Dr. Shahab Zafar | Article | اسلم جمشید پوری اور ’’لینڈرا‘‘ کے پانچ رنگ

ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی شعۂ اردو ،پٹنہ یونیور سٹی،پٹنہ shahabzafar.azmi@gmail.com اسلم جمشید پوری اور ’’لینڈرا‘‘ کے پانچ رنگ اسلم جمشیدپوری کی انتیس طویل و مختصر کہانیوں کا مجموعہ ’’لینڈرا‘‘ پانچ […]

ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی
شعۂ اردو ،پٹنہ یونیور سٹی،پٹنہ
shahabzafar.azmi@gmail.com

اسلم جمشید پوری اور ’’لینڈرا‘‘ کے پانچ رنگ

اسلم جمشیدپوری کی انتیس طویل و مختصر کہانیوں کا مجموعہ ’’لینڈرا‘‘ پانچ حصوں(رنگوں) میں تقسیم کیا گیاہے،اور ہر رنگ اپنے منفرد اندازپیش کش کے باعث نمایاں نظرآتاہے۔اس لیے پڑھنے والے کو جو چیز سب سے پہلے اِس مجموعے میں متوجہ کرسکتی ہے وہ اِن افسانوں کا تنوع ہے۔بظاہر یہ تنوع طویل ،مختصر،نئی ،پرانی اور افسانچہ نما کہانیوں کی شکل میں دکھائی دیتاہے مگر پوری کتاب سے ایک بارگزر لیا جائے تو محسوس ہوگا کہ یہ تنوع موضوع کا بھی ہے،تکنیک کا بھی اور اسلوب کا بھی۔تنوع کی یہ کثرت جہاں ایک طرف رنگا رنگی کا احساس پیدا کرتی ہے ، وہیں افسانہ نگار کی اِس کوشش اور صلاحیت کا اعتراف بھی کرواتی ہے کہ اس نے زندگی اور اس سے وابستہ واقعات کو مختلف طریقوں اور متفرق جہتوں سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔اس نے افسانے کے فن کے ارتقائی مرحلوں ،زندگی اور اس کے بدلتے رنگوں اور زبان وبیان کے بدلتے روپ کو نہ صرف دیکھا ہے بلکہ ٹھہر ٹھہر کر اس سے رو برو ہونے کی بھی سعی کی ہے۔چنانچہ مذکورہ افسانوں میں نثر کا آہنگ ہر جگہ ایک جیسا نہیں،کہانی کا انداز یکساں نہیں اور نہ ہی کہانی کی تکنیک اور ہیئت ایک جیسی ہے۔مگر تنوع کا یہ مطلب قطعی نہیں کہ افسانہ نگار اپنا اسلوب یا آہنگ تلاش نہیں کر سکاہے،بلکہ یہ ہے کہ افسانہ نگار تجربہ پسند شخصیت کا مالک ہے اور وہ نئی نئی راہوں کو اختیار کرنے سے بالکل گریز نہیں کرتا۔اس کا زندگی کے تعلق سے نہ صرف نقطۂ نظر بدلتا رہا ہے بلکہ وہ زندگی کو تجربے کے آئینے میں رُخ بدل بدل کر دیکھنا پسند کرتا ہے۔ظاہر ہے مشاہدے کی صورت میں پیش کی جانے والی زندگی میں مشاہدے کی بوقلمونی ضرور موجود رہے گی۔
موضوع کے اعتبار سے دیکھا جائے یہاں پانچ مختلف رنگوں میں ’’معاصر دنیا‘‘پیش کی گئی ہے۔کسی میں انسانوں کی بے حسی،قدروں کا زوال ،انسان کی سطحیت اور اخلاقی دیوالیہ پن کا ذکرہے تو کسی میں تشدد ، منافرت اور فرقہ واریت کاعکس جھلکتاہے۔کسی میں احتجاج برائے احتجاج ،انسان کی ریا کاری اور بے حسی پر طنز ہے تو کسی میں زندگی عجیب ،پر اسرار اور کچھ حد تک بے معنی بھی دکھائی دیتی ہے۔یعنی اسلم جمشیدپوری ہمارے عہد کے مزاج اور مسائل سے باخبر ہیں۔اور مختلف رنگوں میں حرف و احساس کے فنکارانہ امتزاج کے ساتھ زندگی کی سادہ اور سچی قدروں کی ترجمانی کرنے پر قدرت رکھتے ہیں۔
پہلے رنگ میں سب سے طویل کہانی ’’لینڈرا‘‘ ہے۔لینڈرا ،جس کے معنی ’’شادی کے وقت عورت کے ساتھ آیا ہوا لڑکاہے‘‘ ،ہمارے سماج میں تضحیک اور استہزا کی علامت ہے۔اسلم صاحب نے ایک لینڈرا فقیر محمد کی زندگی کی کشمکش اور سماج میں اس کے مقام کو اس افسانے کا موضوع بنایاہے۔تقدیر نامرد سمجھے جانے والے لینڈرا کے ہاتھوں پر گاؤں کی عزت کا بوجھ رکھ دیتی ہے اور لینڈرا اپنا مردانہ وقار قائم کرنے اور سماج سے اپنی تضحیک کا انتقام لینے کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتا ہے اور یہ فیصلہ اس کی انا کو طمانیت بخش دیتاہے۔اِس افسانے میں موضوع سے زیادہ لینڈرا کا کردار متاثر کرتاہے،جس کی پیش کش میں افسانہ نگار نے مہارت کا ثبوت دیاہے۔یہ ایک قسم کا حاشیائی کردارMarginal character ہے۔ایسے کردار وں پر عموماً توجہ کم دی جاتی ہے ،اس لیے اردو فکشن میں بہت کم حاشیائی کردار اہمیت کے حامل رہے ہیں۔اسلم جمشیدپوری نے اِس کردار کو مرکزیت دے کر ایک اہم حاشیائی کردار کی تخلیق کی ہے۔اِس حصے کی دوسری کہانی’’موت کا کنواں‘‘ بہت موثر ہے۔اِس کا موضوع ’محبت‘ ہے جسے نیا نہیں کہا جاسکتا،مگر نوچندی میلہ کی جزئیات نگاری اور کہانی کا اسلوب وہ امتیازی اوصاف ہیں جو اِس افسانے کو منفرد بناتے ہیں۔افسانہ ’’پینٹھ‘‘ اور ’’دھوپ کا سایہ‘‘ میں اسلم جمشیدپوری نے لڑکیوں کی شادی کے متعلق ہمارے معاشرے کے غلط رسوم ورواج اور نقطۂ نظر کو پیش کیاہے۔پینٹھ اُس بازار کوکہتے ہیں جہاں جانوروں کی خرید وفروخت ہوتی ہے ۔کہانی کے اختتا م میں لڑکی کا ایک جملہ ’’سینیرکارپینٹر صاحب!آپ غلط پینٹھ میں آ گئے ہیں‘‘ نہ صر ف ہمارے معاشرے پر طمانچہ ہے بلکہ اِس افسانے کا کلائمکس بھی ہے،جو افسانے میں جان پیدا کرتاہے اور قاری کو چونکا ڈالتاہے۔’دھوپ کا سایہ‘ کی صبا بھی اسی جرأت کا مظاہرہ کرتی ہے اور کمزور و نام نہاد شوہر کو آئینہ دکھادیتی ہے۔
مجموعے کی پہلی کہانی ’’شبراتی‘‘ دیہی علاقوں میں پھیلی توہم پرستی پر مبنی ہے۔اِس میں غلط عقیدے کو بنیاد بنا کر گاؤں سے دُکھ بھگانے کے نام پر ایک غریب اور معصوم انسان شبراتی کی جان لے لی جاتی ہے۔ہو سکتاہے شہر میں رہنے والوں کو کہانی کا موضوع فرسودہ معلوم ہو مگر حقیقت یہ ہے کہ آج بھی گاؤں دیہات میں غلط رسوم اور عقاید کی وجہ سے نہ جانے کتنی معصوم جانیں ضایع ہو رہی ہیں۔چاند گرہن،سورج گرہن یا اِس قسم کے خاص موقعوں پر ہم ٹی وی کے ذریعہ دیکھتے ہیں کہ کیسی کیسی غیر فطری اور غلط رسموں کے نام پر عورتوں اور بچوں کی بلی دی جاتی ہے یاان کے ساتھ جارحانہ سلوک کیا جاتاہے۔شبراتی بھی اسی قسم کی توہم پرستی کے سبب اپنے بچوں اور بیوی کو دائمی دُکھ کا شکار بنا دیتاہے،جبکہ گاؤں والے گاؤں سے دُکھ نکل جانے کی خوشی منا رہے ہیں۔
’’ابھی کچھ دیر قبل گاؤں میں خوشیاں منائی جارہی تھیں۔گاؤں سے دکھ نکل گیا تھا۔شبراتی کے بچے اپنی
ماں کا دامن کھینچ رہے تھے ،گویا کہ رہے ہوں،ماں ہمارے گھر میں گھُسے دکھ کون نکالے گا۔‘‘
’’یہ ہے دلی میری جان‘‘ انشائیہ نما افسانہ ہے،جس میں اسلم جمشیدپوری نے پرانی دلّی کی خوب صورت عکاسی کی ہے۔اِس علاقے کی معاشرت اور رواں دواں زندگی کی جزئیات نگاری میں کمال فن کا اظہار ملتاہے۔بالخصوص پارک کے اندرونی مناظر اور فقیروں کی غنڈہ گردی کو بڑی تلخی اور سچائی کے ساتھ پیش کیا گیاہے جس پر حقیقی سر گزشت کا گمان گزرتاہے۔
دوسرے رنگ کی (مختصر) کہانیوں میں سب سے پرکشش کہانی ’’مشین کا پرزہ‘‘ ہے ،جس میں اُن افراد کو موضوع بنایا گیاہے جو تلاش معاش میں ہجرت کرکے بیوی بچوں سے دور ’گلف ‘ میں زندگی گزار تے ہیں تاکہ ان کے افراد خانہ آرام دہ زندگی گزار سکیں۔گلف میں زندگی بسر کرنے والے افراد مشین کی طرح ہوتے ہیں جو صبح سے رات تک ایک مقررہ روٹین کے مطابق کام کرتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔نوشاد اسی مشینی زندگی سے اُکتاکر ہندستان لوٹتاہے تو دوبارہ نہ جانے کا تہیہ کر لیتاہے۔مگر اپنے دوست مہندر ناتھ’جو کالج میں کلرک ہے مگر لاکھوں میں کھیل رہا ہے‘ سے مل کر اُسے ہندستانی سماج میں پھیلی ہوئی بدعنوانیوں کا احساس ہوتاہے ۔اور جب وہ محسوس کر تا ہے کہ صحیح طریقہ سے ایمانداری کے ساتھ یہاں خوشیاں حاصل نہیں کی جاسکتیں تو وہ دوبارہ مشین کا پرزہ بننے کے لیے گلف پرواز کر جاتا ہے۔اِس حصے میں تم چپ رہو بیر پال،چیخیں اور تجربہ کار بھی اچھی کہانیاں ہیں۔
تیسرا،چوتھا اور پانچواں رنگ زیادہ تر اُن مختصر ترین کہانیوں پر مشتمل ہے جنہیں ہم ’مِنی کہانی‘ بھی کہ سکتے ہیں۔مِنی کہانی لکھنا افسانہ لکھنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے کہ یہ ایک شعر کی طرح ہوتی ہے۔اس میں آپ کہانی کی فنی خامیوں کو کہیں چھپا نہیں سکتے۔گنی چنی چند سطروں اور لفظوں میں کہانی کا تار پود بننا ہوتا ہے۔منی کہانی کا تیور بولڈ اور شارپ ہوتاہے اور جنہیں افسانہ نگار قلم کی ایک جنبش سے جنجھوڑتاہے۔مِنی کہانی کاغذ پر تو تین چار سطروں یا ایک آدھ صفحے سے زیادہ طویل نہیں ہوتی مگر ذہن میں برسہا برس تک چلتی رہتی ہے۔مثال کے طور پر اسلم جمشید پوری کی مِنی کہانیوں میں حساب کتاب،آئیڈیا،المیہ،ایکشن،اصول،کیمپس،نشیب کی طرف،اور کتاب وغیرہ ایسی کہانیاں ہیں جنہیں قاری بہت دنوں تک یاد رکھے گا۔انہیں اچھی اور نمائندہ مِنی کہانیوں میں شمار کیا جاسکتاہے۔اسلم جمشید پوری کی مِنی کہانیاں کسی قول یا لطیفے پر مبنی نہیں ، یہ اپنا فارم خود لے کر وارد ہوتی ہیں۔افسانہ نگار نے حالات کی ستم ظریفی،سماجی وسیاسی جبر،معاشرے کی بدعنوانیوں،طریق زندگی کی خامیوں اور مٹتی ہوئی قدروں کو بڑے بولڈ انداز میں پیش کیاہے۔یہ مِنی کہانیاں کہیں چونکاتی ہیں ،تو کہیں طنز کے نشتر چبھوتی ہیں۔کہیں مکالماتی انداز میں بین السطور کوئی پیغام سناتی ہیں تو کہیں براہ راست ہمارے ذہن کو جھنجھوڑ تی ہیں۔اسلم جمشیدپوری نے کم سے کم لفظوں کے اظہار کے چیلنج کو نہ صرف قبول کیا ہے بلکہ کامیابی سے برت کر دکھایا بھی ہے۔
’’لینڈرا‘‘ کے افسانے پڑھ کر بہ آسانی یہ محسوس کیا جا سکتاہے کہ اسلم جمشیدپوری زندگی کے المیہ اور طربیہ دونوں رنگوں کو ابھارتے ہیں اور تجربات و مشاہدات ،زندگی کے بے رحم حقائق ،معاشرتی رشتوں اور اُن کے ردعمل سے انسانی ذہنوں میں جو جذباتی اور نفسیاتی کیفیت پیدا ہوتی ہے ،وہ اُن کے ہر پہلو کو اپنے تخلیقی پیکر میں سموتے ہیں۔وہ مختلف انداز بیان سے کام لیتے ہوئے چھوٹے چھوٹے تجربے اور تجربوں کے ٹکڑوں کو سمیٹ کر کہانی کے قالب میں ڈھالنے کا فن جانتے ہیں۔اس لیے یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ گہرے سماجی شعور کے عکاس یہ افسانے انسانی زندگی اور اس سے جڑے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے اعلیٰ اور مثبت انسانی قدروں کو نمایاں کرتے ہیں۔اِن میں افسانہ نگار نے ہر مسئلے کو اپنے مشاہدے اور تجربے کی آنکھ سے دیکھنے ،سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ایک طرف اگر شبراتی اور لینڈرا میں مغربی اتر پردیش کے دیہی علاقے اور ان کی توہم پرستی ،جاہلانہ سماج کی تصویریں دکھائی گئی ہیں تو دوسری طرف تجربہ کار اور مشین کا پرزہ میں صارفیت زدہ اور کرپٹ سماج کو پیش کیا گیاہے۔ایک طرف پینٹھ اور دھوپ کا سایہ میں تعلیم یافتہ عورت اور معاشرے کے دیمک زدہ مسائل کو دکھایا گیا ہے تو دوسری جانب ایکشن،اندر خانے باہر خانے ،اور اصول کی بنیاد حال ہی میں واقع شدہ حالات پر رکھی گئی ہے۔اسی طرح حساب کتاب،اندھیرا ابھی زندہ ہے،دوراہے پر کھڑا لڑکا،تعویذ،نشانی،سوشل انجینیرنگ اور مجھے معاف کرن رام سنگھ ایسے افسانے ہیں جن میں زندگی کی دھڑکنوں اور ماحول کی صداقتوں کی حقیقی تصویریں دکھاتے ہوئے پڑھنے والوں کو نہ صرف گہرا ادرک بخشا گیا ہے بلکہ اُن کے باطن میں ایک نئے سفر کا آغاز کرانے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔اسلم جمشیدپوری مسائل کو پورے خلوص ، صداقت،فنکاری اور اثر پذیری کے ساتھ انسانی جذبات کے تناظر میں پیش کرتے ہیں اور ہر جگہ اپنا نقأہ نظر واضح کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔مختلف واقعا ت میں اپنے کردار وہ اس طرح لاتے ہیں جیسے وہ ان ہی واقعات کے لیے بنے ہوں۔ماحول اور واقعات کی مناسبت سے اسلم جمشیدپوری کی مکالمہ نگاری ان کرداروں کو ٹھوس شکل عطا کرتی ہے۔انسانی رشتوں سے متعلق ان کرداروں کی داخلی اور خارجی کشمکش ،ان کی حسر ت اور ناکامی،بے یقینی اور بے اطمینانی،عیش و طرب اور دردو کرب کی تصویریں دکھاکر وہ قاری کو زندگی کی اصلی اور حقیقی تصویریں دکھانے میں پوری طرح کامیاب ہوئے ہیں۔
میں نے پہلے بھی کہیں لکھا ہے کہ افسانے میں موضوع اہم مسئلہ ہے مگر اس سے بڑا اور اہم مسئلہ موضوع کے ساتھ افسانہ نگار کے برتاؤ اور ٹیٹمنٹ کا ہے ۔برتاؤ سے میری مراد کہانی کہنے کا فن ہے۔اسلم جمشیدپوری نے زندگی کے خوب وزشت اور سرد وگرم کو جس طرح لفظوں کے قفس میں قید کیاہے ،اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ قصہ کہنے کے فن سے واقف ہیں۔وہ موضوع کو ہمیشہ پیش نظر رکھتے ہیں۔ان کے افسانوں کا پلاٹ بہت مربوط ہوتا ہے۔وہ بے جا طوالت سے بھی گریز کرتے ہیں اور عبارت میں الجھاؤ پیدا نہیں ہونے دیتے۔زبان پاک صاف ہے،یعنی وہ افسانے کے فن اور تکنیک سے اچھی طر ح واقف ہیں۔اسی واقفیت کے سبب ان کی کہانیاں خاصے کی چیز بن گئی ہیں۔
فن کی بات ہو تو اظہارو اسلوب کی اہمیت سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ہر چند کہ طرز اظہار مقصود بالذات نہیں ہوتا مگر مقصود کی یافت کا غالب وسیلہ اور فن کا غیر معمولی حصہ یہ بھی ہے۔اسلوبیاتی سطح پر ’’لینڈرا‘‘ کے مطالعے کا حاصل یہ ہے کہ اسلم جمشیدپوری کے یہاں اظہار کی کئی صورتیں در آئی ہیں ۔انہوں نے علامات و استعارت سے بھی کام لیاہے اور تمثیلات کی راہیں بھی نکالی ہیں مگر ان کے یہاں غالب رجحان بیانیہ کا ہے۔الفاظ پر دسترس ہو تو بیانیہ طریق کار ہی افسانے کو دلچسپ بنانے اور قاری کو گرفت میں لینے کا سب سے بہتر طریقہ ہو تاہے۔اسلم جمشیدپوری نے بیانیہ سے واقعات و واردات میں قاری کی شرکت کو بہت حد تک ناگزیر بنا دیاہے۔انہیں زبان کے تخلیقی اور شستہ و شائستہ استعمال پر عبور حاصل ہے۔ ان کی زبان کی سادگی ،بے ساختگی اور ڈرامائیت اپنا ایک الگ نظام رکھتی ہے،جس کی وجہ سے قاری کرداروں کے ساتھ ساتھ قدم بہ قدم چلتا ہوا محسو س کرتا ہے۔
مجموعی طور پر ’’لینڈرا‘‘ کے افسانے سادہ بیانیہ طور وطریق پر بنت کاری کے مرحلے سے گزرے ہیں۔اخلاقی زوال ، معاشرتی بحران اور رشتوں کی پامالی کے المیے ان کہانیوں کے وہ شیڈس ہیں جو پانچوں رنگوں کی پہچان میں معاون ہو سکتے ہیں۔
***

Viewers: 4017
Share