Prof. Riffat Mazhar | Column | نوٹس ملیا تے ۔۔۔

پروفیسررفعت مظہر prof_riffat_mazhar@hotmail.com نوٹس ملیا تے ۔۔۔ کئی دنوں سے ذہن مائل ہو رہا تھا نہ ہی قلم قائل۔کئی بار قلم پکڑا ۔دو چار جملے لکھے اورپھر بیزاری میں قلم […]

پروفیسررفعت مظہر
prof_riffat_mazhar@hotmail.com

نوٹس ملیا تے ۔۔۔

کئی دنوں سے ذہن مائل ہو رہا تھا نہ ہی قلم قائل۔کئی بار قلم پکڑا ۔دو چار جملے لکھے اورپھر بیزاری میں قلم پھینک دیا ۔آخر انسان لکھے تو کیا لکھے اور کیوں لکھے کہ جب اپنے لکھے سے کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ یہ نہیں کہ ذہن کو گھُن چاٹ گیا ہو یا پاکستان میں راوی عیش ہی عیش لکھتا ہو ۔ہم تو اس دیس کے باسی ہیں کہ جہاں ہر روز منصورِ حقیقت کو سولی پہ چڑھایا جاتا ہے ، جہاں جا بجا آنسوؤں کے جھرنے بہتے ہیں اور جہاں کوچہ و بازار میں امراض کے تندوروں سے نکلے ہوئے جسم سسک سسک کر دم توڑتے ہیں ۔یہ وہ دھرتی ہے جہاں سارے معیشت دان بے بس ہیں کہ ہماری معیشت تو صرف پیٹ کی معیشت ہے جس کا علاج دورِ حاضر کے ماہرین کے پاس نہیں کیوں کہ ان کے نزدیک دو اور دو چار ہوتے ہیں جب کہ ہمارے نزدیک دو اور دو چار روٹیاں ۔شاید یہ کرّۂ ارض کا واحد خطّہ ہے جہاں آئین ساز ہی آئین شکن ہیں ۔صدرِ مملکت کے دِل کے بہت قریب ایک سابق وزیرِ قانون اور جعلی ڈاکٹر نے بے غیرتی ، بے شرمی اوربے حیائی کی انتہاؤں کو چھوتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’نوٹس ملیا تے کچھ نہ ہلیا‘‘ ایک عام پنجابی بھی اس غلیظ جملے کا مطلب بہت اچھی طرح جانتا ہے جو اس بد زبان نے کہا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ ایک معزز جسٹس نے یہاں تک کہہ دیا کہ انہیں اس گیارہ رُکنی بنچ سے الگ کر دیا جائے۔ یہ وہی شخص ہے جو آمر ضیاء لحق کی کاسہ لیسی میں انسانیت کی ساری حد یں پار کرتے ہوئے ذو الفقار علی بھٹو اور بینظیر شہید کے لئے گندی زبان استعمال کیا کرتا تھا ۔یہ وہی ہے جس نے بھٹو کو پھانسی دینے والے جلاد تارا مسیح کے حق میں جلوس نکالا تھا ۔زرداری صاحب نے تو خیر چُن چُن کے اپنے گرد ایسے لوگ اکٹھے کر لئے ہیں جنہیں بی بی نے کبھی گھاس تک نہیں ڈالی تھی ۔سوال مگر یہ ہے کہ آخر جیالوں کی غیرت کو کیا ہو گیا ہے ؟۔کیا انہوں نے کبھی سوچا کہ آخر پی۔پی۔پی کی زمامِ کار ایسے لوگوں کے ہاتھ میں کیوں ہے جن کا پی۔پی۔پی کے ساتھ ماضی میں شدید نفرت کا رشتہ تھا ؟۔سُنا ہے کہ جیالا مرتے دم تک جیالا رہتا ہے لیکن یہ کیسے جیالے ہیں جو اپنے ہی دورِ حکومت میں شہید بی بی کے قاتلوں کا سُراغ تک نہیں لگا سکے ۔زبانِ خلق ہمیشہ نقارۂ خُدا ہوتی ہے ۔اگرجیالا نامی یہ مخلوق بی بی کے قاتلوں کو واقعی نہیں جانتی تو پھر زبانِ خلق پہ ہی دھیان دے لے ، سب کچھ کھُل جائے گا ۔ لیکن اگر وہ مصلحتاََ خاموش ہیں تو پھر انہیں جیالا کہنا ہی ’’جیالے پن‘‘ کی توہین ہے ۔
مجھے افتخار محمد چوہدری نامی شخص سے کچھ لینا دینا نہیں ۔کوئی انہیں کچھ بھی کہے ، مجھے کیا ۔ لیکن چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی توہین کرسئ عدل ، میزانِ عدل اور ملک و قوم کی توہین ہے ، یہ توہین کسی بھی غیرت مند پاکستانی کے لئے نا قابلِ برداشت ہے ۔اعلیٰ عدلیہ کے انتہائی معزز و محترم اراکین کو یہ یاد رکھنا ہو گا کہ قوم نے نخلِ عدل کی اپنے خون سے آبیاری اس لئے نہیں کی تھی کہ ایک بد باطن سرِ عام اس پر کیچڑ اچھالے ۔دست بستہ عرض ہے کہ ہمیں دیگر کیسز پہ کچھ لینا دینا نہیں لیکن یہ براہِ راست قوم کی توہین کی گئی ہے اس لئے ایسے بد فطرت کو نشانِ عبرت بنا یا جانا عین انصاف ہے ۔یہ مطالبہ ہم صدر اور وزیرِ اعظم سے بھی کر سکتے تھے لیکن وہ تو شاید ’’سیاسی شہید‘‘ بننے کے لئے خود ہی یہ سارا تماشہ رچا رہے ہیں ۔حالانکہ ان کے کرتوت ہی ایسے ہیں کہ اب وہ سیاسی شہید بنیں یا سندھ کارڈ لہراتے پھریں ، قوم پر کچھ اثر نہیں ہونے والا ۔
پی۔پی۔پی کی موجودہ حکومت کا گزشتہ چار سال سے طریقۂ واردات ہی یہ رہا ہے کہ جب بھی ان کی کشتی منجدھار میں پھنستی ہے تو وہ قوم کی توجہ دوسری جانب مبذول کرنے کے لئے کئی نئے ایشو کھڑے کر دیتی ہے ۔میموگیٹ سکینڈل اور این آر او میں بری طرح پھنسنے کے بعد وزیرِ اعظم کو اچانک ’’سرائیکی صوبے‘‘ سے جنونی عشق ہو گیااور غالباََ انہی کی شہہ پر ایم کیو ایم نے ہزارہ اور سرائیکی صوبے کی قرار داد قومی اسمبلی میں پیش کر دی ۔ باقی سارے معاملات گئے بھاڑ میں اور اب صوبے صوبے کھیلتے ہوئے قومی اسمبلی میں جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے ۔
یہ ایم۔کیو۔ایم بھی کیا خوب ہے۔ اس کی نہ تو پنجاب میں کوئی نمائیندگی ہے اور نہ صوبہ خیبر پختون خواہ میں لیکن ان کے سینے میں درد انہی دو صوبوں کے لئے اٹھا ہے ۔جس صوبے کے ایک مخصوس حصّے میں اس کی نمائیندگی ہے اس کے باسی کہتے ہیں کہ سندھ کی تقسیم ان کی لاشوں پرسے گزر کر ہوگی ۔شاید ایم۔کیو۔ایم ابھی تک ’’جناح پور‘‘ کے سحر سے آزاد نہیں ہوئی ۔اس کا خیال ہو گا کہ اگر دیگر صوبوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں تو شاید ان کی بھی اُمید بر آئے وگرنہ جو جماعت کراچی کے پانچ ضلعے بنانے پر تلملا اُٹھے اور مرنے مارنے پر اتر آئے ، وہ بھلا ایسا کام کیوں کرے گی۔ویسے ما شا اللہ یہ و ہ ’’سبز قدم‘‘ جماعت ہے جو جب سے معرضِ وجود میں آئی ہے لوگوں کا چین اور سکون غارت ہو کے رہ گیاہے ۔خود ان کا قائدموت کے خوف سے ۱۹۹۲ء سے انگلینڈ میں پناہ لئے بیٹھا ہے اور یہ کبھی پنجاب کو ’’تڑیاں‘‘ لگاتے ہیں اور کبھی خیبر پختون خواہ کو ۔یہ ’’بے قائد‘‘ جماعت پہلے اپنا کوئی قائد دھونڈ لے ، پھر بات کرے ۔آخر یہ کب تک سات سمندر پار بیٹھے ایک غیر ملکی کے ذریعے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کرتی رہے گی ۔اگر قومی دھارے میں شامل ہونا ہے تو پھر قوم ہی سے کوئی راہبر تلاش کرنا ہو گا ۔

Viewers: 2946
Share