Muhammad Azam Khan | Afsana | انگلی میں دِل

محمد اعظم خاں لاہور۔ پاکستان azamkhan273@gmail.com انگلی میں دِل پاؤں کے ناخن سے لے کر سر کے بالوں تک ہمارے جسم کا ایک ایک عضو ہمارے لئے خدا تعالیٰ کی […]

محمد اعظم خاں
لاہور۔ پاکستان
azamkhan273@gmail.com

انگلی میں دِل

پاؤں کے ناخن سے لے کر سر کے بالوں تک ہمارے جسم کا ایک ایک عضو ہمارے لئے خدا تعالیٰ کی نعمت ہے، یہ خدا تعالیٰ کا احسانِ عظیم ہے کہ اس نے ہمیں بے عیب پیدا کیا، یوں تو ہمارے جسم کا ہر حصہ اپنی اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے لیکن دل اور دماغ کو جسم میں وہی اہمیت حاصل ہے جو کسی حکومت میں صدر اور وزیر اعظم کو ہوتی ہے۔،جس طرح ہمارے ہاں کسی حکومت میں کبھی صدر غالب آجاتا ہے اور کبھی وزیراعظم، باالکل اسی طرح کبھی دل کی بات ماننا پڑتی ہے کبھی دماغ کی، کچھ لوگ دل سے کام لیتے ہیں اور کچھ دماغ سے، کچھ ایسے بھی ہیں جو دل و دماغ دونوں سے کام لیتے ہیں۔
دل اور دماغ کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جائے تو دل، دماغ سے کہیں آگے ہے ،پیار و محبت کا ذکر چھڑے یا نفرت کی بات ہو،دل کا پورا پوراعمل دخل دکھائی دیتا ہے۔ کسی نے دل کو مندر کا درجہ دے دیا، کسی نے دل کو آئینہ بنا کر اس میں ‘‘یار‘‘ کی تصویر تک سجا لی،ان سب سے بڑھ کر یار لوگوں نے تو یہ بھی کہہ دیاکہ دل کی آنکھیں بھی ہوتی ہیں اور انسان دل کی آنکھوں سے دیکھ بھی سکتا ہے۔
ہماری شاعری کی کتابیں دل کے ذکر سے بھری پڑی ہیں، کبھی دل ملنے کی بات ہوتی ہے، کبھی دل ٹوٹنے کا تزکرہ کیا جاتا ہے، کبھی دل خون کے آنسو روتا ہے، کبھی اداس ہوتا ہے کبھی خوش، کبھی کوئی دل کے ہاتھوں مجبور ہو جاتا ہے، کبھی کسی کو ٹوٹ کر چاہنے لگتا ہے، کبھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے، کبھی روتا ہے، کبھی مچل اٹھتا ہے اور کبھی باغ باغ ہو جاتا ہے، کبھی کوئی دل میں آبستا ہے اور کبھی کسی کو دل سے نکا ل دیا جاتا ہے۔
فلمی دنیا میں دل ہمیشہ سے بہت مقبول رہا ہے، نہ صرف ہمارے ہاں بلکہ ہمارے ہمسایہ ملک میں بھی آئے دن دل کا نام لئے فلمیں سینماؤں کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ دل، دودل، دل لگی، دل دریا، دل والے دلہنیا لے جائیں گے، دل جلے، دل ہی تو ہے، دل کا کیا قصور، سلمیٰ پہ دل آ گیا، دل ہے کہ مانتا نہیں، دل ایک کھلونا، دل نے پھر یاد کیا، دل کسی کا دوست نہیں اور دل دیوانہ جیسیے بہت سی فلمیں کامیاب قرار پائیں۔
ہمارے ایسے بہت سے فلمی گیت زبان زدِ عام ہیں جن میں دل کا ذکر ہوتا ہے، ہمارے صوفیا ء کرام کے کلام میں بھی دل کا ذکر کثرت سے ملتا ہے اور فرماتے ہیں۔
دل دریا سمندروں ڈونگے
کون دلاں دیاں جانے ھُو
مسجد ڈھا دے مندر ڈھا دے تے ڈھادے جو کچھ ڈھیندا
اک بندیاں دا دل نہ ڈھاویں میرا رب دلاں وچ رہندا
ہماری گلوکارہ فریحہ پرویز ان سب سے آگے نکل گئیں اور دل کو پتنگ بنا کر رکھ دیا، پتنگ بازی پر پابندی لگنے سے پہلے تک ٹیلی وژن کا کوئی بھی چینل لگاتے تھے تو وہ وہاں یہی کہتی ہوئی دکھائی دیتی تھیں ’’ دل ہوا بو کاٹا‘‘ اور یار لوگ جھوم جھوم جاتے تھے، حالانکہ دل ’’بو کاٹا‘‘ ہو جائے تو پھر انسان کے سانسوں کی ڈوربھی ٹوٹ جاتی ہے۔
ہم نے اپنا ہر اچھا برا فعل دل کے نام لگا دیا جبکہ ہمارے سائینسدان اور ڈاکٹر یہ سب ماننے کو تیار نہیں کیونکہ ان کے بقول دل کا کام سوائے جسم کو خون پہنچانے کے اور کچھ نہیں،ہمارے پاس ایسے بہت سے اسپیشلسٹ موجود ہیں جو چند سیکنڈ میں ای۔سی۔جی کے ذریعے دل کی کیفیت ہمارے سامنے کھول کر رکھ دیتے ہیں، دل کی انجیو گرافی اور بائی پاس ان کے لئے معمول کا کام ہے، ان کا کہنا ہے کہ دل کا کام خون کو پمپ کرنا ہے، جب تک دل پوری طرح پمپ کرتا رہتا ہے اور اپنی ڈیوٹی نبھاتا ہے تب تک تو ٹھیک ہے لیکن جیسے ہی دل اپنے فرائض میں ذرا سی بھی غفلت سے کام لینے لگے تو انسان خدا کا ’’مہمان‘‘ جابنتا ہے۔
چند روز قبل ٹیلی وژن پر دل کے ماہر ڈاکٹردل اور دل کی امراض کے بارے میں بات چیت کر رہے تھے۔ ہم سب نے بھی بغور پروگرام دیکھا اور سنا، پروگرام ختم ہونے کے بعد میرا چھوٹا بیٹا دل کے متعلق اپنی عقل اور سمجھ کے مطابق مجھ سے مختلف نوعیت کے سوالات کرتا رہا، جن کے بارے میں مجھے جو تھوڑا بہت علم تھا میں اسے بتاتا رہا۔
کل میں سٹڈی روم میں بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھا کہ میرا بیٹا میرے پاس آیا اور بولا ’’ پاپا۔۔۔۔پاپا۔۔۔۔میرا دل میری انگلی میں آگیا۔۔۔۔ ‘‘ بیٹے کی بات سن کر میں کھلکھلا ٹھا کیونکہ دل اچھل کر حلق میں آتے تو سنا تھا ’’ انگلی میں دل ‘‘ پہلی بار سننے میں آیا تھا۔ میں نے اسے اپنے پاس بٹھا لیا اور سمجھایا ’’ بیٹا ۔۔۔۔انگلی میں دل کبھی نہیں ہوتا۔۔۔۔دل کی جگہ سینے میں بائیں طرف ہے اور یہ ہر حالت میں وہیں اپنی جگہ پر ہی ہوتا ہے۔۔۔۔ ‘‘
’’ پاپا آپ کو یقین نہیں آتا تو میری انگلی پر ہاتھ رکھ کر دیکھ لیں دھک دھک ہو رہی ہے کہ نہیں۔۔۔۔پھر آ پ کو خود ہی یقین آ جائے گا۔۔۔۔ ‘‘
میرے بیٹے نے مجھے لاجواب کر دیا تھا، میرے دل میں اچانک خیال آیا کہ شائد ایسا ہی ہو، ہو سکتا ہے میرے بیٹے کے ذریعے یہ بھی کوئی ورلڈ ریکارڈ بننے والا ہو کہ کسی کا سینے کی بجائے ’’ انگلی میں دل ‘‘ہو۔ میں نے تصدیق کے لئے فوراًاس کی انگلی اپنے ہاتھ میں لے لی مگر یہ دیکھ کر پریشان ہو گیا کہ اس کی انگلی میں ریشہ پڑا ہوا تھا، ریشے کی وجہ سے اس میں ’’ چس چس ‘‘ ہو رہی تھی جسے وہ دل کی ’’ دھک دھک ‘‘ سمجھ بیٹھا تھا۔ پل بھر کو ورلڈ ریکارڈ قائم کرنے کی جو خوشی میرے لبوں پر آئی تھی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی، میں نے بجھے دل کے ساتھ کتاب ایک طرف رکھی اور اسے ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔
***

Viewers: 5314
Share