Hafiz Muzafar Mohsin | Column | زندہ رہنے کے لیے میاں محمود الرشید جیسے ساتھی چاہیے‘‘

حافظ مظفر محسن 101چراغ پارک شاد باغ لاہور فون: 03009449527 ’’ زندہ رہنے کے لیے میاں محمود الرشید جیسے ساتھی چاہیے‘‘ ’’ زندہ رہنے کے لیے اخبار پڑھنا ضروری ہے‘‘۔ […]

حافظ مظفر محسن
101چراغ پارک شاد باغ لاہور
فون: 03009449527

’’ زندہ رہنے کے لیے میاں محمود الرشید جیسے ساتھی چاہیے‘‘

’’ زندہ رہنے کے لیے اخبار پڑھنا ضروری ہے‘‘۔
والد صاحب نے سروے کے جواب میں اپنی رائے دی مگر میں نے فوراً حسبِ عادت اختلاف کرتے ہوئے گزارش کی کہ ۔
’’ زندہ رہنے کے لیے ٹیلی ویژن دیکھنا ضروری ہے‘‘۔
میرے بیان کے فوراً بعد۔ میں حیرت زدہ ہوا جب سب بچوں نے اِک ساتھ اپنی رائے دیتے ہوئے جذباتی انداز میں کہا۔
’’ زندہ رہنے کے لیے اسکول سے چُھٹی ہونا ضروری ہے‘‘۔
اِس دوران میرے ذہن میں خیال آیا کہ اگر کوئی معروف سیاستدان میاں محمود الرشید سے پوچھے کہ زندہ رہنے کے لیے کیا ضروری ہے تو وہ برجستہ کہیں گے۔
’’ عمران خان کا فوراً وزیراعظم بننا‘‘
ویسے جس طرح تعلق ، دوستی اور ساتھ میاں محمودالرشید نے نبھایا ہے اور گزشتہ چھ سال سے تحریک انصاف کو کندھا دئیے رکھا گرنے نہ دیا۔ ایک طویل تھکا دینے والا انتظار کیا، اتار چڑھاؤ دیکھے مگر ہمت نہ ہاری، دوستوں دشمنوں کی جلی کٹی سُن کر بھی چہرے پر شکن نہ پڑنے دی، یہاں تک کہ تحریک انصاف کو اک نہایت کامیاب جلسہ مینار پاکستان کے زیر سایہ کروادیا۔ ایسے میں اگر کوئی عمران خان سے اِن حالات میں پوچھے کہ زندہ رہنے کے لیے کیا ضروری ہے؟۔ عمران خان ضرور کہیں گے۔ کہ
’’ میاں محمودالرشید جیسے مخلص اور عقیدت و محبت کے پیکر دوستوں اور جرات مند ساتھیوں کا ساتھ‘‘ ۔ اب تو تحریک انصاف کے پاس بڑے سرکردہ راہنماء موجود ہیں مگر اِن میں سے اکثر کی آمد یا موجودگی ایسے ہی ہے۔ جیسے کرائے کی گاڑی ۔ جب چاہے واپس مانگ لی جائے۔ اگر چہ دعوے بڑے بڑے ہیں مگر اِس میں شک نہیں کہ دھڑ کا تو لگا ہی رہتا ہے۔ کیونکہ ہماری تاریخ ایسے ’’ نامور وفاداروں ‘‘ سے بھری پڑی ہے جو چڑھتے سورج کی پوجا کے ماہر ہیں اور پارٹیاں بدلتے ہوئے کبھی بھی شرمندگی محسوس نہیں کرتے میرا دوست مبین رشید اِن ’’ ماھرین ‘‘ کے حوالے سے اِک کتاب ’’ الٹم پلٹم ‘‘ کے نام سے ترتیب دے رہا ہے۔ مبین رشید کیا کیا دکھائے گا، کس کس چہرے سے پردہ اٹھائے گایہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
تو لاکھ پیار کے منتر پڑھتا رہ ساجد
جن کی فطرت میں ہو ڈسنا وہ تو ڈسا کرتے ہیں
میں تو یہ جانتا ہوں کہ ہم جو اسلامی جمیت طلبہ سے کسی دور میں وابستہ رہے ۔ ہمارے لیے وہاں ہم نے جو کچھ سیکھا سمجھا اور جانا۔ ساری زندگی کام آئے گاہماری راہنمائی کرے گا۔ جمیعت میں آمد کا مطلب ایسے ہی ہے۔ جیسے ہم نے تعلیم کے ساتھ ساتھ کسی ادارے میں تربیت کے لیے داخلہ لے لیا۔ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ، لاہور میں ایف ۔ایس۔ سی کے دوران ہمیں سینئر ترین اساتذہ سے بہت کچھ سیکھنے سمجھنے کا موقع ملا، سٹارٹ میں ہی جمیعت کے اجتماعات میں شرکت نے ہمارے اندر جو سب سے اہم چیز پیدا کی وہ خود پر اعتماد تھا جو بہت زیادہ پڑھ لکھ جانے اور ڈگریاں حاصل کر لینے کے باوجود کبھی کبھی نوجوانوں میں پیدا نہیں ہوتا ۔ فسٹ ائیر کا طالب علم جب سو دو سو کے مجمع میں بات کر تا ہے۔ کچھ ہچکچاہٹ کے بعد وہ اپنا بیان کر ڈالنے میں کامیاب ہو جاتاہے۔ تو اُس کا اعتماد بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اُس میں دوران طالب علمی جرات مندی پیدا ہو جاتی ہے۔ اور خوامخواہ کی SHYNESS سے اس کی جان چھوٹ جاتی ہے۔ اقبال ؒ کے اشعار میں مسلم نوجوانوں کو یہی سبق درس دیا گیا۔
آرائیں فیملی سے تعلق رکھنے والے میاں محمود الرشید کی تربیت وکردار میں بھی اسلامی جمیعت طلبہ کا ہاتھ ہے کہ اِسی ادارہ میں پھیلنے پھولنے والے میاں محمودالرشید پائلٹ اسکول وحدت روڈ سے میٹرک امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی داخل ہوگئے ۔ پائلٹ ہائی سکول میں چند ٹاپ کلاس طلبہ میں چونکہ شمار ہوتا تھا۔ اِس لیے اپنی قابلیت کے بل بوتے پر اُنہوں نے یہاں سے سکالرشِپ حاصل کیا۔ یہ ہوتے ہیں سیلف میڈ انسان ۔
پنجاب یونیورسٹی میں بی۔ اے آنرز کرنے کے لیے اُنہوں نے اکنامکس کو بطور مضمون چُنا اور وہاں بھی ہر کلاس میں سکالر شِپ حاصل کیا اور ایک ہونہار طالب علم کا ریکارڈ قائم رکھا۔
سیاست میں شمولیت 1972میں کی اور ایک سال بعد ہی انفارمیشن سیکرٹری کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اسی دوران جمعیت میں اُن کو لیاقت بلوچ ، حافظ سلمان بٹ، امیرالعظیم ، چوہدری اعجاز اور نوید صادق جیسے نہایت جوشیلے ساتھیوں کی رفاقت نصیب ہوئی۔ 1974 میں میاں محمودالرشید اپنی قابلیت اور خداد صلاحیتوں کے باعث اسلامی جمعیت طلباء لاہور کے سیکرٹری کے عہدے کے لیے چُنے گئے۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ جمعیت کے لیے خدمات سر انجام دینا معمولی بات نہیں۔
میاں صاحب کو شاید خود بھی علم نہ تھا کہ وہ مستقبل میں پاکستان کے سیاسی قائدان میں شامل ہونگے اور لاہور کی سیاست سے جو آغاز اُنہوں نے کیا ہے اُس سے آگے بڑہتے ہوئے وہ ملکی سطح پر ایک بہت بڑی اُبھرتی پارٹی کے سیکنڈ اِن کمانڈ بن کر اپنا رول پلے کریں گے اور بہت بڑے بڑے تجربہ کار نامور ترین سیاستدان اُن کے پیچھے بیٹھیں گے۔
1976میں میاں محمود الرشیدجمعیت لاہور کے صدر اور پھر پنجاب جمعیت کے صدر کا عہدہ بھی 1978میں اُن کو نصیب ہوا۔ گویا وہ طلبہ قیادت میں اپنی شخصیت اور اعلیٰ کارکردگی کو منوا چکے تھے۔ اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اِس سطح پر پہنچ جانا کوئی معمولی بات نہ تھی۔ لاہور کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اس وقت جمعیت کا راج تھا اور یہ سب اعلیٰ قیادت کا مرہونِ منت تھا۔
میاں محمود الرشید ؔ بظاہر ایک نہایت سنجیدہ شخصیت دکھائی دیتے ہیں۔ مگر میں اُس وقت متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا جب میں نے اُنہیں ہر مکتبہ فکر کے پیرو جواں کے درمیاں محفل سجائے بلکہ گرمائے دیکھا۔ اُن کی یہ خوبی دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ جمعیت طلبہ سے وابستہ یہ قائدانہ صلاحیتوں کا مالک شخص جہاں طلبہ کو کنٹرول اور اپنی مرضی کے دھارے میں لیے چل سکتا ہے۔ یقیناًوہ جب عملی سیاست میں آیا ہوگا تو اُس نے خوب کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھے ہونگے۔ نام بھی کمایا ہو گا۔ اور اپنی انتظامی صلاحیتوں کو بھی منوایا ہو گا۔ لاہور کی سیاست میں آرائیں برادری کا بڑی دیر سے بھر پور عمل دخل ہے۔ ہم آزادی کے کچھ ہی عرصہ بعد دیکھیں تو طویل عرصہ تک میاں عبدالخالق لاہور کے میئر یا منتظم رہے اور لاہور کی سیاست میں چھائے رہے۔ پھر لاہور کی سیاسی زندگی میں اتار چڑھاؤ کے بعد میاں شجاع الرحمٰن کا گھرانہ، میاں معراج دین باغبانپورہ، میاں منیر اچھرے والے، میاں محمد حسین ساندہ والے اور بہت سے دوسرے نامور گھرانے عملی سیاست میں اترے اور چھائے رہے۔
میاں شجاع الرحمان اپنی سادہ طبعیت نیک نامی اور پاکستان سے محبت کے حوالے قابل قدر شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے اور طویل عرصہ تک وہ لاہور کے مئیر رہے اور شہر لاہور کی تعمیر و ترقی میں اُن کی بڑی نمایاں خدمات ہیں جو ناقابل فراموش ہیں۔ میاں شجاع الرحمٰن کی رہائش اور پھر اُن کی میڈیسن کمپنی شاذو لیبارٹری کے ساتھ ’’ کوآپ سٹور‘‘ کا علاقہ جو شمالی لاہور کی بہت سی بستیوں کو باہم ملاتا ہے۔ وہاں ٹریفک روزانہ پھنس جاتی اور شام کے بعد یہ سب معاملہ ناقابل کنٹرول ہو جاتا ۔ تیزاب احاطہ کاچھوپورہ، گھوڑے شاہ ، مصری شاہ اور شاد باغ جانے والے لاکھوں عوام کے لیے یہاں شدید مشکلات پیدا ہو تیں ۔ اِس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اِس نیک دل گھرانے نے اپنی ذاتی زمین سڑک کے لیے وقف کر دی اور چھ سات فٹ چوڑا راستہ پندرہ فٹ سے زیادہ چوڑا ہو گیا۔ شمالی لاہور کے عوام نے میاں شجاع الرحمٰن کے اِس فلاحی قدم کو بے حد سراھا اور اِس گھرانے کی عزت میں مرتبے اور مقام میں اِس عمل سے بے حد اضافہ ہوا۔ایسی ایثار کی مثال کاش دوسرے سیاستدان بھی دیتے؟!۔ مگر ایسی کوئی مثال نہیں۔
اِس نیک عمل اور اِس گھرانے کی بہت اچھی شہرت کا اثر تھا کہ میاں شجاع الرحمٰن کے بعد اُن کے نیک سیرت اور خاموش طبع صاحبزادے میاں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے بھی جب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تو اُنہیں بے حد کامیابی نصیب ہوئی۔ میاں شہباز شریف کی وزارتِ اعلیٰ میں مجتبیٰ شجاع الرحمٰن اہم ترین وزارتوں پر تعنیات رہے اور آج کل بھی وزیر تعلیم کا قلمدان میاں مجتبیٰ شجاع کے پاس ہے۔
اِس کے علاوہ میاں محمد اظہر بھی آرائیں خاندان سے ہیں۔ وہ بھی طویل عرصہ لاہور کے میئر رہے اور پھر گورنر پنجاب بھی بنے اور خوب شہرت کمائی۔ لاہور کے موجودہ مئیر میاں عامر محمود بھی آرائیں گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ بھی تقریباًدس سال سے لاہور کی قیادت سنبھالے ہوئے ہیں۔ میاں عامر محمود نے پنجاب کے تعلیمی ماحول میں ایک انقلاب سا بپا کیا۔
میاں محمود الرشید چونکہ نیک سیرت سیاست دان کے طور پر جانے جاتے ہیں اِس لیے وحدت کالونی، پائلٹ ہائی اسکول ، مسلم ٹاؤن اور اقبال ٹاؤن میں اُن کا سیاسی طور پر بڑا اثر رسوخ ہے اور عوام میں ہر دم اُن کی پذیرائی ہو تی ہے۔ گویا ٹھوکر نیاز بیگ سے چوبرجی تک میاں محمود الرشید عوام میں بے حد مقبول ہیں۔
میں نے جب وہ 1979 اور پھر 1983 میں بلدیاتی الیکشن میں کونسلر کی سیٹ پر جیتے۔ اُن کو ہر وقت عوام خاص طور پر اُن غریب لوگو ں کا جن کاکوئی پُرسان حال نہیں ممدو معاون پایا۔ لوگوں کی عرضیاں ، شکایت اور شکایات سے بھرے شاپر ہوتے اور میاں محمود الرشید ہوتا۔ یہ شخص ہر آنے والے کو خوش دلی سے ملتا ہے یہ بہت کم سیاستدانوں میں دیکھا گیا ہے۔ آج کے دور میں بہت کم عوامی راہنماء ہیں جو رات دن ہر لمحہ اپنے ووٹر ز اور عوام الناس کے ساتھ ہر وقت ہر جگہ جانے کو تیار رہتے ہیں۔ اِن کی اپنی سواری ہوتی ہے۔ اور مسائل و مصائب کا شکار ووٹرز ہوتے ہیں۔ جہاں دن رات نہیں دیکھا جاتا ۔ خدمت کا جذبہ ہوتا ہے۔ جس میں عبادت کا عنصر نمایاں ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں روایت ہے اور اِک بہت بُری روایت ہے کہ الیکشن جیت جانے کے بعد عوامی نمائندے چُھپ جاتے ہیں عوام سے اپنے ووٹرز سے دُور ہو جاتے ہیں۔ اور اُن کے روئیوں میں واضح تبدیلی نظر آنے لگتی ہے۔ خوشی غمی میں ہر دم شریک ہونے والوں میں لاہور شہر کا یہ سپوت ہر دم سر فہرست ہوتا ہے ۔
بے لوث خدمات کے لیے1988 اور پھر 1990 میں میاں محمود الرشید نے اپنے اِس حلقے سے ممبر صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور دونوں دفعہ کامیابی حاصل کی۔ جو اِس بات کا مُنہ بولتا ثبوت ہے کہ اِس سیاستدان کا عوامی سطح پر گراف نہیں گرا کیونکہ دونوں بار میاں محمود الرشید نے کسی بھی سیاسی جماعت کے بینر تلے الیکشن نہیں لڑا۔ آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا اور بڑے بڑے سیاسی مچھندروں کو چت کیا۔ محض عوامی تعاون کے بل بوتے پر۔ اپنی سابقہ خدمات کے باعث۔سندھ میں گھرانے ایسے لگاتار الیکشن جیتے ہیں۔
میاں محمود الرشید لاہور میں بہت عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ اُن کا شمار لاہور کے اُن چند کامیاب سیاستدانوں میں ہوتا ہے۔ کہ جن پر کبھی بھی کسی قسم کی کرپشن کا الزام نہیں لگا۔ ورنہ ہمارے ہاں تو ہر دم نئے سے نیا سکینڈل منظر عام پر آتا ہے۔ جہاں چھوٹے کے ساتھ بڑے بھی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔
خود تو ڈوبے ہیں صنم تجھ کو بھی لے ڈوبیں گے
ہمارے موجودہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور اُن کے خاندان کی ابھی حج سکینڈل سے ہی جان نہیں چھوٹی تھی۔ اُن کے وزیر مذہبی امور سید احمد سعید کاظمی آف ملتان ابھی تک کرپشن چارجز پر جیل میں ہیں۔ کہ کروڑوں روپے کا سکینڈل خُرم رسول کے حوالے سے سامنے آگیا۔ یہ شخص سید یوسف رضا گیلانی کے ساتھ جیل میں رہا۔ دوستی پروان چڑھی اور پھر وہ وزیراعظم کا میڈیا ایڈوائزر بن گیا۔ وہ شاید اِسی تاک میں تھا۔ نہ جانے اِس کا خاندانی پس منظر کیا تھا کہ اِس نے وزیراعظم ہاؤس کو گندہ. کر دیا۔
چھوٹا برتن ۔کم ظرفی کی علامت
والی بات اِس شخص نے اپنی اور اپنے دوست کی عزت و مرتبہ نہیں دیکھا اور اُس مقام کا پاس نہیں کیا کہ جواس وقت اُن کو مل چکا ہے اِس نے بہتی گنگا میں خوب ہاتھ دھوئے۔ دل کھول کر فراڈ کیا۔ ڈبل شاہ جیسے فنکار کو پیچھے چھوڑ ا اور دل کھول کر لوٹ مار کی۔ یہ سوچ کر کہ۔
بابر بہ عیش کوش۔ کہ وزارتِ عظمیٰ دوبارہ نیست
حالانکہ جو آدمی جس قدرقابل نہ ہو اُسے اگر وہ مرتہ و مقام مل جائے تو اُسے چاہیے کہ وہ پھونک پھونک کر چلے۔ اپنی عزت کا بالکل خیال نہ کرے۔ (کیونکہ ’’ بھوکے کو کٹورہ ملے تو وہ پانی پی پی کر اپھارہ کر لے گا‘‘؟) لیکن جس دوست یا ہمدرد نے اُسے یہ شان دے ڈالی اُس کی عزت و مرتبے کا تو خیال کرے مگر یہاں بڑے چھوٹے سب اِس کام میں محو ہیں دل کھول کر لوٹ لو اور بھاگ نکلوکے فارمولے پر عمل پیرا ہیں۔ کہ پھر فرار ہوجانا اکثر سیاستدانوں کا وطیرہ ہے۔
میاں محمود الرشید کا سابقہ کیرئیر اس بات کا خماز تھا کہ اُنہوں نے کاروبار اور اپنی سیاست کو مکس اپ نہیں کیا۔ خوب دل لگا کر کاروبار کیا۔ خون پسینہ ایک کر کے اپنے بچوں کے لیے رزقِ حلال کمایا۔ اور سیاست کو عوامی خدمت سمجھ کر کیا۔ کہ نیک نامی ایسے سادہ دل لوگوں کا طُرہ امتیاز ہوتی ہے۔ اور ہر محفل ہر مجلس میں ایسے سیاستدانوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جا تا ہے اور مرتبہ و مقام ملتا ہے۔ تاریخ اسلامی میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کردار ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔
1997 میں جب پاکستان تحریک انصاف کا تاسیسی اجلاس ہوا تو عمران خان کی بے داغ قیادت کو دیکھتے ہوئے۔ میاں محمودالرشید نے بھی اِس میں پر جوش انداز میں شرکت کی اور عمران خان کے ہاتھ مضبوط کر نے کا عہد کیا۔ میاں محمودالرشید کے علاوہ اِس اجلاس میں راجہ عابد، حفیظ خان، ڈاکٹر عارف علوی، فردوس نقوی اور احسن رشید وغیرہ بھی شریک تھے۔ اِس دوران یہ سیاسی سفر اور خاموش جدوجہد جاری رہی اور عمران خان کے ساتھ ساتھ میاں محمودالرشید جیسے مخلص دوست بھی پاکستان تحریک انصاف کے بناؤ سنگھار میں مصروف رہے۔ طویل عرصہ سے میاں محمودالرشید پاکستان تحریک انصاف کو پنجاب کے ساتھ ساتھ لاہور میں بھی منظم کرتے چلے آرہے ہیں۔
وہ پرانا محاورہ۔ ’’ دائمے درمے سُخنے‘‘۔ میاں محمود الرشید بھی اِس محاورہ کی عملی تصویر بنے عمران خان کی قیادت میں ۔ اِس سفر پر رواں دواں ہے۔ یہ مشرف دور تھا جس میں کسی کو کچھ سمجھ نہ آیا کہ یہ ڈکٹیٹر کیا چاہتا ہے اس کے آقا کیا سوچتے ہیں اور یہ بھنور میں پھنسی کشتی کب کنارے لگے گی۔ یہ اِ س کی سمت کون اور کب متعین کرے گا۔ بہرحال جب پاکستان تحریک انصاف کو فعال سیاسی پارٹی کے طور پر سامنے لے آنے کا فیصلہ ہو ا تو 2007 میں واحد عوامی قائد کے طور پر میاں محمود الرشید ، عمران خان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے اور اپنی پوری توانائی اِس سیاسی سفر میں عمران خان پر نچھاور کردی۔
میاں محمود الرشید کو میں نے اِک ملاقات میں جب کہا کہ میاں صاحب آپ وہ ساتھی ہیں جو طویل تھکا دینے والے سفر میں بستر بوریا اٹھائے ساتھ ہوتے ہیں۔ کیمپنگ بھی کرتے ہیں۔ محنت مزدوری یعنی اپنا خون پسینہ ایک کرتے ہیں رات دن جاگتے ہیں، امام کا ہر حکم سر آنکھوں پر ، آرام و سکون کا بھی خیال نہیں رکھتے۔ لیکن جب منزل قریب آتی ہے۔ آرام دہ بستر منتظر ہوتے ہیں تو آپ پھر سے پہرے دار کے طور پر خدمات سر انجام دینے کے لیے خود کو وقف کر دیتے ہیں؟‘‘۔ اندھیری رات میں ’’جاگو رہو بھائی‘‘ کی صدائیں بلند کرتے ہیں۔ آرام نہیں کرتے۔
میاں صاحب میری اِس طویل کہانی پر دل کھول کر ہنسے اور آہستہ سے بولے۔ ’’ مظفر صاحب۔ ہم اول تو کسی کے ساتھ چلتے نہیں ۔ جب کوئی دل کو بھاہ جائے تو پھر ہم بیعت کر لیتے ہیں۔ اور کبھی بڑے عہدے یا رتبے کی خواہش نہیں کی عام کارکن کی طرح چل پڑتے ہیں۔ مشکلات سہنے ، مسائل سے نپٹنے اور آندھی طوفان میں مردانہ وار کھڑے ہو کر ساتھ نبھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہ یہی ایک عوامی سیاسی کارکن کی تعریف ہے اور عمران خان تو ہمیں دل سے محبت کرتا ہے۔ اور ہم اُسے اُمید کی واحد کرن کے طور پر اِس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں دیکھتے ہیں ۔ اِس لیے یہاں مفادات کا خیال نہیں رکھنا، اپنی انا پرستی کو ایک طرف رکھ کر میاں محود الرشید آپ کو ہر گھڑی اِس نئے عوامی قائد کے ساتھ ہر جگہ شانہ بشانہ کھڑا دکھائی دے گا!۔ یقین نہ آئے تو لاہور اور کراچی میں ہونے والے مثالی جلسوں اور تاریخی ریلیوں پر نظر ڈال لیں۔
میں نے میاں محمود الرشید کے ماتھے پر پسینہ دیکھا جو اُن کے دلی جذبات کی عکاسی کر رہا تھا۔ مجھے لگا کہ سینکڑوں خوشامدیوں کی آمد اور سیاسی گروہوں کی جوک در جوک یلغار ۔ میں اگر کوئی عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے لیے کا میابی کی علامت ہے تو وہ میاں محمودالرشید اور اس جیسے مخلص کارکن اور دیرینہ ساتھی ہیں ورنہ ’’ چھان بورا‘‘ تو ہر سیاسی پارٹی کے پاس بہت ہے اور بیچ چوک یا عین بھنور میں چھوڑ کر بھاگ جانے والوں کی تعداد تو لاکھوں میں ہے۔
سبق پھر پڑھ شجاعت کاصداقت کا عدالت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
پائلٹ ہائی اسکول لاہور سے سیاسی زندگی کا آغاز کرنے والا میاں محمود الرشید اِس وقت اعلیٰ ترین سیاسی قائد کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔ اس کی چمکتی پیشانی بتاتی ہے کہ آنے والے دِنوں میں وہ اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھ کر قوم کی راہنمائی کرے گا۔
یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی
اور یہ کلام بھی احباب کی نذر ہے۔
ہر طرف اندھیرا چھا یا تھا جب میری آنکھ کھلی
میں خود خود سے گھبرایا تھا جب میری آنکھ کھلی
میں مشرق ، مغرب اور شمال جنوب نہ ڈھونڈ ھ سکا
مجھے گرمی نے تڑیاپا تھا جب میری آنکھ کھلی
بچہ رویا، ماں چیخی دادا نے ہائے کی
میں کس کس سے ٹکرایا تھا جب میری آنکھ کھلی
مرغی کی ٹانگ سمجھ کے جب میں نے ہاتھ دیا
ہائے ہائے چلایا تھا جب میری آنکھ کُھلی
پتے شاخ سے اترے شاخ ہوئی ویران
جیسے قبر میں کوئی جا پہنچا انسان
پہلے صفحے کو دیکھ کے خوش ہور ہا ہے تو
اگلا صفحہ نکال تیرا نام ہے وہاں
دے دے کوئی مثال تیرا نام ہے وہاں
لکھے گا کوئی عشق کی مجھ جیسی داستان
ہر لفظ تیری شان ہر فقرہ تیرے نام
اِک بیاض کو سنبھال تیرا نام ہے وہاں
خوش ہو نا یوں زبان سے سن سن کے اپنا نام
آ دل میرا نکال تیرا نام ہے وہاں
***

Viewers: 2956
Share