Hafiz Muzafar Mohsin | Column | جھلکتا اطمینان اور یاسر پیر زادہ کی ’’ذ را ہٹ‘‘ کے۔!

حافظ مظفر محسن 101چراغ پارک شاد باغ لاہور فون نمبر: 0300-9449527 جھلکتا اطمینان اور یاسر پیر زادہ کی ’’ذ را ہٹ‘‘ کے۔! ’’ ماں یہ ہر روز چار پانچ روٹیاں […]

حافظ مظفر محسن
101چراغ پارک شاد باغ لاہور
فون نمبر: 0300-9449527

جھلکتا اطمینان اور یاسر پیر زادہ کی ’’ذ را ہٹ‘‘ کے۔!

’’ ماں یہ ہر روز چار پانچ روٹیاں آپ زیادہ کیوں پکا لیتی ہیں‘‘۔ میں نے حیرت سے دیکھیتے ہوئے پوچھا۔ تو ماں مسکرانے لگی۔
پھر محبت سے میرے سر پر ہاتھ پیھرتے ہوئے بولی۔
’’ بیٹا ۔ رازق کو ن ہے‘‘؟
’’ خداہے ‘‘۔ میرے مُنہ سے نکلا۔
اُس رازق کو سب کی فکر ہے ناں….. وہ کروڑوں اربوں انسانوں کے لیے رزق کا بندوبست کرتا ہے۔ اُسے ہر ذی روح کی فکر ہے اور شاید ہی کوئی رات ہو جب دنیا میں کوئی انسان بھوکا سویا ہو۔ مدر ٹریسا، عبدالستار ایدھی ، انصار برنی اور بہت سے ایسے خدا ترس انسان ہر ملک وقوم میں موجود ہوں گے۔ جنہیں خدائے بزرگ و برتر نے انسانوں کی تکالیف دور کرنے کے لیے بستیوں محلوں اور شہروں میں چھوڑ رکھا ہے۔ درد دل رکھنے والے یہ پارسا لوگ کم ہیں لیکن ہیں تو مُخلص۔ ۔ اور تجھ پر۔ مجھ پر بھاری۔
میں یہ جو چار پانچ روٹیاں ہر روز فالتو پکاکے رکھتی ہوں سالن بھی ہمیشہ ہمارے گھر میں زیادہ پکتا ہے۔ اِس کے پیچھے فلسفہ صرف یہ ہے کہ کبھی رات گئے کوئی مہمان آسکتا ہے۔ گلی میں کوئی فقیر صدا لگا سکتا ہے ۔ کوئی جوان بیوہ اپنے بھوکے بچے کو بازو پہ لٹائے ایک روٹی کے لقمے کے لیے پکار سکتی ہے۔ اور اگر رات گئے کسی بھوکے بچے کو دودھ کی ایک بوند یا روٹی کا یک لقمہ میسر آجائے تو ہم نے کمالی ناں جنت؟!۔ مل جائے گا ناں دل کو سکون۔ اور برسے گی ناں خدا کی رحمت ۔ ہو جائے گی ناں دِلوں کو راحت نصیب؟!۔ (اِک عزم کے ساتھ ماں نے یہ سب کہہ دیا)۔ کیونکہ اطمینان تو ایسے ہی شاید مل سکتا ہے ورنہ۔
اور پھر میں بھی خاک ہونے لگا
خاک ہو تی ہوئی زمین کے ساتھ
میں ماں کا مُنہ تکتے ہوئے اُس اطمینان میں کھو گیا جو ماں کی آنکھوں میں مجھے جھلکتا دکھائی دیا۔
میں نے ایسا ہی جھلکتا اطمینان عطاء الحق قاسمی کے چہرے پر اُس وقت دیکھا جب لوگ ہال نمبر ااا میں یاسر کی تحریروں کے حوالے سے۔ ’’ وہ سب کہتے چلے جا رہے تھے‘‘۔ جو کبھی کبھی بندہ نہ بھی کہے تو۔ عوام کو بات سمجھ آ جاتی ہے۔ کہنے والے کی بات کو۔ ’’ عالمانہ‘‘ بات سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک ’سنیئر موسٹ ‘‘ لکھاری نے تو بارہا۔ یاسرؔ پیرزادہ کو یاسر عرفات کہہ کہ مخاطب کر ڈالا۔ اس کا یہ اثر ہوا کہ ۔ کچھ دبے ہوئے قہقہے برآمد ہوئے اور ہال میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ اور احساس ہوا کہ ۔ ’’ جنیٹری‘‘ بھی بوقت ضرورت ہنس لیتی ہے۔ ’’ سادہ‘‘ لطیفہ بھی انجوائے کر لیتی ہے؟!ْ۔ ورنہ لگتا تھا سب دُم دبائے بیٹھے ہیں۔
کچھ صحافی دوستوں نے تو پرانے بدلے بھی اتارے۔ حالانکہ جہاں عطاء الحق قاسمی ہوں میں اُس محفل اُس تقریب میں ضرور جاتا ہوں۔ میں نے نہیں دیکھا۔ عطاء الحق قاسمی صاحب نے کسی کے کام میں ’’ خواہ مخواہ کیڑے‘‘ نکالے ہوں یا عہد کرلیا ہو کہ اگلے بندے کو ’’ زچ‘‘ کرنا ہے۔ فرض سمجھ کر۔ بہر حال یہ ایک پہلو تھا جو سامنے آیاشاید عطاء صاحب ’’ مروت‘‘ کے باعث ایک آدھ ’’ نیا‘‘ لطیفہ سنا کر بدلہ چکا دیں مگر ۔ کچھ لوگ لطیفہ سُن کر یونہی ہنس دیتے ہیں۔ حالانکہ عطاء صاحب کے لطیفوں کی اگر ’’ باریکی ‘‘ دیکھی جائے تو اُن کے اکثر لطیفے ۔ ہنسنے ہنسانے والے نہیں۔ قہقہے اگلوانے والے ہوتے ہیں۔ اور اُس لطیفے کا اثر انسان کے پورے دن کے پروگراموں پر بھی پڑتا ہے۔ بندہ کسی سے قرضہ واپس لینے جائے غصے میں بات شروع کرئے تو عطاء صاحب کا سنایا لطیفہ بار بار سامنے آکے کھڑا ہو جاتا ہے۔ اور انسان نہ صرف خود قہقہہ اُگل دیتا ہے۔ دوسرے کو لطیفہ بھی سنا ہی ڈالتا ہے۔ گویا ماحول بدل جاتا ہے۔ ناشتے پر سنا لطیفہ ڈِنر تک چھایا رہتا ہے۔ یعنی اس لطیفے کی کیفیت آپ پر طاری رہتی ہے۔ صبح بیوی کی جھڑکیاں سُن کر جو بدمزگی چھائی ہوتی ہے۔ وہ رفع کرنے کے لیے عطاء صاحب کا اِک لطیفہ ہی معجون مچھلی سے زیادہ کارگر ثابت ہو تا ہے۔ بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بھی اِن لطیفوں میں شفا ہوتی ہے۔ ہاں البتہ کچھ لطیفے ایسے بھی ہوتے ہیں جو بچوں کی پہنچ سے دُور رکھنے چاہیں۔ لیکن افسوس کہ بچوں کے پاس ایک دوگھنٹے میں موبائل کے ” ان باکس” میں وہ کسی نہ کسی ذریعے سے پہنچ ہی جاتے ہیں۔ اور ”آؤٹ باکس” کا تو مت پوچھیئے۔ وَِِن کلک ۔ اور ہزاروں کے استفادہ کے لیے ”سینٹ”۔ یاسر پیرزادہ کی طنز کے حوالے سے بھی ڈاکٹر جاوید اقبال اور جناب انتظار حسین نے بات کی۔ لیکن یہ انداز چھبنے والا ہر گز نہ تھا۔ جیسا کہ کچھ صھافی دوستوں کا تھا۔
اصل میں آج کے دور میں کتاب نہ پڑھ کے تبصرہ کرنے کا رواج بھی تو ہم نے ہی ڈالا ہے۔ ’’ اوراد وظائف ‘‘ کی کتاب پر بھی لوگ جب تبصرہ کرتے ہیں تو کچھ تو لکھ ڈالتے ہیں کہ ۔’’ مولف کو کسی سنیئر سے اصلاح لینی چاہیئے۔ ویسے مارکیٹ میں اچھی شاعری کی پہچان ۔ تو اب مجھے ہی سمجا جاتا ہے؟!۔( اپنے مُنہ میاں مٹھو بننے کے ماہرین بازار میں موجود ہیں)۔
مشہور پامسٹ جناب میر بشیر کہا کرتے تھے کہ میں نے کبھی کسی کلائنٹ کی لمبی نئی کار دیکھ کر ہاتھ دکھانے والے کے بارے میں رائے نہیں دی۔ میں ہاتھ دیکھتا ہوں اور بتا دیتا ہوں یہ کرائے کی کار پہ آیا ہے اور یا پھر یہ گاڑیوں کا مکینک ہے۔
’’تاریخ گواہ ہے بلکہ شہباز انور خان بھی گواہ ہیں کہ شہر لاہور کی چھوٹی بڑی ادبی تقریبات میں جہاں افتخار مجاز ، اعزاز احمد آذر ، حسن عباسی ، گل نوخیز اختر، طارق ضیاء ، حافظ عزیرؔ (جہاں ڈالڈا وہاں مامتا فیم) سعد اللہ ، سید بدر سعید ، عبدالماجد ملک ، شہباز انور خان موجود ہوں۔ ہم علیحدہ علیحدہ نہیں بیٹھ سکتے۔ کچھ جملے بازی کچھ نوک جھونک اور کسی مقام پر شہباز صاحب یا حسن عباسی کا بازو کی کہنی مار کے سوئے ساتھی کو جگانا یا۔ کچھ کرنے پر اُکسانا۔
مگر اِس تقریب میں ہم سب حال کے مختلف کونوں (گوشوں) میں بیٹھے تھے اور پورے انہماک سے وہ سب سن رہے تھے دیکھ رہے تھے جو بڑی مدت بعد اِک ادبی تقریب میں دیکھنے ۔ سُننے کو ملا۔
لاہور میں منعقد کتاب کی اِس تقریب رونمائی میں یاسر پیرزادہ کی والدہ بھی موجود تھیں جو نہال ہو رہی تھیں اپنے بیٹے کے تحریری میدان میں کامیاب سفر کے حوالے سے باتیں سُن کر۔ یہ وہ ’’ اسناد‘‘ تھیں جو بہت بڑی ادبی شخصیات نے اپنے اپنے انداز میں یاسر پیرزادہ کو پیش کیں۔ یہ وہ محبت بھرے تحفے تھے جو دوستوں نے بہت بڑی تعداد میں حاضر ہو کر یاسر پر نچھاور کئے۔
میں نے اِس نہایت خوبصورت اور کامیاب تقریب میں جو چیز محسوس کی وہ موجودہ دور کے سب سے بڑے طنزومزاح نگار جناب عطاء الحق قاسمی کے چہرے پر موجود وہ اطمینان تھا۔ جب وہ یاسر کو ایک نہایت کامیاب لکھاری کے طور پرڈائس پر کھڑا دیکھ رہے تھے۔ جب ہال میں لوگ اُس کو سُن کر بے اختیار تالیاں بجا رہے تھے۔
تم جیؤ ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار

Viewers: 11319
Share