دہلی میں ’’ادب گاہ ‘‘کے زیراہتمام قاسم خورشید اور سلیم شہزاد کے اعزاز میں یاد گار نشست

رپورٹ :سید عبید اللہ سبیلیؔ s.obaidullah.786@gmail.com نئی دہلی (فروری 2012 ) دہلی میں ’’ادب گاہ ‘‘کے زیراہتمام قاسم خورشید اور سلیم شہزاد کے اعزاز میں یاد گار نشست گذشتہ روز […]

رپورٹ :سید عبید اللہ سبیلیؔ
s.obaidullah.786@gmail.com
نئی دہلی (فروری 2012 )

دہلی میں ’’ادب گاہ ‘‘کے زیراہتمام قاسم خورشید اور سلیم شہزاد کے اعزاز میں یاد گار نشست

گذشتہ روز اردو ہندی کے نامور تخلیق کار قاسم خور شید اور سلیم شہزاد کی دہلی آمد پر ادبی تنظیم ’’ادب گاہ ‘‘ کے زیر اہتمام شاہین باغ کے ڈریم بگ اکیڈمی کے شاندار ہال میں ایک اہم ادبی نشست کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت تنظیم کے صدر ومعروف فکشن نگار او رماہر تعلیم پروفیسر غضنفر نے فرمائی ۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر حلیمہ سعدیہ نے انجام دئے۔ مہمانان خصوصی ڈاکٹر قاسم خورشید او ر سلیم شہزاد کا استقبال کرتے ہوئے حلیمہ سعدیہ نے فرمایا کہ یہ ہماری تنظیم کے لئے انتہائی مسرت کاموقع ہے کہ ہمارے ادب کی دو انتہائی معتبر شخصیتیں ہماری دعوت پر تشریف فرما ہیں ۔ سلیم شہزاد صاحب پہلی بار اس بز م میںآئے ہیں ۔ جبکہ ڈاکٹر قاسم خورشید نے تقریباً دوسال پہلے بھی ہمیں اپنی موجودگی سے سرفراز کیا تھا ۔ مزید رسمی کلمات کے بعد صدر کی اجازت سے مہمان خصوصی ڈاکٹر قاسم خورشید کو حلیمہ سعدیہ نے اپنی کہانی پیش کرنے کی دعوت دی اور بہت زور دے کر کہا کہ اس سے پہلے قاسم خورشید صاحب نے اپنی ایک کہانی ’’باگھ دادا ‘‘ اسی ’’ادب گاہ ‘‘میں پیش کی تھی اس خوبصورت او رپرُاثر کہانی کے حصار میں ہم آج بھی گرفتار ہیں ۔ایسی بااثر کہانیاں ادب میں کم کم ہی لکھی جاتی ہیں ۔اس کے بعد قاسم خورشید نے ’’ادب گاہ ‘‘کے تمام اراکین او رمعزز حاضرین کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہماری خوش وقتی ہے کہ اتنے مصروف ترین لمحات کے باوجود دہلی کے دور دراز علاقے سے بھی لوگ اس نشست میں شامل ہونے کے لئے تشریف لائے ہیں ۔ اردو کے تابناک مستقبل او راس سے والہانہ محبت کی اس سے زیادہ خوبصورت مثال کہا ں پیش کی جاسکتی ہے۔ قاسم خورشید نے اپنے افتتاحی کلمات کے بعد اپنی کہانی ’’ کش پور کی مسجد ‘‘ نہایت موثر اور دلچسپ انداز میں پیش کی ۔سبھوں نے ہمہ تن گوش ہو کر یہ کہانی سنی ۔ اس کے بعد مہاراشٹر سے تشریف لائے فکشن نگار سلیم شہزاد نے اپنے ناولٹ ’’سانپ اور سیڑھی ‘‘ کا ایک مختصر باب پیش کیا ۔ دونوں تخلیقات پر تاثرات کا دور شروع کرتے ہوئے ڈاکٹر حلیمہ سعدیہ نے کہاکہ میں نے شروع میں کہا تھا کہ اس’’ ادب گاہ ‘‘میں قاسم خورشید کی پیش کردہ کہانی کا خمار ہم سب پر حاوی ہے آج ’’کشن پور کی مسجد ‘‘ سننے کے بعد یہ احسا س ہواکہ قاسم خورشید صرف شہ پارے کی ہی تخلیق کرتے ہیں۔ اتنی خوبصور ت او ر جامع کہانی پیش کی گئی ہے کہ میں سمجھتی ہوں ہمارے ادب کے لئے یہ یقیناًقابل قدر اضافہ تصور کی جانی چاہئے ۔قاسم خورشید کو قلب کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتی ہوں ۔ سلیم شہزاد صاحب نے ناولٹ کا جوباب سنایا اسے سننے کے بعد اس ناول کو مکمل طور پر پڑھنے کا تجسس جاگ اٹھا ہے ۔ میں انہیں بھی مبارک باد پیش کرتی ہوں ۔ نئی نسل کے صاحب طرز شاعر واحد نظیر نے دونوں تخلیقات پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قاسم خور شید ہمارے ادب کی ایک انتہائی منفرد اور موثر آواز ہیں ۔ ان کی تخلیقات کا زمانہ معترف ہے ۔ قاسم خورشید نے اردو ادب کو کئی خوبصورت کہانیاں دی ہیں ’’کشن پور کی مسجد‘‘ نہ صرف یہ کہ موضوع کے اعتبار سے ایک لافانی کہانی ہے بلکہ اس کہانی میں بُنت کی سطح پر مرصع سازی کا ثبوت بھی پیش کیا ہے ’’کشن پور کی مسجد ‘‘ میں ایک فقہی مسئلے کو جتنی باریک بینی سے پیش کیا گیا ہے وہ کسی بھی طرح کوئی عام فنکار نہیں کرسکتا ہے یہ غیر معمولی طریقۂ کار قاسم خورشید جیسا فنکار ہی اپنا سکتا ہے ۔میں ایسی کہانی کی تخلیق کے لئے قاسم خورشید کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔ جہاں تک سلیم شہزاد صاحب کا تعلق ہے تو وہ پرانے فنکار ہیں ۔ مختلف موضوعات پر لکھتے رہے ہیں ۔سیاسی سماجی کج روی پر پیش کردہ ان کے ناول کااقتباس بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے ۔ اسی طرح دوسرے کئی مدعوئین نے قاسم خورشید کی کہانی’’ کشن پور کی مسجد ‘‘ سے متعلق پوری شدت کے ساتھ اپنی پسندیدگی کااظہار کیا ۔ جن میں ڈاکٹر محمد سہراب، جناب مبشر ڈاکٹر حنا آفریں، ڈاکٹر نوشاد عالم ، محترمہ زینت ، محترمہ نشا ، محترمہ سلمیٰ محترمہ شبانہ ، ڈاکٹر فرحت یاسمین وغیرہ خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں ۔ اس موقعے پر غضنفر ، شعیب رضا خاں، اسرار جامعی ،واحد نظیر ، جاوید اختر ،جناب مبشر وغیرہ نے اپنی شعری تخلیقات سے محفل کو اور رونق عطا کی ۔
اخیر میں صدرجلسہ پروفیسر غضنفر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’ادب گا ہ‘‘ اپنے مہمانان خصوصی ڈاکٹر قاسم خورشید او ر جناب سلیم شہزاد کا ممنون ہے کہ انہوں نے ہماری دعوت قبول کی اور اس محفل میں شریک ہوئے ۔ ’’ادب گاہ‘‘ میں قاسم خورشید نے آج جو کہانی ’’ کشن پور کی مسجد ‘‘ پیش کی ۔ اس پر تمام حاضرین نے بہ یک زبان بے حد پسندیدگی کا اظہار کیا ۔ فن کار کے لئے اس سے زیادہ اہم اثاثہ کچھ بھی نہیں ہوسکتا ہے ۔ میں ان کے تاثرات سے متفق ہوتے ہوئے مزید یہ جوڑنا چاہتا ہوں کہ قاسم خورشید نے اپنی کہانی کے عنوان سے ہی ’قارئین یا سامعین کے اندر ایک تجسس پیدا کردیا اور یہ کسی تخلیقی فنکار کا اہم ترین فریضہ ہے کہ وہ کہانی کے عنوان پر بھی گہری نظر رکھے۔ انہو ں نے بہت فطری او رتخلیقی انداز میں ایک نہایت موثر کہانی پیش کی ہے۔ اسی طرح سلیم شہزاد نے ’سانپ او ر سیڑھی ‘‘کے عنوان سے آج کی سیاسی بازیگری کو عصری تقاضوں کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔میں ان دونوں فنکاروں کو قابل مبارک باد سمجھتا ہوں ۔
ڈاکٹر حلیمہ سعدیہ کے شکریہ کی تجویز کے بعد اس یاد گار نشست کااختتام ہوا ۔
***

Viewers: 4834
Share