Ahmad Khiyal | Column | میموکیس اور میاں نواز شریف

احمد خیال۔ لاہور پاکستان ۔ فون: 0308-4633717 میموکیس اور میاں نواز شریف میمو سکینڈل سامنے آیا تو میاں نواز شریف کو نجانے کیا سوجھی کہ کالا کوٹ زیب تن کیے […]

احمد خیال۔ لاہور
پاکستان ۔ فون: 0308-4633717

میموکیس اور میاں نواز شریف

میمو سکینڈل سامنے آیا تو میاں نواز شریف کو نجانے کیا سوجھی کہ کالا کوٹ زیب تن کیے سپریم کورٹ پہنچ گئے،ایک وکیل کی حیثیت سے ابتدائی دلائل دیے اور وزیراعظم،صدر،حسین حقانی،ڈی جی آئی ایس آئی احمد شجاع پاشا اور جنرل کیانی کو فریق بناتے ہوئے ایک درخواست دائر کردی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ میمو سکینڈل ملکی سلامتی اور افواج پاکستان کے خلاف ایک گھناونی سازش ہے جس کی فورا تحقیقات کروائی جائیں اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔دو مرتبہ وزارت عظمی کی مسند نشین شخصیت سپریم کورٹ میں اس انداز سے جلوہ افروز ہو تو توجہ تو ملتی ہے،یہ تاثر سامنے آیا کہ میاں صاحب کو عدالت میں خصوصی پروٹو کول دیا گیاجس کی رجسٹرار سپریم کورٹ نے بعد میں تردید کی کہ میاں صاحب کو ایک عام آدمی کی حیثیت سے ڈیل کیا گیا ہے دوسری طرف میڈیا نے بھی اس کو بھر پور کوریج دی ،میاں نواز شریف کے مخالفین نے کہا کہ انہوں نے کسی کے اشارے پر اتنی تیزی دکھائی ہے کہ انہیں اپنی فیصل آباد کے جلسے میں حکومت کو دی گئی مہلت کونظر انداز کرنا پڑا،حکومت نے ایک پارلیمانی کمیشن تشکیل دے دیا،سپریم کورٹ نے بھی ایک عدالتی کمیشن بٹھا دیا ،فریقین کو نوٹس جاری کردیے گئے،فریقین کی طرف سے جواب داخل ہوئے تو یہ کھلا کہ میمو معاملے پر افواج پاکستان اور حکومت کے موقف میں واضح اختلافا ت موجود ہیں ،افواج پاکستان میمو کو ایک حقیقت جبکہ حکومت اسے محض کاغذ کا ایک ٹکڑا قرار دے رہی تھی ،کیس چلنا شروع ہوا ،حسین حقانی پر باہر جانے پر پابندی لگا دی گئی،نواز شریف کے حکومت مخالف بیانات ،سپریم کورٹ کا کیس کے حوالے سے سنجیدہ طرز عمل ،اور افواج پاکستان کا رویہ حکومت کے گرد گھیرا تنگ کرتے نظر آتے تھے،یوں لگ رہا تھا کہ میمو گیٹ سکینڈل میں بڑی بڑی پگڑیاں اچھلیں گی، چند پردہ نشینوں کے نام بھی سامنے آئیں گے،یار لوگ اس آس میں تھے کہ بس چند دنوں کی بات ہے کہ حسین حقانی پر عدالتی گرفت کچھ ایسے انداز میں پڑے گی کہ وہ یا تو سلطانی گواہ بن جائیں گے اور میمو گیٹ کے اصل کردار وں کے چہروں سے پردہ اٹھے گا،بصورت دیگر حقانی غدار قرار دیے جائیں گے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا،میمو گیٹ سکینڈل کا مرکزی کردار منصو راعجاز پاکستان آنے کا وعدہ کرتا رہا ،ان کے وکیل اکرم شیخ عدالتی کمیشن کو قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ وہ فلاں تاریخ کو آرہا ہے،لیکن دو تین مرتبہ دی گئی تاریخوں کے باوجود منصور اعجاز پاکستان نہیں آیا جس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں،منصور اعجاز کی طرف سے پاکستان نہ آنے کی ایک وجہ تو دی جانے والی سیکیورٹی پر تحفظات تھے دوسری وجہ وزیراعظم اور رحمان ملک کے وہ بیانات تھے جو عدالتی کمیشن کی منصو ر اعجاز کو پیشی کے لئے دی گئی آخری تاریخ سے ایک دو دن قبل دیے گئے،وزیر اعظم نے فرمایا تھا کہ منصور اعجاز کوئی وائسرائے نہیں کہ اس کی سیکیورٹی کے لئے اربوں روپے خرچ کئے جائیں جبکہ رحمان ملک نے کہا تھا کہ اگر کمیشن کہے گا تو منصور اعجازکا نام ای سی ایل میں ڈالا جا سکتا ہے،مبصرین اور ناقدین کا خیال تھا کہ اگر حکومت کے ہاتھ صاف ہیں تو منصوراعجاز کو پاکستان آنے سے کیوں روکا جا رہا ہے،دوسری طرف حکومتی عہدیداران بغلیں بجاتے پھر رہے تھے کہ دیکھا منصور اعجاز ہے ہی جھوٹا ،وہ کبھی پاکستان آئے گا ہی نہیں30,جنوری کو کیس کی سماعت ہوئی تو منصور اعجاز موجو د نہیں تھا ،وہ پاکستان نہیں آیا تھا اور سپریم کورٹ نے فیصلہ دو ماہ تک کے لئے ملتوی کر دیا،حسین حقانی کوپاکستان سے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی،چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو منصور اعجاز کی طر ف سے ایک ای میل موصول ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ اگر چیف جسٹس اس بات کی ضمانت دیں کہ مجھے پاکستان میں کسی قسم کی گزند نہیں پہنچے گی تو میں آنے کو تیار ہوں وغیرہ وغیرہ اور افتخا ر محمد چوہدری نے انکشاف کیا کہ منصور اعجاز کی طرف سے انہیں ایک خط بھی موصول ہوا ہے جس کے مندرجا ت انتہائی اہمیت کے حامل ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ کتنا مصدقہ ہے ان کے بقول یہ خط سپریم کورٹ کے ریکارڈ میں لاک کر دیا گیا ہے۔
یہاں سوال اٹھتا ہے میاں نواز شریف کے کردار کا،ایک مدعی جس نے بڑے اہتمام کے ساتھ سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور جب کیس اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والا تھا تو موصوف لند ن یاترا کے لیے نکل کھڑے ہوئے،انہیں تو حکومت پر دباو ڈالنا چاہیئے تھا کہ منصور اعجاز کی پاکستان آمد کو یقینی بنایا جائے اور اس کیس کو صاف ستھری تحقیقات کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے ،یہاں افواج پاکستان کے کردار پر بھی انگلیاں اٹھتی ہیں کہ میمو کو ایک ٹھوس حقیقت اور افواج پاکستان کے خلاف سازش قرار دینے والوں کوا چانک کیا ہوا کہ کشیدہ فضا میں مفاہمتی رنگ غالب نظر آنے لگا،چپ سادھ لی گئی اورایک آتش فشاں نظر آتا میمو گیٹ سکینڈل کسی برف زار میں بدلتا نظرآنے لگا،پاکستان میں آئے روز بدلتی ہوئی صورتحال اور نت نئی جنم لیتی کہانیاں داستان الف لیلہ کو بھی مات دیتی ہیں،ہر کہانی کا جداگانہ رنگ اور ہر رنگ میں رنگ ہزار۔
میمو گیٹ سکینڈل کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو ایک بات سامنے آتی ہے کہ امریکا کی پاکستان کے معاملات میں مداخلت اور من مانے نتائج کا حصول ایک کھلی حقیقت ہے ،میمو کیس کے دوران امریکاکا یہ بیان کہ ہم میمو معاملے کا بغور جائزہ لے رہے ہیں انتہائی معنی خیز ہے،امریکا ایسی چال چلتا ہے کہ کرداراس کے اشارے پر کٹھ پتلیوں کی طرح ناچتے دکھائی دیتے ہیں،ان دنوں پاک فوج اور امریکا کے تعلقات انتہائی کشیدہ تھے،منصور اعجاز اگر پاکستان آتا اور میمو کمیشن کے سامنے حقائق رکھتاتو پاکستان فوج اور آئی ایس آئی کے موقف کو تقویت ملنی تھی جبکہ امریکا ایسا ہرگز نہیں چاہتاتھا سو اس نے منصور اعجاز کو پاکستان نہیں آنے دیا اور بظاہر بازی پلٹ کے رکھ دی۔
حیرت یہ ہے کہ میاں نواز شریف جیسا لیڈر بھی ان طاقتوں کے آگے بے بس دکھائی دیتا ہے،میاں نواز شریف کے لئے فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ کیا کم تھا کہ اب ان کی شخصیت بھی مصلحت پسندی اور مفاہمت پرستی کے رنگ میں رنگتی نظر آتی ہے،مصلحت پسند ی اور مفاہمت پرستی اچھی چیز ہے لیکن حد سے زیادہ احتیاط لیڈر کے کردار کو داو پر لگا دیتی ہے،عوام سوچتے ہیں کہ ملکی اور غیر ملکی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے کھڑا ہونے والا کوئی سیاستدان سامنے آئے گا بھی یا محکومی کا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا،عوام کسی طیب اردگا ن کی راہ دیکھ رہے ہیں ،دیکھئے خواب کب حقیقت کا روپ دھارتے ہیں ۔
***

Viewers: 3017
Share