Muhammad Azam Khan | Afsana | نصیب

محمد اعظم خاں 273 J – II, Johar Town, Lahore (Pakistan Contact: +92 300 4107328, E-mail: azamkhan273@gmail.com نصیب روز کی طرح بہت سے گاہک سپر سٹور میں خریداری کے لیے […]

محمد اعظم خاں
273 J – II, Johar Town, Lahore (Pakistan

Contact: +92 300 4107328, E-mail: azamkhan273@gmail.com

نصیب

روز کی طرح بہت سے گاہک سپر سٹور میں خریداری کے لیے آئے ہوئے تھے، کچھ خریدار اپنی اپنی ضرورت کی اشیا ء مختلف خانوں سے اٹھا کر ٹرالیوں میں ڈال رہے تھے اور کچھ کاؤنٹر پر بل بنوا کر ادائیگی کر رہے تھے، سیٹھ اخلاق ایک ایک سے رقم وصول کرتا جاتا او ر نوٹ سلوکے کی جیبوں میں ٹھونستا جاتا۔
سیٹھ اخلاق چھوٹی سی کریانے کی دکان سے بہت بڑے سپر سٹور کا مالک بن گیا تھا، کئی دکانیں اور مکان اس کی ملکیت تھے جو اس نے کرائے پر دے رکھے تھے ، مگر اب بھی اس کی وہی پرانی عادت تھی کہ نوٹ پکڑ پکڑ کر سلوکے کی جیبوں میں ڈالتا جاتا ، پھر جب ذرا فرصت ملتی تو نوٹ جیبوں سے نکا ل کر انہیں ترتیب دے کر سیدھے کرتا اور گن کر تجوری میں رکھ کر تالہ لگا دیتا، یوں دن میں کئی کئی بار وہ سلوکے کی جیبوں سے نوٹ نکالتا اور گنتا۔ کئی بار وہ بلا وجہ محض عادتاً نوٹ جیبوں سے نکال کر چھوٹے بڑے نوٹوں کو ترتیب دینے لگتا، اگر رقم زیادہ ہوتی تو تجوری میں رکھ دیتا ورنہ واپس جیبوں میں ڈال لیتا۔
گاہک باری باری اپنا سامان شاپروں میں ڈلوا کر ادائیگی کر رہے تھے، مشتاق بھی چند چیزیں ٹوکری میں ڈالے کھڑا تھا، وہ یوں تو مہینے بھر کا سودا تنخواہ ملتے ہی ایک بار ہی لے جاتا مگر پھر بھی کوئی نہ کوئی ضرورت کی چیز لینے ہفتے دس دن میں ایک آدھ چکر وہاں ضرور لگا لیتا۔
اخلاق اور مشتاق دونوں ہم جماعت تھے اور میٹرک تک سکول میں اکھٹے پڑھے تھے، میٹرک کے امتحان میں ناکامی کے بعد، اخلاق نے اپنے محلے میں ہی کریانے کی دکان ڈال لی تھی ، جو چل نکلی، مگر مشتاق نے میٹرک کے بعد کالج میں داخلہ لے لیا اور انٹر کے بعد سرکاری محکمے میں کلرک کی نوکری کر لی۔ مشتاق کلرک سے ہیڈ کلرک بن گیا تھااور اپنے پرانے مکان میں بیوی بچوں کے ساتھ سر چھپائے بیٹھا تھا، جبکہ اخلاق کا کاروبار خوب چمک اٹھا تھا اور وہ کہاں سے کہاں جا پہنچا تھا۔ اس نے محلے کی تنگ و تاریک گلیوں کو خیرباد کہہ کر ڈیفنس میں خوبصورت اور عالیشان بنگلہ بنا لیا تھا اور ایک بڑا ڈیپارٹمینٹل سٹور چلا رہا تھا، اس کی دولت اور کاروبار نے ہی اسے اخلاق سے سیٹھ اخلاق بنا دیا تھا۔
مشتاق گھر کے لیے ضرورت کی چھوٹی موٹی اشیا ء محلے ہی کی کسی دکان سے با آسانی لے سکتا تھا مگر اس کی کوشش ہوتی کہ وہ ضرورت کی ہر چیز سیٹھ اخلاق کے ہاں سے خریدے، یوں بھی سپر سٹور اس کے راستے میں ہی پڑتا تھا، اس لیے وہ دفتر سے واپسی پر وہاں سے خریداری کرتا ہوا گھر کی راہ لیتا، اسی بہانے دوست سے ملاقات بھی ہو جاتی اور اگر سیٹھ اخلاق کو فرصت ہوتی تو گپ شپ کے ساتھ ساتھ چائے بھی مل جاتی، گوکہ وہ دونوں ہم عمر تھے مگر ان کی صحت اور ظاہری شکل و صورت دیکھ کر کوئی بھی اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتا تھاکہ وہ کبھی ہم جماعت رہے ہوں گے۔
مشتاق کو غربت و تنگدستی اور ذمہ داریوں نے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا تھا، اس کے سر کے زیادہ تر بال سفید ہو گئے تھے، اس کی بیوی اسے زور دے کر کہتی کہ وہ بالوں کو رنگ لیا کرے مگر وہ ہمیشہ یہ کہہ کر ٹال دیتا ’’ خوامخواہ چالیس بچاس روپے خرچہ بڑھ جائے گا، وہی پیسے بچوں کے کسی کام آ جائیں گے ‘‘ ۔ مشتاق کے برعکس اخلاق اپنی صحت کے لحاظ سے اپنی عمر سے بہت کم دکھائی دیتا تھا، گو کہ مسلسل کئی کئی گھنٹے ڈیوٹی کرنے سے اس کا پیٹ نکل آیا تھامگر بوڑھاپے میں قدم رکھنے کے باوجود بوڑھاپا اسے چھو کر بھی نہیں گزرا تھا۔
ذرا فرصت ہوئی تو مشتاق سامان کا شاپر ہاتھوں میں لیے سیٹھ اخلاق کے پاس جا کھڑا ہوا، سیٹھ اخلاق نے بھی اسے دیکھ لیا تھا مگر وہ اسے کوئی توجہ دیے بغیر نوٹوں کی گنتی میں لگا رہا۔
’’ الحاج سیٹھ اخلاق احمد صاحب….. اسلام علیکم ….. ‘‘ مشتاق نے سیٹھ اخلاق کے کان کے قریب جا کر زور دار آواز میں سلام کیا۔
مشتاق کی بات سن کر سیٹھ اخلاق نے نوٹ گنے بغیر پھر سے جیبوں میں ٹھونس لیے اور بولا ’’ آؤ بھئی مشتاق….. کہو کیا حال ہے؟…..‘‘
’’ ارے ہم غریبوں کی کیا پوچھتے ہو، جیسے تیسے گزر رہی ہے….. تم اپنی سناؤ خوب نوٹ جمع ہو رہے ہیں ‘‘
’’ بس یار اوپر والے کی دین ہے…..کرم ہے میرے مولا کا …..پچیس تیس سال ہو گئے ہیں محنت کرتے ہوئے، وہ دے رہا ہے اور ہم لے رہے ہیں….. ‘‘
’’ کہتے تو تم ٹھیک ہو، یہ سب اوپر والے کی ہی مہربانیاں ہیں ….. ‘‘
’’ اسی لیے تو شکرانے کے طور پر ہر سال حج کر آتا ہوں….. ‘‘
’’ لگتا ہے اس سال بھی حج کی تیاری ہے ؟ ‘‘
’’ ہاں یار پروگرام تو ہے….. ویسے بھی تم تو جانتے ہو، سارا سال یوں تو فرصت نہیں ملتی، حج کے بہانے سیر سپاٹا بھی ہو جاتا ہے اور کچھ دن سکون کے بھی گزر جاتے ہیں….. ‘‘
’’ بڑے قسمت والے ہو یار، جو خدا تمہیں ہر سال اپنے گھر بلا لیتا ہے….. ‘‘
مشتاق کی بات سن کر سیٹھ اخلاق اکڑ کر بولا ’’ یہ قسمت کا نہیں نوٹوں کا کمال ہے میری جان، میرے پاس نوٹ ہیں تو میں ہر سال حج کر آتا ہوں، ورنہ حج محض قسمت سے ہوتا تو تم کیوں نہ چلے گئے، میں اس بار پھر رقم جمع کرو ا رہا ہوں اور حج کرنے چلا جاؤں گا….. تم قسمت کو پیٹتے رہنا….. ‘‘
سیٹھ اخلاق کی بات سن کر مشتاق کچھ کہنا چاہتا تھا مگر چند گاہک آ کھڑے ہوئے اس لیے وہ سیٹھ اخلاق کی بات کا کوئی جواب دیے بغیر باہر نکل آیا۔
وہ سائیکل کو پیڈل مارتا ہوا گھر کی طرف جارہا تھا اور دل میں سوچ رہا تھا کہ کہتا تو اخلاق بھی سچ ہے، بات تو واقعی دولت کی ہے ورنہ میں بھی حج کر آتا، نہ میرے کسی بڑے کو حج کرنا نصیب ہوا ، اور نہ کبھی مجھے ہو گا۔ اسے ریٹائرمنٹ پر جو رقم یکمشت ملنا تھی اس کے لیے بھی اس نے پہلے سے سوچ رکھا تھاکہ اس سے وہ اپنی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کر دے گا۔ مشتاق کے والدین بھی دل میں یہ حسرت لیے دنیا سے رخصت ہو گئے کہ وہ بھی زندگی میں ایک بار خانہ خدا پر حاضری دے آئیں، انہوں نے کئی بار مشتاق سے بھی اپنی اس خواہش کا اظہار کیا مگر وہ کبھی کچھ نہ کر پایا، مشتاق جس محکمے میں ملازم تھا ،چاہتا تو لاکھوں کما سکتا تھا اور والدین کو ایک چھوڑکئی حج کروا سکتا تھا، مگر اس کو والدین کی طرف سے ہمیشہ یہی نصیحت تھی کہ کبھی حرام کی کمائی پر نظر نہیں رکھنی، ہمیشہ حق حلال کی روزی بچوں کے منہ میں ڈالنی ہے، مشتاق نے اپنے بزرگوں کی یہ نصیحت پلے باندھ رکھی تھی لیکن جب کبھی اپنے ساتھیوں کی عیاشیاں دیکھ کر اس کا ایمان ڈگمگانے لگتا، وہ گھڑیاں اس کے لیے بہت کٹھن ہوتیں،وہ کئی کئی دن پریشان رہتا مگر پھر خود کو سمجھا بجھا کر اپنی پرانی روش پر چل پڑتا۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
جو سالن رات کو پکا تھا وہ رات کو ہی ختم ہو گیا تھا، مشتاق کا پروگرام تھا کہ بازار سے دہی لے آئے اور دہی کے ساتھ روٹی کھا کر اپنے دفتر روانہ ہو جائے، وہ ہاتھوں میں دہی کا برتن لیے خراماں خراماں جا رہا تھا، اسے وقت پر دفتر پہنچنے کے لیے صبح گھر سے جلدی نکلنا پڑتا تھا جس کی وجہ سے اس کی نیند بھی پوری نہیں ہوتی تھی۔ وہ جمائیاں لیتاہوا آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک ملک صاحب نے اس کا راستہ روک لیا۔
ملک صاحب اسی علاقے میں رہتے تھے مگر ان کی مشتاق سے کوئی شناسائی نہ تھی، ملک صاحب نے اپنے والد کے ہمراہ حج کی سعادت حاصل کرنے کے تمام انتظامات مکمل کر لیے تھے مگر ان کے والد اچانک بیمار پڑ گئے اور پھر اللہ کو پیارے ہو گئے۔ ملک صاحب کو اس بات کا دلی دکھ تھا کہ ان کے والد حج ادا کرنے کی خواہش دل میں ہی لیے دنیا سے چلے گئے، ملک صاحب اپنے باپ کے بدل کے طور پر کسی اور کو اپنے ہمراہ حج کے لیے لے جانا چاہتے تھے مگر انہیں ڈر تھا کہ اگر وہ رشتے داروں میں سے کسی کو لے گئے تو رشتے داروں میں رنجشیں پیدا ہو جائیں گی اور خوا مخواہ کی بدمزگی ہو گی۔
ملک صاحب نے اپنی بیوی سے مشورہ کیا اور یہ کہہ کر گھر سے نکل پڑے کہ انہیں راستے میں جو بھی کوئی شریف آدمی نظر آیاوہ اسے اپنے ساتھ حج پر لے جائیں گے، جب ملک صاحب کی نظر مسکین صورت مشتاق پر پڑی تو انہوں نے اس سے بات کرنے کا ارادہ کر لیا۔
ملک صاحب راستہ روکے کھڑے تھے اور مشتاق حیران و پریشان کھڑا سوچ رہا تھا کہ ایک اجنبی شخص اس کے راستے میں کیوں آ کھڑا ہوا، اس سے پہلے کہ وہ کوئی سوال کرتا ، ملک صاحب کی آواز اس کے کانوں میں پڑی ….. ’’ میرے ساتھ حج کرنے چلو گے ….. ؟ ‘‘
مشتاق کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا، صبح سویرے اٹھنے سے اس کی آنکھوں میں جو نیند بھری ہوئی تھی وہ فوراً اڑ گئی اور اس نے بے یقینی کے عالم میں دریافت کیا ….. ’’آپ نے مجھ سے کچھ کہا ….. ؟ ‘‘
’ ہاں ….. میں تم سے ہی بات کر رہا ہوں، مجھے ملک اللہ داد کہتے ہیں اور میں ساتھ والی گلی میں رہتا ہوں ، اس سال میں اور میرے والد حج کے لیے جا رہے تھے کہ اچانک والد صاحب کو موت نے آ گھیرا، میں گھر سے یہ سوچ کر نکلا تھا کہ جو بھی مجھے معقول شخص نظر آئے گا میں اسے اپنے ساتھ حج پر لے جاؤں گا ، اب تم مل گئے ہو، سوچتا ہوں تمہیں ہی اپنے ساتھ لے چلوں ….. ‘‘
’’ مم …..مم….. میں….. اور حج ….. ‘‘
’’ ہاں ہاں….. اس میں ایسی کون سی بات ہے، تم ابھی میرے ساتھ چلو اور میرا گھر دیکھ لو پھر وقت نکال کر میرے پاس آ جاناتاکہ جتنی جلدی ہو سکے میں تمہارے تمام کاغذات وغیرہ تیار کروا لوں ….. ‘‘
’’ ٹھ ….. ٹھ …..ٹھیک ہے ملک صاحب….. میں تیار ہوں ….. ‘‘
مشتاق ، ملک صاحب کے ساتھ ساتھ ہو لیا، ان کا گھر دیکھنے کے بعد ان سے تمام معاملات طے کیے اور بغیر دہی لیے تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا گھر واپس آ گیا۔گھر پہنچا تو مشتاق کی سانسیں اکھڑی ہوئی تھیں اور خوشی سے چہرہ کھل رہا تھا، اس نے جاتے ہی بیوی کا ہاتھ تھام لیااور بولا …..’’ مبارک ہو بیگم….. بہت بہت مبارک ہو ….. آج خدا نے ہماری سن لی ….. ‘‘
مشتاق کی بات فضیلت کے پلے نہیں پڑی تھی اور وہ ذہن پر زور دے کر مشتاق کی بات کا مطلب سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی، جب اس کی سمجھ میں کچھ نہ آ یا تو بولی ’’ مشتاق تم کیا کہہ رہے ہو ….. میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آ یا ….. ‘‘
’’ ارے پگلی بس یوں سمجھو کہ ہماری لاٹری نکل آئی ہے ….. ‘‘
’’ مگر ہم نے تو کبھی لاٹری کا ٹکٹ ہی نہیں خریدا، لاٹری کہاں سے نکل آئی….. ؟؟؟ ‘‘
’’ پتہ ہے راستے میں ملک اللہ داد صاحب ملے تھے، بہت بھلے آدمی ہیں، وہ مجھے اپنے ساتھ حج پر لے جارہے ہیں ….. ‘‘
’’ کیا کہا ….. حج پر اور تمہیں ….. ؟؟؟ ‘‘ فضیلت نے بے یقینی کے عالم میں دریافت کیا اور پھر دونوں ہاتھ اٹھا کر بولی ’’ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے میرے مولاجو تو نے ہم غریبوں پر بھی نظر کرم کی، کسی نے سچ ہی کہا ہے تیرے گھر میں دیر ہے مگر اندھیر نہیں ….. ‘‘
مشتاق نے فضیلت کو اپنے پاس بٹھا لیااور تمام تفصیل بتائی۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
پروگرام کے مطابق مشتاق نے ملک اللہ داد کے ہمراہ جا کر پاسپورٹ اور ویزے کے لیے تصاویر بنوائیں اور دیگر کاغذات مکمل کروائے، جس مقصد کے لیے جو رقم درکار تھی وہ ملک صاحب نے اپنی جیب سے ادا کی۔ ان دنوں میں مشتاق کی اس قدر بھاگ دوڑ لگی رہی کہ اسے سیٹھ اخلاق کے ہاں جانے کی بھی فرصت نہ مل سکی۔ جب تمام کاروائی مکمل ہو گئی اور اسے یقین ہو گیا کہ وہ واقعی ملک اللہ داد کے ہمراہ حج کی سعادت حاصل کرنے جا رہا ہے تو وہ خوشی خوشی یہ بات بتانے سیٹھ اخلاق کے ہاں گیا مگر وہا ں پہنچ کر اسے معلوم ہو ا کہ سیٹھ اخلاق نہیں آئے کیونکہ انہوں نے حج کے لیے روانگی سے قبل گھر میں کچھ مہمانوں کو بلا رکھاتھا۔
فضیلت کے ذریعے مشتاق کے حج پر جانے کی بات محلے کے ہر گھر میں پہنچ گئی تھی، یہی وجہ تھی کہ آ تے جاتے کوئی نہ کوئی محلے دار مشتاق کو روک لیتا اور حج کی مبارک باد دیتے ہوئے اسے اپنے لیے خصوصی دعا کرنے کی تاکید کرتا۔
کچھ دن کے وقفے سے مشتاق نے سیٹھ اخلاق کے ہاں پھر سے جانے کا پروگرام بنا لیا تاکہ اسے اپنی حج پر روانگی کی اطلاع دے سکے اور ساتھ ہی کچھ سودا سلف بھی خرید لائے تاکہ اس کی غیر موجودگی میں اس کے اہل خانہ کو کسی قسم کی دشواری نہ ہو، وہ جب بھی کبھی اس کے ہاں جاتا تھا تو سیٹھ اخلاق ہمیشہ کاؤنٹر پر ہی بیٹھا ہوتا تھا مگر وہاں کوئی دوسرا شخص بیٹھا تھا۔ مشتاق کو اسی شخص کی زبانی معلوم ہوا کہ سیٹھ اخلاق تو ایک روز قبل ہی حج کے لیے روانہ ہو گیا تھا، خوشی کی جو خبر وہ اپنے دوست کو دوسری بار سنانے آیا تھاوہ نہ سنا سکا اور چند ضروری اشیا ء لے کر گھر لوٹ آیا۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
مشتاق خانہ خدا پر حاضری کے لیے پہنچا تو بے اختیار خانہ کعبہ سے لپٹ کر رونے لگا، روتے ہوئے اس کی ہچکی بندھ گئی، اسے اپنی قسمت پر رشک آ رہا تھا، وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کی قسمت کا ستارہ کبھی یوں اچانک چمک اٹھے گا۔ اس نے شکرانے کے نوافل ادا کیے ، خوب گڑگڑا کر دعائیں مانگیں، حجر اسود کو بھوسے دیے اور خوب پیٹ بھر کر آب زم زم پیا۔ صفا و مروا کی سعی کے دوران بھی اس کی نظریں اپنے دوست کو ڈھونڈتی رہیں کہ شائد وہ کہیں دکھائی دے جائے۔
دو روز قبل ہی سیٹھ اخلاق بھی مکہ پہنچا تھا اور کعبۃاللہ پر حاضری دے کر سعی کے بعد احرام کھول کر نہانے سے فارغ ہو کر اپنے کمرے میں لمبی تان کر سو گیا تھا۔
مشتاق کے شب و روز عبادت و ریاضت میں مصروف گزرتے ، وہ سارا سارا دن مسجد نبوی میں گزار دیتا۔ اس کے پاس کوئی اضافی رقم نہ تھی جو وہ بازاروں کے چکر کاٹتا اور بچوں کے لیے خریداری کرتا جبکہ سیٹھ اخلاق کو جیسے ہی فرصت ملتی وہ کسی نہ کسی مارکیٹ کا رخ کر لیتا، اس نے اپنے بیٹوں ، بیٹیوں اور بہوؤں کے لیے گھڑیاں، زیورات، کمبل، کپڑا اور بہت سے دیگر تحائف کے ڈھیر لگالیے۔ مکہ کے علاوہ مدینہ میں بھی سیٹھ اخلاق کے بہت سے دوست اور ملنے ملانے والے تھے، اس لیے آئے دن کسی نہ کسی کے ہاں اس کی دعوت ہوتی۔
سیٹھ اخلاق دل کھول کر رقم خرچ کر رہا تھا، راستے میں آتے جاتے کہیں بھی اسے کوئی بھکاری دکھائی دے جاتا تووہ اسے کچھ نہ کچھ ضرور دیتا، اس کے سلوکے کی جیبیں ریالوں سے بھری رہتیں اور ہر غریب کی جھولی میں کچھ نہ کچھ ڈال کر ہی آگے بھڑتا۔
مدینہ سے مکہ واپسی ہوئی تو سیٹھ اخلاق کی وہی عادت جاری رہی، وہ ہر بھکاری کے اٹھے ہوئے ہاتھ پر کچھ نہ کچھ ضرور رکھ دیتا، وہ اپنے ہوٹل سے مسجد حرام میں آتا تو سیدھا مسجد میں چلا جاتااور نماز کی ادائیگی کے بعد واپسی پر بھکاریوں میں خیرات تقسیم کرتا ہوا آگے بڑھتا، پھر وہاں سے کبوتروں کے لیے دانہ لے کر حرم کے باہر ایک طرف بیٹھ کر کبوتروں کو دانہ ڈالتا۔
روز کی طرح سیٹھ اخلاق معمول کے مطابق خیرات بانٹتا ہوا آگے بڑھا اور کبوتروں کو گندم اور باجرہ ڈالنے کے بعد وہیں ایک طرف ٹیک لگا کر بیٹھ گیا، وہ کچھ دیر تک کبوتروں کو دانہ دنکا کھاتے ہوئے اور اڑاریاں مارتے ہوئے دیکھتا رہا پھر اسے خیال آیا کہ اس کی جیب میں نوٹ بے ترتیب ہو رہے ہیں، اس نے سلوکے کی جیب سے تمام رقم نکال کر اپنی جھولی میں ڈال لی اور ایک ایک کر کے تمام نوٹ ترتیب دے کر ہاتھوں میں پکڑنے لگا۔
حج کے ایام میں مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ میں بھکاریوں کی تعداد بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے، مقامی لوگوں کے علاوہ دیگر ممالک کے لوگ بھی بھیک مانگتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، سعودی حکومت کی طرف سے بھیک مانگنے کی سختی سے ممانعت ہے۔ پولیس کے اہلکار بار بار مسجد نبوی اور مسجد حرام کے ارد گرد چکر کاٹتے رہتے ہیں ، انہیں جہاں کہیں کوئی شخص بھیک مانگتا ہوا دکھائی دے جاتاہے اسے پکڑ کر حوالات میں بندکر دیتے ہیں۔
مسجد حرام کے باہر بہت سے بھکاری بھیک مانگ رہے تھے، مگر جیسے ہی انہوں نے پولیس اہلکاروں کو دیکھا تو فوراً دوڑ لگا دی، ان میں سے جو بھکاری پولیس کے ہتھے چڑھے انہوں نے انہیں گاڑیوں میں بٹھا لیا۔ سیٹھ اخلاق ارد گرد سے بے خبر نوٹ ترتیب دینے میں مشغول تھا،کچھ نوٹ اس کی جھولی میں تھے اور کچھ ہاتھوں میں، پولیس نے اسے بھی بھکاری سمجھا اور پکڑ لیا۔
پولیس اہلکاروں نے سیٹھ اخلاق کو بھکاری سمجھ کر گرفتار کیا تھاجبکہ سیٹھ اخلاق کو صورت حال سے ذرا سی بھی آگاہی نہ تھی، وہ اپنی زبان میں اپنی بے گناہی پر زور دیتا رہا مگر اس کی کوئی بات پولیس اہلکاروں کے پلے نہیں پڑ رہی تھی، یوں بھی پولیس اہلکار اس کی کوئی بات سننا بھی نہیں چاہ رہے تھے، انہوں نے اسے زبردستی گاڑی میں بٹھایا اور پولیس اسٹیشن لے گئے، وہاں پہنچتے ہی انہوں نے اس کی جیبوں سے تمام کاغذات، نقدی اور موبائل وغیرہ نکال کر اپنے قبضے میں کر لیے۔
سیٹھ اخلاق عربی زبان سے نا آشنا تھا ،جس وجہ سے اسے اپنا مدعا بیان کرنے میں دشواری پیش آ رہی تھی، لیکن اس کے باوجود وہ چلائے جا رہا تھا….. ’’ میں کوئی معمولی آدمی نہیں ، کروڑوں روپے کا کاروبار کرتا ہوں، جائیداد، بینک بیلنس، گاڑیاں ، کیا کچھ نہیں ہے میرے پاس، میں تو خو د بھکاریوں میں خیرات تقسیم کرتا پھرتا ہوں، میں بھلا کیوں بھیک مانگوں گا ….. ‘‘
اس کے چیخنے چلانے پر پولیس اہلکاربھی کچھ کہتے مگر ان کی کوئی بات سیٹھ اخلاق کی سمجھ میں نہ آتی اور وہ پھر سے چلا چلا کر اپنی بے گناہی کا اعلان کرنے لگتا، جن بھکاریوں کو پولیس اہلکار سیٹھ اخلاق کے ساتھ پکڑ کر لائے تھے، وہ سبھی خاموشی سے حوالات میں جا بند ہوئے تھے مگر سیٹھ اخلاق مسلسل چیخ و پکار کر رہا تھا، اچانک اس کی نظر پولیس آفیسر کے میز پڑے ہوئے فون پر پڑی تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے پولیس اہلکاروں سے فون کرنے کی اجازت طلب کی، جس کے لیے وہ بمشکل رضامند ہوئے۔
سیٹھ اخلاق نے اپنے ایک قریبی دوست کا نمبر ملایا اور اسے صورت حال سے آگاہ کیا کہ کس طرح وہ لوگ غلط فہمی میں اسے بھکاری سمجھ کر پکڑ لائے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ بات سیٹھ اخلاق کے دیگر دوست احباب تک بھی جا پہنچی ، تھوڑی ہی دیر میں سیٹھ اخلاق کے بہت سے دوست پولیس اسٹیشن آ پہنچے۔ ان کے پہنچنے سے قبل پولیس اہلکاروں نے زبردستی گھسیٹتے ہوئے سیٹھ اخلاق کو حوالات کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا تھا۔
سیٹھ اخلاق کے سبھی دوست اور دیگر پاکستانی ساتھی پولیس اہلکاروں اور افسران کو یہ بات بتاتے رہے کہ وہ شخص تو خود ایک بڑا کاروباری ہے اور ہر سال حج کی ادائیگی کے لیے بھی آتا ہے، لیکن پولیس اہلکاروں کا کہنا تھاکہ وہ ان کی بات کیسے مان لیں جبکہ انہوں نے جب اسے گرفتار کیا، اس وقت اس کے ہاتھوں اور جھولی میں نوٹ موجود تھے۔
جب یہی بات سیٹھ اخلاق سے پوچھی گئی تو اس نے بتایا کہ وہ تو وہاں بیٹھا اپنی جیبوں سے نوٹ نکال کر انہیں ترتیب دے رہا تھا اور پولیس اہلکار اسے بھکاری سمجھ کر گرفتار کر لائے۔
حج کے لیے منٰی کو روانگی شروع ہو چکی تھی، سیٹھ اخلاق بدستور حوالات میں بند تھا، اس کے دوستوں نے اپنے تئیں بھرپور کوشش کی کہ کسی طرح وہ حوالات سے باہر آ جائے اور فریضہ حج ادا کر لے مگر پولیس والوں نے کسی کی ایک نہ سنی اور بضد رہے کہ انہوں نے اخلاق کو دیگر بھکاریوں کے ساتھ گرفتار کیا ہے، وہ کسی بھی صورت میں اسے حج کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
مشتاق نے پروگرام کے مطابق اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ منٰی میں قیام کیااور اگلے روز فجر کی نماز کے بعد عرفات کو روانہ ہو گیا، جہاں سے نماز عصر کے بعد مزدلفہ کو روانگی ہوئی جہاں مغرب اور عشا ء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیں اور رات مزدلفہ میں قیام کیا، 10 ذی الحج کو فجر کی نماز کے بعد منٰی کو روانگی ہوئی، وہاں شیطان کی رمی کی ، قربانی دی اور بال منڈوائے، اگلے روز بھی چھوٹے ، درمیانے اور بڑے شیطان کو کنکریاں ماریں ۔ فرائض حج کی ادائیگی کے بعد مشتاق خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین شخص تصور کر رہا تھااور اٹھتے بیٹھتے زبان سے خدا کا شکر ادا کر رہا تھا۔
سیٹھ اخلاق کے دوستوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح اسے حج کی اجازت مل جائے مگر کسی بھی طرح بات نہ بنی تاہم بمشکل پولیس والے اس بات پر راضی ہو گئے کہ حج کے بعد اخلاق کی جس پرواز سے واپسی تھی، اسی پر اسے واپس پاکستان بھجوا دیں گے۔ سیٹھ اخلاق کو اس بات کا تو دکھ تھا ہی کہ وہ حج کرنے آیا مگر حج نہ کر سکا، ساتھ ہی اسے اس بات پر بھی شرمندگی ہو رہی تھی کہ اسے حوالات میں بھی بند رہنا پڑا۔
حج پروازوں کی واپسی شروع ہوئی تو سیٹھ اخلاق کو مقررہ دن حوالات سے باہر نکالا گیا، اس کا تمام سامان پہلے سے ہی ہوٹل سے منگوا لیا گیا تھا، اسے چند پولیس اہلکاروں کی زیر نگرانی جہاز میں سوار کروادیا گیا۔ سیٹھ اخلاق کے اہل خانہ اور دوست احباب اس بات سے لاعلم تھے کہ وہ نہ صرف فریضہ حج کی ادائیگی سے محروم رہابلکہ کچھ روز حوالات میں بھی گزارنا پڑے، وہ سب مقررہ وقت پر ہاتھوں میں پھولوں کے ہار اور گلدستے لیے ائر پورٹ پہنچ گئے۔
سیٹھ اخلاق سامان ٹرالیوں میں رکھے ائر پورٹ سے باہر آیا تو اس کے اہل خانہ اور ملنے ملانے والوں نے اس کا پُرجوش استقبال کیا، اس پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور گلے میں پھولوں کے ہار پہنائے گئے، ہر کوئی اسے سینے سے لگا کر خوش دلی سے مل رہا تھاجبکہ سیٹھ اخلاق اصل حالات سے آگاہ تھااس لیے بجھا بجھاتھا اور سب کو بے دلی سے مل رہا تھا۔
مشتاق نے اپنے آنے کی اطلاع کسی کو نہیں دی تھی، وہ خاموشی سے اپنا مختصر سامان ہاتھوں میں لیے اپنے گھر پہنچ گیا، رات گئے تک اس کے بہت سے محلے دار اسے حج کی مبارک باد دینے اس کے ہاں آتے رہے اور وہ ہرآنے والے کو آبِ زم زم پلا کر دعاؤں کے ساتھ رخصت کرتا رہا۔
مشتاق نے ایک دو روز گھر میں آرام کیااور پھر ڈیوٹی پر روانہ ہو گیا،دفتر میں بھی اس کا پہلا دن مبارک بادیں وصول کرتے ہوئے گزر گیا۔ اس نے پہلے سے دل میں پروگرام طے کر رکھا تھاکہ دفتر سے واپسی پر وہ اپنے دوست سیٹھ اخلاق سے ملنے جائے گا اور اسے حج کی مبارک باد دے کر آئے گا، وہ سٹور میں داخل ہوا تو حسبِ سابق سیٹھ اخلاق گاہکوں سے نوٹ لے لے کر سلوکے کی جیبوں میں ڈال رہا تھا، ذرا فرصت ہوئی تو مشتاق نے آگے بڑھ کر سیٹھ اخلاق کو گلے لگا لیااور حج کی مبارک باد دی مگر اس نے کسی گرمجوشی کا مظاہرہ نہ کیا، مشتاق اسے مل چکا تو ایک بار پھر اپنی بانہیں پھیلا دیں اور بولا ….. ’’ مجھے مبارک باد نہیں دو گے ….. ؟‘‘
’’ کس بات کی مبارک باد ….. ؟؟؟ ‘‘ سیٹھ اخلاق نے حیران ہو کر دریافت کیا۔
’’ بھئی خدا نے تمہارے اس مسکین سے دوست کو بھی حج کروا دیا ….. ‘‘
’’ تم سچ کہہ رہے ہو ناں …..؟ ‘‘
’’ ارے ہاں یار، ابھی تین روز قبل ہی تو واپس آیا ہوں ….. ‘‘
مشتاق کی بات سن کر سیٹھ اخلاق نے کھینچ کر اسے اپنے گلے لگا لیا، وہ دیر تک مشتاق کو سینے سے لگائے کھڑا رہا، پھر آہستہ سے اس کے کان میں سرگوشی کی ….. ’’ حج واقعی نوٹوں سے نہیں نصیبوں سے ہوتا ہے ….. ‘‘
مشتاق ، سیٹھ اخلاق کی بات کی گہرائی کو تو نہ سمجھ سکا مگر اس نے سیٹھ اخلاق کو پھر سے اپنے سینے سے چمٹا لیا۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

Viewers: 3172

Share