Arif Ishtiaque | Article | عوامی جد و جہد کا شاعر: حبیب جالب

عارف اشتیاق دہلی یونیورسٹی ، دہلی ، انڈیا aarifdu@gmail.com عوامی جد و جہد کا شاعر: حبیب جالب 1993-1929 جبیب جالب ؔ کی شاعری کا دور کم و بیش چالیس سال […]

عارف اشتیاق
دہلی یونیورسٹی ، دہلی ، انڈیا
aarifdu@gmail.com

عوامی جد و جہد کا شاعر: حبیب جالب 1993-1929

جبیب جالب ؔ کی شاعری کا دور کم و بیش چالیس سال پر محیط ہے ۔ اس کے کلام کا دو تہائی حصہ نظموں پر مشتمل ہے ان کی نظمیہ شاعری میں پاکستان کے سیاسی ومعاشی حالات کے تحت فوری طور پر کہی گئی نطموں کی تعداد سب سے زیادہ ہے ۔ یہ نظمیں جنرل ایوب خان کے دور سے شروع ہوکر نواز شریف کے مقتدر ہونے تک بیس سالہ دور کا احاطہ کرتی ہیں ۔ پاکستان بننے کے بعد اس نئے ملک کے لیے جد و جہد کرنے والے عوام کو جس طرح خوابوں کی شکست و ریخت کے مرحلے سے دوچار ہونا پڑا جالبؔ کی غزلوں میں اس کا بیان بہت ہی کرب آمیز طریقے سے کیا گیا ہے ۔
وہ چمن جیسے ہم نے خون دل سے سینچا تھا
اس پہ حق جتاتی ہیں آج بجلیاں اپنا
فریب انگ و بو نہ کھا ابھی چمن چمن ہے کہاں
ابھی تو شاخ شاخ پر چمک رہی ہیں بجلیاں
آئے تھے یہاں جن کے تصور کے سہارے
وہ چاند وہ سورج وہ شب ور وز کدھر ہیں
بجلیوں کی یورش ہے ، شاخ شاخ ویراں ہے
کیا یہی بہاراں ہے ، کیا یہی گلستاں ہے
حبیب جالب اپنی شاعری کے آغاز میں ایک روایتی غزل گو شاعر تھے مگر جب انہوں نے تقسیم ہند کے وقت انسانیت کا قتل عام ہوتے دیکھا تو وہ اس طبقے کے دشمن ہوگئے جنہوں نے اپنے مفادات کے لیے عوام کو تقسیم کیا اور تمام انسانی حقوق کو بالائے طاق رکھکر اپنے سیاسی مفادات حاصل کیے ۔ تقسیم کے بعد حبیب جالب نے یہ محسوس کر لیا کہ نئی آزاد ریاستوں کے حکمرانوں اور ظالم و جابر انگریزوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
حبیب جالب نے مزدوروں اور عام لوگوں کو اپنی شاعری سنانے کے لیے منتخب کیا اور وہ ایک بہتر ین عوامی شاعر کہلائے جالب نے بھی اپنی شاعری کے آغازمیں غزل کی روایت کا انتخاب اسی انداز کے زیر اثر کیا ۔ لیکن جلد ہی ان کو احساس ہوگیا کہ ورکنگ کلاس کی جد و جہد کے موضوعات کو مؤثر طریقے سے ادا کر نے کے لیے کلا سیکل انداز ناکافی ہے ۔ اس لیے سلیس انداز اور زبان کو اظہار کا ذریعہ بنا یا ۔ فیض ؔ نے کہا تھا کہ اردوشاعر ی کا آغاز اگر چہ ولی دکنی سے ہوا مگر جالب ؔ سے زیادہ کسی نے بھی اس قدر عوام کو اپیل نہیں کیا ۔ وہ آخر تک ایک سچے اشتراکی اور عوام کے حقوق اور امن کے لیے لڑنے والے سپاہی رہے ۔ اکثر لوگ موقع پر ستی سے کام لیتے رہے لیکن جالب ؔ سچائی پر ڈٹے رہے ۔
جالب کا پیدائشی نام حبیب احمد تھا ۔ والدکا اسم گرامی عنایت اللہ اور والدہ کا رابعہ بصری تھا۔ انکی پیدائش 26فروری 1929کو میانی افغاناں ، ضلع ہوشیار پور میں ہوئی ۔ ابتد ائی تعلیم اینگلو عربک اسکول دہلی میں نویں تک حاصل کی ۔ تعلیم ادھوری رہی ۔ ابتدائی عمر میں ہی انہوں نے معاشی ضرورتوں کی خاطر ملازمت سے وابستگی اختیار کر لی ۔ کئی روز ناموں میں کام کیا کچھ دنوں تک فلموں سے بھی وابستہ رہے وہاں نغمے لکھے اور فلم سازی میں بھی حصہ لیا۔اسلئے حبیب جالبؔ کا انداز دوسرے شعرا ء سے جدا ہے وہ مو سیقی سے بھی بخوبی واقفیت رکھتے تھے جسکے اثرات کا انداز انکی شاعری کی نغمگی سے لگایا جا سکتا ہے ۔ دکھی دلوں کا ترجمان شاعرحبیب جالبؔ کئی ماہ تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد 12 مارچ 1993کو اپنے عشاق عوام کو داغ مفارقت دے گئے ۔
حبیب جالب کی پیدائش اور پرورش محرومی کے حالات میں ہوئی ۔ ان کا تعلق اس پچھڑے طبقے سے تھا جو نسلوں سے کسی نہ کسی طرح سماجی جبر کا شکار ہیں ۔ انہوں نے آرام و آسائش کو اپنے مشن کے بدلے قبول نہیں کیا ان کا کہنا تھا کہ ’’ میں عوام میں سے ہوں ایک پیدائشی مزدور ۔ اور پسماندہ لوگوں کے جذبات کا صحیح ترجمان۔‘‘ حبیب جالب ہمیشہ مظلوم غریب اور نچلے طبقات کے ساتھ وابستہ رہے اور انکے حقوق کی بات کہتے رہے ۔ وہ کبھی کسی ایوارڈ یا اعزاز کے خواہش مند نہیں رہے بلکہ انکا کہنا تھا کہ ادیب و شعراء ایسے لوگوں سے ایوارڈ ہر گز نہ لیں جو حقوق انسانی پورے نہیں کر تے اور انسانیت پر ظلم کرتے ہیں ۔
اقتصادی جبر اور سامر اجی نظام کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے وقت ذرہ برابرحکمرانوں سے خائف نظر نہیں آتے ۔پاکستان کی سیاست پہ طنز کرتے ہوے کہتے ہیں ۔:
دن پھر ے ہیں فقط وزیروں کے
اپنا حلقہ ہے حلقہۂ زنجیر
اور حلقے ہیں سب امیروں کے
ہر بلا ولؔ ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
وہی اہلِ وفا کی صورتِ حال
وارے نیارے ہیں بے ضمیروں کے
حبیب جالب کی حمایت ہر اس طبقے کو حاصل ہے جو کسی نہ کسی طرح ظلم کا شکار ہے مزاحمت کر رہے طلبہ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوے شہر بد ر طلبا ء کے نام میں کہتے ہیں۔:
فضا میں ا پنا لہو جس نے بھی اچھال دیا
ستم گر وں نے اسے شہر سے نکال دیا
یہی تو ہم سے رفیقانِ شپ کو شکوہ ہے
کہ ہم نے صبح کے رستے پہ خود کو ڈال دیا
کلیات حبیب جالب ، ماورا پبلشر ز ، لاہور 1993 صفحہ نمبر ۱۶۸
ادیبوں اور قلمکاروں کو انکی زمیداریوں سے اگاہ کرتے ہیں کہ در اصل ایک حساس شاعر و ادیب کی سماج اور معاشرے کے لئے کیا ذمیداریاں ہونی چاہئے میں خو ش نصیب شاعر میں کہتے ہیں۔
ہر دور کے بھکاری شاعر ادیب شاعر
بکتے قدم قدم پہ دیکھے خطیب شاعر
بیچا نہیں ہے میں نے اپنا ضمیر جالب ؔ
میں خو ش نصیب شاعر اور بد نصیب سارے
کلیات حبیب جالب ، ماورا پبلشر ز ، لاہور 1993 صفحہ نمبر ۱۸۳
حبیب جالب کے زمانہ میں تین کی دہائی میں درمیانی طبقے کے نوجوانوں نے سرمایہ داری نظام کی سماجی و معاشی بنیادوں سے جانکاری حاصل کر لی تو انکو انداز ہ ہو ا کہ جدید معاشرہ میں ، نہ صرف یو رپ اور مغربی ممالک بلکہ امریکہ ایشیاء اور لاطینی امریکہ کے ان تمام ممالک میں جو اپنی آزادی کو جد و جہد کر رہے ہیں تمام برائی کی جڑ سرمایہ داری نظام ہے ۔ اس جانکاری کے اظہار کی ضرورت نے ترقی پسند شاعری اور نثر کو جنم دیا ۔ کسی نے لکھا ہے کہ یونانی دیو مالا کے ہیرو پرو میتھوس کا قصور یہ تھا کہ اس نے انسان کو آگ کا استعمال سکھا یا تھا اور اس طرح دیوتاؤں کا راز ادیبوں پر افشا کر دیا تھا ۔ اس جرم کی پاداش میں دیوتاؤں نے پر و میتھوس کو چٹان سے بندھوادیا تھا جہاں ایک گدھ دن بھر اس کی بوٹیاں نوچ کر کھا تا تھا ۔ اس اذیت ناک سزا کے باوجود جب دیوتا اس سے کہتے کہ معافی مانگ لو تاکہ اس عذاب سے چھٹکار ہ پاؤ تو وہ جواب دیتا کہ مجھے یہ اذیت منظور ہے مگر تمہاری یہ غلامی نامنظور ۔پاکستان میں دور آمریت میں اظہار خیال پر پابند یاں عائد کی گئیں اور حکومت وقت کے خلاف بولنے والوں کو پای�ۂ زنجیر کیا گیا ۔ جالبؔ بھی اس جرم کے مرتکب ہوئے تو انہیں بھی قید و بند کی صعوبتیں اٹھانی پڑی ۔ اس خیال کو لطیف کلاسیکی پیرایوں میں یوں قلم بند کر تے ہیں ۔
صیاد نے یونہی تو قفنس میں نہیں ڈالا
حبیب جالب کے سلسلے میں سبط حسن لکھتے ہیں :
’’ ایوب خان کی آمریت اس لحاظ سے ہمیشہ یاد گار رہے گی کہ اس
تاریک دور میں جسٹس کیانی مرحوم اور حبیب جالبؔ ابھر کر سامنے
آئے ۔ جب کبھی اس ملک کی سچی تاریخ لکھی جائے گی تو دنیا کو معلوم
ہوگا کہ خوف اور دہشت کی اس فضا میں جہاں سانس لیتے ڈر لگتا تھا
انہوں نے قوم کی ڈوبتی نبض میں کس طرح زندگی کا خون دوڑایا ۔ ‘‘
حبیب جالب ؔ کی شاعری پر اگر نظر ڈالتے ہیں تو بیشتر نظمیں احتجاجی جذبات سے پر نظر آتی ہیں ان کے بارے میں لوگوں کی رائے یہ ہے کہ انکی نظمیں ہنگامی حالات اور فوری واقعات سے متاثر ہوکر لکھی گئی ہیں اور ان میں بیشتر سیاسی نوعیت کی ہیں ۔ ان میں پانچویں دہائی سے لیکر نویں دہائی کے ابتدائی چند برسوں تک کے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے نقوش بکھر ے پڑے ہیں ۔ عوامی شاعر نظیر اکبرآبادی کی طرح حبیب جالب بیسویں صدی کے عوامی ہیں۔’’ روئے بھگت کبیر ‘‘ اور ’’ بھئے کبیر داس ‘‘ میں طبقاتی کشمکش اور معاش جبر کو موضوع بنایا گیا ہے ۔ ملاحظہ ہو۔
اک پٹری پر سردی میں اپنی تقدیر کو روئے
دو جا زلفوں کی چھاؤں میں سکھ کی سیج پہ سوئے
راج سنگھاسن پر اک بیٹھا اور اس کا داس
بھئے کبیر اداس
اونچے اونچے ایوانوں میں مو رکھ حکم چلائیں
قدم قدم پر اس نگری میں پنڈت دھکے کھائیں
دھرتی پر بھگوان بنے ہیں دھن ہیں جنکے پاس
بھئے کبیر اداس
کلیات حبیب جالب ، ماورا پبلشر ز ، لاہور 1993صفحہ ۱۱۱
روئے بھگت کبیر
سوچو نہ کیا لاہور میں دیکھا ہم نے میاں نظیر
پہنیں سوٹ انگریزی بولیں اور کہلائیں میر
چودھریوں کی مٹھی میں ہے شاعر کی تقدیر
روئے بھگت کبیر
اک دوجے کو جاہل سمجھیں نٹ کھٹ بدھی وان
میٹرو میں جو چائے پلائے بس وہ باب سمان
سب سے اچھا شاعر وہ ہے جس کا یار مدیر
روئے بھگت کبیر
سڑکوں پر بھوکے پھرتے ہیں شاعر موسیقار
ایکڑ سوں کے باپ لئے پھر تے ہیں موٹر کار
فلم نگر تک آپہنچے ہیں سید میر فقیر
روئے بھگت کبیر
کلیات حبیب جالب ، ماورا پبلشر ز ، لاہور 1993 صفحہ نمبر ۱۰۹
حبیب جالب ؔ خالص تخلیق کار تھے اور ناقدین کی صف سے اپنے آپکو الگ سمجھتے تھے ۔ ذوقؔ اور غالب ؔ میں سے غالبؔ پسند تھے کیونکہ وہ شاہ کا اسناد نہیں بلکہ شخص اقتدار تھا ۔ وہ ہمیشہ عوام کی ترجمانی کر تے اور عوام سے قریب پاتے ۔ اس لئے فیض ؔ نے انہیں ر کہا تھا کہ جالب ولی دکنی سے لے کر آج تک کسی بھی شاعر کو اتنے ساہنی میر نہیں آئے جتنے آپکو ملے اور یہ حقیقت ہے کہ آپ سچ مچ عوامی شاعر ہیں ۔ اس کا خیال تھا کہ ہوسکتا ہے کہ امراء و شرفاء بانقاد انہیں عظیم شاعر نہ تسلیم کریں لیکن وہ عوامی پریشانیاں ، مظالم اور سیاسی جبر کو کبھی قبول نہیں کر پائے لندن میں ایک محفل کے دوران زہرہ نگار نے حبیب جالب ؔ کا ذکر کر تے ہوئے کہا کہ حبیب جالب ؔ نے علامہ اقبال ؔ کے جشن صد سالہ کے موقع پر کہا تھا کہ علامہ اقبال مرحوم میری ڈیوٹی لگا گئے تھے کہ ’’ اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو ‘‘ اور میں اس ڈیوٹی کو بھگتانے کے لیے پندرہ بار جبل جا چکا ہوں ۔
حبیب جالب عوامی شہرت یافتہ نظیر اکبرآبادی کے رنگ میں نظمیں کہنے والے شاعر تھے لیکن جوں ہی وہ سیاسی آمریت کی تنقید کی اور جنرل ایوب خاں کی وضع کردہ 1962کے دستور کے خلاف کہی گئی نظم ’’ دستور ‘‘ میں لب و لہجہ تلخ ہوگیا اور وہ حکومت کے خلاف اپنی آواز بلند کر تے ہوئے دکھائی دینے لگے ۔
دیپ جس کا محلات میں جلے
چند لوگوں کی خو شیوں کو لے چلے
وہ جو سائے ہیں ہر مصلحت کے لئے
اپنے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں نہیں مانتا میں نہیں مانتا
میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے
کیوں ڈراتے ہوزنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو ، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا ، میں نہیں جانتا
کلیات حبیب جالب ، ماورا پبلشر ز ، لاہور 1993صفحہ ۱۲۹
وہ بڑے جذباتی ، حساس اور عظیم انسان تھے عوام کے دکھ دیکھ کر تڑپ اٹھتے تھے۔ عوام کے دکھوں کو الفاظ کا جامہ پہنا کر پیش کرنا اس کا شعار تھے۔ تقسیم کے بعد جب جمہوریت بحال ہوئی تو اس کے چہر ے پر شدید رد عمل کے آثا ر نمایاں تھے ۔ وہ جمہوریت کے خاتمہ اور بنیاد ی حقوق کی معطلی پر بہت زیادہ مضطرب تھے ۔ انکی نظم جمہوریت جنرل ایوب خاں کے اس دستور کے خلاف کھلا احتجاج تھا ۔ یہ نظم انکے دوسرے مجموعہ کلام ’’ سر مقتل ‘‘ میں شامل ہے جسے 1966میں ضبط کر لیا گیا ۔ یہ نظم معاشی نا برابری اور جبر و تشدد کے خلاف الم بغاوت ہے ۔
یہ ملیں یہ جاگیر یں کس کا خون بیتی ہیں
بیر کوں میں یہ فوجیں کس کے بل یہ جیتی ہیں
کس کی محنتوں کا پھل داستائیں کھاتی ہیں
دس کروڑ انسانوں
زندگی سے بیگانوں
صرف چند لوگوں نے حق تمہارا چھینا ہے
خاک اپنے جینے پر یہ بھی کوئی جینا ہے
بے شعور بھی تم کو بے شعور کہتے ہیں
سوچتا ہوں یہ ناداں کس ہوا میں رہتے ہیں
اور یہ قصیدہ گو فکر ہے یہی جن کو
ہاتھ میں علم لے کر تم اٹھ سکو لوگوں
کب تلک یہ خاموش چلتے پھرتے زندانوں
جھونپڑوں سے رونے کی کیوں جدائیں آتی ہیں
جب شباب پر آکر کھیت لہلہاتے ہیں
کس کے نین روتے ہیں کون مسکراتا ہے
کاش تم کبھی سمجھو کاش تم کبھی جانو
دس کروڑ انسانوں
کلیات حبیب جالب ، ماورا پبلشر ز ، لاہور 1993صفحہ ۱۳۱
جنرل ایوب پاکستان میں ترقی اور معاشی مساوات فروغ دینے کے دعویدار تھے لیکن نواب آصف کالا باغ جیسی جاگیردار شخصیت کا وزیر اعلیٰ بنا یا جانا انکے قو ل وفعل کے تضاد کا ایک بڑا مظہر ہے ۔
سینکڑوں حسن ناصرؔ ہیں شکار نفرت کے
صبح و شام لٹتے ہیں قافلے محبت کے
جب سے کالے باغوں نے آدمی کو گھیرا ہے
مشعلیں کر و روشن دور تک اندھیرا ہے
کلیات حبیب جالب ، ماورا پبلشر ز ، لاہور 1993صفحہ ۱۳۲
معاشرتی خرابیوں کے خلاف مزاحمت کا یہ واضح شعری رویہ دراصل جالب کی سیاسی سر گرمیوں کا نتیجہ تھا محمد علی جناح نے ایوب خاں کے مد مقابل 1964 انتخاب میں حصہ لیا ۔ اس دور میں ایوبی حکومت کی نام نہاد و ترقی کو قلعی کھولتی ہوئی یہ خبر پھیلی کہ ملکی معیشت پر کل بیس گھر انوں کی اجارہ داری ہے جالب کی نظم بیس گھرانے اس امر سے متأثر ہوکر لکھی گئی ہے ۔
بیس گھرانے ہیں آباد
اور کروڑوں ہیں ناشاد
صدر ایوب زندہ باد
لائیسنسوں کا موسم ہے
کنو نشن کوکیا غم ہے
آج حکومت کے درپر
ہر شاہیں کا سر خم ہے
درس خودی دینے والوں کو
بھول گئی اقبال کی یاد
صدر ایوب زندہ باد
کلیات حبیب جالب ، ماورا پبلشر ز ، لاہور 1993صفحہ ۱۳۷
1971میں بر صغیر کی تاریخ میں مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش ) کا قیام تاریخ کا ایک ایسا جبر ہے جبیب جالب نے اپنی شاعری میں جگہ دی اور عملی طور پر اس کی مخالفت بھی کی ۔ جب مشرقی پاکستان میں فوج کے ہاتھوں قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا ۔ جنرل یحیٰ خان کی مخالفت میں جیل بھیجے گئے ۔
محبت گولیوں سے بورہے ہیں
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہیں
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہیں
مذہب کی آڑ لیکر تقدیر پرستی کا رجحان عام کرنا ملائیت کا شیوہ رہا ہے ۔ مذہبی رہنما غریب عوام کو قناعت کا در س دیتے ہیں مگر خود ہر قسم کی مادی آسائش کے حصول کی خاطر اپنے ایمان کا سودا کر نے سے بھی دریغ نہیں کر تے ۔ نظم ’’ علماء سو کے نام ‘‘ میں استحصالی طبقے کی حمایت دینے والے علماء پر تنقید کی گئی ہے
رضائے ایزدی تم نے کہا دین الٰہی کو
نہیں مٹنے دیا تم نے نظام کجکلاہی کو
دیا تم نے سہار ا ہر قدم پر زار شاہی کو
کہا تم نے کہ جائز ہے فرنگی کی وفاداری
بتایا تم نے ہر اک عہد میں مذہب کو سرکاری
لیے پر ہٹ دئیے فتوے رکھی ایوب سے یاری
کلیات حبیب جالب ، ماورا پبلشر ز ، لاہور 1993صفحہ ۶۵۔۱۶۴
حبیب جالب کو ملک کی تقسیم کاشدید غم تھا آزادی کی جدوجہد میں شامل بزرگوں نے جس آزاد ہندستان کا تصورپیش کیا تھا ویسا ہرگزنہیں ملا۔انگریزوں سے نجات تو پا لی لیکن اپنے ہی بھائی کے خون کے پیاسے ہو گئے۔ تقسیم کے وقت لاکھوں لوگ بے گھر، ہزاروں مائیں بیوہ اوربے شمار بچے یتیم ہو گئے۔بہت سی دوشیزائیں اغوا ہوئیں ان حادثات نے اپنے پیچھے ایک کربناک فضا کو چھوڑا تھا۔ شاعر کا دل اس سے تڑپ اٹھا۔جبیب جالب کی ایک طویل نظم ’’ داستان دل دونیم ‘‘ میں تقسیم کے مظالم کا نقشہ کھینچا گیا ہے ۔ملاحظہ ہو۔:
ایک بار اور ہم ہوئے تقسیم
ایک بار اور دل ہوا دو نیم
ہوگئے دور راہبر کیا کیا
چھن گئے ہائے ہم سفر کیا کیا
یہ فسانہ ہے پاسبانوں کا
چاق و چوبند نوجوانوں کو
سرحدوں کی نہ پاسبانی کی
ہم سے ہی دادلی جوانی کی
جبیب جالب کی اقتصادی جبرپر بھی نگاہ تھی اور جس طرح امریکہ اور اسکے رفیق پہلے غریب ملکوں کو قرض دیتے ہیں پھر ان کو محکوم بنانے کی ناپاک سازشیں کرتے ہیں ۔ آج امریکہ کی سر پر ستی میں چلنے والی دہشت گرد مخالف کا روائیاں اس کے اسی اقتصادی حربے کا جز ہیں کیو نکہ جن الزامات کا بہانا بنا کر عراق اور دوسرے ممالک پر حملے کئے گئے ۔ اس میں عراق اور انکی اقتصادی اور جانی نقصان ہی ہوا ہے ملاحظہ ہو یہ اشعار ۔
قرض دیکر غریب ملکوں کو
چھین لیتاہے روح آزادی
آج زیر عتاب ہیں اس کے
ہر بڑا شہر ہر حسین وادی
کلیات حبیب جالب ، ماورا پبلشر ز ، لاہور 1993 ۱۷۶
آج کے دور میں سرمایہ پر ستی کا سب سے بڑا علمبردار امریکہ ہے ۔ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کو خطیر مالی امداد دیتا رہا ہے اور ایشیاء کے اس خطے میں اپنا اُلّو سیدھا کر تا رہا ہے ۔ جس کی وجہ سے پاکستان کے اندر پہلے سے زیادہ پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں اور ہندوستان و پاکستان میں کشیدگی کی اصل وجہ خود امریکی پالیسیاں رہی ہیں ۔
پاکستان کے سیاسی و معاشی دور میں ا مریکی ریشہ دوانیاں یہاں کے با شعور طبقے کے لئے ہمیشہ سے اہم مسئلہ رہی ہیں اسکے برعکس ملک کے حکمراں طبقے نے اکثر امریکہ کی مداخلت منظور کر نے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کی ۔ اس ضمن میں جالب کی نظمیں ’’صدر امریکہ نہ جاؤ‘‘ امریکہ یاترا کے خلاف ‘‘ ’’ امریکہ نہ جا پاکستان کے حکمرانوں کی اس روش کے خلاف احتجاج ہیں ’’ امریکہ یاترا کے خلاف ‘‘ میں غزل کی اشاریت اور ایمائیت سے کام لیا گیا ہے
طواف کوئے ملامت کو پھر نہ جا اے دل
نہ اپنے ساتھ ہماری بھی خاک اڑا لے دل
نہیں ہے کوئی وہاں درد آشنا اے دل
اس انجمن میں نہ کر عرض مدعا اے دل
کلیات حبیب جالب ، ماورا پبلشر ز ، لاہور 1993صفحہ۱۷۸
نچلے طبقے کے معاشی کوائف کے موضوع پر کہی گئی نظم ’’ آپ چین ہو آئے آپ روس ہو آئے ‘‘ بھی حکمرانوں کے بے سود غیر ملکی دوروں اور قول و فعل کے تضاد پر گہرا طنز ہے ۔ روس اور چین سو شلسٹ ممالک رہے ہیں ، پاکستان کے رہنما ان ممالک کے دورے تو کرتے رہے ہیں مگر ان ملکوں کی معاشی پالیسی سے حتی الامکان اجتناب کر تے ہیں ۔ نظم ’’ مشیر ‘‘ میں شاعر پاک ، چین تعلقات پر کچھ یوں طنز کرتا ہے ۔
چین اپنا یار ہے
اس پہ جاں نثار ہے
پر وہاں جو ہے نظام
اس طرف نہ جائیے
اس کو دور سے سلام
کلیات حبیب جالب ، ماورا پبلشر ز ، لاہور 1993صفحہ۱۴۰
یہ نظمیں جو امریکہ اور چین سے پاکستان کے رشتے کے تعلق سے کہی گئی ہیں در اصل ترقی پزیر ملکوں کے اس نچلے طبقے کی ترجمانی کر تی ہیں جو کہ معاشی جبر کی پہنچ کسی کے لیے سو شلسٹ نظام کا حامی ہے ’’ روس سے متعلق پاکستان کے تعلقا ت کے سلسلے میں ’’ ترانہ دوستی ‘‘ کو بھی اس تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے ۔ امریکہ اور دوسرے جابر ممالک کے سلسلے میں جالب ؔ کی یہ نظم شدید طنز کا تیور لیے ہوئے ہے ۔حالانکہ ایسے اشعار مع شعریت متاثر ہوئی ہے۔
انگریزوں کے میٹھو کہلاؤ نا
امریکہ کے تلوے سہلاؤ نا
آج تلک ان کے دھوکے کھائے ہیں
آزادی کے سرپر خاک نہ ڈالو
بھیک نہ مانگو
’’ امریکہ نہ جا ‘‘ اسی قبیل کی ایک منفرد نظم ہے یہاں طنز اس سے زیادہ شدید ہے اس نظم میں پاکستانی نئی سیاست اور معیشت کے تلخ حقائق کو سامنے لا یا گیا ہے ۔
تیرے ہی لطف و کر م سے ہے ہماری زندگی
کر کے کم جینے کے امکانات امریکہ نہ جا
ایک پنڈی کیا نچھا ور پورا ملک
بھیجتا رہ آتشیں آفات امریکہ نہ جا
خاک زریں تجھ سے ہے تیری بدولت تخت و تاج
تجھ سے قائم ہے ہماری ذات امریکہ نہ جا
تو ہی بتلا کس طرح پالیں گے اتنی فوج کو
جوڑ تے ہیں تیرے آگے ہاتھ امریکہ نہ جا
کلیات حبیب جالب ، ماورا پبلشر ز ، لاہور 1993صفحہ ۲۹۵
مذکورہ نظم کا دوسرا شعر اوجڑی فوجی کیمپ کے اسلحہ خانے میں ہوئی آگ زنی کے واقعہ کی طرف اشارہ کرنا ہے ۔ جنرل ضیا ء کے عہد میں شہر راولپنڈی میں ہونے والے اس حادثے میں بڑی تباہی و بر بادی ہوئی تھی ، سینکڑوں جانیں تلف ہوئی تھیں ۔ اس سانحے کے سلسلے میں ایک طبقے کا خیال رہا ہے کہ یہ حکومت کی ایک سوچی سمجھی چال تھی یعنی اسلحہ خانے میںآگ جان بوجھ کر لگائی گئی تھی ۔
جو اوجڑی میں مارا گیا پس وہ مر گیا
خاکی تھا اور خاک کی صورت بکھر گیا
منتہائے ایزدی کے مطابق گزر گیا
ہر بے گناہ کا خون مقدر کے سر گیا
کلیات حبیب جالب ، ماورا پبلشر ز ، لاہور 1993صفحہ ۳۵۴
مذہب کی آڑ لیکر حکومت نے جب چاہا اسلام خطرے میں ہے کہہ کر اپنی حکومت کی بقا کے لئے ملاؤں کی حمایت حاصل کرتے رہے ، سیاست اور ملائیت کے گٹھ جوڑ نے پاکستان کے بنیادی مسائل سے عوام کا دھیان ہٹائے رکھا اور تقدیر پر بھروسہ کر کے پڑے رہنے کی تلقین کر تے رہے ۔ تقدیر پرستی کے رجحان کو ہمیشہ تقویت بخشتے رہے ۔ جبیب جالبؔ نے نظم ’’ خطرے میں اسلام نہیں ‘‘ اور ’’ وطن کو کچھ نہیں خطرہ ‘‘ اس ضمن میں لکھی گئی ہیں ۔
خطرہ ہے زرداروں کو
گرتی ہوئی دیواروں کو
صدیوں کے بیماروں کو
خطرے میں اسلام نہیں
ساری فوجیں کو گھیرے ہوئے ہیں آخر چند گھرانے کیوں
نام نبی کا لینے والے الفت سے بیگانے کیوں
کلیات حبیب جالب ، ماورا پبلشر ز ، لاہور 1993ص ۔ ۱۶۲
وطن کو کچھ نہیں خطرہ نظام زر ہے خطرے میں
حقیقت میں جو رہزن ہے وہی رہبر ہے خطرے میں
اگر تشویش لاحق ہے تو سلطانوں کو لاحق ہے
نہ تیرا گھر ہے خطرے میں نہ میرا گھر ہے خطرے میں
کلیات حبیب جالب ، ماورا پبلشر ز ، لاہور 1993ص ص۔ ۱۴۴
بدعنوان سیاست دانوں کی حمایت کر نے والے ایمان فروش ملاؤں کو بھی جالب ؔ نے اپنی کئی نظموں میں ہدف ملامت بنایا ہے ۔ اس سلسلے میں نظم ’’ مولانا ‘‘ اور ’’ علماء سوکے نام ‘‘ قابل توجہ ہیں ۔
حقیقت کیا ہے یہ تو آپ جانیں یا خدا جانے
سنا ہے جمی کار ٹر آپ کا ہے پیر مولانا
زمینیں ہوں وڈپروں کی مشینیں ہوں لٹیروں کی
خدا نے لکھ کے دی ہے یہ تمہیں تحریر مولانا
کلیات حبیب جالب ، ماورا پبلشر ز ، لاہور 1993ص ص ۔ ۱۶۶
کہا تم نے کہ جائز ہے فرنگی کی وفاداری
بتایا تم نے ہر اک عہد میں مذہب کو سرکاری
لیے پر مٹ دئے فتوے رکھی ایوب سے یاری
کلیات حبیب جالب ، ماورا پبلشر ز ، لاہور 1993 ص ۶۵۔۱۶۴
پاکستانی حکومت نے نہ صرف مولویوں کی ہی حمایت حاصل کی بلکہ ادیبوں و شاعروں ، صحافی اور دانشوروں کے ایک طبقے نے ہمیشہ جاہ و منصب اور مراعات حاصل کر نے کے لیے حکومت کے قصیدے لکھے اور انکے مظالم کی تاویلیں پیش کیں ہیں لیکن ایسے ماحول میں جبیب جالبؔ نے ہمیشہ حکومت اور ان جیسے ایمان فروشوں کے خلاف آواز بلند کر تے رہے ۔ جنرل ایوب کی آمریت کے دور میں رائیٹر گلڈ کا قیام عمل میں آیا اور اسکے سربراہ خود جنرل ایوب تھے جنکے ہاتھوں قلمکاروں کو ان کی بہترین تخلیق کے لیے ہر سال انعام و اکرام سے نوازا جاتا تھا ۔چنانچہ ایک حساس اور باشعور ادبی تنظیم ہونے کے لحاظ سے اس کا کردار قدرے مشکوک رہا ہے ۔ اور سارے پاکستانی قلمکار جنکو اپنے عہد کے مسائل کے تئیں ذرا بھی تشویش تھی رائٹر ز گلڈ سے دور رہے ۔ یادرہے کہ ہمارے دور کی مشہور فکشن رائٹرز قرۃ العین حیدر نے بھی اپنے ناول ’’ آگ کا دریا‘‘ پر ملنے والے ایوارڈ کو لینے سے انکار کر دیا تھا ۔ جالبؔ کے قطع ’’ رائٹرز گلڈ ‘‘’’ میں خو ش نصیب شاعر ‘‘ ، ’’ آدم جی ایوارڈ ‘‘ وغیرہ ادبی بد عنوانی سے پیدا ہونے والے اسی جبر کے خلاف کہے گئے ہیں ۔
ذہانت اور ہی ہے منہ چھپائے
جہالت قہقہے برسارہی ہے
ادب پر افسروں کا ہے تسلط
حکومت شاعری فرمارہی ہے
کلیات حبیب جالب ، ماورا پبلشر ز ، لاہور 1993ص ص۔ ۱۸۴
جبیب جالبؔ کی نظم ’’ ظلمت کو ضیا ء‘‘ میں جنرل ضیاء الحق کو ظلمت کے استعارہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے ۔
لوگوں یہ ہی ہم نے جاں واری کی ہم نے انہی کی غمخواری
ہوتے ہیں تو ہوں یہ ہاتھ قلم شاعر نہ بنیں گے درباری
ابلیس نما انسانوں کی اے دوست ثنا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیا صر صر کو صبا بندے کو خد ا کیا لکھنا
اے میرے وطن کے فنکار و ظلمت پہ نہ اپنا فن وارو
یہ محل سراؤں کے ماسی قاتل ہیں سبھی اپنے یارو
ورثے میں ہمیں یہ غم ہے ملا اس غم کو نیا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیا صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیا صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گہر ، دیوار کو درہ کرگس کو ہما کیا لکھنا
اک حشر بپا ہے گھر گھر میں دم گھٹتا ہے گنبد بے درمیں
اک شخص کے ہاتھوں موت سے رسوا ہے وطن دنیا بھر میں
اے دید ہ ورواس ذلت کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیاء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
کلیات حبیب جالب ، ماورا پبلشر ز ، لاہور 1993ص ص ۔ ۱۸۱
اس نظم کی وجہ سے جبیب جالب ؔ کو پنجاب کی بدتر ین جیل سیانوامی میں چھ ماہ مقید رہنا پڑا ۔ اسی طرح سے صحافتی بے ضمیری کے ذیل میں جالب ؔ کی نظم ’’ صحافی سے ‘‘ بڑی مؤثر انداز سے لکھی گئی ہے ۔
قوم کی بہتری کا چھوڑ خیال
فکر تعمیر ملک دل سے نکال
تیرا پر چم ہے تیرا دست سوال
بے ضمیری کا اور کیا ہو ملال
اب قلم سے ازار بند ہی ڈال
کلیات حبیب جالب ، ماورا پبلشر ز ، لاہور 1993 ص ۔ ۳۴۸
رجعت پسند قوموں کے غلبے کے سبب پاکستان میں خواتین کی آزادی ایک اہم مسئلہ رہی ہے ۔ خواہ وہ جنزل ایوب کا کا عہد کا Family ordinance جیسا ترقی پسند انہ قدم ہو خواہ عہد ضیاء الحق کے متنازعہ فی حدود آرڈ نینس اور آدھی گواہی کے قانون ہوں ۔ رجعت پسند قوتوں کا رویہ ہمیشہ ہی خواتین مخالف رہا ہے ۔ نظم ’’ عورت‘‘ ملاحظہ ہو ۔
بازار ہے وہ اب تک جس نے تجھے نچوایا
دیوار ہے وہ اب تک جس میں تجھے چنوایا
دیوار کو آتوڑیں ، بازار کو اُڈھائیں
انصاف کی خاطر ہم سڑکوں پہ نکل آئیں
مجبور کے سر پر شاہی کا وہی سایا
بازار ہے وہ اب تک جس میں تجھے نچوایا
تقدیر کے قدموں پر سر رکھ کے پڑے رہنا
تائید ستم گر ہے چپ رہ کے ستم سہنا
تو آگ میں اے عورت زندہ بھی جلی برسوں
سانچے میں ہر اک غم کے چپ چاپ ڈھلی برسوں
تجھ کو کبھی جلوایا تجھ کو کبھی گڑ وایا
بازار ہے وہ اب تک جس میں تجھے نچوایا
تو آگ میں اے عورت زندہ بھی جلی برسوں
سانچے میں ہر اک غم کے چپ چاپ ڈھلی برسوں
تجھ کو کبھی تجھ کو بھی گڑوایا ہے جلوایا
بازار ہے وہ اب تک جس میں تجھے نچوایا
کلیات حبیب جالب ، ماورا پبلشر ز ، لاہور 1993ص ۲۰۲
حبیب جالب بیسویں صدی کا ایسا شاعر ہے جسکو سب سے زیادہ عوامی مقبولیت حاصل ہے۔عوام کے ہر اس طبقے کے ساتھ اسکی ہمدردیاں تھیں جسکے خلاف ظلم ہو رہا ہو۔
کچھ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیں
بیتے ہوئے دن رات نہ یاد آئیں تو سوئیں
محسوس یہ ہوتا ہے ابھی جاگ رہے ہیں
لاہور کے سب یار بھی سو جائیں تو سوئیں
***

Viewers: 11793
Share