Haqqani Al Qasmi | Article | اپنی آواز میں گم

حقانی القاسمی معرفت عابد انوار۔ جامعہ نگر۔ دہلی(انڈیا) Cell No: 9873747593 E-mail: h_qasmi@rediffmail.com اپنی آواز میں گم ’داخلی آشوب‘ وقار مانوی کی شاعری کا کلیدی عنصر اور قفل ابجد ہے! […]

حقانی القاسمی
معرفت عابد انوار۔ جامعہ نگر۔ دہلی(انڈیا)
Cell No: 9873747593
E-mail: h_qasmi@rediffmail.com

اپنی آواز میں گم

’داخلی آشوب‘ وقار مانوی کی شاعری کا کلیدی عنصر اور قفل ابجد ہے!
شاعری، ان کی سائیکی کا شناس نامہ ہے۔
ان کے ہاں، حزن، کی حیثیت فاعلی عنصرکی ہے۔
ان کی شاعری میں ایک ’’غیر مرئی لہر‘‘ ہے۔
انسانی احساس اور فکر کی ’’ثنویت‘‘ ان کی شاعری میں نمایاں ہے۔
یہ شاعری’ کشاکش ہائے ہستی‘ کا نہایت خوب صورت اور داخلی تجربوں پر محیط بیان ہے۔
وقار مانوی کے تخلیقی تجربے کا رشتہ اس اصل سے ہے جس کی طرف مرزا غالب نے یوں اشارہ کیا ہے:
نشوونما ہے اصل سے غالب فروع کو
خاموشی ہی سے نکلے ہے، جو بات چاہیے
بزرگوں کی بازگشت کے باوجود احساس واظہار کی سطح پر ان کے یہاں جزوی طور پر ’ترتیب نو‘ کا عمل روشن ہے۔
وقار مانوی کی شاعری’کثرت نظارہ‘ کی شہادت دیتی ہے۔
اظہار میں سادگی اور تخیل میں کشادگی ہے۔
مختلف سطحوں پر وقار مانوی کی شاعری کی قرأت سے کم و بیش یہی نتائج نکلتے ہیں۔ مگر یہ نتائج بھی نامکمل ہیں کہ وقار مانوی کے داخلی شعور سے مکالمہ کے بغیر ان کی شاعری کے اسرار، اوصاف اور ممیزات روشن نہیں ہوسکتے۔ اور مکالمہ کا عمل یوں مشکل ہے کہ ’کل آہنگ‘ کی جستجو میں ان کا باطن، ظاہر سے وصال میں تشنہ رہ جاتا ہے۔ یا ظاہر و باطن سے مکمل ترسیلی رشتہ قائم نہیں ہوپاتا۔ ہاں کچھ اشعار ایسے ضرور ہیں جو ان کے ’داخلی شعور‘ کی سمت رہ نمائی کرتے ہیں:
ہوں مطمئن کہ ہوں آسودہ غم جاناں
مجال کیا کہ خوشی دیکھے آنکھ بھر کے مجھے
اک وہ کہ گھر سے دور ہیں پھر بھی ہیں مطمئن
اک ہم کہ ہم کو چین نہیں اپنے گھر میں بھی
زمانہ تو ہمارا سوگ مرنے پر منائے گا
مگر اس زندگی کا سوگ ہم اکثر مناتے ہیں
درد اپنا ہی کسی اور کے دل میں نہ ملا
اپنی آنکھوں میں تو دیکھے ہیں پرائے آنسو
سوزش غم سے اب آنکھوں میں نمی تک بھی نہیں
روئیں بھی اب تو یہ رونا ہے کہ ہائے آنسو
ہے اپنے اپنے کرب میں ہر شخص مبتلا
اس دور میں کسی کو کسی کی خبر نہیں
یہ ان کے احساس کے اشارے ہیں جس میں ’حزن‘ کا عنصر حاوی ہے، مگر ان کے المیہ اظہار اور حزن کی موسیقیت کو محسوس کرنے کے لیے داخلی آنکھ؍ سماعت کی ضرورت ہے کہ انہوں نے اپنے وژن کی منطق خود ترتیب دی ہے اور اس ترتیبی عمل میں ان کے مشاہدات و تجربات نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مشاہدے اور تجربے، عمومی تجربات و مشاہدات سے مختلف ہیں۔ وہ اکسراتی نگاہ رکھتے ہیں اور باطنی تجربوں سے احساس کی روشنی کشید کرتے ہیں۔ چونکہ شاعر کا ’مقام نظر‘ بلند ہے اس لیے احساس و اظہار میں پستی نہیں ہے اورنہ ہی تصور حیات میں نشیب و فراز ہے بلکہ وہ پختگی ہے جو تجربات کی بہت سی کائناتوں کی سیر کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ وقار مانوی کی شاعری میں وہی تجربے بولتے ہیں:
اے وقار اپنوں میں بھی اپنائیت رہتی نہیں
ایسی ملتی ہے سزائے جرم ناداری کہ بس
بات ساری وقت کی ہے، وقت اگر اچھا نہ ہو
پھیر لیتا ہے نظر اچھے سے اچھا آشنا
مفلسی میں بیچنا پڑ جاتا ہے مٹی کے بھاؤ
ایک اک فن پارہ اپنا ایک اک شہکار و فن
خلوص کی بھی کبھی قدر تھی مگر اب تو
ہے دور پیسے کا ، پیسا نہیں تو کچھ بھی نہیں
ہر اک رشتہ یہاں مطلب براری تک ہی رہتا ہے
اگرچہ نامناسب ہے ہر اک کو مطلبی کہنا


ان تجربوں میں سوز غم ہائے نہانی اور کشاکش غم پنہاں کی تصویریں بھی نمایاں ہیں۔ آتش دل کی وحشت بھی ہے اور آشوب غم کے ساتھ حسرت اظہار بھی۔
وقار مانوی کے فکری تلازمات کلاسیکی شعراء اور اساتذہ سے مستنیر ومستفاد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں روایت کی روشنی بھی ہے اور ہند ایرانی شعریات و جمالیات سے ربط بھی۔ ان کے بیشتر اشعار میں وہی کلاسیکی رنگ و آہنگ ہے۔ مثال کے طور پر وقار مانوی کا یہ شعر:
ٹوٹ گئی امید سحر بھی
جا شب ہجراں اب کہیں مربھی
سودا کی یاد دلاتا ہے:
سودا تری فریاد سے آنکھوں میں کٹی رات
آئی ہے سحر ہونے کو ٹک تو کہیں مر بھی
غالب کا ایک شعر ہے :
یک نظر بیش نہیں فرصت ہستی غافل
گرمی بزم ہے اک رقص شرر ہونے تک
یہی احساس، وقار کے یہاں یوں اظہار میں بدل گیا ہے:
صبح کو آئے، دن بھر ٹھہرے، شام کو واپس جانا ہے
اتنی دیر بسیرا جگ میں، اتنی دیر ٹھکانا ہے
اس طرح کے اور بہت سے اشعار ہیں جن سے ’صدائے بازگشت‘ کا احساس ہوتا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ وقار مانوی نے کلاسیکی روایت سے اپنا رشتہ جوڑے رکھا ہے۔ ان کی شاعری پر اساتذہ کے اثرات ہیں، مگر وہ انفعال نہیں جو ’زبونی ہمت‘ کی وجہ بن جائے۔ ان کے یہاں تتبع ہے مگر تجدید و تجدد بھی ہے۔ فکر کی سطح پر یکسانیت کا احساس ہوسکتا ہے یا موضوع میں مماثلت ہوسکتی ہے مگر ان کا طرز اظہار الگ ہے۔ ان کاٹریٹ منٹ مختلف ہے اور اس وجہ سے وقار مانوی کی زنبیل میں کچھ ایسے شعر ہیں جو انبوہ کا حصہ یا بھیڑ میں گم ہونے والے نہیں ہیں۔ ان کا تخیل تاب وتواں ہے، اس لیے ان کی پرواز پست نہیں ہے:
اپنی گلی میں رہنے دے مجھ کو میں یہاں
پہنچا ہوں ایک عمر کی آوارگی کے بعد
دیکھیں تو چل رہا ہے زمانہ ہمارے ساتھ
سوچیں اگر تو کوئی شریک سفر نہیں
خشک ہے آنکھوں کا سیلاب رواں اے چشم نم
اب کہیں تو کون مانے گا کہ دریا جل گیا
خیال کی سطح پر عموماً ایک غزل کئی شاعروں کی محسوس ہوتی ہے اور سچ کہئے تو دود چراغ کشتہ، جیسی لگتی ہے جس میں نہ فکر کی بلندی ہوتی ہے، نہ اظہار کا علو مگر وقار مانوی کے یہاں خیال کے عمومی اظہار سے انحراف ملتا ہے او ریہ اچھی بات ہے کہ شاعر اپنے اظہار کے کینوس کو کچھ ایسا رنگ دے جو منفرد اور مختلف ہو۔ ’انداز بیاں‘ کی انفرادیت ہی کسی تخلیق کو اعتبار کی مہر عطا کرتی ہے، ورنہ خیال تو ازل سے ارضی فضاؤں میں گونج رہے ہیں۔ مسئلہ صرف اس ’گونج‘ کی ’گرفت‘ کا ہے اور وقار مانوی اس باب میں کامیاب و کامراں ہیں کہ ’گونج‘ کو گرفت میں لے کر اظہار و احساس کا اپنا چہرہ، دریافت کرلیا ہے، جزوی طور پر ہی سہی ، مگر اپنا تشخص تو قائم ہے اور شاعری کا تفاعل بھی شیخ احمد گجراتی کے خیال میں یہی ہے کہ نئی دنیائیں خلق کرنا، اشیاء کی ترتیب بدل ڈالنا، اونچ کو نیچ اور نیچ کو اونچ ثابت کرنا تاکہ اشیاء کو پھر سے نیا بنایا جاسکے‘‘۔ اس خیال کے آئینہ میں دیکھا جائے تو وقار مانوی کے یہاں اس نوع کی تقلیبی صورتیں نمایاں ہیں اور احساس و اظہار کی یہی ترتیب نو ان کی انفرادیت کا نقش و نگار ہے۔
آج جب کہ اردو شاعری کا ’ذہنی افق‘ سکڑ سا گیا ہے ایسے میں وقار کے یہاں ’صحرا کی سی وسعت‘ دیکھ کر مسرت ہوتی ہے کہ حیات و کائنات کے بہت سے مسائل و موضوعات، نئی ترتیب کے ساتھ سامنے آگئے ہیں، جس میں ان کا اپنا Idiom ہے اور اس کے ساتھ ہی محدود سطح پر ان کے ’’تخیلات کی دوشیزگی اور تحت الشعور کی عصمت بھی محفوظ‘‘ ہے
کائنات کے طلسم پیچ و تاب کی تفہیم آسان نہیں ہے۔ مگر وقار مانوی نے اپنی شاعری میں اس کائنات کے طلسم کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔
یہ زندگی وہ شب غم ہے جس میں تا بہ سحر
کبھی کبھی تو خوشی خواب بھر نہیں ملتی
لبادہ تن پہ خوشی کا، خوشی نصیب نہیں
غرض کہ زندہ ہیں اور زندگی نصیب نہیں
زندگی نام کی شے گزری نہیں پاس سے بھی
عمر بھر سانس ہی لینے کے گنہ گار رہے
عبرت کا ہے مقام کہ ہم اہل دل وقار
زندہ ہیں اور ربط نہیں زندگی کے ساتھ
اتنا مغرور نہ ہو زندگی فانی پر
دیکھ ناداں نہ بنا، ریت کا گھر پانی پر
عرصہ زیست ہے اک راہ گزر کی صورت
اور طے بھی اسے کرنا ہے سفر کی صورت
حیات و کائنات کی تفہیم کے یہ وہ زاویے ہیں جو وقار مانوی کی شاعری میں روشن ہوئے ہیں کہ کائناتی مدو جزر اور حیات کے نشیب و فرازپر ان کی ’نگاہ‘ ہے جب کہ آج کے بیشتر تخلیق کاروں کا باب حیات و کائنات میں معاملہ صرف ’نگہ‘ کا ہے۔ وقار کی ’نگاہ‘ اور دیگر کی ’نگہ‘ کے فرق کو شاعری کے حوالے سے ہی سمجھا جاسکتا ہے۔
آج کے پرانتشار اوربے حس مشینی عہد میں جب کہ حیات و کائنات کے مفاہیم ہی بدل گئے ہیں تو زندگی کا وہ مفہوم جو مادیت کے بجائے روحانیت پر مرکوز ہو، جس میں انسانیت کی اعلیٰ قدروں کا تحفظ ہو ، اخلاقیات کا پاس ہو، وہ زندگی زیادہ بامعنی ہوجاتی ہے۔ وقار مانوی کے یہاں زندگی کا وہی تصور ہے جس کا رشتہ روایت سے ہے، ان کی شاعری میں بھی روایتی قدروں کا گہرا عرفان ہے۔ عرفان کے یہی سلسلے ان کی شاعری کو صارفیت اور سین سیکس کے شماریاتی عہد اور موجودہ انسانی اخلاقی بحران کے تناظر میں معنی خیز بناتے ہیں:
اک ہم کہ جس کے ساتھ رہے عمر بھر رہے
اک تم کہ چار دن نہ گزارے کسی کے ساتھ
ہم نے تمہارے عیب کو بھی کہہ دیا ہنر
تم عیب ڈھونڈتے ہو ہمارے ہنر میں بھی
ہوں کسی آنکھ میں یکساں نظر آئے آنسو
ہم سے دیکھے گئے اپنے نہ پرائے آنسو
وقار مانوی کے یہاں شکست خواب کا المیہ بھی ہے اور خواب آرزو سے انکار بھی۔ ان کی شاعری میں حیات و کائنات کی معنویت اپنے تمام تر تموج اور اضطراب کے ساتھ روشن ہوتی ہے ۔وہ زندگی کی حقیقتوں سے راہ فرار اختیار نہیں کرتے، زندگی کو اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ زندگی کا یہ شعور طویل تجربے و مشاہدے کا نچوڑ ہے۔ تجربات و حوادث نے حیات و کائنات کے تعلق سے ان کے طرز فکر اوراحساس کو تبدیل کیا ہے اور یہ تبدیلی ان کی شاعری کے بین السطور سے عیاں ہے۔
وقار مانوی اپنے فکری کینوس کے اعتبار سے اس بحرانی عہد کے معتبر شاعر قرا رپاتے ہیں کہ ان کے احساس و اظہار میں توانائی ہے۔ ہاں اگر تھوڑی سی ’رعنائی‘ زیادہ ہوتی تو ا کی شاعری کا لطف کچھ اور ہوتا۔ ان کی شاعری میں سب کچھ ہے، بس اس ایک ’ادا‘ کی کمی ہے جس کی طرف انہو ں نے یوں اشارہ کیا ہے:
بہ یک ادا جو ادا کر گیا وہ جان ادا
وہ بات کہہ نہ سکے ہم ہزار غزلوں میں
یہی ادا، اشارت شاعری کو میر تقی میر جیسی کیفیت سے ہمکنار کرتی ہے۔ وقار مانوی کی شاعری میں ارباب نظر کو اس ’ادا‘ کی تلاش کرنی چاہیے کہ یہی ’ادا‘ غزل کو انفراد و اعتبار عطا کرتی ہے اور شاید اسی ادا کی آرزو میں وقار مانوی کی آواز بھی گم ہے:
اپنی آواز میں اک عمر سے گم ہوں مجھ کو
میرے جیسی کوئی آواز سنادی جائے
اپنی آواز میں گم یہ شاعر ہمارے عہد کے غزلیہ اظہار کا وقار ہے ،مگر المیہ ہے ہے کہ یہ دور بے ’وقاری‘ کا ہے بقول وقار:
یہ وقت وہ ہے کہ قدموں میں بیٹھنے والا
یہ چاہتا ہے کہ دستار چھین لے مجھ سے
(Oddٹائم میں لکھا گیا مضمون ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے)

Viewers: 3449
Share