Faiyaz Ahmad Wajeeh | Article | سوچ وصال کی شکستہ سطریں

فیاض احمد وجیہہ 117 ۔ ستلج ہاسٹل۔ JNU ۔ نیو دہلی۔۶۷ بھارت۔ فون MOB-09953459126 سوچ وصال کی شکستہ سطریں خورشید حیات کے فن میں تخلیقی منطق بیانیہ کی ظاہرداری سے […]

فیاض احمد وجیہہ
117 ۔ ستلج ہاسٹل۔ JNU ۔ نیو دہلی۔۶۷
بھارت۔ فون MOB-09953459126

سوچ وصال کی شکستہ سطریں

خورشید حیات کے فن میں تخلیقی منطق بیانیہ کی ظاہرداری سے زیادہ اپنی داخلیت میں روشن ہوتی ہے۔فن کا داخلی بھید ہی ان کے فکرواحساس کو بیان بننے نہیں دیتا۔بیانیہ اپنی ظاہرداری کے خلاف کتنا قوی ہوسکتا ہے اس کی ایک مثال ان کا افسانہ ’آدم خور‘ہے۔ننکو کی طرح ان کاقاری بھی یہ سوچنے پرمجبور ہے کہ کتھا کی لامرکزیت میں کون کون سے کردار شامل ہیں ؟شہر کا نقشہ کتنا سالم ہے؟زماں ومکاں کی منطق کتنی وجودی ہے اور کتنی غیر وجودی؟اس افسانہ کے مطالعات کو قائم کرتے ہوئے مجھ ایسے قاری کو یہ کہنے کی سہولت میسر ہے کہ کہانیاں بدن سوں ہوتی ہیں جو اپنی اُجلی ساخت سے زیادہ اپنے داخلی احساس اور بھاؤ میں مٹی کا بھید چھپاتی ہے اور بیان کرتی ہے۔خورشید حیات کے ہاں بھی نرتیہ بھاؤ بیانیہ ،بیانیہ کے غیاب میں نظرآتا ہے۔کوئی وجودی احساس ’فکشن‘کی تشکیل میں ہی صبح کی سچی پیشانی پرطلوع ہوتا ہے۔خورشیدحیات نے فکشن کی اس معراج کو کسی قدر دریافت کیا ہے۔
مابعد بیانیہ کے شوروغوغا میں فکشن کی اصل ساخت بہت کم لوگوں کے ہاں قائم اور سالم ہے۔ خورشید حیات کو اس بات کا شدید احساس ہے کہ افسانہ کی خالص شعریات کی تشکیل میں اس عہد کی بے ترتیبی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔کہانی پن کے نام پر اُردو افسانہ کو ہندی کہانی کا لباس پہنانا ادبی سیاست ہی ہے۔میرے خیال میں بعض ایسی باتوں کے شدید ردعمل میں ان کے فن کو پیش کیا جاسکتا ہے۔آدم خور،کے فنی رکھ رکھاؤ میں خورشید حیات نے انسان کے وجودی کوائف کو ایک نیا سیاق عطا کیا ہے۔اس لیے ان کے ہاں ثقافتی متن کاچہرہ کچھ زیادہ ہی روشن ہے:
۔ماں ایک گمشدہ پنچھی کی طرح اور ہمارا آج کا کلچر’’کتا کلچر‘‘!
۔چل کہانی سن،آنے والے دنوں میں تجھے کہانی سنانے والا چہرہ نہیں دکھائی دے گا۔
ان کے ہاں کتھا کی یہ منطق بھی دیکھیے کہ مہذب سماج میں آج بھی اس کو ایک کتھا کی حیثیت ہی حاصل ہے:
۔ اب تو رابعہ کو ایسا لگتا ہے کہ پہلے تو کچھ قبیلے ہی آدم خور ہوا کرتے تھے۔لیکن آج آدم خوروں میں انسان کو ڈھونڈنا پڑتا ہے۔
۔آدم خور۔
گھر کے آنگن میں بھی اور ’آنگن‘کے باہربھی!
اس افسانہ میں ایسی بے ترتیبی ہے کہ مٹی اور بدن کا تشخص مختلف جہتوں میں نمایاں ہو گیا ہے۔اس نوع کا افسانہ کسی لغت کی پیروی میں تشکیل نہیں دیا جا سکتااور نہ اس کی افہام وتفہیم میں قواعد کی مطلق گردان کا کوئی جواز ہے۔یہ بیانیہ اپنے تشکیل کار کی تخلیقی منطق سے ان معنوں میں الگ ہے کہ مٹی کا دکھ قاری کی سائکی میں شدید ہوجاتا ہے۔اس عہد کی فکشن شعریات کو بامعنی بنانا ہے تو بعض ایسے ہی افسانوں کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔خورشید حیات کے فن میں احساس کی ایسی فرہنگ ہے جس کو اس کافطری اسلوب اور آہنگ میسر ہے،لیکن اس اسلوب کی تخلیقی شدت میں ابھی لہو کو اور قہقہہ لگانا ہے۔احساس کی اس فرہنگ کو واردات اورکہانی کی نئی زمینوں کا صدمہ کہہ سکتے ہیں۔لیکن اس واردات اور صدمے کو زندگی سے فرار کا نام نہیں دیا جا سکتا،چوں کہ خورشید حیات نے لفظ اور معنی کی دوئی کو اپنے فن میں مٹا دیا ہے۔
***

Viewers: 3686
Share