ختم کر دیتی ۔ایک وکیل کی زبان سے یہ جملے سن کر یقیناََ وکلاء کے سر شرم سے جھُک گئے ہونگے جب کہ ایک عام شہری یہ سوچ رہا ہے کہ اگر وہ علی احمد کرد کی زلفوں اور عدلیہ بحالی تحریک کے دوران کی گئی مجنونانہ حرکتوں پر لکھ دے تو کُرد صاحب فوراََ ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کر دیں گے لیکن اگر ایک جعل ساز کورٹ کے احاطے میں یہ کہہ دے کہ ’’نوٹس ملیا تے ککھ نہ ہلیا‘‘ تو توہینِ عدالت کا قانون ہی ختم کر دیا جائے ۔کیا (خاکم بد ہن) معزز و محترم جسٹس صاحبان علی کرد سے بھی ’’گئے گزرے‘‘ ہیں؟ شاید کرد صاحب پنجابی زبان سے نا بلد ہیں وگرنہ وہ ایسی بات کبھی نہ کہتے کیونکہ اس جملے کے پنجابی میں انتہائی غلیظ معانی نکلتے ہیں۔اعلیٰ عدلیہ نے بابر اعوان کی تمام تعلیمی اسناد اور دیگر ریکارڈ منگوا لیا ہے اب سب کو پتہ چل جائے گا کہ پاکستان میں جعلی ڈاکٹر بھی وزارتِ قانون کا قلمدان سنبھال سکتے ہیں ،لیکن یہ کوئی بڑی بات نہیں ، اگر میٹرک پاس او جی ڈی سی اورکلب مینجراین آئی سی ایل کے چیئر مین بن سکتے ہیں تو بابر اعوان وزیرِ قانون کیوں نہیں ؟ یہ اعلیٰ عدلیہ کے لئے بھی ’’ٹیسٹ کیس‘‘ ہے۔ تحقیق کہ اگر بابر اعوان کو اس کی سزا نہ دی گئی تو قوم کا عدلیہ پر سے بھی اعتماد اُٹھ جائے گا اور وہ یہ سوچنے میں حق بجانب ہو گی کہ اگر اعلیٰ عدلیہ میزانِ عدل کی حرمت کی حفاظت سے معذور ہے تو پھر اسے خاموشی سے مستعفی ہو کر گھر چلے جانا چاہیے ۔قوم خود ہی ان سے حساب لے لے گی۔ لیکن چیف صاحب تویہ کہتے ہیں کہ ’’ہمیں اپنے فیصلوں پر عمل کروانا آتا ہے‘‘ ۔بجا ارشاد لیکن قوم عمل در آمد کی منتظر ہے کیونکہ کم از کم ۵۵ فیصلے تو ایسے ہیں جن پر ابھی تک عمل نہیں ہوا اور میگا کرپشن کے سارے کردار کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں، مجرمان ایوانِ صدر یا ایوانِ وزیرِ اعظم میں پناہ لئے ہوئے ہیں ، عدلیہ جس پر مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتی ہے اسے چیف سیکرٹری بنا دیا جاتا ہے اور جسے سزا دیتی ہے اسے ایوانِ صدر سے معافی مل جاتی ہے ۔
محترم چیف صاحب ! سو صفحات پر مشتمل آئین نامی دستاویز تو اشرافیہ کے گھر کی لونڈی ہے ۔اگر ایسا نہیں تو پھر عوامی استحصال کے آرٹیکل ۳پر آج تک عمل کیوں نہیں ہوا ؟۔آرٹیکل ۲۵۱ کے تحت ۱۵ سال میں اردو کو قومی زبان کیوں نہیں بنایا گیا ؟۔غداری کے آرٹیکل ۶ اور نا اہلی کے آرٹیکلز ۶۲ اور ۶۳ کو آج تک استعمال کیوں نہیں کیا گیا ؟ اور سب سے بڑھ کر آرٹیکل ۲۲۸ کے تحت اسلامی نظریاتی کونسل نے تمام قوانین کو ۷ سال میں اسلامی ڈھانچے میں کیوں نہیں ڈھالا؟ آج تو اعتزاز احسن اپنی پارٹی کا حقِ نمک ادا کرتے ہوئے استثناء کے ڈھنڈورچی بنے پھرتے ہیں لیکن کچھ ہی عرصہ قبل اسی معزز عدالت میں پرویز مشرف کے استثنا کے خلاف وہ بڑے جذباتی انداز میں حضرت عمرؓ کے دور کی مثالیں دے رہے تھے ۔کیا ہوا جو اعتزاز صاحب نے پارٹی بدل لی ہے ۔سوال مگر یہ ہے کہ کیا آرٹیکل ۲۴۸ واضح طور پر آرٹیکل ۲۲۸ سے متصادم نہیں؟ ۔اگر ایسا ہے تو پھر یا تو استثنائی آرٹیکل ۲۴۸ کو ختم کر دیں یا ۲۲۸ کو کیونکہ پارلیمنٹ جو چاہے کہتی پھرے ۔لیکن آئین کی تشریح کا اختیار تو بہرحال عدلیہ ہی کے پاس ہے
وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی صاحب سرگودھا کے جلسۂ عام میں فرما رہے تھے کہ بیساکھیوں پر آنے والے انقلاب نہیں لا سکتے ۔بالکل بجا کہا ، ان کی حکومت واقعی ایم۔کیو۔ایم ، اے۔این ۔پی ، ق لیگ اور ان جیسی کئی دیگر بیساکھیوں کے سہارے چل رہی ہے۔اس سے انقلاب کی توقع رکھنا عبث ہے البتہ وہ کرپشن میں واقعی ایسا انقلاب لا چکی ہے جس کی نظیر ملنا مشکل ہے ۔لیکن یہ بہرحال یہ طے ہے کہ پی۔پی۔پی مل بانٹ کر کھاتی ہے اسی لئے اس کے اتحادی خوش اور اس کی آواز پر لبیک کہتے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ این آر او اور میمو گیٹ سکینڈل میں بری طرح پھنسنے کے بعد اس نے ایم۔کیو۔ایم کو مدد کے لئے پکارا اوراس نے نئے صوبوں کا شوشہ چھوڑا ۔ ایم کیو ایم جو خود تو کراچی کے پانچ ضلعے بنانے پر تلملا اٹھتی ہے وہ ہزارہ اور سرائیکی صوبہ کی قرار داد اسمبلی میں لے آئی حالانکہ اس کی نہ تو سرے سے صوبہ خیبر پختونخواہ میں نمائندگی ہے اور نہ ہی پنجاب میں ۔یہ ایم کیو ایم کی ملک میں افراتفری پیدا کرنے کی محض ایک سازش ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ایم کیو ایم ’’جناح پور‘‘ کے سحر میں ابھی تک گرفتار ہے ۔اس کا خیال ہو گا کہ شاید اسی طریقے سے اس کے دیرینہ خواب کی تکمیل ہو سکے اور وہ ۱۹۹۲ ء کے بھگوڑے قائد کو واپس لا سکے ۔اس معاملے میں اے۔این۔پی اور نواز لیگ کا مؤقف نہ صرف صائب بلکہ قابلِ عمل بھی ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ جو پارٹی نئے صوبے بنانا چاہتی ہے وہ آمدہ الیکشن میں اپنے ایجنڈے میں رکھے اور اگر عوام اسے کامیاب کریں تو بسم اللہ۔ ایم کیو ایم آئینی ترمیم کے لئے دو تہائی اکثریت کسی صورت میں بھی حاصل نہیں کر سکتی ۔یہ محض دیگر معاملات سے توجہ ہٹانے کا ایک ڈھونگ ہے ۔ کیا پی۔پی۔پی ایسے ہتھکنڈوں سے قوم کی توجہ این۔آر۔او اور میمو گیٹ سے ہٹاسکے گی؟ ۔یہ بجا کہ طرح طرح کی دھمکیوں اور شدید امریکی دباؤ کی بنا پر منصور اعجاز نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا لیکن یہ عدالتی کمیشن تو چیف آف آرمی سٹاف اور آئی ایس آئی کے سر براہ کے حلفی بیانات کو مدِ نظرر کھتے ہوئے قائم کیا گیا تھا ۔اس کو منطقی انجام تک پہنچانا بھی اب انہی کی ذمہ داری ہے ۔ این آر او کے معاملے پر اعلیٰ عدلیہ “پوائنٹ آف دی ریٹرن” پہ پہنچ چکی ہے ۔اگر این آر او پر فیصلہ حکومتی ایما پر ہی آنا ہوتا تو قوم کو پچیس ماہ کی سولی پر نہ لٹکایا جاتا ۔اس لئے پی۔پی۔پی اپنی خواہش کے مطابق ’’سیاسی شہید‘‘ تو بن سکتی ہے لیکن اپنی مرضی کے فیصلے نہیں کروا سکتی ۔

Viewers: 3533
Share