Moien Shadab | Article | خورشید حیات کے افسانوں میں لفظ گفتگو کرتے ہیں

معین شاداب اینکر سہارا ٹی وی۔ انڈیا shadabmoien@gmail.com خورشید حیات کے افسانوں میں لفظ گفتگو کرتے ہیں ” ایڈز ” میں شامل کہانیاں پڑھتے وقت بادی النظر میں ایسا محسوس […]

معین شاداب
اینکر سہارا ٹی وی۔ انڈیا
shadabmoien@gmail.com

خورشید حیات کے افسانوں میں لفظ گفتگو کرتے ہیں


” ایڈز ” میں شامل کہانیاں پڑھتے وقت بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خورشید حیات ، جدید افسانہ نگار ہیں – لیکن ذرا ته میں اتر جائیے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے
اپنی بات کہنے کے لئے علامتیت اور تجریدیت کا سہارا ضرور لیا ہے ، لیکن ان کے یہاں ایسا ابہام و اہمال نہیں ہے جو قاری کے لئے دیواروں سے سر ٹکرانے والی کیفیت پیدا کر دیتا ہے – ان کی علامتوں میں معنی آفرینی ہے اور معنی کی بہت سی جہتیں ان کی تحریروں میں آباد ہیں – روایت سے بغاوت اور بغاوت سے بھی بغاوت ان کی شناخت ہے ، جو ان کا اپنا تجربہ ہے اور انہیں انفرادیت بخشتا ہے – ان کی کہانی نیی کہانی ہے – آج کی کہانی ہے جو لفظ لفظ تخلیقی لہر سے قاری کو روشناس کراتی ہے –
یونہی دیکھیں تو ” میں ” بس ایک لفظ ہے لیکن اگر اس کا عرفان حاصل ہو جائے تو ” ہزار داستان ” – اپنے آپ میں مکمل کاینات – ایک پہلو سے زہر ہلاہل اور دوسرے سے آب حیات – علامہ اقبال کو اسی ” میں ” کی افہام و تفہیم نے نہال کر دیا – کارل مارکس نے اس لفظ کے طفیل زندگی کے بہت سے رموز حاصل کر لئے – خورشید حیات کے افسانوی مجموعہ ” ایڈز ” میں شامل کہانیاں اسی ” میں ” کو جاننے سمجھنے اور پرکھنے کی کوشش یا عمل سے عبارت ہیں – اس مجموعہ میں جگہ جگہ سطروں میں یا سطروں کے درمیان “‘ میں ” روشن ہے – کتاب کے پیش لفظ کو بھی خورشید حیات نے ” میں ” کا عنوان دیا ہے – مصنف کا یہ مضمون گویا ان کے افسانوں کا ایجنڈہ ہے – ” میں کون ہوں ؟ میں کیوں ہوں ؟ میں کچھ ہوں تبھی تو ہوں – کچھ نہ ہوتا تو بنایا کیوں جاتا — ” یہ سوال و جواب یہ مکالمے اس سفر اور اس کے جواز کا عنوان ہیں جو خورشید حیات نے لفظ لفظ اور ورق ورق طے کیا ہے – وہ لفظ وہ جملے جو افسانہ نگار کی نگاہ میں بہت مقدس ہیں – ” میں ” سے شروع ہونے والا یہ سفر کسی اکایی میں گم ہو کر نہیں رہ جاتا ، میں اور تم اور تم اور ہم میں تفریق بھی نہیں کرتا بلکہ میں کے بعد ہم اور ہم کے بعد ہم سب کی منازل سے گزرتا ہوا انسان کے ہاتھ میں اس کا تشخص نامہ تھماتے ہوے کی اجلے احساس کی تلاش میں نکل پڑتا ہے – کبھی نہ تھمنے والا یہ تہذیبی سفر دونوں سمتوں میں جاری رہتا ہے – ماضی کی جانب بھی اور مستقبل کی طرف بھی – بیتے ہوے لمحوں سے جنگ کے لئے – گمشدہ روایتوں کی تلاش میں ، تہذیبی اور ثقافتی درختوں کی جڑیں کریدنے کی خاطر اور دوسری سمت نیئی قدروں کی تشکیل کی کوشش میں – زندگی کو نیے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے – خورشید حیات کی نظر میں حال اور مستقبل کو سجانے سنوارنے کے لئے درپیش چیلنجوں کے مقابلہ کے لئے ماضی سے آگہی ضروری ہے – ” بابا ” اور ” نروان ” یہی پیغام دیتے ہیں –
خورشید حیات کے افسانوں میں خوشبو ہے وطن کی مٹی کی – مٹی کی ہانڈی کی جو رواداری ، خلوص اور اپنائیت کی کلچرل علامت ہے – کی خانوں میں بٹا ہوا انسان کا وجود ہے اور کرچی کرچی بکھرا ہوا یہ انسان نیے تقاضوں اور نیئی خواہشات کے ساتھ خود کو سمیٹنے کی کوشش کرتا نظر آتا ہے – جب عناں فطرت سے بغاوت کرتا ہے – نفسیاتی کشا کش میں مبتلا ہوتا ہے ، ہٹا کٹا انسان بھیک مانگتا ہے – بھاگم بھاگ زندگی میں انسان مصنوعی ہنسی ہنستا ہے – مشترکہ تہذیب کے درمیان دیواریں اگ آتی ہیں یا اگا دی جاتی ہیں – تہذیب مدرسوں سے نکل کر ڈانس کلب کی طرف سفر کرتی ہے تو خورشید حیات کا قلم حرکت میں آ جاتا ہے ، اور ان دائروں کو توڑتا ہے جو فرسودہ روایتوں ، قدروں کی شکت و ریخت ، تاریکی اور روشنی کی کشمکش ، دیہات اور شہروں کی تفریق ، قول و فعڵ کے تضاد سے کھینچے گئے ہیں – تخریب ،خطرات ، اندیشے ، ہیبت ناکی ، مادہ پرستی ، انتشار اور انہدام ، سراسیمگی ، قتل و خون سے عبارت دائرے ، ، پیچیدہ اور پراسرار دائرے اور انھیں توڑ کر نی سمتوں کی تشکیل ———- یہی خورشید حیات کی افسانہ نگاری کا منظر نامہ ہے جو صحراۓ بسیط میں طوفان سے مقابلہ کرنے عزم بخشتا ہے ——– یہ دائرے ٹوٹتے ہیں تو روشنی پھوٹتی ہے ، اور دائرہ دائرہ اجالے ایسا منظر پیش کرتے ہیں جو اعلان کرتا ہے ” راستہ کھلا ہے سفر جاری ہے – ” – خورشید حیات کے افسانوں میں لفظ گفتگو کرتے ہیں – آئیڈیالوجی کی موت پر یہ آنسو بھی بہاتے ہیں اور اپاہج انسان کا نوحہ بھی پڑھتے ہیں –
افسانہ ” ایڈز ” جس کے نام پر کتاب کا نام رکھا گیا ہے ، میں خورشید حیات نے ایک مہلک بیماری کے حوالہ سے غیر فطری افعال اور جدید مغربی تہذیب کی بے راہ رویوں کے نتائج سے تو آگاہ کیا ہی ہے ایشیا کے غریب ملکوں کی بے بسی اور بے چارگی کا قصہ بھی بیان کیا ہے – ” طوفان سے پہلے اور طوفان کے بعد ” انسان کو آگے بڑھتے رہنے کی ترغیب دیتا ہے – ” لفظوں کی موت ” صحت مند نظریات کا تشکیل نامہ ہے – ” چلتی رکتی گاڑی کے بیچ ” بے ترتیب بڑھتی آبادی کا نتیجہ ہے – ” وقت کے احاطے میں ” اور ” انسانیت کے دشمن ” میں فرقہ وارانہ فسادات اور ان کے اسباب مضمرات کو موضوع کیا گیا ہے – یہ افسانے دھرم کے نام پر کشت و خون کرنے والے ادھرمی لوگوں پر تازیانہ ہے – ” کشکول ” اور ” انگلیوں کا رقص اور آنکھیں ” عہد حاضرکے افسانہ نگار کا لائحہ عمل ہیں – ” سوالیہ نشان کے نیچے کا نقطۂ ” ان ظالم ہاتھوں کا تجاہل عارفانہ ہے جو انسانیت کے قاتل ہیں جو اپنے نظریات تھوپنے کے لئے امن و آشتی کا گلا گھونٹ دیتے ہیں –
” ایڈز ” میں کل پندرہ افسانے شامل ہیں – خورشید حیات کے نظریات کی وسعت ، مشاہدہ کی گیرائی ، تجربوں کی ہمہ رنگی ، اسلوب کا انفراد اور کہانیوں کا اختصار متاثر کرتا ہے –

Viewers: 5385
Share