Maqsood Elahi Sheikh | Afsana | ایک تھی لڑکی

مقصود الٰہی شیخ انگلینڈ۔ maqsood.e.sheikh@googlemail.comای میل ایک تھی لڑکی وہ دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی تھی ۔ لڑکا کہتا تھا دنیا  میں اس سے زیادہ خوبصورت، حور، پری اور […]

مقصود الٰہی شیخ
انگلینڈ۔
maqsood.e.sheikh@googlemail.comای میل

ایک تھی لڑکی

وہ دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی تھی ۔
لڑکا کہتا تھا دنیا  میں اس سے زیادہ خوبصورت، حور، پری اور کوئی تھی ہی نہیں ۔
لڑکی نے مان لیا، اسے کوئی اعتراض نہ تھا ۔
اسے یہ بھی یقین تھا کہ لڑکے سے زیادہ حسین مرد سارے جہاں میں دوسرا کوئی نہ تھا ۔
وہ اچانک ملے تھے ۔
ملتے ہی گھائل ہو گئے تھے ۔
مر مٹے ایک دوسرے پر!
زمین کی طرف دیکھتے پھول لگتی،
اوپر نگاہ اٹھاتے آسمان تاروں بھری مسکان تھا ۔
لڑکی کی آنکھوں کی نیلی جھیل میں ہلکورے لیتا چاند راحت قلب تھا، سکون ذہن و نظر !
فضاؤں، ہواؤں، خلاؤں میں رنگ اور دلوں میں ترنگ کا انت ہی نہ تھا!
دونوں بے خبر تھے
اور
دشمن سماج،
نچلا بیٹھنے والا نہ تھا ۔
ہزار چشم سماج نے اندھا بن کر وار کر دیا ۔
اپنوں نے سازش میں شریک ہو کر،
بیچ دیوار کھڑی کر دی ۔
ان چاہی جدائی پڑ گئی
بیچ وچھوڑے کا پہاڑ کھڑا ہو گیا ۔سارا زمانہ نگل پڑنے کو کود پڑا ۔ سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا ۔
نادان تھے دونوں،
خم ٹھونک کر سامنے آ گئے
مقابلے پر تل گئے !!۔
قسمیں وعدے یاد کرتےا
یک ساتھ مرنے کا سامان کرنے لگے ،
نہ دیکھا پیچھے کھائی ہے اور سامنے آگ کا دریا،
ادھر مسکراتا آکاش طوطا چشم نکلا تو زمین بیرن!
ہزار دیدوں والے بے درد سماج نے ان کے مرنے کے منصوبے بھی تاڑ لئے اور ناکہ بندی کردی ۔
کسی نے دو بول ہمدردی کے نہ کہے
کہیں پناہ نہ ملی! ۔
بھاگنا چاہا، بھاگنے نہ دیا
وہ کچھ بھی نہ کر پائے،
کسی نے، کسی نے
بے چاروں کو مرنے بھی نہ دیا ۔
اب،
وہ الگ الگ
اپنے اپنے گھروں میں رہ رہے ہیں ۔

Viewers: 6473
Share