Farkhanda Razvi | Sahir Shevi | صدائے کوکن،اور بہار کوکن کا جادو گر

فرخندہ رضوی
ریڈنگ ۔انگلینڈ

صدائے کوکن،اور بہار کوکن کا جادو گر ڈاکٹر ساحر شیوی

ڈاکٹرساحر شیوی ایک ایسا نام جن کی ذات کا تذکرہ ہر اَدب نواز کی زبان پر ہمیشہ رہتا ہے۔دنیائے ادب میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔میری ملاقات ایک ادبی تقریب میں کچھ سال پہلے ہوئی مگر میری اور اُن کی ملاقات میں ایک طویل فاصلہ تھا ۔میں نے سوچااتنی بڑی شخصیت اور اپنے درمیان فاصلہ ختم کرنے کیلئے مجھ میں کوئی تو صفت ہونی چاہئے۔ میری وہ ملاقات ادھوری ہی رہی ۔پھر ایک دن ماہنامہ پرواز( میگزین )سے مجھے سلطانہ مہر صاحبہ نے متعارف کروایا ۔تو پہلی بار فون پر ہماری بات ہوئی پھر تو یہ سلسلہ ایسا چل نکل جو کہ ابھی تک قائم ہے۔۲۰۱۰ میں میری افسانوں کی کتاب مارکیٹ میں آئی ۔تب رسم ِ اجرأ کے سلسلے میں ایک تقریب کا اہتمام کیا تو میں نے صدارت کے فرائض انہیں سونپے۔یوں انہوں نے میرے ادبی سفر میں قدم با قدم پر رہنمائی کا دعدہ کیا ۔مجھے انہیں بہت قریب سے دیکھنے اور ملنے کا موقعہ ملا ۔نہایت ملنسار و محبت کرنے والی ایک ایسی شخصیت ،ہر وقت مسکراتا ہوا چہرہ کہ بہت سی باتیں کرنے کو دل چاہتا ہے۔
دو ہفتے پہلے ڈاکٹر ساحر شیوی صاحب نے مجھے اپنی دو کتابیں پوسٹ کیں ۔مصرو فیت کی وجہ سے کچھ لکھنا ممکن نا ہوا ۔دوسری طرف میری سوچ بلکل مفلوج سی تھی آخر کیا لکھوں ؟ان کی شخصیت کا ہرخوبصورت پہلو میری نظروں کے سامنے تھا۔ان کی قابلیت میرے قلم میں کیسے سمائے گی۔اسی کشمکش میں تھی ۔مجھے لکھنا تو تھا ہی ۔پھر سوچاآج نہیں لکھ پائی تو شاید کبھی نا لکھ پاؤں ۔میرے سامنے ماہنامہ پرواز آج بھی پڑا ہے جو انہی کی ایک خوبصورت کاوش ہی ہے
ان کی تقربناََ چوبیس شاعری و نثر میں لکھی کتابیں ایک ریکارڈ ہے۔برطانیہ میں انہیں اُردو سے محبت کرنے والوں سے ایسی ہی محبت ہے۔جیسے والدین اپنے بچوں سے کرتے ہیں ان کی فراغدلی کا ثبوت قلم و ادب سے محبت،ہر قدم پر باکمال شخصیت ہیں ۔اَدب کی خدمت ہر انسان کی پہنچ میں ہر گز نہیں۔انہوں نے اردو اصناف کے ہر پہلو کو اجاگر کیا ۔لفظوں کا جادو توان کے قلم کی ہر جنبش میں موجود ہے۔انہوں نے نعت،حمد ،غزل ،دوہے گیت،مضامین ،خاکے گیت
ختکہ کوئی موزوں ایسا کہ چھوڑا ہی نہیں۔کتاب ایک صنف ہے اگر تو طاق میں بھی رکھی ہو پھر بھی لکھنے والے کی یاد دہانی کراتی رہتی ہے۔چاہئے اُسے کوئی پڑھے یا نہ پڑھے۔
ساحر شیوی صاحب کے ادبی کارنامے برسوں ان کتابی جلدوں میں محفوظ رہیں گے۔
بہارکوکن ،جو کہ رباعیات کا مجموعہ اور دو سری کتاب صدائے کوکن ،جس میں اردو ،ہندی اور وطنی گیت شامل کئے گے ہیں ۔دونوں کتابوں کا سرِورق خوبصورت مگر ایک دوسرے سے مختلف جاذِب نظر۔صدائے کوکن کا انتساب انہوں نے اپنے شفیق ماموں مشتاق احمد پالیکر،کے نام اور دوسری کتاب جو کہ پانچ سو سے زیادہ رباعیات کا مجموعہ بہار کوکن کا انتساب اُس شخصیت کے نام پریم گوپال متّل جنہوں نے ادبی دنیا میں انہیں روشناس کرایا ۔
بہارکوکن میں جناب تسلیم الہیٰ زلفی نے کہا کہ ساحرشیوی ایک تہذیبی رباعی نگار ہیں ۔میں ان سے اتفاق کرتے ہوئے کچھ آگے بڑھتی ہوں ۔ساحر شیوی صاحب کی ایک عمر گزری لفظوں کو پھولوں کی طرح چنتے اور پھر انہی پھولوں کو مالا کی طرح پروہتے ،یہی پھول غزلوں ،گیتوں اور کبھی رباعیوں کی صورت کاغذوں پر بکھراتے ہوئے۔حیرت کی بات تو یہ کہ اردو اُن کی مادری زبان بھی نہیں پھر اردو سے اِن کی محبت کیا کہنے۔
ان کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں نہایت ہمدرد،محبت کرنے والے ہر نئے و پرانے لکھاری کی ادبی خدمات پر حوصلہ افزائی کرنا ،ہر دل عزیزبننے کے لئے انہی خوبیوں کا ایک انسان کے اندر پایا جانا ضروری ہے جو ان میں بدرجہ اُتم موجود ہیں ۔ان کی رباعیوں کے لفظ جو اپنے اندر سمندر سا شور رکھتے ہیں۔

طوفان میں سفینے کو چلانا سیکھو
تاریکیوں میں دیپ چلانا سیکھو
کرتی ہے سدا جھنگ وجدل بربادی
فتنوں کو بھی دنیا سے مٹانا سیکھو
ساحر شیوی جیسی شخصیت کا ذکر تو بہت احترام سے لیا جاتا ہے۔انہوں نے باضابطہ ادبی محافظوں کے لئے کچھ رباعیات بھی کہی ہیں۔اپنے احساسات و جذبات کی ان لفظوں میں کچھ روشنی اس انداز سے بکھرائی کہ پڑھنے والا ان کرنوں کو سمیٹتے سمیٹتے تھکنے سالگتا ہے ۔جس طرح سیدمعراج جامی کے لئے انہوں نے اظہار عقیدت کچھ یو ں کیا ،
اِک نورِ مجسم ہے وفا کا جامی
عاشق ،ادب اردو کا سچا جامی
اپنوں میں بھی مقبول اور اغیار میں بھی
ہے شہر کراچی میں ادارہ جامی
ساحر شیوی صاحب نے اپنی محنت و لگن سے شعرأ کے اس ہجوم کے درمیان اپنا ایک الگ مقام بنا رکھا ہے ۔انہیں تو اَدب کی تمام اصناف سے دلچپی ہے کہ شاعری کی وسعیتں لامحدود ہیں
انہوں نے ماحول ،حالات ،معاشرتی مسائل ،تلخ حقیقتوں اور معاشرے میں نا انصافیوں کی ترجمانی اور عکاسی کی ہے۔ان کا کہنا ہے شعر اچھا اور با معنی ہو تو شاعری کسی صنف میں بھی پسند کی جاسکتی ہے۔جس طرح ان کی یہ رباعی،
اَب جینے کے قابل نہ رہی ہے دنیا
زندان میں لالچ کے گھِری ہے دنیا
صورت کو بدلتی ہے شب وروز اپنی
کس سمت کو آخر یہ چلی ہے دنیا
ساحر شیوی باکمال شاعر ہیں ،ان کا ہر کلام ہی منفرد و حقیقت کی ترجمانی کرتا ہوا آگے بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔پڑھنے والے ان اشعاروں کی تہہ تک اُترتے ہی جاتے ہیں ۔انہوں نے اپنے اعتماد کو لفظوں کی پرکھ پر کچھ یوں کُھلا چھوڑ دیا کہ
محفل میں جلا شمع،میں آجاؤں گا
اور اپنے سب انوار دکھا جاؤں گا
دو بول محبت کے سناؤں گا یوں
سوتے ہوئے لوگوں کو جگا جاؤں گا
اِن کا تو اردو زبان کے حوالے سے یہ کہنا کہ رسم الخط اردو کے وجود کا حصہّ ہے۔اسے باقی رہنا چاہئے اردو کے اعلیٰ تخلیقی اَدب کو جگہ جگہ پھیلانے کا تو انہوں نے عہد کر رکھا ہے۔یہی عہد لئے اردو کی خدمت میں ایک نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں ۔ہر اچھے ادب کا چاہئے وہ شعری ہو یا
نثری مطالعہ جس سے فکر و تازگی روح کوطمانیت اور قلب کومسرت حاصل ہوتی ہے۔
اسی طرح صدائے کوکن کی سیج پر لفظوں کو دُلہن کی طرح یوں سجاتے ہی چلے گے۔حمدیہ گیت،
دیس کی محبت میں ماہیا گیت ،سہرا گیت اور پھر خالد یوسف مرحوم کی نذر ،کس کس بات کا ذکر کیا جائے۔خالد یوسف صاحب مرحوم کے لئے جو ایک کھلی حقیقت تھے۔
نو آموز شعرأ کو فن سکھلاتے تھے
نا درست الفاظ سے واقف کراتے تھے
کر کے خامیوں کو صحیح شاعر بناتے تھے
ان سے اصلاح لیتے سب نا تجربہ کار
ہم سب کو ملتا رہا خالد یوسف کا پیار
اُردو اِن کی آ تما ، اُردو روپ سنگھار
حسب عادت دونوں کتابوں کا مطالعہ کیا چند لفظ جو لکھے پوری ایمانداری سے لکھے ۔کم از کم اس بات کا اندازہ ہواکہ اردوکی جڑیں بہت مضبوط ہیں ۔اَب اسے اکھاڑ پھینکنا یا مٹا دینا ناممکن ہے جہاں اردو سے اتنی محبت کرنے والے ڈاکٹر ساحر شیوی جیسے ادب نواز جن کا قلم ہر واقعات و زندگی کی غمی و خوشی ،وطن کی تکلیف،دوستوں کی محبت ،میں چلتا رہے گا تب تک کوئی آنچ اردو پر نہیں آ سکتی ۔یقیناََ ہر دور کا ادب اسی دور کا ترجمان ہوتا ہے ۔
صدائے کوکن میں پروہی گیتوں کی مالائیں ،بہارِ کوکن کی رباعیات،یونہی دلوں پر راج کرتی رہیں گی ۔
میں ساحر شیوی صاحب کو اردو کی طویل خدمت پر مبارک باد پیش کرتی ہوں ۔خداتعالیٰ کے حضور سَر بسجود ہو کر دعا کرتی ہوں ۔اللہ تعالیٰ انہیں زندگی و صحت جیسی دولت سے مالا مال کرے
اور ہمارے جیسے نئے لکھنے والون کی سَر پرستی یونہی کرتے رہیں ۔
صدائے کوکن ،بہار کوکن کا جادو سَر چڑ ھ کر بولتارہے۔آمین
***

Viewers: 1282
Share