Suhail Kakorvi | Article | تخیل پرفیضان کے رنگ

سہیل کاکوروی ۲۶؍قندھارلین لال باغ لکھنؤ تخیل پرفیضان کے رنگ قصبہ خیرآباد صوفیائے صاف طینت کی سرزمین ہے اوروہاں آباد ہے وہ خانقاہ جومسکن ہے حضرت مخدوم شاہ مینا سلطان […]

سہیل کاکوروی
۲۶؍قندھارلین لال باغ لکھنؤ

تخیل پرفیضان کے رنگ

قصبہ خیرآباد صوفیائے صاف طینت کی سرزمین ہے اوروہاں آباد ہے وہ خانقاہ جومسکن ہے حضرت مخدوم شاہ مینا سلطان اودھ کے روحانی جانشین حضرت مخدوم شیخ سعدؒ کا۔اس درپر ایک باربرسوں پہلے حاضری ہوئی تھی مولانا فاخر میاں قدس سرہ کاعقد محترمہ مطلوب النساء کے ساتھ ہواتھا۔جوحکیم شاہ ظفرعلی صاحب کی ہمشیرہ ہیں۔ مولانا فاخر میاںؒ میرے حقیقی خالہ زاد بھائی تھے اسلئے مخصوص باراتیوں میں اپنے والد کے ہمراہ میں بھی خیرآباد گیاتھا اوردرگاہ سعد علیہ الرحمہ پراپنے والدکے ساتھ حاضر ہواتھا اس وقت نہ توفیضان کامفہوم پتہ تھا نہ احساس اسے اخذ کرسکا تھالیکن ان عارفان کامل کا یہ وصفِ خاص ہے کہ یہ اپنے فیض کے چند چھیٹوں سے ہی سہی ہرشخص کوبامراد کردیتے ہیں۔ جوبھی انکے درپرآتاہے بامراد ہوتاہے تب کی حاضری کو زمانہ گزرگیا مجھے خانقاہ کاظمیہ کاکوری سے نسبت خادمیت اورنسبی نسبت حاصل ہے وہاں کے عرس کی محافل میں قوال جنید خیرآبادی مرحوم سے حضرت مخدوم صاحب کی وہ غزل بارہا سنی جس کا مقطع ہے ؂
اگرپرسند سعد ازعشق اوحاصل چہاداری
ملامت ہائے گوناگوں جراحت ہائے بے مرہم
حضرت پیرومرشد مولاناشاہ مصطفی حیدرقلندر کوبارہا اس شعرپر کیفیت ہوئی جومیرے لئے حاصل دید تھی اس پرمجھے بھی روحانی کیف بذریعہ اپنے شیخ حضرت شیخ سعد سے حاصل ہوا اس کے بعد اسے اوروسعت تب ملی جب موجودہ صاحب سجادہ کے حقیقی بھائی جناب ضیاعلوی سے تعلق قائم ہوا۔ضیاعلوی صاحب بہت ہی صاحب طرز شاعر اورصاحب ذوق روحانی شخصیت ہیں وہ مجھ سے محبت کرنے لگے اوراب براہ راست مخدوم صاحب سے تعلق قائم ہوگیا ۔ضیا علوی صاحب نے اپنے اشعار سے نوازتے رہتے تھے اورمیری شاعری پراپنی نہایت قیمتی رائے دیتے رہتے ہیں اس طرح میں توسمجھتاہوں کہ میں جوکہتاہوں بارگاہ سعدیہ میں پہونچ جاتاہے ان سے مجھے ایک خاص لگاؤ محسوس ہوتاہے اوران کے رویوں اورایسامحسوس ہی نہیں ہوتاکہ یہ ابھی حال میں قائم ہواتعلق ہے ۔دوسری اہم بات یہ بھی ہے کہ وہ میرے مخدوم محترم موجودہ سجادہ نشین خانقاہ کاظمیہ کاکوری حضرت شاہ عین الحیدر قلندر عرفیت ضیامیاں کی عرفیت کے حوالے سے ہم نام بھی ہیں اورعلوی ہونے کے سبب آفتاب عرفان وآگہی اورنورحقیقت ومحبوبیت مولائے کائنات حضرت علی مرتضی سے وابستگی مشترک ہے جومعراج محبوبیت آقائے دوجہاں سے سند اتحاد ویکتائی حاصل کئے ہوئے ہے جوتاابد قائم رہنے والی ہے اور’’میں اورعلی ایک نور سے ہیں‘‘برحق ہے۔
ان تمام باتوں کے پیش نظر حضرت مخدوم شیخ سعد سے ایک تازہ کشش پیدا ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے ۔سماع کے نظم میں میر کی موروثی حیثیت رکھنے والے قوال کفیل حسین کامیرے پاس باقاعدگی سے آنا جاناہے اورضیاعلوی صاحب سے میری ملاقات کاوسیلہ بھی وہی ہیں کفیل کومیراکلام محافل میں گانے کاشوق ہے۔ اوروہ حضرت خدا وند نعمت مولانا شاہ عین الحیدر قلندر کے نظریافتہ بھی ہیں اوربھائی ضیاعلوی کے بھی۔ ان کی کچھ خواہشیں اچانک اورغیر متوقع ہوتی ہیں مورخہ ۳؍ربیع الاول کوانہوں نے حضرت مخدوم شیخ سعدؒ کی شان میں مجھ سے ایک منقبت کی فرمائش کردی اورمخدوم صاحب کے فیضان کارنگین ابرآسمان تخیل پرچھاگیا اورمیرا وجوداس میں نہاگیا سوبار کوئی پیکر لطیف گیااورآیا مخدوم شاہ مینا کی روحانیت نے پرشکوہ اذن دے دیا۔شاہ مصطفی حیدرقلندر کی مستی اوررعنائی کی یادیں تازہ ہونے لگیں اورنگاہوں کے سامنے فیضان سعد کے رنگوں کاایک لامتناہی سلسلہ نظرآنے لگا منقبت کے یہ اشعار ہوئے۔
کیاخوب کھلاہے گل رعنائے رخ سعدؒ
اک حشر بدانماں ہے تماشائے رخ سعدؒ
اس در پر جو آئے ہیں دعا ایک ہے لب پر
جلوہ تیرااے کاش نظرآئے رخ سعدؒ
بس جائے میری جان میں یہ تصویر بہاراں
مجھ میں ہو فزوں اور بھی سودائے رخ سعد
رحمت کے حسیں رنگ ہیں آنکھوں میں لبوں پر
تسکین کا سامان ہیں گلہائے رخ سعد
جواس پرنظرڈالے وہ تاروح حسیں ہو
رعنائی ہی رعنائی ہے دنیائے رخ سعد
وہ دل میں بسائے ہے اس کی توتجلی
انوار سے سرمست ہے شیدائے رخ سعد
مینانے اسے دیکھ کے پہچان لیاتھا
بس ایک وہی ہیں جو ہیں دانائے رخ سعد
آیاہے سہیلؔ آج یہی بن کے سوالی
وہ تیری محبت سے سنور جائے رخ سعد
مندرجہ بالا منقبت استاذالشعراء جناب بشیر فاروقی نے سنی وہ سلسل�ۂ نقشبندیہ کے بزرگ حضرت شاہ مراداللہ کے نقشبندی کے سجادہ نشین بھی ہیں اورمیرے کرم فرمابھی۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ اس میں’’شیدائے رخ سعد‘‘ کاقافیہ ضرور کہاجائے ۔ میں نے تعمیل ارشاد کی اوراس طرح سلسلہ نقشبندیہ کی بھی شمولیت ہوگئی۔ اورمیں مولانا روم ؒ کی زبان میں کہہ رہاہوں۔
باتوسخنان بے زباں خواہم گفت
ازجملۂ گوشہانہاں خواہم گفت
خبرگوش تونشنود حدیث من کس
ہرچند میان مردماں خواہم گفت
(تجھ سے باتیں کروں گا جن کی کوئی زبان نہیں اورجس سے سب کے کان ناآشنا ہوں گے سوائے تیرے میری بات کوئی نہ سنے گا حالانکہ میں سب کے سامنے بات کہوں گا)
جوش نے بھی یہی کیاہے ؂
تمام محفل کے روبرو گو اٹھائیں نظریں ملائیں آنکھیں
سمجھ سکا ایک بھی نہ اب تک سوال میرا جواب تیرا
کچھ بھی ہو’’سکوت نغمہ بناہواہے وہ جسے کچھ گنگنارہے ہیں ‘‘۔’’مطربا اسرار مارابازگو‘‘ ۔اب زبان خاموش اورروح منتظر قبولیت ہے۔
حضرت مخدوم شیخ سعد کی عظمت بالکل نمایاں ہے کہ سلطان اودھ حضرت مخدوم شاہ مینا نے اپنا جیساپاکرانہیں اپناجانشین بنایا اوروہ روحانی سلسلہ آج بھی جاری وساری ہے۔ اس مسند عظیم پرجوجلوہ گرہے وہ تائید غیبی سے ہے اوریہ روحانی فکر کامضبوط زاویہ ہے۔
اس سال عرس حضرت مخدوم شیخ 7,8,9فروری مطابق ۱۴؍۱۵؍۱۶؍ربیع الاول کوہوگا صوفیوں کی خانقاہیں قومی یکجہتی کامرکز ہیں اس لئے اس عرس میں بھی بلاتفریق مذہب وملت زائرین آتے ہیں اورفیضیاب ہوتے ۔فیض کادریارواں ہے اورتشنہ کام سیراب ہیں اوریقین کہتاہے کہ یہ عظیم الشان نظام تاابد قائم رہے گا۔
***

Viewers: 4521
Share